آج کتنے ہی برسوں بعد ایک خوشی کی خبر سنی تو مارے حیرانگی اور خوشی سے کبھی ٹی وی تو کبھی اخبار کی سرخیاں پڑھ رہی ہوں ۔ برسوں سے کہہ رہی تھی کہ
ملک کی طاقت اور قوت صرف عوام ہیں اور حکمران ہمارے نوکر ہیں ۔ اگر عوام
چاہے تو ان کا تختہ ایک دن میں الٹ سکتے ہیں اوراس کام کے لیئے نہ لڑائی لڑنی پڑتی ہے ، نہ دنگا ، نہ فساد ، نہ ہڑتالیں کرناپڑتی ہیں ۔ بس انتخابات کے دوران جس دن ووٹنگ کا دن ہو اس دن اپنے گھر سے نکل کر ایک ایسے سچے اور ایماندار انسا ن کو ووٹدیں جو واقعی ملک میں امن اور بھائی چارہ چاہتا ہو ۔ جسے نہ جنگ کرنے سے دلچسپی ہو ، نہ کسی کے مذہب سے کوئی بیر اور خوف ہواورنہ ہی جعلی بحران پیدا کرکے ہر طبقہ فکر کونفسا نفسی میں ڈال کر نفرتوں کی پورش سے مطلب ہو ۔ ایسے سچے مخلص اور خیر خواہ لوگ نایاب نہیں ہیں ۔۔ ہاں انہیں ایسی نظریں چاہیئے مستقبل کی فکر کرتی ہوں ، جو اپنے پیٹسے آگے دیکھتے ہوں ۔۔ جنہیں اپنی نسلوں کی بقا کی فکر ہو ۔ ایسے میں 2015 میں ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی کے ریاستی انتخابات میں عام آدمی پارٹی (اے اے پی ) کی کامیابی نے میرے خواب کو نہ صرف پورا کیا بلکہ میرے کہے کو بھی سند دی ہے ۔
میں تھوڑا سا آپ کی سہولت کے لیئے نئی دہلی کے بارے میں بتانا چاہتی ہوں ۔ نئی دہلی جیسا کہ ہندوستان کا دارالحکومت ہے ۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ریاست میں 11 ملین لوگ آباد ہیں جن میں 81 فیصد ہندو ، 9۔9 فیصد مسلمان اور 5 فیصد سکھ ۔ 1۔1 فیصد عیسائی اور دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے 1.2 فیصد ہیں ۔
نئی دہلی میں 70 سیٹیں ہوتی ہیں اور حکومت قائم کرنے کے لیے 36 نشتوں کی ضرورت پڑتی ہے ۔ تین روز قبل نئی دہلی میں ریاستی اسمبلی کی 70 نشستوں کے لیے انتخابات ہوئے جس میں ایک کروڑ سے زائد ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ اور عام آدمی پارٹی نے 67 نشتیں جیت کر پوری دنیا کوحیران کر دیا ۔ انتخابات میں بی جے پی پارٹی کو صرف 3 سیٹیں ملی جبکہ کانگریس ایک سیٹ بھی نہ حاصل کر سکی ۔ اروند کیجری وال عام آدمی پارٹی کے سربراہ ہیں اور وہ 14 فروری 2015 کو دہلی کے ساتویں وزیر اعلی کی حثیت سے حلف اٹھا رہے ہیں ۔
اروند کیجری وال 16 اگست 1968 میں پیدا ہوئے ۔ محض45برس کی عمرمیں وزیر اعلیٰ بننے والے کیجری وال دہلی کےسب سے کم عمر کے وزیر اعلیٰ ہوںگے۔ کیجری وال کا یہ سفر انتہائی مضبوط عزائم سے بھرا جہد مسلسل کی کہانی ہے۔ وہ پہلے انجینئر،پھر بیو رو کریٹ اور سماجی کارکن اور اب وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری نبھائیں گے ۔ آپ کو یاد ہوگا 2013 میں ہونے والے انتخابات میں عام آدمی پارٹی نے 28، بھارتیہ جنتہ پارٹی (بی جے بی) نے 31 اور کانگریس نے 8 نشستیں حاصل کی تھیں۔ چونکہ دہلی میں حکومت قائم کرنے کے لیے 36 نشتوں کی ضرورت پڑتی ہے اس لیے عام آدمی پارٹی نے کانگریس کی مدد سے حکومت قائم کی تھی مگر 49 دن کے بعد وزیراعلیٰ اروند کیجری وال نے استعفی دے دیا تھا۔ اروند کیجری وال کے استعفی کی وجہ بدعنوانی کے خلاف قانون سازی نہ ہونا تھا ۔
