پیاری ماں
آج سڈنی میں بہت بارش ہے
اور سیلاب بھی ساؤتھ میں آیا ہے
میں شیشے کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی ہوں
آسمان چھم چھم برس رہا ہے
پھول پتے گھاس سہمے سر جھکائے کھڑے ہیں
درختوں کی شاخیں
زمین سے گلے لگیں بین کر رہی ہیں
آج پہلی بار آپ کا فون نہیں آیا
وہ بےقرار سی آواز نہیں سنائی دی
جو ایک سانس میں سارے سوال پوچھتی تھی
“بیٹی سنا ہے بارش بہت ہو رہی ہے
تم کیسی ہو ۔۔ کہاں ہو
ہوسپٹل ہو کہ گھر ہو
ماچس ، موم بتی ہے کہ نہیں
سنو
سیلاب تم سے کتنی دور آیا ہے
جو بارش نہ رکی تو کیا کرو گی “
پیاری ماں
میں بھلا کیا کرونگی
میری ماں ہے نا دعائیں کرنے والی
میں نے بے خود ہو کرلاڈ سے فون پر کہا
پر یہ کیا ۔۔۔۔ دوسری طرف کوئی نا تھا
میں چونک پڑی ہوں ، رو پڑی ہوں
ہائے ۔۔۔۔ آج میری ماں نہیں ہے
اور یہ بارش ہے کہ تھمتی نہیں ہے
اگر ۔۔ جو سیلاب آگیا تو ۔۔۔۔۔ ؟