|
قوم کی ترقی میں "عورت کا مقام " ۔۔۔ از" ڈاکٹر نگہت نسیم
11.02.2015, 11:15am , بدھ (GMT+1)
ڈاکٹر نگہت نسیم
یہ بہت ہی اہم ، توجہ طلب اور طویل موضوع ہے کیونکہ عورت کو ماں ، بہن ، بیٹی ، بیوی کے رشتوں میں محدود نہیں کیا گیا ۔ کسی بھی قوم یا معاشرے میں عورت کے کردار پر مغرب میں بہت سی کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔بدقسمتی سے عالم اسلام میں اس پر لکھا گیا ہے پر زیادہ نہیں ۔ ۔ میں کوشش کرونگی کہ موضوع کے ساتھ انصاف کر سکوں ۔
دراصل قوم کو بنانے کے لیئے صرف ماں ہی اپناکردار ادا نہیں کرتی بلکہ بیٹی ، بہن اور بیوی جیسے رشتوں میں ڈھل کر بھی اس کا کردار وہی ہوتا ہے جو قدرت اور فطرت نے اسے عطا کیا ہے ۔ عورت اپنے ہر رنگ اور ہر رشتے میں صبر ، برداشت ، قربانی ، محبت اور پرورش کی ضامن ہوتی ہے ۔
عورت کے بنیادی کردار کو سمجھنے کے لیئے "قوم "کے معنی سمجھنا ضروری ہیں ۔ قوم کے معنی ہیں کسی بھی ملک یا خطے کی غالب اکثریت کا تعلق ایک ہی جگہ سے ہو ۔ ان کی تاریخ ، زبان ، تہذیب ایک جیسی ہو ۔
اللہ پاک نے ضرور ہمیں ضرور ایک قوم بنایا ہے پر سوچنے کی بات یہ ہے کیا واقعی ہم قوم ہیں ۔؟ کسی مفکر کا قول ہے کہ کسی قوم کی حالت دیکھنی ہو اس ملک کی ٹریفک کا انتظام دیکھو۔ سوچیئے جو قوم ابتری اور افراتفری کا شکار ہو ، جو کسی کو رستہ دینا نہ جانتے ہوں ، اس قوم کی عورت پر کتنی بھاری زمیداری ہوگی کہ قوم کو تحمل ، برداشت ، محبت اور رواداری شائستگی کیسے سکھائے ۔ اس موقع پر مجھے " نپولین " کا قول یاد آگیا "تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دیتا ہوں "
میں سمجھتی ہوں اچھی قوم کے لیئے صرف اچھی ماؤں تک محدود نہیں ہونا چاہیئے بلکہ میں اسے ایسا کہونگی "تم مجھے اچھی عورتیں دو میں تمہیں اچھی قوم دیتی ہوں " ۔۔
قران پاک میں بھی بچوں کی تعلیم و تربیت کی زیادہ زمیداری عورت کو دی گئی ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ عورت کو خدا پاک نے تخلیق کا وصف عطا کیا ہے ۔ جیسے وہ خود بحثیت خالق کے اپنی مخلوق کی ہررمز کو جانتا ہے اسی طرح عورت اس عطا کردہ وصف کی وجہ سے مردوں کے مقابلے میں انسانی نفسیات سے زیادہ واقف ہوتی ہے اور اپنی فطری ہمدرد طبعیت اور پرور ش سے اپنے ارد گرد کو بڑی توجہ سے سنوارتی رہتی ہے ۔ عورت قوم کے صرف لڑکوں کو ہی نہیں سنوار رہی بلکہ لڑکیوں کو بھی سنوار رہی ہے تاکہ وہ آئیندہ نسلوں کو سنوار سکیں ۔ عورت کی قابلیت دیکھئے وہ دونوں کو الگ الگ طریقے سے ایک ساتھ پروان چڑھاتی ہے ۔
یہی بچے بڑے ہو کر قوم بنتے ہیں ۔ سو ان کی تربیت بہت اہم اور توجہ طلب ہے ۔ اور آج کل ان کی تربیت گاہ صرف گھر ہی نہیں بلکہ اسکول ، کالج ، حتی کے یونورسٹی بھی شامل ہے ۔ تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ عورت بحثیت استاد ، ڈاکٹر ، منیجر مردوں سے زیادہ محنتی ، صابر، ہمدرد ہوتی ہے جولگن اور توجہ کے ساتھ زمیداری پوری کرتی ہے ۔ اور ان سے منسلک لوگ بھی ان سے خوف نہیں کھاتے بلکہ بلا جھجھک اپنی پریشانی اور غلطیوں کا اعتراف کر لیتے ہیں جس سے کامیابی کی صورت بہترین نتائج نکلتے ہیں۔
