16.10.2026, 10:56pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » عالم آرا
 

بِل منظور ،تحفظات نا منظور ۔۔۔ از:‌عالم آرا ۔ وینکوور 
26.01.2015, 01:25am , سوموار (GMT+1)

ہم پچھلے ہفتوں سے جس ذہنی کشمکش کا شکار ہیں وہ کوئی نئی نہیں ہے ۔کیونکہ ہم ان ازیتوں سے ہمیشہ ہی گزرتے رہتے ہیں ۔چاہے وہ قومی مسائل ہوں مذہبی مسئلے ہوں یا عوامی مسئلے ۔ہمارے مسئلے اپنی جگہ رہتے ہیں ۔چاہے کوئی کتنے ہی جتن کرے ان میں سے بہت کم اچھائیاں باہر نکلتی ہیں ۔آج کل جو مسئلہ سب سے بڑا ہے وہ ہے ایک بل کا پاس ہونا جو بغیر کسی مخالفت کے پاس ہو گیا مگر بہت سے لوگوں کے تحفظات تھے اور ابھی بھی باقی ہیں لیکن بل منظور ہوگیا جو کہتے ہیں کہ قومی مفاد میں ہے ۔ہم تو اسے اُسی وقت قومی مفاد میں مانینگے جب قوم کو کچھ فائدہ ہوگا ۔یہ بات بھی اپنی جگہ ہے کہ ہمارے بلوں میں بعض ایسی کمیاں ضرور ہوتی ہیں جو صاف صاف نظر آتی ہیں ۔

ایسے ہی موجودہ فوجی عدالتوں پر بھی بہت سی ایسی باتیں ہیں جو سمجھ سے باہر ہیں ۔جن باتوں کو کُھل کر بیان کرنا چاہئے تھا انہیں ابھی تک صیغئہ راز میں رکھا گیا ہے ۔لیکن ایک بات کو ہمارے وزیرِ داخلہ نے بالکل صاف کردیا ہے کہ سیاسی لوگ بالکل بے فکر رہیں اُن پر ہم آنچ بھی نہیں آنے دینگے ۔زرداری صاحب بھی سکون سے ہوگئے ہیں اور نواز شریف بھی کہ چلو ہمارے تو قریب آتے آتے بگولہ دور ہو گیا ۔زرداری صاحب نے کہا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ میں اور آپ بھی جیل میں ہوں ۔کیوں کہا تھا ؟ کیا خدشہ تھا ؟ ؟ہمیں نہیں پتہ لیکن بات تھی سچ اور ہم تو خوش بھی ہوگئےتھے کہ کچھ بڑےلائن میں آئینگے ۔لیکن ہماری خوشی ہمیشہ پانی کا بُلبلہ ہی رہتی ہے اور لمحے بھر میں غائب ہو جاتی ہے ۔
ہم تو کہتے ہیں کہ اگر اچھا قدم اُٹھانا ہے تو پھر ہمت کرو اگرچہ ،چونکہ ،چناچے سے بچو تاکہ کچھ اچھا ہوتا نظر آئے ۔

اب اگر فوج ایک ہمت کر رہی ہے کہ وہ دھشت گردی کو ختم کرے گی تو ہم سب ہی اسکے ساتھ ہیں ۔لیکن دھشت گردی کیا صرف اور صرف دھماکے ۔خود کُش اور گولیاں ہیں ۔یا سیاسی دھشت گردی کو بھی کبھی ہم سامنے لائینگے جس نے عوامی ذندگیوں کا سُکھ اور چین چھین لیا ہے ۔جس نے لوگوں کی ہنسی کو آہوں میں بدل دیا ہے ۔کیا قصور ہے عوام کا جو ایک آزاد ،ملک میں آزادی سے رہنا چاہتے ہیں جو اپنے حقوق مانگتے ہیں جو اپنا سکون مانگتے ہیں ۔جو دو وقت کی روٹی اور چھت چاہتے ہیں لیکن ملتا کیا ہے صرف اور صرف پریشانی بے سکونی اور ذہنی دباؤ جس نے اچھے اچھوں کو حواس باختہ کردیا ہے ۔کوئی اپنے گمشدہ بچے کی آمد کا منتظر ہے، کوئی بھتہ دینے کے لئے پریشان ہے کہ کہاں سے لائے ۔کوئی ڈاکوؤں کے ہاتھوں لُٹ کر رو رہا ہے ۔کوئی اپنے پیاروں کی لاش لئے سر گرداں ہے کہ کس نے مارا ؟کیوں مارا ؟ کہاں جائیں ؟کس سے پوچھیں ؟کس کا دَر کھٹکھٹائیں ؟
کوئی ہر ظلم پر خاموش اپنے گھر میں بیٹھا رو رہا ہے کہ کوئی شُنوائی نہیں ہے ۔ہم کیسے لوگ ہیں ؟ہمارا انصاف کہاں ہے ؟ کیا ان سب باتوں کو بھی شامل نہیں کرنا چاہئے ۔کیوں لوگ بری الزمہ ہوں ان عدالتوں کا سامنا کرنے سے اور کیوں دیا جا رہا ہے یہ یقین کہ کہ کوئی سیاسی شخصیت ان عدالتوں کے گھیرے میں نہیں آئیگی ۔کیوں آخر کیوں ؟

