16.10.2026, 08:36am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
شخصیات، انٹرویوز » شمس جیلانی۔وینکور
 

سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(42)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
21.02.2015, 03:06am , ہفتہ (GMT+1)

از۔۔۔ شمس جیلانی

ہم گزشتہ نشست میں حضور (ص)کی ہجرت کا ذکر کر رہے تھے اور یہاں تک پہنچے تھے کہ کفار مکہ نے حضور (ص) کے گھر کا محاصرہ کرلیا اور وہ منتظر تھے کہ جب حضور (ص) باہر تشریف لائیں تو ایک بار ہی حملہ کرکے قصہ تمام کردیں۔ لیکن اللہ سبحانی تعالیٰ کی اپنی منصوبہ بندی تھی جو ظاہر ہے کہ سب پر حاوی تھی۔ اس نے دو تین یوم پہلے ہی حضور (ص) کو مطلع فر مادیا تھا اور انہوں نے اس سلسلہ میں حضرت ابوبکر (رض) کو باخبر کرکے سفر کی تیاری کا حکم دیدیا تھا۔                                   
  آےئے اب آگے بڑھتے ہیں۔ادھر تو کفار محاصرہ کئے ہوئے تھے اور ادھر سرور کونین (ص) کو یہ فکر کہ انہیں بدبختوں کی جو امانتیں حضور (ص) کے پاس رکھی ہوئی تھیں نہ لٹ جائیں۔ اور حضرت موسیٰ (ع) کی امت کی طرح اس امت کو بھی جواز ہاتھ آجائے کہ غیر مسلموں کا مال کھانا یا ہڑپ کرجانا جائز ہے۔واضح رہے کہ حضرت موسیٰ (ع) نے جو امانتیں مصر میں بنی اسرائیل کے پاس تھیں اس خوف سے کہ کہیں ہجرت کا راز مصریوں پر نہ کھل جائے واپس کرنے کا حکم نہیں دیاتھا۔ جس کو جواز بناکر بنی اسرائیل نے یہ حیلہ گھڑلیا کہ غیر یہودیوں کا مال ہڑپ کرجانا جائز ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اس وقت بھی بنی اسرائیل کے لوگوں کا ضمیر ملامت کر رہا تھا کہ وہ یہ مال کیوں لے آئے؟ مگر مجبوری تھی جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ مجبوری میں قوانین مختلف ہوتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ سامری نے جیسے ہی ان سے وہ مال مانگا انہوں نے لاکر ڈھیر کردیا اور اس نے اس سے گئو سالہ بنادیا،جو انکے خیال میں ایک نیک کام تھا۔ مگر یہاں معاملہ قطعی مختلف تھا کہ حضور (ص) مجبوری میں بھی امت کی لئے کوئی غلط مثال نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔ اس سے دو خرابیاں پیدا ہوتیں پہلی تو یہ کہ بنی اسرائیل کی تصدیق ہوجاتی کہ انکا فعل درست تھا ۔اور دوسری حضور (ص) کی امانت کی اعلیٰ صفات پر دھبہ آتا ۔ جو اللہ اور اسکے رسول (ص) کو بالکل منظور نہیں تھا۔لہذا حضور (ص)نے اپنے سب سے چہیتے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو جنہیں انہوں نے حضرت ابو طالب کا بار ہلکا کرنے کے لئے ،ان سے لے لیا تھا اور بیٹوں کی طرح پالا تھا خطرہ میں ڈالنا مناسب سمجھا۔ مگر امانتوں کو لیجانا یا ضائع ہونے دینا برداشت نہیں کیا۔ پھر تاریخِ عالم نے یہ اچھوتا واقعہ دیکھا کہ دشمنوں کی امانتیں واپس کرنے کے لئے حضور (ص)نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اپنے پیچھے نہ صرف تنہا چھوڑ دیا بلکہ حکم دیا کہ وہ انکی سبز چادر اوڑھ کر انکے بستر پر سوجائیں۔ تاکہ کفار یہ سمجھتے رہیں کہ حضور (ص)  محوِ استراحت ہیں اور توکل علیٰ اللہ دیکھئے کہ حضرت علی  کرم اللہ وجہہ ایک لفظ نہیں پوچھتے ہیں کہ میرا کیا ہوگا؟اگر آپ  (ص)کو نہ پاکر انہوں نے طیش میں آکر مجھ پر تلواریں برسادیں تو میں تو مارا جائوں گا۔وہ تعمیل ِحکم میں چپ چاپ لیٹ گئے اور فرماتے ہیں کہ جتنی گہری نیند مجھے اس دن آئی ایسی نیند پھر کبھی نہیں آئی ۔ یہ تھی علی کے توکل کی حالت اور یہ تھی اطاعت رسول  (ص)کی کیفیت۔اسی لئے وہ وارث علم ٹھہرے، اور آج چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی تمام اولیاءکے سر تاج ہیں۔سارے سلسلے انہیں تک پہنچتے ہیں۔روایت آگے بڑھتی ہے کہ حضور (ص)نے اپنے بستر پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو لٹاکر رات کے کسی حصے میں نکل گئے اور جاتے ہوئے یہ آیات سورہ یٰسین کی ورد زبان تھیں جنکا ترجمہ یہ ہے کہ ”یٰسین!حکمت والے قرآن کی قسم تو (اللہ کی طرف سے)بھیجے ہوؤں میں سے ہے(اور) سیدھے راستے پر ہے(اسکے بعد اس آیت تک تلاوت فرمائی کہ) ہم نے انکے آگے اور پیچھے روک بنادی ہے اور انکی آنکھوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ دیکھتے(ہی) نہیں“۔ابن اسحاق (رح) نے اس میں مزید اضافہ کیا ہے کہ اس نے یزید بن زیاد اور انہوں نے محمد  (رض)بن کعب سے سنا ہے کہ اس سے پہلے کہ حضور (ص) باہر تشریف لاتے ابوجہل بن ہشام نے لوگوں کو بھڑکانے کی لئے ایک اشتعال انگیز تقریر کی ۔ جس کے الفاظ اس طرح تھے کہ محمد (ص) کا دعویٰ ہے کہ اگر تم اس کے احکام  (ص)کی پیروی کروگے تو عرب اور عجم کی حکومت تمہارے پاس ہوگی اور مرنے کے بعد جب اٹھائے جائوگے تو تمہارے لئے عدن کے باغوں جیسے باغ ہوں گے۔اگر تم نے یہ نہ کیا تو تمہیں قتل اور ذبح کرنا جائز ہوگا۔ اور جب تم مرنے کے بعد اٹھائے جاؤگے تو تمہارے لئے آگ ہوگی۔ جس میں تم جلائے جاؤ گے۔وہ کہتے ہیں کہ حضور (ص) اسی وقت باہر نکلے اور مٹھی بھر خاک لیکر فرمایا ”ہاں! میں (ص) یہ کہتا ہوں (اور) تو بھی انہیں میں سے ایک ہے جو جلائے جائیں گے“ حضور (ص) نہ صرف انکے سامنے سے نکلے بلکہ ہر ایک کے سر میں مٹی بھی ڈالی اور اللہ تعالیٰ نے انکی بینائی اور ساری قوتیں چھین لیں کہ وہ حضور (ص)  کو روکنا تو بڑی بات ہے ان کے دستِ مبارک کو بھی نہ پکڑ سکے جو انکے سروں میں مٹی ڈال رہا تھا۔اور حضور (ص) کے اس فعل کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اپنا فعل قرار دیا ہے کہ ”وہ نہیں میں کنکر ڈال رہا تھا“وہ اسکا نہیں میرا ہاتھ تھا“ اسکے بعد اسی واقعہ کوقرآن نے سورہ انفال کی ایک اور آیت میں بھی بیان کیا ہے ۔ا(ے پیغمبر) وہ وقت یاد کر جب مکہ میں کافر تیرے خلاف اپنی چھپی تدبیروں میں لگے تھے اور اللہ اپنی مخفی تدبیریں کر رہا تھا اور اللہ بہترین تدبیریں کرنے والا ہے“ یہاں تک کہ حضور )(ص) سورہ یٰسین کی مندرجہ بالا آیات تلاوت کرتے ہوئے اور انکے سروں میں خاک ڈالتے ہوئے حضرت ابوبکر (رض) کے دولت کدے پر تشریف لے گئے اور وہاں سے انکی معیت میں وہ ( ص)غار ثور میں بہ عافیت پہنچ گئے۔انہیں خبر جب ہوئی کہ ایک اجنبی انکے پاس آیاجو کہ قریش میں سے نہ تھا اور اس نے کہا کہ تم یہاں کس چیز کا انتظار کر رہے ہو۔انہوں نے کہا محمد (ص)کا۔اس نے کہا اللہ نے تمہیں محروم کردیا۔واللہ محمد  (ص) تمہارے سامنے سے نکل گیا اور تم میں سے کسی کو نہ چھوڑا جس کے سر میں خاک نہ ڈالی ہو۔یہ کہہ کر وہ چلا گیا کہ کیا تم اپنی حالت کو نہیں دیکھ رہے ہو۔اس پر جس شخص نے بھی اپنے سر پر ہاتھ پھیرا تو خاک آلود پایا ۔پھر وہ لوگ دیواروں پر چڑھ کر جھانکنے لگے تو بستر پر رسول  (ص)اللہ کی چادر اوڑھے ہوئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سوئے ہوئے تھے۔لہذ اانکو انہوں نے حضور (ص)  سمجھا اور کہنے لگے واللہ ! بے شبہ یہ محمد  (ص)ہے ،وہی سو رہا ہے اور اس پر خود اسی کی چادر ہے۔غرض کہ وہ صبح تک اسی غلط فہمی میں مبتلہ رہے یہاں تک کہ صبح ہوئی تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نماز کیلئے اٹھے اور انہوں نے کہا کہ کہنے والے  (ص)نے سچ کہا تھا کہ تیرا بال بیکا نہیں ہوگا“ انہوں نے حضرت علی  کرم اللہ وجہہ کو گھیر لیا اور حضور (ص)کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے لگے اور پھر کچھ دیر کعبہ میں قید رکھا اور پھر وہ حضرت ابوبکر (رض) کے گھر روانہ ہوگئے۔یہاں پر ابنِ اسحاق  (رح) حضرت اسماءبن ابی بکر (رض سے روایت کرتے ہیں کہ ان تک یہ روایت مستند راویوں سے پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ًمیرے پاس قریش کی ایک ٹولی آئی ہے جس میں ابو جہل بھی تھا وہ آکر دروازے پر کھڑے ہوگئے اور جب میں دروازے پر آئی تو انہوں نے پوچھا اے بنتِ ا بی بکر (رض)تیرا باپ کہاں ہے،میں نے کہا واللہ میں نہیں جانتی کہ میرا باپ کہاں ہے(البتہ وہ گھر میں نہیں) ہیں۔ابوجہل نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اس خبیث نے میرے گال پر ایسا تھپڑ مارا کہ جس سے میرے کان کی بالی گر پڑی پھر حضرت اسماء  (رض)نے فرمایا کہ وہ لوگ لوٹ گئے۔ اور ہم لوگ بے خبری کی حالت میں رہے کہ ہمیں تین دن تک کچھ پتہ نہ تھا کہ میرے والد اور رسول (ص) اللہ کہاں ہیں حتیٰ کہ جنوں کا ایک شخص عربوں کی طرح گاتا ہوا نشیب مکہ کی طرف سے آیا،ایک مجمع اسکے پیچھے تھا مگر وہ دکھائی نہ دیتا تھا۔ یہاں تک کہ مکہ کے وہ بالائی حصہ سے یہ کہتا ہوا غائب ہوگیا کہ ”اللہ لوگوں کا پروردگار،ان دونوں رفیقوں کو اپنے پاس سے بہترین جزا دے جو ام معبد کے خیموں میں اترے ہیں“ وہ اترے تو نیکی کو ساتھ لئے ہوئے ہیں،پھر شام ہوتے ہوتے چلے گئے ترقی اس نے پائی(اور)وہی پھلا پھولا جو محمد (ص) کا رفیق ہوگیا بنی کعب کو اپنے زنان خانے اور دیوان خانے سے خوش ہونا چاہیئے کہ وہ ایمانداروں کے انتظار کرنے اور ٹھہرنے کے مقام ہیں“پھر حضرت اسماء (رض) نے مزید فرمایا کہ جب ہم نے یہ قول سنا تو معلوم ہوا کہ حضور (رض) کس سمت کو تشریف لے گئے ہیں۔یعنی معلوم ہوگیا کہ وہ (ص)مدینہ کی طرف تشریف لے جا رہے ہیں۔  باقی آئندہ                            





 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
شمس جیلانی۔وینکور  »
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں