

میری بہت سی ایسی عادات ہیں جو میرے احباب اور چاہنے والوں کے لیئے کبھی کبھی مشکلات کا باعث بنتی ہیں لیکن ان سے زیادہ میں خود مضطرب رہتی ہوں ۔ زندگی کے دوسرے گوشوں کی طرح ادب شاید میری حیات کا ایک گوشہ نہیں بلکہ پوری حیات ہے ۔ میرے نزدیک ادب فقط افسانہ نگاری ، شعر گوئی یا کالم نویسی نہیں ہے ۔ کیونکہ میرا فلسفہ ادب یہ ہے کہ اگر آپ ادیب ہیں تو پھر آپ کی حیات کا مرکز ہی ادب ہے اور یوں آپ کا ہرنظام کار ادب کی پرکار کے ارد گرد گھومتا ہے ۔ اسی ادب کا ایک تقاضا ڈسپلن ہے اور ڈسپلن کا مطلب فقط وقت کی پابندی نہیں بلکہ سانسوں کی آمد و رفت بھی اسی ڈسپلن کی مرہون منت ہے ۔
میں نے یہ مختصر سی تمہید اس لیئے بیان کی میرے ادبی ڈسپلن میں کسی دوسرے فنکار کے فن کو پرکھنے کا عمل جیسے خود کو روز محشر میں کھڑے پانا ہے ۔ اور اسی توازن کو برقرار رکھنے کے لیئے اکثر یہ ہوتا ہے کہ دوستوں اور چاہنے والوں کی آئی ہوئی کتابوں اور شعری مجموعوں پر رائے لکھنے میں کبھی توتاخیر اور کبھی بہت تاخیر ہو جاتی ہے ۔ میں سمجھتی ہوں کہ تبصرہ نگاری اور رائے کا اظہار ادب سے کٹ کر کوئی چیز نہیں بلکہ ادب کا ہی ایک اہم جزو ہے ۔ یہی وہ میرا عملی اور تحریری ڈسپلن ہے جس کے باعث ایسے چاہنے والے بھی ناراض ہو جاتے ہیں کہ جن کے نام کے ساتھ ناراضگی کا لفظ لگا ہی نہیں کھاتا ۔ اب آپ ہی سوچیئے جس کے نام میں خندہ یعنی مسکراہٹ جزو اسم ہو اس کی ناراضگی کیسے مول لی جائے ۔

برطانیہ کے شہر ریڈنگ میں قیام پذیر فرخندہ رضوی میرے احباب کی فہرست میں سر فہرست لوگوں میں سے ہیں ۔ مسکراہٹ کے خمیر سے گوندھی ہوئی اس فرخندہ رضوی کی شخصیت پر تو کسی اور نشست میں بات ہو گی لیکن اس وقت ان کے اب تک شایع ہونے والے آخری شعری مجموعے “ زیر لب خندہ “ پر اظہار خیال کر رہی ہوں ، کیونکہ فرخندہ کے مجھے نہ کہنے کے باوجود میرا بیدار زہن مجھے کئی روز سے سگنل دے رہا تھا کہ لکھو اور جلدی لکھو اس سے پہلے کہ دوست ناراض ہو جائے ۔ اس تاخیر کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ میں نے فرخندہ کا شعری مجموعہ “ زیر لب خندہ “ پڑھا بھی نہیں ہوا تھا لیکن کیا کروں اس افتادہ طبع کا کہ کسی بھی تخلیق کو پڑھ کر فوری اظہار خیال میرے اس ادبی ڈسپلن کا حصہ نہیں جس کا زکر میں نے ابھی اوپر کیا اور ہاں یہ بھی طے ہے کہ جس فن پارے پر رائے دینے میں زیادہ دیر ہو تو سمجھ لیجئے کہ اسے جذب کرنے میں اور اس جازبیت سے لطف اندوز ہونے میں زیادہ وقت لگا ۔ اور یہی صورت حال زیر لب خندہ کی ہے ۔
فرخندہ رضوی لکھنے والوں کے
اس قبیل سے تعلق رکھتی ہیں کہ جن کے کشکول سخن میں اپنے بزرگوں ، خاندان اور ہمسفر سے ملنے والی کوئی نعمت شامل نہیں ۔ گویا سخن گوئی کا یہ بیج بویا بھی خود ، اس کی آبیاری بھی خود کی ، اس کی نگہداشت بھی خؤد کی اور پروان بھی خود ہی چڑھایا اور اب ایک رخ سے اس کا پھل بھی خود کھا رہی ہیں ۔ خود ہی پھل کھانے والی بات میں نے اس لیئے کہی کہ فرخندہ رضوی ہم چند دوستوں کی اس فہرست میں ہیں جنہیں فقط مشاعرے بازی کا شوق نہیں اور جو ایس ایم ایس مسیج اور ای میل پر بھی غزل سنانے کے لیئے ہر گھڑی تیار کامران رہتے ہیں ۔ شاعری فرخندہ کے نزدیک ناشہرت کا اشتہار ہے اور نہ تعلقات قائم کرنے کا زینہ ہے ۔ میرے خیال میں وہ صرف اس لیئے لکھتی ہے کہ قلم کے خالق نے یہ لکھنے کا فریضہ اس کے سپرد کر رکھا ہے ورنہ نہ تو اس کے خاندان میں پہلے کسی نے لکھا اور نہ ہی آگے ایسا کوئی امکان نطر آتا ہے ۔ ماسوائے اس کے کہ معجزہ کبھی بھی ، کہیں بھی رونما ہو سکتا ہے ۔
فرخندہ رضوی نے شعر لکھتے ہو
