مرے گھر میں بجیں گے شادیانے
چراغاں ہو گا ہر درو دیوار پر
زمیں کے ان خداؤں کو سلامی
کہ میرا بھائی جس کے جسم کے ٹکڑے ابھی بھی خوں میں تر ہیں
کہ جس کے بوڑھے ماں باپ کل سے در بدر ہیں
زمیں کے ان خداؤں کو سلامی
کہ میرے بھائی کی قیمت لگا کر
ہمیں جنت کا وارث کر دیا ہے
اب ان پیسوں سے ہم سب گھر کے باسی
کفن جا کر خریں گے شہرسے
نہ جانے کب کوئی اللہ اکبر کہہ کر آئے
اور اپنے جسم سے باندھے ہوئے بارود سےہم سب کو
در جنت پہ جا کے چھوڑ آئے
مبارک دو شہید ہم ہو گئے ہیں
اگرچہ بوڑھے ماں باپ گھر سے در بدر ہیں
میری بیٹی کی عزت شہر کے اس مولوی نے لوٹ لی ہے
جو اس کو بہن کہہ کر اپنے ساتھ لے گیا تھا
مبارک دو شہید ہم ہو گئے ہیں