|
آج کا مسلمان ایسا کیوں ہےاز شمس جیلانی
31.03.2009, 01:00am , منگل (GMT+1)
شمس جیلانی
ہمارے ہاں جب صبح ہو تی ہے تو پاکستان میں شام ہو تی ہے؟یعنی بارہ گھنٹہ کا آجکل فرق ہے جبکہ موسم سر ما میں تیرہ گھنٹے کا فرق ہوجاتا ہے کہ یہ وقت بچانے کے لیئے گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کر دیتے ہیں ۔ مگر صبح اور شام کا فرق رہتا ہی رہتا ہے۔ یہاں جب اس تاریخ کا سورج طلو ع ہوتا تو وہاں دن گزر چکا ہوتا ہے اور جو بیتنا ہوتی ہے وہ بیت چکی ہو تی ہے ہم اس امید پر اپنے معمولات سے فارغ ہوکر میڈیا کو کھنگالنے بیٹھتے ہیں کہ شاید کو ئی اچھی خبر وطن ِ عزیز سےملے ؟ مگر ہمیشہ بری خبر ہی استقبال کر تی ہے ۔ آج بھی ایسا ہی ہوا کہ پہلی خبر یہ پڑھی کہ مناواں جو کہ لا ہور کے اطراف میں ہے وہاں دہشت گردوں نے دھاوا بولدیا۔ چونکہ ہمارے ہاں یہ بھی یہ رواج ہے کہ حکومت آہستہ آہستہ سچ پر بولنے پر آتی ہے ۔لہذا شہادتوں اور زخمی ہو نے والوں کی تعداد میں ہمیشہ کی طرح اختلاف ہے اس لیئے ہم اس سے قطع نظر کرتے ہیں ورنہ اسوقت تو ہم جھوٹے بن جا ئیں گے۔ صرف اس پر کچھ کہنا چا ہیں گے کہ ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ وقت کاہی صرف فرق نہیں ہے۔ بلکہ ہر چلن میں فرق ہے۔ مثال کے طور پر کناڈا کانام دنیا کے آٹھ مالدار ترین ملکوں میں آتا ہے ،تو پاکستان کا نام غریب ملکو ں فہرست میں ، یہاں جھو ٹا دیکھنے کو بڑی مشکل سے ملتا ہےاور وہاں ۔۔۔؟ انصاف کا یہ عالم ہے کہ عدل سب کے لیئے ہے،ہر قسم کا تعصب جرم ہے اور جو جس جرم میں بھی پکڑا جائے وہ بچتا نہیں ہے۔ اوراگر کسی وزیر یاافسر پر چھینٹ آجائے تو خود ہی استعفی ٰ دیدیتا ہے نہ پولس یا عدلیہ کو دھونس دیتا ہے ،نہ کیس دبانے کا رواج ہے۔ ایسی مثال بھی ہے کہ پولس وزیر اعلیٰ کے گھر میں کورٹس سے وارنٹ لیکر گھس جاتی ہےاس کا ہی اٹارنی جنر ل اس کے خلاف ایکشن لیتا ہے اور اس کے نتیجے میں وزیر ِ اعلٰی کا ہی نہیں اسکی پارٹی کا بھی ہمیشہ کے لیئے سورج غروب ہو جاتا ہے ۔جرم کتنا بڑا تھا کہ ایک ٹھکیدار نے کچھ فرنیچر اسے سپلائی کردیا تھا؟ جبکہ ملکت ِ خداد میں اس کا الٹ ہےکہ جس کا دامن کیچڑ سے جتنا زیادہ داغدار ہو ،وہی پسندیدہ لیڈر ہے ۔ کیونکہ ہمارے ہاں سیاست وراثت میں ملتی ہے کردار پر نہیں۔ جبکہ یہاں کر دار پر۔ اکثریت یہاں کسی دین کو نہیں مانتی جبکہ ہمارے ہاں اسلامی نظام ِ حیات موجود ہے۔ جس میں سب کچھ بیان کر دیا گیاہے۔ ہمیں حکم ہے کہ جلدی اٹھو اور مگر ہم دیر میں اٹھتے ہیں ؟ جبکہ یہاں کے لوگ دفاتر میں یا کارو باری مراکز میں صبح ہی صبح جاچکے ہو تے ہیں اور کوئی لیٹ نہیں ہوتا۔ لہذا یہاں بازار بھی صبح ہی کھل جاتے ہیں ۔ جبکہ جہاں صبح ہی صبح کھلنا چاہیئے ؟کہ مسلمانوں سے یہ توقع کی جا تی ہے کہ وہ فجر کی نماز پڑھ کے کاروبارِ دنیا شروع کر دیں گے۔اور یہ تو کسی مسلمان سے توقع ہی نہیں ہو تی کہ وہ نماز نہ پڑھے؟ کیونکہ آقائے نامدار محمد مصطفیٰ احمد ِ مجتبٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشادِگرامی ہے کہ مومن اور کافر میں یہ ہی فرق ہے کہ مومن نماز پڑھتا ہے کافر نہیں پڑھتا؟ سنا ہے کہ ماشا اللہ آجکل مساجد پہلے سے زیادہ بھری رہتی ہیں ؟ اور نماز کے بارے میں قر آن کہہ رہا کہ وہ فحا شی ، برائی اور اللہ تعالیٰ کی حکم عدولی سے بچا تی ہے؟ تو پھر ہماری یہ شکا یات پوری دنیا میں کیو ں سنی جا رہی ہیں کہ ہم وقت کے پا بند نہیں ہیں، جبکہ اللہ نے وقت کی قسم کھا کر ہم پر اہمیت واضح کر دی ہے اسی لیئے ہم اسے سب سے زیادہ ضا ئع کرتے لہذا ہم کہیں بھی وقت پر نہیں پہونچتے ۔ہم وعدے کے پکے نہیں ہیں ۔ ہم زبان کے سچے نہیں ہیں۔ وغیرہ وغیرہ جب کہ پھر ارشادات ِ گرامی (ص) سامنے آجاتے ہیں جن کا لب ِ لباب یہ ہے کہ “ مسلمان سب کچھ ہوسکتا ہے مگرجھو ٹا نہیں؟ اور دوسری جگہ ہے “ وعدہ خلاف ہم میں سے نہیں ہے۔ملا وٹ کر نے والا ہم میں سے نہیں ، ذخیرہ اندو زی کر نے والا ہم میں سے نہیں ۔ اور رشوت دینےوالا اور لینے والا دونوں ہی جہنمی ہیں ۔ ان ار شادات کی موجودگی میں ایک مومن کا جو چہرے ابھر کر سامنے آتا ہے ویسی ہماری شکل کیو ں نہیں ہے؟ یقینی طور پر کہیں خامی ہے اور وہ ہے جہالت اور اندھی تقلید؟ یہ سب اسی برین واشنگ کا نتیجہ ہے یعنی یہ نتیجہ ہے اس غلط سو سالہ تعلیم کا جو آج کل مسلمان اسےجہاد سمجھ کرسب سے بڑی لعنت میں گرفتار ہیں ۔ وہ لعنت ہے اپنی جان دینا اور دوسروں کی ناحق جان لینا۔ جن دونوں افعال پر ہمیشہ کے لیئے قر آن میں جہنم کی نوید ہے؟ جبکہ قر آن یہاں ہدایت دے رہا ہے کہ ایک انسان کی جان بچا نا پوری انسا نیت کو بچانا ہے اور ایک بے گناہ کو قتل کر نا پوری انسا نیت کو قتل کر نا ہے!اگر مسلمان واقعی مسلمان ہیں تو یہ سب کچھ کیو ں کر تے ہیں۔ اور اگر مسجدیں بھر گئیں تو نماز ان کے کردار پر اثر انداز کیو ں ہو تی؟ یہ غور طلب مسئلہ ہے ؟ کیا اس کی وجہ یہ تو نہیں ہےکہ ہماری اکثریت چا ہیں وہ مذہبی جما عتیں ہو ں ،یا وہ مدرسے ہوں ،انہوں نےصرف اسلام کا ایک حصہ لے لیا ہے کہ نمازیں پڑھ کے اور بظاہر مسلمانو جیسی شکل بنا لواور جو چاہو کر تے پھرو جنت تمہا ری ہے؟جبکہ دوسرا شعبہ بالکل نظر انداز کر دیا ہےجو عبادت کی روح ہے، اسلام کی رو ح ہے ؟ وہ ہے تزکیہ نفس ۔اور یہ اسی کو ترک کر نے کے نتا ئج ہیں جو آج مسلمان دنیا میں اپنے کردار سے اسلام پھیلانے کے بجا ئے اس کی بد نامی کا با عث بن رہے ہیں ۔ جبکہ اصل اسلام کی اساس تقوٰی پر ہے جو تزکیہ نفس سے پیدا ہو تا ہے۔ اسی لیئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (ص) کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ۔ جہاں یہ فرمایا کہ ہماری آیات پڑھ کرسناتے ہیں، اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں بری باتوں سےروکتے ہیں ،وہیں یہ بھی فر مادیا کہ یہ قلب کو تمام برا ئیوں سے ،کینہ، حسد، غیبت، انتقامی ذہنیت وغیرہ سے پاک فرماتے ہیں۔؟ پھر حضور (ص) کا ارشاد گرامی کہ مسلمان کی دو حالتیں ہو تی ہیں ایک تو یہ جو سب سے افضل ہے کہ وہ خدا کو دیکھ رہا اور کم تر یہ کہ خدا مجھے ہر وقت دیکھ ر ہا ہے۔اگرصورت ِ حال یہ ہو تو کیا کوئی مسلمان یہ سب کچھ کر سکتا ہے؟ جواب آپ پر چھوڑتا ہوں ۔
|