کیجری وال چاہتے تھے کہ ہرخاندان کو سات سو لیٹر مفت پانی کی فراہمی ہو، اہم فیصلوں کے لیے عوام کی رائے لی جائے ، بجلی کے میٹروں کی درستی کے لیے فوری طور پر کارروائی کی جائے ، بجلی صارفین پر درج مقدمات واپس لئے جائیں ، پانی کے بورڈ کی از سر نو تشکیل ہو ، پینے کے پانی کی نجکاری پر پابندی لگائی جائے ، گھریلو زمرے کے ناجائز بل معاف کئے جائیں ، غیر مستقل ملازمین مستقل کیے جائیں ، پبلک اسکولوں کی من مانی پر پابندی لگائی جائے، خواتین کے تحفظ کے لیے اسپیشل سکیورٹی فورس کا نظام مرتب کیا جائے، غیرمنظور شدہ گھروں کی منظورکیا جائے ، جھگیوں کو توڑنے پر پابندی لگائی جائے ۔ جب یہ سب نہ ہوا تو انہوں نے وزیع اعلی کی پوسٹ سے استعفی دے دیا ۔ روند کیجری وال کی حالیہ کامیابی ایک عام آدمی کی کامیابی ہے ۔ ہندوستان کے عام آدمی نے ثابت کر دیاکہ وہ بالغ نظر ہے اور وہ اب ذات پات سے الگ ہونا چاہتاہے ۔ وہ صرف ڈیموکریسی کی زندگی جینا چاہتا ہے ۔ جہاں مذہب ، زات پات ، فیوڈل سسٹم کوئی حثیت نہیں رکھتا ۔ اور انہیں شکست دینا آسان نہیں ہے ۔
وزیراعظم مودی حیران ہیں اور اپنی شکست تسلیم کر چکے ہیں۔اکیسویں صدی میں انسانیت کے بالا دستی کے لئے پہلی آوازدہلی سے سنائی دی ہے ۔امریکہ اور برطانیہ کی سرکارکا دکھ اپنی جگہ جوانڈیا کے زریعے چین حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس حدف کے لئے مودی اور ان کی انڈسٹرلین سپورٹر پارٹی ممبران بے انتہا سازگار بھی تھے پرآج عام آدمی پارٹی کی کامیابی نے ان کے خواب مشکوک کر دئے ہیں
اس کامیابی سے جنگ ساز لوگ اپنی اسلحہ انڈسٹریز کوحسرت سے دیکھ رہے ہونگے کہ اگر اس طرح کی چند اور پارٹیاں ہندوستان کی دوسری ریاستوں میں آ گئیں اوردیکھا دیکھی تیسری دنیا کوبھی ہوش آ گیا تو ان کو جنگ کے لیئے کونسا میدان گرم کرنا پڑے گا ؟
عام آدمی پارٹی یقیننا آنے والے دنوں میں شدید تنقید اور رکاوٹوں کو سہناپڑے گا ۔ انہیں دہلی میں پانی کی شدید کمی ، معاشی مسائل اور صحت کے مسائل سے سب سے پہلے نپٹنا ہو گا ۔
جیتنے کے بعد سب سے پہلے انہوں نے تمام مذہبی پارٹیوں کی حمایت کو شکریئے کے ساتھ واپس کر دیا ہے کہ مذہب انسان کا زاتی مسلہ ہے اسے جھگڑوں کی بنیاد نہیں بننا چاہیئے اور یہ بھی کہ وہ سارے جھگڑے ٹیبل پر رکھ کر آمنے سامنے بات چیت سے طے کرنا چاہتے ہیں ۔ جبکہ بی جے پی کی بنیاد ہی ہندوپروموشن پر ہے ۔ جس کا ثبوت انہوں نے حکومت میں آتے ہی دیا ۔ بی جے پی نے "گھر واپسی "کے نام سے زبردستی مسلمانوں کو ہندو بنانا شروع کیا جو اب تک جاری ہے ۔
گو کہ عام آدمی پارٹی کو اپنے ایجنڈے پرعمل کرنے کے لیئے مشکل ضرور ہو گی پران کی پارٹی میں تمام پڑھے لکھے افراد گریجویٹس اور پوسٹ گریجویٹس ہیں اور ہر مذہب اور زبان سے ان کاتعلق ہے جو بھائی چارہ اور انسانیت پر یقین رکھتے ہیں اور اسی کوشش میں وہ تبدیلی لا سکتے ہیں یعنی ہندوستان کوحقیقی جمہوریت دے سکتے ہیں ۔کم از کم دہلی میں اپنے ترقیاتی پراجیکٹس کی وجہ سے ہرعام شخص کے لئے نوکری کاانتظام کر سکتے ہیں جس سے پورے ہندوستان کی معشیت بحال ہو گی اور ہر طرف خوشحالی ہوگی اورخوشحال،پڑھےلکھے لوگ آپس میں کبھی نہیں لڑتے،کسی کے گھر اورعبادت گاہوں کو مذہب اور مسلک کے نام پر نہیں جلاتے،کسی کا مذہب زبردستی نہیں بدلتے،لوگ اپنے وطن کو چھوڑکرکہیں اور پناہ نہیں لیتے ۔۔
ہندوستان کو جمہوریت کی حقیقی فتح مبارک ہو ۔ اروند کیجری وال کی عام آدمی پارٹی مذہب ، مسلک ، زبان ، علاقائی تعصب کی بیساکھیوں کے بغیر اپنا سرفخر سے بلند کئے کھڑی ہے ۔ ہندوستان کو جمہوریت کی حقیقی فتح مبارک ہو ۔ اروند کیجری وال کی عام آدمی پارٹی مذہب ، مسلک ، زبان ، علاقائی تعصب کی بیساکھیوں کے بغیر اپنا سرفخر سے بلند کئے کھڑی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہون نے مذہبی جذباتی نعروں اور نفرت کی سیاست کے مقابل حقیقی عوامی مسائل کو اجاگر کیا ہے ۔ ۔ ۔ اور اس سے بھی بڑھ کر کیجری وال کا خود پہ ہاتھ اٹھانے والے کو گلے لگانا اور ہر غلطی پہ ہاتھ جوڑ کے معافی مانگنا لوگوں کو بھا گیا ہے۔ انہوں نے غریب کے سلگتے ہوئے عزت نفس کے زخم پہ ٹھنڈی برف جیسا مرھم رکھ دیا ہے ۔وہ کشمیر پہ روایتی انڈین غنڈہ گردی کے خلاف ہیں ۔ ۔ وہ ریاست ہندوستان کے دنیا بھر میں سب سے زیادہ گولڈ ریزرو کے خزانے کو عوام پہ خرچ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں ۔ ۔ دراصل عام آدمی پارٹی کی فتح جذباتی استحصال کے خلاف سوچ و بچار کی فتح ہے ۔ ۔ ۔ 
میرا دل کہتا ہے پاکستانی سمجھتے ہیں وہ ان کے مؤقف کا حامی ہے مگر مجھے ڈر ہے وہ اپنی خالص محبتوں سے کشمیریوں کے دل بھی جیت لیں گے ۔ اگر یہ اس میں کامیاب ہوگئے تو پاکستان کا منظر بھی بدل جائے گا اور یہاں کی مذہبی و مسلکی سیاست بھی ٹھکانے لگ سکتی ہے ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ گاندھی خاندان کے راہول کی طرح بلاول کی بھی چھٹی ہوسکتی ہے ۔
یقین جانیئے جیسے روشنی کی ایک کرن گھور اندھیرا مٹانے کی طاقت رکھتی ہے اسی طرح صرف ایک سچ جھوٹکی پوری عمارت کو گرانے کی طاقت رکھتا ہے ۔ انقلاب کی تاریخ میں عوام ہی روشنی کی کرن اور سچ ہوتے ہیں جو جس دن جاگ جائیں ، اپنی طاقت کوجان جائیں اسی د ن قوموں کی قسمت کے اندھیرے مٹجاتے ہیں اورسکھ ، چین ، امن کے سارے خواب پورے ہو جاتے ہیں ۔