ہمیں تو یہ ہی شرم آرہی ہے کہ اتنے معصوم نو نہالوں کے خون نے ہمیں متحد کیا اور وہ بھی ایسا متحد کہ اختلاف موجود ہے ۔کیونکہ ہم کوئی بھی بات بغیر شک اور شبہے کے ہونے ہی نہیں دیتے ۔زندہ قومیں فیصلے بھی زندہ کرتی ہیں کہ جن کے اندر سے کوئی تحفظات نہیں نکلتے ۔جو سب کی مشاورت اور تائید سے ہوتی ہے ۔یہاں ہفتوں مشاورت ہوتی ہے لیکن پھر بھی اختلافات باقی رہتے ہیں بلا شک سب کو مطمئن نہیں کیا جاسکتا لیکن کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جن میں سب کا اتحاد لازمی ہونا چاہئے تاکہ جب عمل کا وقت آئے تو کوئی دو رائے نہ ہو ۔ہم بڑے سے بڑے قومی سانحے کو پسِ پشت ڈال کر صرف اور صرف اپنی رائے کے حق میں رہتے ہیں جس کا نتیجہ ہمیشہ ہی صفر ہوتا ہے ۔۔ہم نے ان سڑسٹھ سالوں میں بھی کچھ نہ سیکھا کہ ہم سیکھنے کے قائل ہی نہیں ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ حکومت کی منظوری کے بغیر کوئی مقدمہ نہیں چلے گا ؟؟؟؟ یہ بات ہمارے سر کے بہت اوپر سے گزر گئی ہے ۔کہ پھر کیوں نہ حکومت ہی نے فیصلے کر لئے ان تمام باتوں سے کیا حاصل ہوا سوائے وقت ضائع کرنے کے ۔کہ یہ ہی وہ شہ ہے جو ہم بڑی آسانی سے ضائع کرتے ہیں اور ہمیں دُکھ بھی نہیں ہوتا ۔حالانکہ یہ وقت سب سے بڑی طاقت ہے سب سے بڑی قوت ہے جو اسکی اہمیت سمجھتے اور اسے اپنے مطابق گزارتے ہیں وہ ہی کامیاب اور کامران ہوتے ہیں ۔جو نظریئہ ضرورت پر کام کرتے ہیں وہ بہت کم سود مند ثابت ہوتا ہے ۔
ہماری دعا ہے کہ جو کچھ کیا جارہا ہے وہ بار آور ثابت ہو اور اچھے نتائج نکلیں ۔

میڈیا اپنی ڈگر پر چل رہا ہے ۔کوئی عمران خان کی شادی کے لئے بڑھ چڑھ کر خبریں دے رہا ہے تو کوئی مولانا کی باتوں پر تبصرے کر رہا ہے ۔ہمیں لگتا ہے ہمارے ملک میں اور کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں بس یہ ہی چھوٹے چھوٹے مسائل ہیں جن پر ہم دل کی بھڑاس نکالتے رہتے ہیں ۔نہ کوئی مہنگائی پر بات کرتا ہے ،نہ کوئی بے روزگاری پر بولتا ہے ،نہ کوئی اسکولوں کے مسئلے اُٹھاتا ہے اور نہ کوئی انتشار جو ہر طرف پھیل رہا ہے اُسے گردانتا ہے ۔کوئی یہ بھی نہیں سوچ رہا کہ ہمارے جوان کن بے تُکی باتوں کو اہمیت دے رہے ہیں ،نہ پڑھائی رہی نہ لکھائی نہ تربیت رہی نہ اقدار کی پاسداری سب ایک نئی منزل کی طرف گامزن ہیں اور وہ ہے نمود و نمائش اور آسان طلبی کہ جو کچھ ملنا ہے بس آسانی سے ہاتھ آجائے محنت نہ کرنی پڑی ۔اسی طرح جس شعبے میں بھی دیکھیں نا تجربہ کار لوگ جمع ہیں صرف اور صرف زاتی پسند اور زاتی جان پہچان پر ۔جسکی وجہ سے ان شعبوں کی کارکردگی صفر ہے ۔لیکن کوئی بولتا نہیں ۔الیکشن میں ہمیں دو ناموں کے سوا کوئی نظر نہیں آتا جنکی کرپشن اور ناکر کردگی پانچ سال تک سُنتے ہیں انہیں ہی پھر نہلا دُھلا کر لا کھڑا کرتے ہیں ۔کیا قومیں اسی طرح بنتی ہیں ؟؟؟ جو قوم ابھی تک یہ ہی نہ فیصلہ کر سکی ہو کہ دھشت گردی ہے کیا اور کون دھشت گرد ہیں وہ کس طرح اپنے معاملات سلجھا سکتی ہے یہ ہمارا آج کا سوال ہے ایک صاحب روتے ہوئے باہر نکل اآئے لیکن یہ ہمت نہ دکھا سکے کہ اپنا مافی الضمیر بتا سکتے  ۔یہ ہیں ہمارے پارلیمینڑیرین ۔ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا حکومت یہ ہمت دکھائیگی کہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ بھی اس عدالت میں چلے ؟؟ کہ کچھ تو ہوتو نظر اآئے ۔ ۔ہماری دعا ہے کہ ہمیں ایسے لوگ نصیب ہو جائیں جو ہمیں ان ازیتوں سے نکال دیں جو روز ہم پر گزرتی ہیں ۔انشاء اللہ 

:دیگر مضامین
(22.12.2014) کیا واقعئی ہم زندہ ہیں ۔۔۔۔۔۔ ؟ از؛ عالم آرا ۔ وینکوور ۔ کینیڈا
(01.12.2014) ڈاکو بھی  احتجاج کرنے لگے ؟؟ از:‌ عالم آرا ۔ وینکوور ۔ کینیڈا
(14.11.2014) وہ اُجالے لینے گئے ہیں ۔۔۔ از:‌ عالم آرا ، وینکور، کینیڈا
(05.11.2014) سمجھ نہیں آتا ۔کس طرح خود کش سیکیورٹی پار کر جاتا ہے۔ از۔ عالم آرا
(14.10.2014) تجھ کو کسی کی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو ۔۔ از؛ عالم آرا ۔ وینکوور ۔ کینیڈا 
(30.09.2014)  انتظار انتظار اور انتظار۔۔۔۔ از :‌عالم آرا ۔۔ وینکوور۔ کینیڈا
(08.09.2014) پارلیمنٹ اور اس کا احترام ۔۔۔۔۔ از:‌عالم آرا ۔ وینکوور۔ کینیڈا
(26.08.2014) ہمیں بہت افسوس ہے کہ ہم نے ہر بات کو مزاق بنا لیا ہے۔از ۔عالم آرا
(19.08.2014) اگر عوامی مینڈیٹ ہے تو پھر ڈر کیسا؟؟از۔۔۔۔ عالم آرا
(22.07.2014) مسلمانوں پر مشکل وقت ۔۔۔۔ از: عالم آراء ۔ وینکوور
(07.07.2014) بیک ڈور پچھلا دروازہ ۔۔۔۔ از؛ عالم آراء ۔ وینکوور ۔ کینیڈا
(01.07.2014)  ٹانگ مت کھینچو حکومت کرنے دو ۔۔از:‌عالم آراء ۔ ویکوور ۔ کینیڈا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں