|
انفرادی تربیت ہی عالمی امن کی پرورش کر سکتی ہے۔ از:ڈاکٹر نگہت نسیم
16.02.2015, 04:04am , سوموار (GMT+1)
میں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ انفرادی تربیت ہی عالمی امن کی پرورش کر سکتی ہے ۔ میرے دوست احباب اکثر مجھ سے اتفاق نہیں رکھتے ۔ مجھے ان کا بے حد احترام ہے۔ آج مجھ سے میرے بدیسی دوستوں نے بھی میرے دیس کے امن پر بہت ساے سوال کئے اور انہیں بھی میں نے یہی کہا کہ ہماری ناکامی کی وجہ ہمارا انفرادی زمیداریوں سے بھاگنا ہے ۔ ہم لوگ اپنی بندوق چلانے کے لئے دوسروں کے کندھے استعمال کرنے کے عادی ہو چکے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ اخلاق کا درس سب کو دیں اوراس کے زاتی اخلاق پر کوئی انگلی بھی نہ اٹھائے ۔ ہمارے یہی اجتماعی رویئے ملک کے لاتعداد نوجوانوں کو دہشت گردی کا آلہ و نشانہ بنا رہے ہیں ۔
کسی بھی انسان پر اس کی ابتدائ تعلیم و تربیت ایک خاص طور اسکی شخصیت سازی پر ااثر انداز ہوتی ہے ۔ کسی بھی افراد کی اخلاقی تربیت واقعی کسی بھی معاشرے کی تعیمر و ترقی کے لیے لازم ہے ۔
آیئے آج میں آپ کو چینی ادیب “لین ، یو، تانگ کی کتاب سے ایک اقتباس سناتی ہوں جسے مھترم مختار صدیقی نے ترجمہ کیا ہے اور یہ کتاب “ جینے کی اہمیت “ 1956 میں شائع ہوئی تھی ۔ اور مجھے یہ نایاب کتاب اپنے ابا جی ( سسر مرحوم ) کی لائیبریری سے ورثے میں منتقل ہوئی ہے کہ میں ان کی ادب دوستی کی وارث ہوں ۔
اس کتاب میں اس موضوع پر وہی لکھا ہے جو میری آئیڈلوجی ہے ۔۔ یوں لگ رہا ہے جیسے ادیب نے میری سوچیں پڑھ لی ہوں ۔۔۔
قدیم لوگوں کا دستور تھا کہ اگر وہ دنیا میں اخلاقی ہم آہنگی کی تمنا کرتے تو سب سے پہلے خود اپنی قومی زندگی کی تنظیم کرتے ۔
قومی زندگی کی تنظیم کرنے والے سب سے پہلے گھریلو زندگی کو باقائدہ بناتے ۔
جو لوگ گھریلو زندگی کو منظم بنانا چاہتے وہ سب سے پہلے زاتی زندگی کی تربیت پر توجہ دیتے ۔ اور جو لوگ زاتی زندگی کی تربیت و تہذیب پر توجہ دیتے ، وہ سب سے پہلے دلوں کو پاک صاف کرتے ۔۔۔
دلوں کو پاک صاف کرنے کی خواہش کرنے والے سب سے پہلے نیتوں کو مظبوط بناتے ۔
نیتوں کو مخلص بنانے والے سب سے پہلے خود میں سمجھ اور مفاہمت پیدا کرتے ۔۔۔
دوستو ! سمجھ بوجھ ، علم کی چھان بین سے پیدا ہوتی ہے ۔ جب علم اور سمجھ پیدا ہو جائے تو نیت اور ارادہ مخلص ہو جاتا ہے ۔ اور جب نیت صاف اور ارادہ مخلص ہو جائے تو دل صاف ہو جاتا ہے۔ جب دل صاف ہو جائے تو زاتی زندگی کی تہذیب اور تربیت شروع ہو جاتی ہے۔ زاتی زندگی کی تربیت اور تہذیب ہو جائے تو گھریلو زندگی منظم اور باقائدہ ہو جاتی ہے ۔ جب انفرادی اور گھریلو زندگی منظم ہو جائے تو قومی زندگی بھی منظم ہو جائےگی ۔ اور جب قومی زندگی منظم ہوجائے تو دنیا امن و امان کا گہوارہ بن جائے گی ۔
گویا ایک عام آدمی سے لےکر شہنشاہ تک ہر ایک کی بنیاد اس بات پر ہے کہ زاتی زندگی کی تربیت اور تہذیب کی جائے ۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ کہ بنیاد بے قائدہ اور درست نہ ہو اوراس پر کھڑی عمارت ٹھیک اور باقائدہ ہو ۔
