|
انسانوں کو خوبصورت اور سجانے کے وسیلے ۔از:سیدہ زائرہ عابدی
13.02.2015, 10:02am , جمہ (GMT+1)
خالقِ کون ُمکاں نے ہم انسانوں کی زندگی کو بہتر بنانے اسے خوبصورت بنانے اور اسے سنوارنے اور سجانے کے کیا کچھ زرائع اور وسیلے عطا کئے ہیں کہ ان کا شمار ہی ممکن نہیں ہے اللہ رحمِن و رحیم کی عطا کردہ ان پیاری نعمتوں میں ایک نعمت ہیرے ،جواہرات ،اور انواع و اقسام کے نگینے اور پتّھر ہیں ۔
اگر ہم دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ابتدائے زمانہ سے ہی انسان نے ان کا استعمال شروع کر دیا تھا ،رسولِ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کا فرمان ہے کہ جس ہاتھ میں فیروزے اورعقیق کی انگوٹھی ہو گی وہ کبھی اپنی دعاء سے ناامّید نہیں ہو سکتا ہے۔انبیائے کرام علیہم السّلام ،ائمّہ طاہرین علیہم السّلام ،اولیائے دینِ اکرام اور صلحا و عارفین ہمیشہ اپنے ہا تھ میں انگشتری پہنتے تھے ۔
مولائے کائنات و سلطانِ اولیاء حضرت علی علیہ السّلام فرماتے ہیں کہ جنابِ رسولِ خدا نے فرمایا کہ ائے علی اگر تم چاہتے ہو جبرائیل و میکائیل تمھاری ہم نشینی اختیار کریں تو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کرو آپ نے فرمایا کہ انگشتری پہننا قربت الِہی کا باعث ہوتا ہئے مولاعلیہ السّلام فرماتے ہیں کہ فیروزے کی انگوٹھی محتاجی سے بچاتی ہے۔ کسی سوال کرنے والے نے ساتویں اما م علیہ السّلام سے سوال کیا کہ مولا یہ بتائے کہ مولا علی علیہ السّلام دائیں ہاتھ میں کیوں پہنتے تھے آپ علیہ السّلام نے جواب میں فرمایا کہ وہ پیشوائے اصحاب یمین ہوں گے اوران لوگوں کو اعمال نامے آپ ہی ان کے ہاتھوں میں دینگے مولا علی سے روائت ہے کہ آپ علیہ السّلام چار مقاصد کے تحت انگشری کا استعمال کرتے تھے اوّل زینت و شرافت کے لئے یاقوت دوئم نصرت و فتح یابی کے لئےفیروزہ اور سوئم طاقت وقوت کے لئے حدید چینی ،چہارّم دشمنون اور بلاؤں سے حفاظت کے لئے ۔
عقیق کے بارے میں امام اوّل فرماتے ہیں کہ تمام اعمال شریعہ بجا لاتے ہوئے مومن کو دائیں ہاتھ میں انگوٹھی تاکہ وہ پہچانا جائے کہ مومنوں میں سے ہے ویسے تو نگینوں کی لاتعداد قسمیں ہیں لیکن ان میں سب سے بلند مرتبہ عقیق کا ہے اور عقیق کی درجہ بندی میں سب سے بلند عقیقِ یمنی کا ہے حضرت سلمان فارسی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے فرمایا کہ روز الست عقیق نے وحدانیت ِ پروردگارِ عالم کا اقرار کیا اور پھرخاتم الانبیاءصلیّاللہ علیہ واٰلہ وسلّم کی نبوّت کا اقرار کیا اور پھر ولائتِ علی مولا کا اقرار کیا اوردوستدارانِ علی مولا کے جنّت میں جانے کی خوشخبری پر خوشی کا اظہار کیا ۔
روایت میں ہے کہ جنّت میں عقیقِ سرخ،،زرد اورسفید کے تین پہاڑموجود ہیں اوپہاڑ کی نسبت جناب رسول اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کی جانب دوسرے کی جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی جانب اور تیسرے کی جناب حضرت علی علیہ السّلام کی جانب ہے ان پہاڑوں کے نیچے نہریں جاری وساری ہیں یہ نہریں برف سے زیادہ سرد دودھ سے زیادہ سفید اورشہد سے زیادہ میٹھی ہیں ان نہروں کا سرچشمہ حوض کوثر ہے یہ نہریں محمّد وآلِ محمّد اور ان کے چاہنے والوں کے لئے اللہ کی جانب سے جاری کی گئیں ہیں ۔
امام حسین علیہ السْلام فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو عقیق نظر آتے ہیں ان کی پیداوار نظرِ حضرت موسٰی علیہ سے ہےانہوں نے جب کوہِ طور سے زمین کی طرف نگاہ کی تو شعاعِ نگاہ سے اس جگہ کے کوہِ سنگ عقیق بن گئے ۔
اما مت کی ہشتم منزل پر فائز حضرت امام علی رضا علیہ السّلام فرماتے ہیں کہ یاقوت کی انگوٹھی پہننے سے پریشانی زائل ہو جاتی ہے روزی فراخ ہوتی ہے رنج و اندوہ سے نجات ملتی ہے ظالم کے پنجے میں گرفتارِ بلا نہیں ہو سکتا ہے تونگری قدم چومتی ہےہر خوفناک مرحلے میں کامیابی ملتی ہے ،قبولیتِ نماز کا باعث ہے امام محمّد باقر علیہ السلام فرماتےہیں کہ میرا ایک جگہ سے گزر ہوا میں نے دیکھا کہ ایک تازیانہ کھائے ہوئے مجروح سرِراہ پڑا ہوا تھا میں نے اپنے ساتھی سے کہا اگر اس نے عقیق پہنا ہوتا تو یہ اس ظلم سے بچ جاتا ۔
امام جعفرِ صادق فرماتے ہیں کہ عقیق پہننا انبیاء کی سنّت ہے آپ علیہ السّلام نے فرمایا کہ عقیق کی انگوٹھی سفر کی مشکلات کو دور کرتی ہے ،عقیق پہننے والے کا مزاج ٹھنڈا ہو کر غصّہ کافور ہو جاتا ہے۔
اور سکونِ قلب سے مالا مال ہوجا تا ہے یاقوت زبرجد اور زمرد کے لئے امام رضا علیہ السّلام فرماتے ہین کہ یاقوت پہننے سے پریشانیاں زائل ہوتی ہیں اور زمرّد کی بھی یہی کچھ خاصیتیں ہیں امام فرماتے ہیں کہ زمرّد زبرجد اور یاقوت سے تونگری قدم چومتی ہے ،،مولائے کائنات کے لئے حضرت جبرئیلِ امیں فیروزے سے مزیّن چاندی کی انگوٹھی لائے تھے جس پر اللہ الملک کندہ تھا یہ انگوٹھی یکے بعدیگرے تما م ائمّہ ء طاہرین کے پاس سلسلہ وار رہی درّنجف کے لئے مولا فرماتے ہیں کہ یہ مومنین کی سیر گاہ ہے اور بے شمار دردوں کا علاج ہے اس کی طرف نگاہ کرنے سے حج وعمرہ کا ثواب ہوتا ہے یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ یہ سستا ہے اور اس کے فوائد گراں ہیں۔
|