15.10.2026, 12:27pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

ہم بزرگوں کی عزت کیوں کریں ۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
01.03.2015, 04:40am , اتوار (GMT+1)

اللہ کے بھیجے ہوئے جتنے بھی ادیان ہیں ان سب میں بزرگوں کی عزت ، نگہداشت اور بچوں پر شفقت کا زکر ہی نہیں بلکہ تلقین ہے ۔ 

 بزرگوں کی عزت کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو گی کہ خود اللہ پاک ، قران مجید میں حکم دیتے ہیں  کہ جب تمہارے ماں باپ بزرگ ہو جائیں تو ان کے سامنے اف تک نہ کرو ۔

  اللہ کے بھیجے ہوئے ادیان سے ہٹ کر بھی  جتنے بھی انسان کے اپنے قوانین حیات ہیں ان میں بھی بزرگوں کے ساتھ حسن سلوک کی ترغیب موجود ہے لیکن اسلام میں قران ، احادیث اور فرامین آئمہ میں اس کی خصوصی تلقین ہے ۔ 

میں آپ کو ایک حدیث سناتی ہوں ۔۔ حضور پاک فرماتے ہیں  
’’وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کا حقِ (بزرگی) نہیں پہچانتا۔‘‘

بعض لوگ  اس اہم ترین مسلے  کویہ کہہ کر  نظر انداز کردیتے ہیں کہ اب ویسے بزرگ کہاں  رہے جو پہلے ہوا کرتے  تھے۔  چاہنے کے باوجود بھی بزرگوں  کی صحبت میسر نہیں رہی ۔ میرے نزدیک  یہ سوچ سراسر خود کو دھوکہ دینے والی بات ہے ۔ اپنے گھر سے لے کر باہر تک دیکھئے کتنے ہی صالح بزرگ ملیں گے جن کے احسانات ہم پر ہونگے  ۔ 

 ہمارے بزرگوں میں ماں باپ ۔ دادا دادی نانا نانی سے لے کر ہر وہ رشتہ شامل ہے جس نے آدمی سے انسان بننے میں مدد کی ہو جن میں ہمارے اساتذہ بلخصوس شامل ہیں ۔ یاد رکھنے والی بات ہے  کہ صالحین اور صادقین  بزرگ ہر زمانے میں ہوتے رہے ہیں اور قیامت تک ہوتے رہیں گے، سورہ توبہ آیت ۱۱۹ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اللہ سے ڈرتے رہیں اور صادقین کی صحبت اختیار کریں ۔ 

بزرگ وہ ہوتے ہیں جن کی صحبت میں بیٹھ کر دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت، آخرت کی فکر پیدا ہو، دنیا کی محبت کم ہونے لگے اور اعمال واخلاق درست ہونے لگےاور انسانیت  سے پیار ہونے لگے ۔ یقین جانئے بزرگوں کے  بغیر اصلاح ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

ہمارے بزرگ ان رستوں کے آشنا ہوتے ہیں جن پر ہمیں چل کر جانا ہوتا ہے ۔ میں ہمیشہ کہا کرتی  ہوں جیسے ایک فرد کی کامیابی کے پیچھے بہت سارے لوگوں کا ہاتھا ہوتا ہے اسی طرح ایک اچھی نسل کے پیچھے ایک بہترین نسل کا ہاتھ ہوتا ہے اور وہ ا گلی  نسل سے زیادہ قابل تعریف اور تحسین کے لائق ہوتی  ہے کہ انہیں کی محنت اور تربیت  کی بدولت یہ ممکن ہو پاتا ہے  ۔ ان کی اسی جہد مسلسل سے خاندان پہچانے جاتے ہیں اور نامور انسان پیدا ہوتے ہیں  ۔ 

میں چاہتی ہوں کہ آپ سب کو کم وقت میں زیادہ باتیں بتاؤں ۔ اس لیئے تفصیل میں نہیں جاونگی بلکہ پوائینٹس بتاؤنگی ۔۔ کہ ہم اپنے بزرگوں یعنی بڑوں کی عزت کیوں کریں ۔ 

1۔ کردار سازی میں مددگار ہوتے ہیں ۔ انسان  اپنی فطرت کے اعتبار سے نقال واقع ہوا ہے، جب  ہم اپنے بزرگوں کی کی صحبت میں رہیں گے اور شب وروز ان کے آداب واخلاق اور خدا سے تعلق دیکھے گے تو ان جیسے ہونے کی کوشش کریں گے ۔
 
2۔ محبت کرنا سکھاتے ہیں ۔۔ غلط اور صحیح  میں فرق سمجھاتے ہیں اور ان کے نقصانات سے آگاہی دیتے ہیں ۔ یوں زندگی کے ہر کام میں برکت کا باعث‌ہو جاتے ہیں ۔ 

3۔ ہمارے مزاج کے مطابق ہمیں علم اور ہنر سے آشنا کرواتے ہیں تاکہ ہم دنیاوی اور روحانی ترقی حاصل کرسکیں 

4۔ خاندان کو یکجا کیسے کیا جاتا ہے سکھاتے ہیں  یعنی صبر ، تحمل اور شکر گزاری سکھاتے ہیں 

5۔ نظریاتی زندگی کی اہمیت بتاتے ہیں اور یہ بھی سکھاتے ہیں کہ اس زندگی کا ایک مقصد ہے جس میں سر فہرست  انسانوں سے حسن سلوک کی تربیت ہے ۔ 