دنیا میں ایسا کوئی درخت موجود نہیں جس کا تنا کمزور اور نازک ہو اور اس کی ٹہنیاں بھاری بھر کم اور مظبوط ہوں۔ اس کائینات کی ہر چیز کا ہونا ایک وجہ رکھتا ہے اور ہر چیز کا دوسری چیز سے ربط اور تعلق اپنی جگہ اٹل ہے ۔
اسی طرح انسانی معاملوں میں ابتدا اور انتہا دونوں موجود ہیں ۔ لیکن ان درجوں کا جاننا ، ان کا تقدس ، تقویم اور تاخیر کا علم حاصل کرنا دانشمندی کی ابتدا اور اس کی دہلیز ہے۔
امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں " اصلاح کی ابتدا اپنی ذات سے کرنی چاہئے۔ اعلی اخلاقی تربیت کا پہلا اور اہم ترین قدم یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو، اپنے اخلاق کو اور اپنے کردار کو تنقیدی نگاہ سے دیکھے۔ اپنے عیوب کو دیکھے، ان پر غور کرے اور انہیں دور کرنے کی کوشش کرے۔ کہ یہ کام ہم خود ہی کر سکتے ہیں ۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے اس بات کی وضاحت یوں فرمائی ۔۔ اے اولاد آدم تیرا حال، تیری حالت، تیرے ایام اور تیرا راستہ اس وقت تک اچھا رہے گا جب تک تو خود اپنے نفس کو وعظ و نصیحت کرتا رہے گا۔ کوئی تیرے باطن میں تجھے نصیحت کرے، تیرا دل، تیری عقل، تیرا ضمیر، تیرا ایمان تجھے نصیحت کرے۔ دوسروں کی نصیحت مفید ہے لیکن اس سے زیادہ مفید یہ ہے کہ انسان خود اپنے آپ کو نصیحت کرے۔ جب تک تمہارے اندر نصیحت کرنے والا ہے اور جب تک تم خود اپنا محاسبہ کرتے رہوگے سب اچھارہے گا ۔ ثابت ہوا ہے کہ اصلاح کے میدان میں اہم ترین ترجیحات میں سے ایک یہ ہے کہ معاشرے کی تعمیر سے پہلے فرد کی تعمیر کا اہتمام ہو ۔ دوسرے الفاظ میں نظام اور اداروں میں انقلاب سے پہلے فرد میں انقلاب لانا ہوگا۔ اسے قرآن پاک میں یوں لکھا ہے ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی‘‘۔ (الرعد: ۱۱)
ہر اصلاح، ہر تبدیلی اور ہر اجتماعی تعمیر کی بنیاد انفرادی تربیت ہے اور اسی کا مطلب نفس کی تبدیلی ہے۔ حضور پاک نبی آخر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا " اچھا مسلمان وہ ہے جو اپنے گھروالوں کے ساتھ اچھا ہے اور میں(ص) اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے اچھا ہوں ۔ اس کے بعد حکم معاشرتی آداب پر عمل کا ہے جو قرآن مجید اور اسوہ حسنہ میں موجود ہیں۔
اسکا ایک اور ثبوت روز محشر کا اصول احتساب ہے ۔ ۔ ۔وہاں بھی میزان انفرادی اعمال پہ ہی قائم ہو گی ۔ ۔ ۔ نہ کہ اجتماعی اعمال پہ یہ سچ ہے کہ انسان کی ایک صالح فرد کے طور پر تعمیر پہلے انبیا کا کام تھا ۔ اور ان کے بعد ان کے خلفاء کا مقرر ہوئے ، اور اب وارثین علم بھی اسی ذمہ داری پر مامور ہیں ۔
یہ سچ ہے کہ انسان کی ایک صالح فرد کے طور پر تعمیر پہلے انبیا کا کام تھا ۔ اور ان کے بعد ان کے خلفاء کا مقرر ہوئے ، اور اب وارثین علم بھی اسی ذمہ داری پر مامور ہیں ۔ آیئے آج ہم سب اپنی اپنی انفرادی تربیت شروع کرتے ہیں اور ایک بہترین معاشرے اور قوم کی بنیاد آج ہی سے رکھتے ہیں ۔
|