’’نئے پرانے چراغ‘‘ ہیں جو وہ اپنے جلوے دکھا رہے ہیں
بفیضِ اردو اکادمی یہ چراغِ اردو جلا رہے ہیں
یہ نظم اور نثر کا ہے سنگم رہے گا جاری جو چار دن تک
جہاں سب عرضِ ہُنر سے اپنے نئے نئے گُل کِھلا رہے ہیں
عروسِ اردو ادب کی زلفیں سنوارتے ہیں یہ فکر و فن سے
جنھیں بھی اردو سے کچھ شغف ہے وہ گیت اردو کے گا رہے ہیں
ہے اس کی صنفِ غزل سے ظاہر زبانِ دل ہے زبانِ اردو
ہیں داد کے مستحق وہ ناظم جو بزمِ اردو سجا رہے ہیں
مجھے بھی تھا اِذنِ باریابی دکھائے میں نے بھی اپنے جوہر
جو میرے رفقا ہیں اُن کے برقیؔ پیامِ تبریک آرہے ہیں