خبر یہ ہے کہ سعودی عرب کےبادشاہ عبد اللہ نوے سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ہمیں مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ حکم ہے۔ کہیں کہ انا للہ وانا الیہ راجعون ہ اور رواج یہ ہے کہ ہم دعائے مغفرت بھی کریں اور کہیں اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے (آمین )۔ اگر ہوسکے تو جنازے میں شرکت کابھی حکم ہے، نمازِ جنازہ بھی جو فرض کفایہ ہے اس میں شرکت کریں اور قبرستان جانے کا بڑا ثواب احادیث میں ہے۔ اس میں شاہ اور گدا کی کوئی تمیز نہیں ہے؟ جبکہ یہ معلوم صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کو ہے کہ کون کیا ساتھ لے گیا اور اعمال کا وزن جو ہے وہ نیتوں پر منحصر ہے لہذا ثواب کا فیصلہ اس پر ہونا ہے کہ عمل میں کس قدر خلوص تھا، جس کا علم اس نے صرف اپنے ہی پاس رکھااور فرشتوں کو بھی عطا نہیں فرمایا ؟
حکمراں مومن اورعادل ہو تو اس کی جگہ جنت الفردوس ہے۔ جو نبیوں،(ع) شہیدوں اور صدیقوں (رض) کا مقام ہے ۔اس کے برعکس اگر حکمراں ظالم اور جابر ہواتو عذاب بھی اسی حساب سے عظیم ترین ہے اور ہم نشین بھی اسے ویسے ہی ملیں گے جیسا کہ وہ خود ہوگا؟
ان کا دور حکومت دس سال رہا انہوں نے 80 سال کی عمر میں اقتدار سنبھالااور نوے سال کی عمر میں انتقال فرمایا ۔
عمر کے اس دور کو قرآن نے وہ دور کہا ہےکہ جس میں انسان کی اکثرصلاحتیں قدرتی پر دم توڑدیتی ہیں ابن ِ کثیر (رح) نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے یہ عمر 72 سال سے شروع ہوجاتی ہے۔؟ لہذاان کا یہ کارنامہ بہت بڑا ہے کارنامہ ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو بیس یونیورسٹیاں، لا تعداد کالج اور بتیس ہزار نئے اسکول دیے۔
اس سے جو چیز ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے بھی اور مسلم دانشوروں کی طرح مرض پہچان لیا تھا۔ کہ مسلم قوم کے زوال کی وجہہ جہالت ہے اور جب تک اسے دور نہیں کیا جائے گا۔ قوم ترقی نہیں کرسکتی ۔
ان سے پہلے کے بادشاہوں نے ملک اور بیرون ملک صرف مذہبی تعلیم پر زور دیا اور بیرون ملک بھی مذہبی اداروں کی ہی سرپرستی کی جس کامقصد ایک مخصوص مکتبہ فکر کو رواج دینا تھا جوکہ ہمیشہ دنیا میں باعث فساد ہوا اور کسی دور میں بھی پسندیدہ نہیں رہا کیونکہ اس سے فرقہ پرستی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ان کے دور میں یہ فرق پیدا ہوا کہ انہوں نے زیادہ زور علمِ دنیا پر دیا۔ تاکہ ملک کی ضروریات کے مطابق ماہرین اورسائنسداں خود پیدا کر سکیں جوکہ ایک مثبت تبدیلی اور حکمت عملی تھی۔ ہمیں امید ہے کہ ان کے جانشین اس فرق کو سمجھ کر انہیں کی پالیسی کو اور آگے بڑھا ئیں گے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ انہیں اور باقی دنیا کے مسلم حکمرانوں کوتوفیق عطا ئےفرمائے (آمین)
کیونکہ یہ کلیہ ہے کہ موت کسی بھی انسان کی ہو انسان اپنی موت یاد کرلےاور اپنا احتساب بھی کرتا رہے۔