انسانی زندگی پیدائیش سے لے کر موت تک مشکلات اور مسائل سے بھری رہتی ہے ۔ کبھی کبھی مجھے تو یوں لگتا ہےکہ اگر مشکلات نہ
ہوتیں تو شاید انسان سوچنا چھوڑدیتا ۔۔ ایک دوسرے کا خیال نہ رکھ پاتا ، کوئی ایجاد بھی نہ ہوتی ، اور نہ ہی اس دنیا کو ترقی نصیب ہوتی ۔۔ خدا نہ کرے یہ بھی ہو سکتا تھا کہ کہیں انسان خدا پاک کو ہی نہ بھول بیٹھتا ۔۔ اس لیئے زندگی میں حرکت اور برکت کے لئے مشکلات کا ہونا بے حد ضروری ہے ۔
مشکل کی تعریف
مشکل کا مطلب ہے کہ انسان کو کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو یا ایسی کوئی صورت حال پیش آ گئی ہو جس کا اسے گمان نہیں تھا یا اس نے اس وقت سوچا نہیں تھا اور نہ ہی تیاری کر رکھی تھی ۔ اور اب جو اچانک مشکل سے واسطہ پرا ہے تو اس سے مقابلہ نہیں کر پا رہا اور ان حالات میں وہ خود کو اپنی منزل سے دور پاتا ہے ۔۔ ایسی مشکلات یا مسائل کسی بھی عمر میں کسی کو بھی پیش آ سکتے ہیں ۔
مشکلات کی قسمیں کئی ہو سکتی ہیں لیکن اگر انہیں چار حصوں میں بانٹلیں تو مزید سمجھنے میں آ سانی ہو جائے گی ۔۔
1۔ معاشی مسائل
2۔ سماجی مسائل ۔۔ سوشل ایشوز
3۔ تعلیمی مسائل ۔ ایجوکیشن اینڈ نالج ، فکر و فلسفہ
4 ۔ جسمانی و نفسیاتی مسائل
آیئے اب دیکھتے ہیں کہ آخر مشکلات پیش کیوں آتی ہے ۔۔ ؟
دراصل کچھ باتیں یا مقاصد حیات ایسے ہوتے ہیں جو ہمارے لاشعور میں چلتے رہتے ہیں اور ہم اپنے زہن میں انہیں اپنی سماجی ، معاشی اور مذہبی رجحانات کے تحت پرکھتے بھی رہتے ہیں پر ان پر عمل کرنا بھول جاتے ہیں اور ہمیںیاد بھی نہیں رہتا کہ وقت گزرتا جا رہا ہے ۔۔ بس یہی بے عملی اور کبھی بغیر سوچے سمجھے عمل کرنا ہماری مشکلات بڑھا دیتا ہے ۔۔
مشکلات کی اہم وجوہات
1۔ سہل پسندی ۔۔۔۔۔۔ آج کا کال کل پر ٹالنا
اپنے کاموں اور مقاصد کی ترجحیات
ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کس کام کو سب سے پہلے کرنا ہے پر ہم اپنی سہولت اور سخت کام سے بچنے کے لئے خود سے ٹال مٹول کرتے رہتے ہیں ٹالتے رہتے ہیں ۔۔ جیسے کسی نے بغیر سوچے سمجھے سینما کے ٹکٹخرید لیئے اور ایک بیکار سی فلم پر دن کے 3 سے 4 گھنٹے ضائع کر دیئے ۔ اور پھر کہہ رہے ہوں کہ اسانمنٹ نہیں ہوا ، یا گھر صاف نہیں ہوا ، کھانا نہیں پک سکا ۔۔۔ فلم بھی اچھی نہیں نکلی اور کام بھی نہ ہوا ۔۔
2۔ خود پر غیر ضروری بھروسہ کرنا ۔۔۔
دراصل خوش فہمی میں رہنے جیسا ہے کہ ہم جب چاہے گے ، اٹھے گے کام ہو جائے گا ۔۔۔ پرایسی سوچ بڑی ناسمجھی کی بات ہے ۔۔ یعنی یہ جانتے ہوئے کہ پراجیکٹمشکل ہے اور پایہ تکمیل تک لے جانے کے لئے وقت چاہئے ہو گا پر اسی وقت کو ضائع کرنا درحقیقت خود کو معاشی اور نفسیاتی مشکلات میں ڈالنے والی بات ہے ۔
3۔ اپنی غلطیوں کو درگزر کرنا ۔۔۔۔
جانتے بوجھتے غلطی کرنا اور سوچنا کہ کل نہیں کریں گے ۔ جیسے روزانہ دیر سے سونے کی وجہ سے کام پر لیٹ پہنچنا اور کوئی حل نکالے بغیر یہ سوچنا کل ایسا نہیں ہو گا پر ایسا کبھی نہیں ہوتا ۔۔
4 ۔ غیر ضروری کاموں پر اور باتوںمیں وقت ضائع کرنا
بلا ضرورت بحث و مباحثے میں پڑنا ۔۔ یعنی دوسروں کے نقطہ نظر کو اہمیت نہ دینا اور نہ ہی سننا ۔
5۔ بھیڑچال میں پڑجانا ۔۔
یعنی بغیر وسائل اور کوشش کے تمناؤں میں پڑجانا کاش ایسا ہو جائے ۔۔
6۔ حسرتیں پالنا ۔۔۔۔۔۔Self pitty
