پاکستان میں آج چھ مارچ جمعرات کے روز سینٹ کے انتخابات ہو رہے ہیں
سینیٹ کی 48 نشستوں کے لئے انتخاب آج خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوںگے۔قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان ووٹنگ میں حصہ لیں گے۔پولنگ کا وقت صبح 9 سے 4 بجے ہے، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ہال پولنگ اسٹیشن اور ارکان

اسمبلی ووٹرزہوںگے جبکہ ریٹرننگ آفیسراسپیکر کی نشست پر ہوں گے۔
سینیٹ انتخابات میں خفیہ رائے شماری ہوگی ، موبائل فون یا دیگر الیکٹرانک آلات ساتھ لانے پر پابندی ہے۔12 مارچ کو سینیٹ کی نشستیں تو 52 خالی ہوں گی لیکن سندھ کی 4 نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ منتخب ہو چکے۔باقی 48 نشستوں کے لئے ووٹنگ ہوگی۔قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ہال پولنگ اسٹیشنز قرار دیے جاچکے ہیں اور ان کا انتظام الیکشن کمیشن کے حوالے کردیا گیا ہے۔
صوبوں سے سینیٹرز کا انتخاب صوبائی اسمبلیاں کریں گی۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی 2 نشستوں کے لئے ارکان قومی اسمبلی ووٹ ڈالیں گے۔فاٹا کی 4 نشستوں کے لئے قومی اسمبلی کے 11 ارکان ووٹ دیں گے،امیدوار ہیں 36۔یہ پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم میں ہوگی۔امیدوار وں کو اپنی کامیابی کے نوٹیفکیشن کے لئے پہلے یہ بتانا ہوگا کہ اس نے کتنے انتخابی اخراجات کیے۔12 مارچ کو نو منتخب سینیٹرز حلف اٹھالیں گے۔اس موقع پر2002ء کےصدارتی حکم نامےکوواپس لےکرفاٹاانتخابات کااصل طریقہ کاربحال کردیاگیاہےجس کےتحت ایک ایم این اےایک ہی ووٹ ڈال سکےگا۔
پاکستان میں جیسے جیسے سینیٹ انتخابات قریب آتے سیاسی ہلچل میں اضافہ ہوتا گیا ہے اور سیاستدانوں کے درمیان رابطوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری اور پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان میں ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے سینیٹ انتخابات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ دوران گفتگو عمران خان کا کہنا تھا کہ ہارس ٹریڈنگ سیاستدانوں کے ماتھے پر سیاہ دھبہ ہے لہذا 22 ویں آئینی ترمیم نہ صرف سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ مستحکم جمہوریت کے لئے بھی سنگ میل ثابت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو چاہئے کہ وہ اچھے اقدامات پر حکومت کی حمایت کرے ۔
اس موقع پر سابق صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوریت کے لئے قربانیاں دیں اور اس کے استحکام کے لئے کوشاں بھی ہے ۔
قبل ازیں سابق صدر آصف زرداری نے مولانا فضل الرحمٰن سے ان کی رہائشگاہ پر جا کر ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے سینیٹ انتخابات ، ملکی سیاسی صورتحال سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا۔
بعداز اں آصف زرداری نے امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ٹیلی فونک رابط کرکے آئینی ترمیم کے حوالے سے پارٹی موقف سے آگاہ کیا اور کہا کہ حکومت 22ویں ترمیم پر سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے ، ان کی پارٹی کسی ایسے قانون کی حمایت نہیں کرے گی جس سے دوسری جماعتوں کی حق تلفی ہو۔
دریں اثناء سابق صدر آصف زرداری نے متحدہ کے قائد الطاف حسین سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا جس میں دونوں رہنماؤں نے ملک کی اجتماعی سیاسی صورتحال ، سینیٹ انتخابات اور اہم امور پر گفتگو کی۔