14.10.2026, 09:17am , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

سعودی عرب کے سلمان ابن عبدالعزیز ال سعود مملکت کے نئے بادشاہ
26.01.2015, 01:10am , سوموار (GMT+1)

عالمی اخبار شعبہ خبر

سعودی عرب کے بادشاہ عبداللہ کے انتقال کے بعد ان کے سوتیلے بھائی سلمان ابن عبدالعزیز ال سعود نئے بادشاہ بن گئے ہیں۔ بادشاہ بننے سے پہلے سلمان صوبہ ریاض کے 48 سال تک گورنر رہے اور 2011 میں وزیر دفاع بن گئے اور اس کے ایک سال بعد ہی ولی عہد بن گئے۔ سعودی بادشاہ سلمان اپنے پیشرو کی پالسیاں برقرار رکھیں گے 79 سالہ سلمان نے بادشاہ عبداللہ کی خراب صحت کے بعد سے ہی بادشاہ کی ذمہ داریاں ادا کرنا شروع کر دی تھیں۔ بادشاہ سلمان شاہی خاندان کی ایک بااثر شخصیت ہیں اور وہ سعودی عرب کے بانی شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے ان سات بیٹوں میں سے ہیں جنھیں ’سدیری سات‘ کہا جاتا تھا۔انھیں یہ نام اس لیے دیا جاتا ہے کہ وہ سب ابن سعود کی سب سے زیادہ چہیتی اہلیہ حصہ السدیری کے بطن سے پیدا ہوئے۔ 

سال 1982 سے 2005 تک سعودی بادشاہ فہد کی موت کے بعد سے ولی عہد رہنے والے شہزادے سلطان اور نائف کے بعد سلمان ال سعود خاندان کی سب سے طاقتور شخیصت رہے ہیں۔ بادشاہ سلمان نے ریاض کے گورنر کے طور پر اس صحرائی شہر کو ایک گنجان آباد شہر میں تبدیل کیا جہاں اب بلند و بالا عمارتیں، یونیورسٹیاں اور مغربی ریستوران موجود ہیں۔ بادشاہ سلمان بادشاہ سلمان 31 دسمبر 1935 کو پیدا ہوئے۔ 1955 سے 160 تک ریاض کے گورنر رہے، دوبارہ 1963 سے 2011 تک ریاض کے ہی گورنر رہے۔ 2011 میں اپنے بھائی کے انتقال کے بعد وزیر دفاع بن گئے۔ بادشاہ سلمان کے عرب دنیا کے ایک بڑے میڈیا گروپ میں اہم حصہ دار ہیں۔ اپنے عہدے کی وجہ سے ان کی بین الاقوامی ساکھ میں اضافہ ہوا اور انھوں نے کئی اعلیٰ شخصیات اور وفود کی میزبانی کی، جس کی مدد سے انھیں ریاض میں بیرونی سرمایہ کاری لانے میں مدد ملی۔ وزیر دفاع کے طور پر ملکی فوج کے سربراہ تھے اور گذشتہ سال امریکہ کی قیادت میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف اتحاد میں شمولیت اختیار کی۔ 

وہ سعودی شاہی خاندان کے سینیئر ترین ارکان میں سے ایک تھے جنھوں نے کھلے عام اپنے کاروباری مفادات کا ذکر کیا۔ ان کے تین بیٹوں سعودی ریسرچ اینڈ مارکیٹنگ گروپ’ سی آر ایم جی‘ کے سربراہ ہیں اور یہ گروپ اخبارات، رسالوں کا مالک ہے۔ ان میں سے ایک اخبار الشرق الاوسط لندن سے شائع ہوتا ہے۔ بادشاہ سلمان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس گروپ میں حصہ دار نہیں ہیں۔ ’سعودی عربیہ پولیٹکل افیئرز‘ کتاب کی مصنفہ کیرن ایلیئٹ ہاؤس نے بی بی سی کو بادشاہ سلمان کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ’ ان کی زیادہ شہرت ہے کہ ان کا جھکاؤ سعودی عرب کی مذہبی قیادت کی جانب زیادہ ہے۔‘ ’آپ یہ تصور کر سکتے ہیں کہ ان کی ہلکی سے خواہش ہو گی کہ سعودی عرب میں زیادہ مذہبی سختی کو موقع دیا جائے۔‘ بعض دیگر مبصرین بادشاہ سلمان کی ایک بڑے شاہی خاندان اور اس میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے دھڑوں کے درمیان بطور ثالث شہرت رکھنے کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