6۔ دعائیں کرنا اور دعائیں دینا سکھاتے ہیں ۔۔ یعنی مہر و اخلاص‌ کی تربیت دیتے ہیں ۔ مولا علی نے فرمایا کہ دعا مومن کی ڈھال ہیں ۔ سوچیئے بزرگوں کی دعائیں حصار کی صورت ساتھ رہتی ہیں ۔ اولاد اس درجے کی فرمابردار ہو یا نہ ہو لیکن اس کے باوجود ماں باپ کی دعائیں اسی طرح سے ان کے ساتھ رہتی ہیں ۔ 

اس وقت جو حقیقت حال ہے  وہ یہ ہے کہ  سائینس کی ترقی جس تیزی سے ہوئی ہے اسی تیزی سے تہذیب کا زوال بھی آیا ہے ۔پہلے ہم مغرب کو باتیں کیا کرتے تھے کہ اپنے  بزرگوں کو اولڈ ہوم میں ڈال دیتے ہیں اب پاکستان اور کئی اسلامی ممالک ہیں جہاں بوڑھوں کو ان کے آخری ایام میں اولڈ ہوم چھوڑ دیا جاتاہے ۔ یہی  وہ مقام ہے جہاں علماء ،  دینی اور مذہبی رہنماؤں کی  زمیداری ہے کہ  وہ اپنے خطبات میں بزرگوں کی عظمت اور خدمت کا زکر کریں ۔

 ہمارے بزرگ  اپنی وراثت میں دولت اورجائیداد کے ساتھ ساتھ نیک اور صالح اولاد بھی چھوڑ‌کر جانا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان کے لیئے صدقہ جاریہ بنیں اوروہ اولاد اپنی آنے والی نسلوں کی بھی بہترین تربیت کر سکیں ۔ اسلام کا  کمال ہے وہ نہ صرف اپنے ہی بزرگوں کی ہی خدمت کی تلقین نہیں کرتا بلکہ ہر دین ،  مذہب مسلک  کے بزرگوں کی عزت کرنے کی تلقین بھی کرتا  ہے ۔ 

مولانا رومی رح‌ کی اس حکایت پر اپنی بات ختم کرتی ہوں ان سے پوچھا گیا کہ  "‌بزرگوں کی عزت کیوں کرنی چاہیئے  تو انہوں نے جواب دیا  کہ "‌دلوں میں سے دلوں تک خفیہ راستے ہوتے ہیں۔ جو غیرمحسوس طریقے  پر اللہ والوں کے دلوں کی ایمانی طاقت کے اثیر ہو جاتے ہیں ۔" 

میں اپنے قارئین  سے درخواست کرونگی کہ اپنا وقت زیادہ سے زیادہ اپنے گھر کے بزرگوں  کی ہم نشینی میں گزاریئے  اور جب تک وہ حیات ہیں ان کے تجربوں اور مشوروں کی روشنی میں  اپنی زندگی کو سنوارنے کی ہر ممکن کوشش  کیجئے  ۔ 


:دیگر مضامین
(16.02.2015) انفرادی تربیت ہی عالمی امن کی پرورش کر سکتی ہے۔ از:‌ڈاکٹر نگہت نسیم
(13.02.2015) کیا ہم کسی کے اچھے دوست ہیں ۔۔۔۔ ؟‌ از:‌ ڈاکٹر نگہت نسیم
(12.02.2015) ہندوستان کو جمہوریت کی حقیقی فتح مبارک ہو ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(20.01.2015) میں کوئی نیا کالم کب لکھونگی ؟ ۔۔۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(16.01.2015)  پاکستان میں طالبان سے زیادہ خطرناک طالبانی سوچ ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(09.01.2015) کیا اسلام کی بدنامی کے لیئے خود مسلمان ہی کافی نہیں ہے؟ از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم۔ سڈنی
(02.01.2015) آزاد ملک پاکستان کے آزاد شہری اتنے بے بس و لاچار۔از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(26.12.2014) اے ہمارے قائد اعظم ہم شرمندہ ہیں ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔ سڈنی 
(17.12.2014) لعنت خدا کی بھیجئے ایسے نظام پر ۔ از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(16.12.2014) اسی ایویں نہیں کلے رہ گئے آں ۔۔ سقوط ڈھاکہ ؛از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(25.09.2014) مسجد اب اللہ کی نہیں ، سُنی، شیعہ ، بریلوی ہے ۔ از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(07.09.2014) چودھری نثار علی خان مان جاہیئے آپ ہار گئے ، از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(02.09.2014) مضطرب پاکستان کا پرسکون اور گمشدہ صدر۔ از:‌ڈاکٹر نگہت نسیم
(01.09.2014) دوسروں کو غلط ثابت کرنے کی بجائے اپنے اندر جھانکیں۔از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔۔۔ اشاعت مکرر
(18.07.2014) او مائی گوڈ ۔۔اب مسلمانوں کا کیا ھو گا ؟ ۔از:‌ ڈاکٹر۔نگہت نسیم
(14.07.2014) طاقت نظریے کو کبھی شکست نہیں دے سکتی ۔ از:‌ ڈاکٹر نگہت نسیم
(08.07.2014) سب مل کے مسلماں کہو 'داعش' پہ ہو لعنت ۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(19.06.2014) وطن عزیز پاکستان یوں لگتا ہے کہ آفات اور بلاؤں کی زد میں ہے۔از۔ڈاکٹر نگہت نسیم
(11.06.2014) غور کیجئے کہ ہم مسلمانوں کو زوال کا سامنا کیوں ہے؟... از.... ڈاکٹر نگہت نسیم
(12.05.2014) اتحاد بین المسلمین کے دشمن کون ہیں اور کیوں ۔۔۔۔ ؟ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں