ان دنوں حالات جس نہج پر ہیں وہ دیکھ کر ہمیں حیرت صرف اس بات پر ہے کہ شرم ہم کو کیوں نہیں آتی ۔شاید ہم اور باتوں کی طرح شرم پروف بھی ہو گئے ہیں ۔یہ ہی ایک ایسا شعبہ تھا شاید جو ابھی تک ہمارےپاس کچھ باقی تھا مگر ہم نے اس سے بھی ہاتھ دھو لئے ہیں ۔جس پروگرام کو سنیں جس خبر کو دیکھیں ہر طرف صرف اور صرف بے ایمانی کی داستانیں اور بے وقوفی اور اقرباء پروری کا شور ہے مگر کوئی آواز کسی کان تک نہیں پہنچتی ۔ہم حیران ہیں کہ ہمیں ہر وقت یہ سننے کو ملتا ہے کہ حکومت منتخب ہے !عوام کے ووٹوں سے آئی ہے ! ہم حیران ہیں کہ ہمارے عوام کبھی اس بات پر شرمندہ نہیں ہوتے کہ انہوں نے کیسے لوگ منتخب کئے ہیں ؟
ہر برائی کا زمہ دار عوام کو ٹہرایا جاتا ہے کیونکہ جتنے برے کام حکومت کرتی ہے کہا جاتا ہے آپ نے ہی تو منتخب کی تھی ۔یہ بات سچ بھی ہے کہ اگر ہمیں تھوڑی سی بھی شرم ہے تو آئندہ ایسے کسی شخص کو ووٹ نہ دیں جو ہمارے ملک سے ایسا ناروا کھیل کھیلتے ہیں ۔نہ کسی چیز کے سستے ہونے سے عوام کا فائدہ ہوتا ہے اور نہ کسی کے اُٹھنے میں عوام اپنا بھلا دیکھتی ہے ۔بلکہ ایک معمول کی طرح بس بچہ جمہورا بنی ہوئی ہے ۔
پٹرول ختم ہو گیا لوگ بدل دئے گئے اور ایک کو ہٹا کر دوسرا اُس سے بھی کمزور لا کھڑا کیا گیا ہے ۔ کوئی بات نہیں ،ان پر مقدمے ہیں کوئی بات نہیں ،وہ کسی وجہ سے ہٹائے گئے تھے ۔کوئی بات نہیں بس مصاحب ہونا ضروری ہے کہ یہ ہی سب سے بڑی طاقت ٹہری ہے میرے ملک میں اب ۔آپ کو تجربہ ہو نہ ہو بس آپ کو شاہ کا مصاحب ہونا چاہئے ۔جس طرف دیکھیں کرپشن کا شور ہے مگر ہمیں لگتا ہے کہ بے جا شور ہے ۔ہم ہر قسم کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔بے ایمانی کی جنگ ،معیشت کی جنگ۔کرپشن کی جنگ ۔لاء اینڈ آرڈر کی جنگ ۔دھماکوں کی جنگ ۔دھشت گردوں کی جنگ ۔بھتہ خوروں کی جنگ ۔ نا اہلوں کی جنگ ۔جہالت کی جنگ ،زمینوں پر قبضے کی جنگ ۔
لیکن جب ہم مُڑ کر دیکھتے ہیں تو ان محازوں پرلڑتا ہمیں کوئی نظر نہیں اآتا ہمیں مورچے خالی ملتے ہیں ۔اور یہ ہی وجہ ہے کہ ہم ان تمام وحشتوں کے انبار لگا رہے ہیں اور ان میں دبتے جا رہے ہیں ۔لیڈر کیا ہوتا ہے ؟ لیڈرکیسے بنتا ہے یہ آج تک ہمارے یہاں کسی نے سیکھا ہی نہیں ،ہمارے ظالم اور نا کارہ حکمرانوں نے کبھی کسی کو راستہ دیا ہی نہیں اور ہم نے اُن سے یہ راستہ چھینا ہی نہیں ۔کیا کوئی ملک ایسا ہے جس کے میڈیا پر اتنی کھلم کھلا کرپشن کی داستانیں سنائی جائیں اور وہاں کا نہ قانون حرکت میں اآئے نہ حزبِ مخالف اور نہ ہی کوئی متعلقہ ادارہ ۔عوام کو تو خیر جانے دیں کہ لگتا ہے انکی تو عادت ہی بس ہلا گلا کرنا بنا دی گئی ہے ۔جس طرح مزاحیہ پروگرام چلتے ہیں اسی طرح روز صبح اُٹھ کر عوام ایک نئے مزاق کے لئے نکل پڑتے ہیں ۔کیونکہ انہیں نہ تو وقت کی اہمیت کا شعور رہ گیا ہے اور نہ ہی اپنی قسمت کو بدلنے کا ۔ہر مسئلے کا حل ایک ناکارہ کمیٹی ہے ۔جس کا کوئی بھی کارنامہ اآج تک سامنے نہ اآیا ۔
جس طرح اس حکومت نے پچھلی حکومت کے پانچ سال پورے کرائے اسی طرح پچھلی حکومت کے لوگ جو اب اپوزیشن میں بیٹھے ہیں ہر طرح اس حکومت کا ساتھ دیتے نظر اآتے ہیں ۔اور کوئی وجہ نہیں کہ جہاں عوام کمزور ہو اور قانون لاغر وہاں کوئی بھی حکومت پانچ سال پورے کر سکتی ہے بلکہ اگلے پانچ سال کی بھی تیاری کر سکتی ہے ۔مصلحتیں بڑے سے بڑے معاملات کو پیچھے ڈال دیتی ہیں اور جب بھی کچھ اآس بندھتی ہے حلات پھر اُسی جگہ آ جاتے ہیں جہاں سے شروع ہوئے تھے ۔
ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ جب قوموں میں تبدیلی کی چاہ پیدا ہوتی ہے تو کوئی رکاوٹ اسکا مقابلہ نہیں کر سکتی مگر جب مسخرے جمع ہوتے ہیں تو پھر کیسی تبدیلی اور کہاں کی تبدیلی ۔جب قوموں کا شعور جاگتا ہے تو بڑی سے بڑی قربانی بھی انہیں اآگے بڑھنے سے نہیں ہٹا سکتی ۔وہ ہر طوفان کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں کہ نہیں ہمیں اپنا حق لینا ہے بہت ہوگئی ۔مگر ہم اپنے لوگوں میں یہ جزبہ دیکھتے ہی نہیں ۔بلکہ انہیں تو آرام اور بے کاری کا ایسا زہر پلا دیا گیا ہے جو اندر ہی اندر غیر محسوس طریقے پر انہیں مفلوج کر رہا ہے اور وہ بے فکر ہیں کہ کچھ نہ کچھ تو ہو ہی جائیگا ۔ہمارے سارے وزیر دبئی میں بیٹھے رہتے ہیں سب اپنے کاروبار میں لگے ہیں ۔عوام قطار میں لگے ہیں پٹرول کی ۔یا تو جو دکھایا جا رہا ہے وہ جھوٹ ہے یا جو کہا جارہا ہے وہ جھوٹ ہے ۔تیل کا جہاز کہاں لنگر انداز ہو گیا پتہ نہیں ۔ہم نے دیکھا کہ پٹرول بلیک میں بیچا جا رہا ہے دوسو پچاس روپئے فی لیٹر ۔؟ ہمیں لگا کہ ہم واقعئی قوم ہیں ۔ایسی قوم جس کا ضمیر مردہ ہی نہیں بلکہ اس سے بھی آگے اگر کوئی لفظ ہو سکتا ہے تو وہ ہم لکھ دیتے ۔لیکن لینے والوں کو بھی شاباش ہے ۔کیوں نہ لوگوں نے نکلنا چھوڑ دیا کہ جب پٹرول نہیں ہے تو ہم باہر ہی نہیں نکلتے ۔لیکن جو مزے ان تماشوں میں ہیں جو ہم دنیا کو دکھاتے ہیں وہ حل نکالنے میں کہاں ؟
کچھ بھی لکھیں کچھ بھی کہیں مگر شرم ہم کو نہیں آتی ۔جس دن ہمیں شرم آگئی شاید اس دن ہماری قسمت بدل جائے ۔