 بادشاہ سلمان نے اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو ملک کا نیا وزیر دفاع مقرر کیا ہے اور یہ کردار مزید بھاری اس وقت ہو جاتا ہے جب سعودی بادشاہت کی دوسری نسل کو اہم سیاسی ذمہ داریاں دینے کی بات ہوتی ہے جس میں سعودی بادشاہت کے بانی عبدالعزیز کے بیٹوں سے اقتدار ان کے پوتوں کو منتقل ہوتا ہے۔ بادشاہ سلمان کا شاہی خاندان کے اندر السدیری دھڑا کبھی سات سگے بھائیوں کا ایک متحد گروپ ہوتا تھا اور اب اس گروپ میں بھی اندرونی دشمنیاں پیدا ہو چکی ہیں کیونکہ ان سات بھائیوں کے بیٹوں نے اپنے اپنے طاقتور مرکز بنا لیے ہیں۔ بادشاہ سلمان کی صحت کے بارے میں بھی خدشات پائے جاتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انھیں ایک بار فالج ہو چکا ہے جس کی وجہ سے ان کے بائیں بازو کو حرکت کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بادشاہ سلمان حالیہ اجلاسوں میں کافی چست نظر آئے اور کافی باخبر تھے لیکن ان کی عمر کی وجہ سے ان کی صحت کے بارے میں خدشات موجود رہیں گے۔ شاہ سلمان نے اقتدار سنبھالتے ہی سعودی عرب کے وزیر داخلہ پرنس محمد بن نائف کو نائب ولی عہد اور اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو ملک کا نیا وزیر دفاع مقرر کیا ہے۔

سعودی عرب کے نئے بادشاہ سلمان نے بادشاہت سنبھالنے کے چند گھنٹوں کے بعد ہی مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان جاری کیا کہ ’اللہ میری مدد کرے، سکیورٹی اور استحکام برقرار رکھنے میں، اور سلطنت کی تمام برائیوں سے حفاظت کرنے میں۔‘
معمول کے واقعات کے تناظر میں اس ٹویٹ کو ایک عام بیان سمجھ کر نظرانداز کیا جا سکتا تھا لیکن اس موقعے پر نئے بادشاہ کی ترجیحات کے بارے میں اندازہ ہوتا ہے۔
اس وقت سعودی عرب اندرونی اور بیرونی طور پر کئی مشکلات کے گھیرے میں ہے۔
اس حساس وقت میں سعودی شاہی خاندان کو جانشینی کے مشکل عمل کا سامنا ہے۔اس کو غیر معمولی رفتار سے کئی ممکنہ فتنہ ساز مسائل سے نمٹنا ہو گا۔ ان میں ایک اس وقت حل ہو گا جبکہ نئے بادشاہ نے فوری ہی اپنے سوتیلے بھائی شہزادہ مقرن کو ولی عہد مقرر کر دیا۔
اس سے پہلے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر یہ افواہیں گردش کی رہی تھیں کہ ممکنہ طور پر بادشاہ سلمان ولی عہد کے لیے اپنے سگے بھائی احمد کو شہزادہ مقرن پر ترجیح دے سکتے ہیں

:دیگر مضامین
(24.01.2015) خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ نے اگست سنہ 2005ء میں زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لی
(22.01.2015)  جنوری 22، شمس العلام مولانا محمد حسین آزاد کا یوم وفات ۔از ؛ امین ترمذی
(20.01.2015) پشاور کے آرمی پبلک سکول کے شہیدوں کے چہلم کا دن بھی آن پہنچا۔ از عباس نقوی
(19.01.2015) پاکستان کرکٹ ٹیم نے پشاور اسکول کے بچوں سے اظہار یک جہتی کے لیے ملاقات کی۔
(18.01.2015) لندن سے سیالکوٹ براستہ دبئی ۔ قلم کار فرخندہ رضوی کا پہلا مختصر سفرنامہ ۔ آخری قسط
(16.01.2015) فرینکفرٹ میں سولہ دسمبر کے پشاور کے سانحے کے خلاف احتجاجی جلسہ ۔ تصویری جھیلکیاں
(13.01.2015) فرینکفرٹ میں سولہ دسمبر کے پشاور کے سانحے کے خلاف احتجاجی جلسہ
(10.01.2015) ایبولا ، قاتل وائرس کے حوالے سے چشم کشا رپورٹ ۔ احمد خلیل جازم
(07.01.2015) لندن سے سیالکوٹ براستہ دبئی ۔ قلم کار فرخندہ رضوی کا پہلا مختصر سفرنامہ ۔ تیسری قسط
(06.01.2015) زلفی بھٹو.تاریخ پاکستان کا لازوال کردار ۔ از؛ محمد احمد ترازی
(04.01.2015) جشن صبح بہاراں کا پیغام ۔ ۔ ۔ یومِ میلاد تجدیدِ عہدِ وفا اور انقلاب کا دن
(02.01.2015) نعت کےنور سے ہاں میرا قلم روشن ہے
(02.01.2015) دو ہزار چودہ بچوں کے لئے ناگوار اور المناک رہا ۔ یونیسف کی تازہ رپورٹ
(29.12.2014) مصطفےٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام ، مصطفےٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام
(27.12.2014) دسمبر 26۔پروین شاکر خوشبو اور انکار کی شاعرہ کی برسی ۔۔۔۔ از ۔۔۔۔ زرقا مفتی
(26.12.2014) ریڈیو پاکستان سکردو کاعظیم قائد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیئے محفل مشاعرہ
(25.12.2014) بانی پاکستان محمد علی جناح کی شخصیت کا ہر پہلو ایک روشن مثال
(24.12.2014) ملکہ ترنم نورجہاں کے ایک تاریخی انٹرویو سے اقتباس , نور جہاں کی چودہویں برسی
(24.12.2014) ریڈیو پاکستان سکردو کی جانب سے منقعدہ کل بلتستان نعتیہ مقابلہ
(23.12.2014) سویڈن کے شہر سٹاک ہولم میں سانحہ پشاور کے حوالے سے ایک اہم تقریب



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں