۰ہم گذشتہ قسط میں حضور (ص) کی مکہّ معظمہ سے ہجرت پر بات کر رہے تھے اور یہاں تک پہنچے تھے سراقہ بن جعشم نے حضور کا تعاقب کیا اور اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا ۔ آخر کار وہ اپنے ارادے سے بازآ یا اور فرمانِ امن کا خواہش مند ہوا ‘ جس کو حضرت ابو بکر (رض) کے غلام عامر (رض) بن فہیرہ نے تحریر کرکے دیدیا ۔
آئیے اب آگے بڑھتے ہیں ۔ ابنِ اسحاق نے تحریر کیاہے کہ عبداللہ بن راقط جو راستہ بتانے کے لئے آپ کے ہمراہ تھا ‘ اس نے بجائے عام راستے کے ایک مخصوص نشیبی راستہ جو مکہ؟ کے نشیبی حصے سے نکلتا تھا ‘ اختیار کیا جو سمندر کے کنارے کنارے جاتا تھا ‘ وہ عسفّان کے برابر سے گذرا پھر امج کے پاس سے گزرا پھر قریر اور خرار سے گزر کر ثنیہ المرّہ ہوتاہوا آپ (ص) کو لقا لے گیا ‘ یہاں آخری مقام کے بارے میں مورخین کی دو رائے ہیں ۔ ابنِ ہشّام کے مطابق یہ مقام لقا نہیں بلکہ لفتا ہے اور ان کی دلیل وہ شعر ہے جس میں ابن خلویلد النہدلی نے اس مقام کو لفتا کہا۔ ترجمہ کچھ اس طرح ہے کہ’(میں مدح اور ستائش کرتا ہوں اس (ص)پردیسی کی ) جسے اس (ص)کی قوم میں سے نکال لایا گیا۔ جو دوسروں کی امداد کرنے والا ہے ۔ اور مقام لفت کے رہنے والوں میں کہ اس قبیلے کا ہے ‘ جو مقام اثلة اور نحام کے درمیان رہنے والے ہیں“۔ آگے ابنِ اسحاق (رح) ہی روایت کرتے ہیں کہ پھر وہ مدلحہ محاج پہنچا جسے حجاج بھی کہتے تھے ‘ آ گے مرحج ذی الغصوین سے وادی ذی کشد ‘ جداجد اور الاجرد سے ہوتا ہوا ذی مسلم کے مقام اعدا میں اور وہاں سے گذر کر ادہان سے العبابید پھر الفاجہ اس کے بعد العرج میں ٹھہر گیا کیونکہ یہاں پہنچتے پہنچتے حضور (ص) کی سواری کا جانور تھک گیا تھا ۔ تو بنی اسلم کے ایک شخص نے حضور (ص) کو اپنے اونٹ پر سوار کرایا ‘ اپنا آدمی مسعود بن ہند ساتھ کر دیا ‘ بنی اسلم کے اس شخص کا نام اوس بن حجر تھا اور اس اونٹ کا نام الروار تھا ۔ پھر راستہ دکھانے والا العرج سے توثنیہ العائر کا راستہ اختیار کرکے جور کوبہ کے دائیں جانب ہے۔ وہاں سے وادی رئم پھرقبیلہ بنی عمرو بن عوف میں بمقام قبا پہنچا ۔
ربیع الاوّل کی بارہویں تاریخ گذر چکی تھی پیر یعنی دو شنبہ کا دن تھا ‘ گرمی خاصی بڑھ گئی تھی ‘ سورج نصف النہار کے قریب پہنچ گیا تھا ۔ یہاں یہ ذکر کرنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ عرب میں عام رواج تھا کہ چراگاہوں کے ساتھ آبادیاں بنتی اور بگڑتی رہتی تھیں لہذا ان میں سوائے وادیوں کے بہت سے نام یا تو معدوم ہوگئے ہیں یا بدل گئے ہیں ۔ لیکن موٹروں کا راستہ وہی ہے جو اس زمانے میں بھی عام تھا جس کا نام طریق سلطانی تھا‘ لیکن حضور (ص) نے جو راستہ اختیار فرمایا تھا وہ طریق الفرع تھا ‘ جو انتہائی دشوار گذار تھا مگر سب سے مختصر تھا ۔ راہ میں کچھ مقامات ایسے بھی تھے جہاں حضور (ص)نے قیام فرمایا اور نمازیں ادا کیں ‘ مگر اب امتدادِ زمانہ اور موجودہ حکمرانوں کے دور میں وہ بھی معدوم ہوگئے ۔ ورنہ ترکوں نے ایسے تمام مقامات پر مساجد بنادی تھیں تاکہ وہ بر قرار رہیں جوکہ وقت کے ساتھ ساتھ سوائے مدینے شریف کی مساجد خمسہ کے سب معدوم ہوگئیں