اسلام نے عورت کے اسی بے مثال کردار کی وجہ سے اسے بڑا مقام دیا ہے پر افسوس ابھی بھی کئی ممالک ہیں جہاں عورت کو آگے بڑھنے نہیں دیا جاتا ، لڑکیاں تعلیم حاصل نہیں کر سکتی ، ووٹ ڈالنے کی سہولت تک نہیں ہے ۔
جب عورت پڑھی لکھی ہو گی گھر کی فضا صحت مند ہو گی ، وہ گھر سنبھالنے کے ساتھ ساتھ خاندان کے لئے معاشی ہاتھ بٹا سکے گی ۔ تحقیق بتاتی ہے کہ اگر کوئی لڑکی پرائمری اسکول مکمل کر لیتی ہے تو مستقبل میں وہ 10 سے 20 فیصد زیادہ بہتر معاشی حالت میں رہ سکتی ہے ۔ اگر کوئی لڑکی سینکنڈری تعلیم مکمل کرتی ہے تو مستقبل میں معاشی حالت بہتر ہونے کی 15 سے 25 فیصد چانس ہوتے ہیں ۔ ورلڈ بینک پی ڈی ایف کے مطابق ایک سال کی پڑھائی زیادہ کرنے سے عورتوں میں شعور اور ادراک کی وجہ سے بچوں کی شرح اموات میں کمی آ جاتی ہے ۔۔ جیسے ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک ہزار بچوں میں 18 بچے بچائے جا سکتے ہیں ۔ اور پھر ان کی بہترین تربیت سے بہترین قوم بنائی جا سکتی ہے ۔
اسلام تو وہ جدید دین ہے جس میں جب کوئی عورت تجارت نہیں کرتی تھی اس وقت بھی عرب کی ملکہ سیدہ خدیجہ الکبری عرب کے صحراؤں سے چین کی سرحدوں تک ریشم کی تجارت کرتی تھیں ۔ جناب سیدہ خدیجہ نے خود حضور پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقد کی خواہش کا اظہار کیا ۔ اس جدید دین کی بنیاد کمال کی تھی پر ابھی بھی غالب اکثریت عورت کو پسماندہ اور دوسرے درجے کی شہری سمجھتے ہیں ۔
پوری دنیا میں 3۔6 ملین لڑکیاں اسکول نہیں جا پاتیں ۔ دنیا میں امن ، تحفظ ، منظم معاشرے کے لئے ، برداشت اور تحمل لانے کے لیئے عورتوں کو آگے لانا پڑے گا ورنہ قوم پسماندہ رہ جائے گی ۔ سوچئے پسماندہ عورت سے پسماندہ قوم ہی بنے گی ۔ افسوس یہ پسماندگی ا سلام نے عورت کو نہیںدی بلکہ دنیاوی قانون اور معاشرتی سلوک نے عورت کو پسماندہ رکھاہے۔
خوشی کی بات یہ کہ ان حالات کے باوجود اب بھی ہمارے پاس ایسی خواتین ہیں جنہوں نے ہر میدان میں کمال دکھایا ہے ۔ شکر خدا کا گزشتہ 20 برسوں سے لڑکیوں کی اسکول جانے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ۔ خصوصا ایران عراق کی جنگ کے بعد جب ایران میں مردوں کی تعداد کم ہوگئی تو عورت ایک زمیداری کی طرح ہر شعبہ زندگی میں کام کیا ۔ ٹیکسی سے لے ہوائی جہاز تک اڑایا ۔ علم و ادب میں کمال تک پہنچا ۔ آپ کو یاد ہو گا ایران کی شاعرہ "پروین اعتسامی " ۔۔ انیس سال کی عمر میں وفات پانے والی یہ شاعرہ "اشک یتیم " لکھ کر امر ہو گئئں ۔۔ اور دور حاضرہ کی شریں ایرانی مصورہ کون بھول سکتا ہے ۔۔
بس آخر میں یہ ضرور کہنا چاہتی ہوں کہ معاشرے میں جب تک عورت کو اس کا مقام اور عزت نہیں دی جائے گی تب تک اچھی قوم سامنے نہیں آ سکتی ۔ اچھی لڑکی سے اچھی عورت تک کا سفر اسے تعلیم ، ہنر اور عزت دیئے بغیر طے نہیں ہو سکتا ۔
https://www.facebook.com/video.php?v=775556462528193&set=vb.462693267147849&type=3&theater
|