یہ جانتے ہوئے کہ قیمیتی جیولری ، کپڑا ، بڑا عہدہ نصیب میں نہیں ہو سکتا پر ملال کرتے رہنا کہ کاش ایسا ہوتا ، آخر میں ہی کیوں محروم ہوں ۔۔ میری ہی لاٹری کیوں نہیں نکلتی ۔۔ وغیرہ
7۔۔ جذبات پر قابو نہ ہونا
ان تمام باتوں کی وجہ سے ہم لوگ نروس ، ٹینشن اور ڈیپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں اور ضروری کام تک نہیں کرپاتے ۔ اور اس کی زیادہ تر وجوہات میں کاموں کی ترجحیات مقرر نہ کرنا ہے اور اس کی ٹائم مینجمنٹ یعنی وقت کا درست استعمال شامل ہے ۔
آیئے اب دیکھتے ہیں کہ مشکلات اور مسائل پر قابو کیسے پایا جا سکتا ہے ۔۔۔
1۔ Identify Your Problems
اپنی مشکلات کا ادراک کیجئے ۔ ان سے نظر بچانے کی بجائے ان کے ہونے کا یقین کیجئے ۔ اپنی نروس نیس ، اور جذبات کو ایک طرف رکھتے ہوئے اپنی مشکلات اور مسائل کو سمجھئے ۔۔اور انہیں ترتیب وار ایک کاغذ پر لکھتے جایئے جس جس مسلے نے پریشان کیا ہوا ہے ۔
2۔ Face Your Problems
اپنی کمی کوتاہیوں کا بہادری سے اعتراف کیجئے کہ کس وجہ سے یہ مشکل پیش آئی ۔ یعنی وجوہات پر زور دیجئے اور سوچیئے کہ کیوں ایسا مسلہ درپیش ہوا۔
3۔ Resolve Your Problems
اپنی غلطی کی زمیداری قبول کرتے ہوئے مشکل کو سدھارنے کی ہر ممکن کوشش کریں ۔ مشورہ کرنا عقلمندی کی نشانی ہے ۔ غصہ بغض اور کینہ مت رکھیئے اور کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت معافی پر یقین رکھئے ۔
4۔ Move On
یاد رکھئے جن حالات میں یہ سب ہوا ، ان وجوہات کو دہراتے رہنے سے یا خود کولعنت ملامت کرنے سے ، دکھی رہنے سے ، پچھتانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔۔ سو اسے ایک تجربہ اور ملنے والا سبق سمجھ کر آگے بڑھ جایئے ۔
5۔ Remember the Lessons Learned
اپنے تجربات کی تلخی کو ہمیشہ یاد رکھیئے ۔ اس ایک غلط فیصلے سے یا واقعہ سے جتنا صدمہ اور نقصان پہنچے ، اسے یاد رکھیئے اور زندگی میں کبھی دوسری بار اسی صورت حال کا سامنا ہو تو اپنے سابقہ تجربے کی روشنی میں بہتر فیصلہ کیجئے ۔ اپنے ماضی سے آنکھیں ملا کر سامنا کیجئے اور بہترین مشورہ خود کو دیجئے اور زندگی کے فیصلے کیجئے ۔
6۔ Never Lose Your Value as a Person
اس بات پر یقین رکھیئے کہ غلط فیصلے کسی کو برا انسان نہیں بناتے ۔ سو اگر کوئی غلطی ہو گئی ہے تواس کا مطلب ہر گز یہ مت سمجھئے کہ آپ معتبر اور عزت دار نہیں رہے ۔ خود پر، اپنی سماجی اور مذہبی اقدار پر یقین رکھیئے ۔ آپ غلطی کرنے سے وقتی طور پر ضرور نظروں میں رہتے پر نظروں سے گرتے ہر گز نہیں ہیں۔ او خود پر اپنا اعتبار اور اعتماد دونوں قائم رکھئے اور حالات کو بہتر سے بہتر بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کیجئے ۔
7۔Be Ready for Problems
آخر میں یہ آپ سب کو بتانا چاہوں گی کہ زندگی فروٹسلاد کی طرح ہے ۔ اس میں نمکین میٹھے ترش کڑوے پھل سب شامل ہو تو ہی فروٹ سلاد کا مزہ آتا ہے ۔ اسی طرح زندگی میں بھی غم خوشی ،دکھ سکھ ، غصہ ، بے چینی ، ناکامی اور کامیابیاں شامل نہ ہوں تو زندگی بے مزہ ہو جائے ۔ سو ایک مشکل کو حل کر لینے کا مطلب ہر گز نہیں کہ دوسری نہیں آئے گی ۔ یہ زندگی کا حسن ہے جو آخری سانس تک برقرار رہے گا یعنی مشکلات آتی جاتی رہیں گی ۔۔ سوچنا یہ ہے کہ ان سے زیادہ سے زیادہ کیسے بچا جا سکتا ہے ۔
مجھے یقین ہے کہ آج کی گفتگو ہم سب کے کام آئے گی۔
ڈاکٹر نگہت نسیم
سڈنی
سترہ جنوری دوہزار پندرہ