ابنِ اسحاق متعدد روایات کے ساتھ جن کے تمام راوی سقہ ہیں ‘ بیان کرتے ہیں۔ اہلِ قبا نے بتایا کہ ہم روز انہ صبح ہی صبح آبادی سے باہر آکر حضور (ص)کے انتظار میں کھڑے ہو جاتے تھے اور شام کو واپس چلے جاتے تھے ‘ ہمیں یہ خبر تو مِل چکی تھی کہ حضور (ص)مکہّ معظمہ سے روانہ ہو چکے ہیں مگر یہ علم نہ تھا کہ آپ کب تشریف لائیں گے۔ جوں جوں دن گذرتے جا رہے تھے ہماری بے چینی بڑھتی جارہی تھی ۔ حتٰی کہ ایک دن ہم مایوس ہوکر واپس چلے گئے تو ایک یہودی نے چِلا ا کر کہا کہ تمہیں بنی قیلہ جس ہستی کا انتظار تھا مبارک ہو وہ پہنچ گئی ‘ پھر تو ہم جوق در جوق رسول (ص) اللہ کی جانب دوڑ پڑے ۔ آپ (ص) کھجور کے درخت کے سائے میں ٹھہرے ہوئے تھے اور ساتھ میں حضرت ابو بکر (رض) تھے جوکہ تقریباً آپ ہی کی عمر کے تھے۔ ہم میں سے اکثر نے آپ (ص) کو دیکھانہ تھا ‘ لہذا بھیڑ لگ گئی۔ اب مشکل یہ تھی کہ ہمیں ابو بکر (رض) اور حضور (ص)میں تمیز کرنی مشکل تھی ‘ کیونکہ حضور (ص)اپنے لئے کوئی امتیاز روا نہ رکھتے، لیکن حضرت ابو بکر (رض) کی زیرک نگاہوں نے ہماری مشکل کو پا لیا اور حضور (ص) پر اپنی چادر کا سایہ کرکے کھڑے ہوگئے اور لوگوں کو یہ معلوم کرنا آسان ہوگیا کہ حضور (ص) کون ہیں ۔ اس کے بعد ہم لوگوں نے حضور (ص)سے بستی میں تشریف لے چلنے کی درخواست کی ‘ جو انہوں (ص) نے قبول فرمائی اور اپنی میزبانی کا شرف ہمارے سب سے معمر ترین آدمی حضرت کلثوم (رض) بن ہدم جو کہ بنی عمرو بن عوف میں سے تھے کو بخشا۔ اور اس کے بعد بنی عبید کے ایک شخص کے پاس قیام پذیر رہے مگر یہاں بھی مورخین میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ نہیں وہ صرف حضرت سعد (رض) بن حشمہ کے پاس اترے اور حضور (ص) حضرت کلثوم (رض) بن ہدم کا گھر استراحت کے لئے استعمال فرماتے تھے ۔ جبکہ حضرت سعد (رض) بن حشمہ کا گھر خالی تھا اور وہ غیر شادی شدہ تھے ۔ ان کا قیام انہیں کے گھر تھا اور اس طرح حضور (ص)ہر وقت صحابہ کے جھرمٹ میں تشریف فرما رہتے ۔ البتہ استراحت جہاں فر ماتے ہوں وہ کلثوم بن ہدم کا گھر ہو ۔ اس لئے یہ تاریخ میں اختلاف نظر آتا ہے ۔ واللہ عالم۔ حضرت سعید (رض) بن حشمہ کے گھر کو عرفِ عام میں بیت الاغراب ‘ یعنی کنواروں کا گھر کہتے تھے ‘ ۔ اس کے علاوہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ وہ مقام شیخ میں اترے اور حضرت خبیب (رض) بن اساف کے گھر قیام پزیر ہوئے اور یہ بھی ہے کہ فرود گاہ حضرت خارجہ (رض) بن زید کا گھر تھا ۔ مگر یہاں حضرت کلثوم بن ہدم کا نام ایک مرتبہ پھر آتا ہے اور وہ اس طرح کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ، حضور (ص) کی روانگی کے بعد تین دن اور تین رات مکہّ معظمہ میں رہے اور سب لوگوں کی امانتیں واپس کیں ‘ جب اس سے فارغ ہوگئے تو آپ بھی رسول (ص) اللہ سے آملے اور حضرت کلثوم (رض)بن ہدم کے پاس اترے ۔ اس سے اس روایت کو تقویت ملتی ہے کہ حضور (ص) حضرت کلثوم (رض) بن ہدم ہی کے پاس اترے۔ واللہ عالم۔
حضور (ص)نے قبا میں سات روز قیام فرمایا اور ایک مسجد کی بنیاد ڈالی جوکہ آج تک مسجدِ قبا کے نام سے مشہور ہے اور جہاں نوافل ادا کرنے کے لئے تمام زائرین جاتے ہیں ‘ یہ تقریباّ تین میل کے قریب فاصلہ پر مدینہ سے دور واقع ہے ۔ اس مسجد کی تعریف اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمائی ہے اور اہلِ قبا کی پاکیزگی کا ذکر بھی فرمایا ہے۔ یہ عالمِ اسلام کی پہلی مسجد ہے ۔ یہاں مسجد کی اہمیت اور بھی واضح ہو جاتی ہے کہ حضور (ص) نے پہلا کام جو کیا وہ قبا میں مسجد کی تعمیر تھی ۔ مسلمانوں کی زندگی میں مسجد اور اجتماعیت کی کتنی اہمیت ہے اس سے واضح ہو تی ہے ۔ مسجد کی تعمیر کے بعد حضور (ص)نے نماز ادا فرمائی اور اس کے بعد اونٹ پر سوار ہو کر مدینہ شریف کی طرف روانہ ہوگئے ۔ آپ (ص) اونٹ پر سوار تھے اور جانثار اس کی نکیل پکڑے ساتھ ساتھ چل رہے تھے ‘ اس طرح یہ قافلہ مدینے کی حدود میں داخل ہوا ۔ چھوٹی بچّیاں راستے کے دونوں طرف کھڑے ہو کر دف پر طلعت بدر علینا والی نعت پڑھ رہی تھیں اور پورے مدینے میں عید کا سماں تھا ‘ ہر ایک کی خواہش تھی کہ حضور (ص)اس کے یہاں قدم رنجہ فرمائیں ‘ لیکن حضور (ص) کو کسی کی بھی دل شکنی پسند نہ تھی لہذا انہوں (ص) نے فرمایا میں اس اونٹنی کو اللہ پر چھوڑ دیتا ہوں جہاں یہ قیام کریگی وہیں ٹھہروں گا ۔ آپ کی اونٹنی چلتے چلتے آخر کار خود بخود ایک جگہ بیٹھ گئی اور وہ جگہ دو یتیم لڑکوں سہل و سہیل کی تھی ‘ جنہوں نے وہ جگہ آپ (ص) کو ہبہ کرنی چاہی ۔مگر آپ نے انکار فرمادیا اور انہیں بعد میں قیمت ادا کردی گئی ۔ بہر کیف آپ اس جگہ سواری سے اترپڑے اور فرمایا ” یہی میری منزل ہے “ اس کے بعد وہاں بھی آپ (ص) نے مسجد کی بنیاد ڈالی جوکہ آپ کی (ص) ابدی آرام گاہ بھی ہے اورآج کل مسجدِ نبوی (ص) کے نام سے موسوم ہے ۔ اس جگہ پر اسی وقت آپ نے تمام اہلِ مدینہ کے ساتھ نماز باجماعت ادا فرمائی اس موقعے پر ایک معجزہ رو نما ہوا کہ مدینے کے جانوروں کے تھنوں میں وافر دودھ اتر آیا اس میں ایسے جانور بھی شامل تھے جن کے تھن مدّت ہوئی خشک ہوچکے تھے ۔ لہذا تمام اہلِ مدینہ اور صحابہ کرام (رض) نے شکم سیر ہو کر پیا ۔ اس وقت حضور (ص)کی زبان مبارک پر یہ شعر تھا :
لا عیش ا لاّ عیش الا خر ہ اللھم ارحم الانصار و والمہاجرہ باقی آئندہ