|
کراچی کے آسماں پہ بدستور ظلم کا خونی عقاب ۔از:سیدہ زائرہ عابدی
11.02.2015, 01:00am , بدھ (GMT+1)
نئے برس کے پہلے دن کراچی کے آسماں پہ بدستور ظلم کا خونی عقاب اپنے لہو رنگ پنجوں میں ہلاکت کا درد لے کرہے نازل ہوا دعوے بھی ہوئے وعدے بھی ہوئےمگر ہماری مقتل گاہیں سجتی رہیں جام و جم کا نشہ تھا گہرا بہتسسکیاں اور آہیں لپٹتی ہوئ درودیوار سے سر پٹکتی ہوئ نا زنجیرِ انصاف کوئ ہلی ناجائے اماں کوئ ہم کو ملی... یہ میرا کراچی ہے جہاں برس بھر سے دھوم دھڑکّے کا کئ ڈیویژن رینجرزاور پولیس کا آپریشن جاری ہے وہیں قاتلوں کی سرپرستی بھی انہی رینجرز اور پولیس کے کی چھتری تلے کتنے آرام اور سکون سے ہوتی رہی ہے ،آئیے زرا اس بدنامِ زمانہ متعصّب آپریشن کے دوران ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ سماجی ابتری کا حال بھی دیکھتے ہیں ۔
ویسے تو ہمارے جرنیل امیرالمومنین ضا ء الحق کے دور میں منشیات کے اور اسلحے کے زخائر بھی جمع کئے گئے اور اسی دور سے سے سعودی عرب جیسے اسلامی ملک سے اربوں ریال کی فنڈنگ صرف اس لئے ہونے لگی تاکہ شیعہ مسلمانوں کی نسل کا خاتمہ کیا جا سکے ،،امیر المومنین کے بعد سعودی عرب کی نگاہوں میں ضیاءالحق جیسے مدبّر صدراور راہنما کا جان نشین ان کو نواز شریف کی شکل میں متبادل مل گیا جو سعودی پالیسیوں کا بہترین نگہدار ہے ۔
اور پھرنواز کابینہ کے شیعہ دشمن وزراء اور صاحبِ مرتبہ بھی ان پالیسیز کے بہترین نگہبان و نگہدار ہیں اس لئے کالعدم تنظیمیں صرف نام کی حد تک کالعدم ہی رہیں اور ریال کھنکتے رہے اور تنظیموں کے اکا ؤنٹس سے ریال ابلتے رہے اور پاکستان اسلامی ملک میں شیعہ مسلمان مرتے رہے اپنے جنازے یخ بستہ سردیوں میں سڑک پر لے کر بیٹھے رہے اور اسلام آباد کے خمار آلود زرّین اور مقتدر ایوانو ں میں سانپ سونگھ کے گزر گیا کسی بھی ملک کے شہریوں کے درمیان یہ عدم مساوات کا سلوک شائد پوری دنیا میں کہیں نظر نہیں آئے گا جیسا کہ پاکستان جیسے اسلامی ملک میں شیعوں کے ساتھ ہو رہا ہے اور ہوتا چلا آیا ہے ۔
پنجاب میں آپریشن موثّر طریقے سے شروع کیا گیا لیکن صوبہ سندھ میں بالخصوص کراچی میں پر عزم اور فعال کالعدم نام نہاد ورنہ تو وہ پوری, پوری طرح آزاد ہیں ان کو نواز شریف نے بڑے ہی نرم لہجے میں لہجے میں سمجھا دیا کہ اب وہ واقعی اپنے آپ کو کالعدم سمجھیں ،نوازشریف کے لہجے کی پچکار ہی بتا رہی تھی کہ وہ ان تنظیموں کو کیا سمجھانا چاہ رہے ہیں اور دوسری جانب فوجی آپریشن کی اجازت کی خبر ملتے ہی کالعدم تنظیموں کے راہنما شہباز شریف کے ساتھ ایک خفیہ میٹنگ میں بیٹھے اور شہباز شریف سے کہا کہ آپ تو ہمارے خلاف ہو گئے
تو شہباز شریف نے ان کو اطمینان دلایا کہ آپ تو دہشت گرد ہیں ہی نہیں جو ہم آپ کو پکڑیں گے اور اس کھلی اجازت اور سرپرستی کے ساتھ ہی جنوری 2015 کے پہلے دو ہفتوں میں شیعوں کی تیز ترین ٹارگٹ کلنگ ہوئ کوئ تاریخ خالی نہیں گئ جس میں شیعوں کے دو سے تین افرد شہید نا کئے گئے ہوں اور اب جبکہ 22 جنوری کو مجلس وحدت مسلمین نے شیعہ ٹارگٹ کلنگ اور پیارے نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کے اہانت آمیز خاکوں کے خلاف پر امن ریلی نکالی تو کراچی میڈیا کے متعصّب اخبارات نے اور کراچی اپ ڈیٹس نے اس انتہائ پروقار اور پرامن احتجاجی ریلی کی کہیں کوئ کوریج نہیں دی کم سے کم اب یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو گئ کہ پاکستان کے شیعوں بالخصوص