ئے نناوے فیصد بناوٹ سے کام نہیں لیا چاہے اس فطری طرز عمل میں شاعری کے کچھ فنی محاسن قربان ہی کیوں نہ کرنے پڑے ہوں ۔ شجر کاری کی دنیا میں جن پودوں کو کیکٹس کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔ وہ سو فیصد خود رو ہوتے ہیں اور ماہرین شجر کاری کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ روئے زمین پر کیکٹس کے پھولوں کی طرح کے دوسرے پھول کہیں بھی موجود نہیں ہیں ۔ یہ کیکٹس ریگستانوں میں کھلتا ہے جہاں پانی نایاب اور شدت آفتاب سوا نیزے پر ہوتی ہے ۔ فرخندہ کی شاعری میں بس یہی ایک عنصر مجھے اچھوتا لگتا ہے کہ کانٹوں کے باوجود اس میں کیکٹس کے پھولوں کا تناسب زیادہ ہے ۔
فرخندہ کے اگر تخلیقی سفر کا جائزہ لیا جائے تو اس میں شاعری کے علاوہ افسانہ نگاری ، کالم نگاری اور تبصرہ نگاری کے اہم گوشے بھی موجود ہیں ۔ لیکن ان گوشوں پر پھر کسی اور وقت گفتگو ہو گی ۔ اس وقت صرف “ زیر لب خندہ “ کی بات ہے جس کا انتساب انہوں نے اپنی مرحومہ والدہ “ زبیدہ بٹ “ اور اپنی بہن “امتل حمید بٹ “ کے نام کرتے ہوئے لکھا ہے “ اس احسانمندی کے جذبے کے تحت ایک ہستی جس کی محبت کی ہمیشہ قرضدار رہونگی اور دوسری ہستی جس کی انگلی تھامے میں نے سالوں کا سفر طے کیا “
چاند بن کے کبھی آغوش میں خندہ کی اتر
میں تجھے موم کی مانند پگھلتے دیکھوں
فرخندہ رضوی کے شعری مجموعے کا کلیدی مضمون محترم جناب صفدر ہمدانی کا ہے جس میں انہوں نے فرخندہ کی شاعری کے تخلیقی سفر کے ساتھ ساتھ اس کا نقادانہ جائزہ تعلق اور دوستی کو بالائے طاق رکھ کر نہایت ایمانداری سے لکھا ہے ۔ ۔ ان کے مضمون کا صرف یہی ایک پیراگراف ان کی بے لاگ رائے زنی اور صاحب قلم کے لیئے سعد مشورے کا خوبصورت نمونہ ہے ۔
“ شعر میں وزن کا شعور فقط اور فقط شاعر کے اندر موجود ہوتا ہے ۔ اور آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی کوئی ایسا سٹیم سیل اور امپلانٹ دریافت نہیں ہوا جو کسی شاعر میں لگا دیا جائے جو بے وزن کو بھی باوزن کر دیاکرے ۔ اس بات کا براہ راست کلی طور پر تعلق فرخندہ کی شاعری سے نہیں ہے لیکن اس کی جھلک ضرور کہیں کہیں نظر آئی جس کی طرف اشارہ میرے قلمی ایمان کا حصہ ہے “
میں نے فرخندہ کے اس مجموعے “ زیرلب خندہ “ کو جب مندرجہ بالا رائے کے بعد ایک مرتبہ پھر پڑھا تو سب سے زیادہ خوشی اسی بات کی ہوئی کہ رائے دینے والے نے تعلقات کو بالائے طاق رکھ کر ایسی کھری رائے دے کر صاحب تخلیق سے واقعی محبت ، اخلاص اور دوستی کا ثبوت دیا ہے ۔ چونکہ فی زمانہ پیشہ ور فلیپ نگاروں اور نقادوں نے تعلقات بنانے اور مفادات حاصل کرنے کی دوڑ میں تنقید کے اس بنیادی اصول کو فراموش کر رکھا ہے ۔
آخر میں ایک تخلیق کار کے طور پر مجھے خود بھی یہ کہنا ہے فرخندہ کی شاعری کوئی ادب عالیہ تسلیم کرے یا نہ کرے میرے لیئے زیادہ اہم نہیں ۔ زیادہ اہم یہ بات ہے کہ وہ اس عہد میں لکھتی تو ہے لیکن اس کی اس سے بھی بڑی خوبی جومیں جانتی ہوں وہ یہ ہے کہ اسے مطالعہ کا شوق کھانے کے شوق سے بہت زیادہ ہے ۔ اور اس سے بڑی بات یہ کہ وہ کتاب خرید کر پڑھتی ہے ۔ اور کتاب دنیا کے کسی کونے سے ملے حاصل کرتی ہے ۔ پروردگار عالم نے زہن کی وسعت کا رزق فقط مطالعے میں رکھا ہے اور ہمارے ادب کی دنیا کا ایک غالب حصہ اسی مطالعے کی نعمت سے محروم ہے ۔
میں دعاگو ہوں کہ فرخندہ رضوی کا یہ تخلیقی سفر اسی قلمی ایمانداری کے ساتھ مزید ترقی کرے اور پروردگار اس پر فکری اور قلمی رحمتیں نازل کرے اور“ زیر لب خندہ “ کے بعد اس کااگلا مجموعہ “ خندہ ، خندہ ، خندہ “ ہو ۔
ڈاکٹر نگہت نسیم
سڈنی