کراچی کے شیعوں کو حکومت پاکستان یا حکومتِ سندھ و حکومتِ کراچی سے قطعئ کسی بھی دلداری توقّع نہیں رکھنی چائے کیونکہ ہماری حکومتوں کے نصاب میں ہمارا مقام ہماری قتل گاہیں ہیں صوبہ سندھ کی ایک سیاسی شخصیت کا قتل ہوتا ہے تو پولیس مستعدی سے قاتل کو بھی ڈھونڈ نکالتی ہے اور قتل میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برامد کر لیتی ہے اور شیعوں کے لاتعداد مقتولوں کے قاتلوں کا پتا لگانا پولیس یا رینجرز کا کام نہیں بلکہ قاتلوں کو اپنی آستینوں میں پناہ دینا ہے اس لئے ہم شیعوں کو شکوہ نہیں ہونا چاہئے۔ اب میرا موضوع کراچی آپریشن ہے اس نام نہاد آپریشن کے کیا نتائج ہیں یہ بھی ایک سرسری نظر سے جائزہ لیتے چلتے ہیں
اس نام نہاد آپریشن میں کراچی کی پوری پوری مہاجر آبادیوں کو ان کے گھروں سے باہر نکال کر سڑکوں پر کھڑا کر کے ان کے گھروں کی تلاشی لی گئ اورایم کیو ایم کے دفتروں کی کھڑکیاں اور دروازے توڑ کر دفتروں کا ریکارڈ اپنے قبضے میں لیا گیا اس پربھی آتشِ انتقام ٹھنڈی نہیں ہوئ تو ایم کیو ایم کے کارکنوں کی ایک ساتھ تین تین مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ شروع ہوا۔
آپریشن جاری رہا پورے کراچی میں کسی بھی سیاسی جماعت کے کسی کارکن کی پکڑ دھکڑ نہیں ہوئ پولیس اور رینجرز کے نشانے پر صرف مہاجر نوجوان رہے اور مہاجر بستیاں رہیں اسی آپریشن کے دوران علّامہ عبّاس کمیلی کے جوانسال بیٹے کو ٹارگٹ کلنگ سے شہید کیا گیا ۔ علامہ عباس کمیلی کے بیٹے کی شہادت پر جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے قائم مقام مرکزی صدر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ علامہ عباس کمیلی کے بیٹے کی شہادت پر پوری قوم غمزدہ ہے۔ حکومتی نمائندگان ہر روز دعوے کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ انہوں نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی، لیکن کراچی میں ابھی بھی ٹارگٹ کلنگ اسی حکومت کو چاہیے کہ اس واقعے کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لے اور قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دے، نیز پھانسی کے قانون کو فوری طور پر بحال کیا جائے، تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کی جاسکےساتھی سیمت فائرنگ سے جاں بحق ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق علی اکبر کمیلی اور انکے ساتھی پر عزیز آباد کے قریب موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم ملزموں نے فائرنگ کر دی ۔ ذرائع کے مطابق اکبر کمیلی کو تین گولیاں لگیں، انہیں فوری ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے ۔ ان کے ساتھی کا نام چمن بتایا گیا ہے جو کہ شدید زخمی حالت میں دم توڑ گیا۔ مرکزی تنظیم عزا نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا۔
علامہ علی اکبر کمیلی کے قتل کی تفتیش کے لئے کمیٹی قائم کر دی گئی جو 24 گھنٹے میں رپورٹ دےگی واقعہ کے بعد نمائش چورنگی پر مشتعل مظاہرین نے ٹریفک بلا ک کر دی ۔ جعفریہ الائنس نے بھی تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا ہے ۔ وزیر اعظم نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، سید قائم علی شاہ ، عمران خان سمیت دیگر رہنمائوں نے ان کے قتل پر اظہار افسوس کیا ہے ۔ قائم علی شاہ نے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ۔ دوسری جانب الطاف حسین نے ان کے قتل شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی جنوبی فرقہ واریت کو ہوا دے رہے ہیں ایسا افسوسناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی نہیں کی جارہی جس کی وجہ سے یہ فرقہ واریت پھیلانے والی تنظیمیں آزادانہ کارروائی کر رہی ہیں ۔ انہوں نے اپنے بیان میں مولانا عباس کمیلی سے اظہار افسوس کیا اور کہا کہ اس غم میں ایم کیو ایم ان کے ساتھ برابر کی شریک ہے۔
کراچی میں ٹارگیٹڈ آپریشن کو ایک سال مکمل ہونے کے قریب دہشت گردوں نے اپنے بلند حوصلوں کے ساتھ حکومت کو اپنا کھلا ہوا قاتل ہاتھ دکھا کر کہا کر لو جو رنا چاہو کیونکہ ہماری سرپرستی وہاں سے ہے جہاں سب بے بس ہیں اور ہم آزاد ہیں اور پھر علّامہ طالب جوہر ی کے داماد سمیت 6 افراد ٹارگٹ کل کئے گئے پولیس کا بڑا بھولا بیان حسبِ معمول فرقہ وارانہ شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔
صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں مسلح حملے میں مذہبی عالم مفتی محمد نعیم کے داماد اور استاد مسعود بیگ ہلاک ہوگئے ہیں جس کے بعد کئی علاقوں میں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔
یہ واقعہ بدھ کی سہ پہر ڈھائی بجے کے قریب نارتھ ناظم آباد کے علاقے حیدری مارکیٹ میں پیش آیا۔ حیدری پولیس کا کہنا ہے کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم افراد نے ایک کار پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں مولانا مسعود زخمی ہوگئے۔ انھیں ہپستال منتقل کیا جارہا تھا کہ وہ راستے میں دم توڑ گئے۔ ایس ایس پی وسطی کے مطابق مولانا مسعود بچوں کو سکول سے لینے جارہے تھے کہ ان کا تعاقب کرکے نشانہ بنایا گیا۔ انھیں سر اور سینے پر گولیاں ماری گئی ہیں۔
مولانا مسعود جامعہ بنوریہ سائیٹ ایریا میں درس و تدریس سے منسلک تھے۔ وہ شعبہ خواتین کے نگران اور جامعہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم کے داماد تھے۔ ان کے لواحقین میں بیوہ، بیٹا اور بیٹی شامل ہیں۔
وہ پاکستان کے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے علاوہ بیرون ملک بھی لیکچر دینے جاتے تھے اور ان کا موضوع اسلام میں برداشت تھا۔ اس واقعے کے بعد ناظم آباد، حیدری اور سائیٹ ایریا میں صورتحال کشیدہ ہوگئی بعض مقامات پر ٹائروں کو نذرِ آتش بھی کیا گیا ہے۔ دوسری جانب اہلسنت و الجماعت کے ترجمان مولانا اورنگزیب فاروقی نے مولانا مسعود کے قتل کی مذمت کی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت اہل سنت علما کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ قارئین کو یاد رہے کہ ایک ہفتے کے اندر شہر میں ٹارگٹ کلنگ کا یہ دوسرا بڑا واقعہ علّامہ عبّاس کمیلی کے جوان بیٹے کو ٹارگٹ کلنگ کے بعد پیش آیا تھا ۔ ۔کراچی میں رینجرز کی سربراہی میں گذشتہ ایک سال سے ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے، جس کے باوجود فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہلاکتوں میں کمی واقع نہیں ہوئ ان واقعات کے بعد سندھ حکومت ایک بار پھر دس روز کے لیے موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی۔
کراچی میں سیاسی مخالفین اور مختلف جماعتوں کے کارکنوں کی ہلاکتوں کے بعد پیشہ وار افراد - خاص طور پہ ڈاکٹروں، وکیلوں، پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ ہوگیا ہے جس سے تنگ آکر شہر کے بیشتر علاقوں میں کئی کئی عشروں سے اپنے اپنے کلینک چلانے والے کئی ڈاکٹر یا تو گھر بیٹھ گئے ہیں یا پھر انہوں نے بیرون ملک سکونت اختیار کرنا شروع کردی ہے۔
اعدادو شمار کے مطابق نیا سال شروع ہوئے ابھی ایک ماہ بھی مکمل نہیں ہوا کہ کراچی میں چار ڈاکٹر، 20 پولیس اہلکار اور رینجرز کے دو جوان لقمہ اجل بنادیئے گئے۔
اورخونی اور قاتل درندے ٹارگٹ کلرزکے روپ میں پورے شہر میں دندناتے ہوئے آزادانہ جیتے جاگتے انسانوں کا لہو بہاتے پھرتے رہے بچّے یتیم ہوتے رہے بیوا ؤں کے بین آسمان کو چھوتے رہے اور ہماری صوبائ حکومت بھی سوتی رہی اور وفاقی کے تو جھنڈے بلند ہوتے رہے کیونکہ ٹارگٹ کلنگ کے بلند گراف سے ہی تو ریال کی قیمت جڑی ہوئ تھی اور بالاخردہشت گردوں نے ایک اہل سنّت ڈاکٹر فاروق احمد شیخ کو بھی اپنے نشانے پر لیا تب حکومت کو ہوش آیا،ڈاکٹر فاروق اپنے علاقے میں پچھلے 15 سال سے اپنا کلینک چلارہے تھے اور اپنے علاقے کے بہت نیک انسان کے طور پرپہچانے جاتے تھے ۔ نئے سال کے 20ابتدائی دنوں کے دوران ڈاکٹرز کی ٹارگٹ کلنگ کا یہ چوتھا واقعہ تھا۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ڈاکٹروں کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ کے خلاف انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی حفاظت کے لئے کچھ نہ کیا گیا تو وہ سب ہڑتال پر چلے جائیں گےہمارے بھولے بھالے وزیر اعلٰی کے پاس ٹارگٹ کلنگ روکنے کے لئے ایک آسان نسخہ ہے ایک تحقیقاتی کمیٹی بنا دو اور موٹر سائیکل کی سواری پر پابندی عائد کردودہشت گردوں پر ہاتھ نہیں ڈالنا اس ریاستی دہشت گردی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہورہا ہے کہ بیشتر ڈاکٹرز یا توبیرون ملک منتقل ہوگئے ہیں یا وہ منتقلی کے انتظامات کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ کئی ڈاکٹرز ایسے بھی ہیں جو خوف کی وجہ سے گھر بیٹھ گئے ہیں۔
اور اب کراچی کے شہریوں کا کہنا یہ ہے کہ شہر مسیحاؤں سے خالی ہونے کے آثار نظر آرہے ہیں ٍمتعدد کلینک بند ہوگئے ہیں کیوں کہ ڈاکٹرز امریکہ، برطانیہ یا دبئی شفٹ ہوگئے ہیں۔ اور باہر جانے والوں کی کافی تعداد ویٹنگ لسٹ پرہے۔
ڈاکٹر فاروق کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد ڈاکٹرز کی تمام تنظیموں نے دو فروری 2015کو سرکاری و نجی اسپتالوں کی او پی ڈی بند اور سیاہ پٹیاں باندھ کر یوم سیاہ منایا جائے گا۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے دفتر میں منعقدہ اجلاس میں سندھ کے تمام ڈاکٹرز کی نمائندہ تنظیموں نے شرکت کی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ایم اے کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ادریس ایدھی نے کہا کہ اگرداکٹرز کے قاتلوں کو گرفتار نہ کیا گیا تو دھرنے اور بھوک ہڑتالیں ہوں گی۔ دو فروری کو اسپتالوں میں او پی ڈیز بھی بند رہیں ۔ گرفتار افراد کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جائیں ۔نیز ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ان کو اپنی حفاظت کے لئے اسلحہ لائسنس بھی دئے جائیں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت ڈاکٹرز کے لواحقین کے لیے فوری طور پر ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کرے۔اور اب دہشت گرد اتنے حوصلہ مند ہو چکے ہیں کہ انہوں نے انتہائ دیدہ دلیری سے پولیس اور رینجرز کو نشانے پر لے لیا ہےآگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔
|