15.10.2026, 11:28pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
صحت/سائینس
 

ایک گھنٹےسے زیادہ موسیقی سننا نقصان دہ ہے: عالمی ادارہ صحت
23.03.2016, 04:05am , بدھ (GMT+1)

عالمی ادارہ صحت "ڈبلیو ایچ او" نے کہا ہےکہ نوجوانوں کو دن میں ایک گھنٹے سے زیادہ ہیڈ فون پر موسیقی نہیں سننی چاہیئے۔

ایک رپورٹ میں اسمارٹ فونز اور آڈیو آلات پر آواز کے غیرمحفوظ استعمال کی وجہ سے قوت سماعت کو پہنچنے والے نقصان کے خطرے سےخبردار کیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دن میں ایک گھنٹے سے زیادہ تیز آواز میں موسیقی سننے سےسماعت کی صلاحیت متاثر ہونےکا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

دنیا بھر میں منگل کو 'انٹرنیشنل ایئر کیئر ڈے'  (کان کی حفاظت) کا دن منایا گیا۔  اس موقع پر عالمی ادارہ صحت کے عہدیداروں نے کہا کہ اس وقت ایک ارب دس کروڑ نو عمر نوجوان اور بالغان غیرمحفوظ آواز میں ہیڈ فون کےذریعے زیادہ دیر تک موسیقی سننے کی وجہ سے خود کو سماعت کے مستقل نقصان کے خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں دنیا کے متوسط اور زیادہ آمدنی والے ممالک سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی تعداد نصف کے برابر ہے جو اپنے  موبائل فون، ایم پی تھری اور دیگر آڈیو آلات پر آواز کے غیر محفوظ درجے پرموسیقی سن رہے ہیں۔

تنظیم کے اعداد وشمار سے پتا چلتا ہے کہ چار کروڑ تیس لاکھ نوجوان  جن کی عمریں 12 سے 35 برس کے درمیان ہیں، وہ قوت  سماعت کی کمزوری کے مسئلے سے دوچار ہیں اور ان کی تعداد بڑھتی جارہی ہے جبکہ اس عمر کے لوگوں میں سے ہر 2 میں سے 1 ذاتی آڈیو آلات پر موسیقی سننے کی وجہ سے متاثر ہوتا ہے اور 10 میں سے  4 لوگوں کی سماعت  کھیل کے میدان، کلب اور دیگر شور والے مقامات سےمتاثر ہوتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او سے وابستہ ڈاکٹر ایٹائن کرگ نے کہا کہ روزمرہ زندگی سے لطف اندوز ہونے کے لیے جو نوجوان قوت سماعت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں انھیں علم ہونا چاہیئے کہ سماعت سے محروم ہو جانے کے بعد اس کا لوٹ آنا ممکن نہیں ہے لیکن سادہ سی احتیاطی تدابیر سے لوگ سماعت کو نقصان میں ڈالے بغیر بھی موسیقی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ سماعت کے نقصان کے ممکنہ طور پر لوگوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کے علاوہ تعلیم اور روزگار پر تباہ کن نتائج مرتب ہوتے ہیں اور اسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے جس کے لیے ذاتی آڈیو پلئیر کے استعمال کو محدود کرنے اور دن میں ایک گھنٹے سے کم موسیقی سننے کی سفارش کی گئی ہے۔

تنظیم کی طرف سے آواز کے درجے کو ناپنے کے لیے (ڈی بی) یا ڈیسی ایبل کا استعمال کیا جاتا ہے جس کے مطابق 100 ڈیسی ایبل  اونچی آواز کے شور کو 15 منٹ سے زیادہ سننا سماعت کے غیر محفوظ درجے میں شمار کیا گیا ہے  اسی طرح دن کے آٹھ گھنٹے سے زائد  85 ڈیسی ایبل شور کو سماعت کے لیے غیر محفوظ بتایا گیا ہے۔

ڈاکٹر شیلی چاڈنا عالمی ادارہ صحت میں سماعت کے نقصان کی روک تھام کی تکنیکی افسر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تنظیم کئی سالوں سے اس مسئلے پر غور کرنے میں مصروف عمل ہے کیونکہ شور سماعت کے نقصان کی وجوہات میں سے ایک ہے جو قابل انسداد ہے۔

'میک سیف لیسننگ رپورٹ' میں تنظیم کی جانب سے اسمارٹ فونز کی بڑھتی ہوئی فروخت کو ممکنہ خطرے کی ایک نشانی قرار دیا گیا ہے جس سے ذاتی آڈیو آلات تک رسائی اور موسیقی سننے کے لیے طویل دورانیے کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے اور اس روئیے سے سماعت کی صلاحیت کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تنظیم کے مطابق کام کی جگہ پر آواز کے شور کی نمائش 85 ڈیسی ایبل آٹھ گھنٹے روزانہ سے زیادہ نہیں ہونی چاہیئے اور یہ شور ایک چلتی کار کی آواز کے برابر ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کنسرٹ،کلب اور سینما ہال میں عام طور پرایک سو ڈیسی ایبل شور عام ہے جسے 15 منٹ سے زیادہ نہیں سننا چاہیئے جبکہ ایسی جگہوں پر ایئر پلگ پہننے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

ایک سابقہ تحقیق کے مطابق امریکہ میں 1994 سے 2006 کے درمیان نو عمر نوجوانوں میں سماعت کے نقصان کے کیسز کی تعداد 3.5  سے  بڑھ کر 5.3 تک جا پہنچی ہے جبکہ ہیڈ فون کے ذریعے موسیقی سننے والوں کی تعداد میں 1990 سے2005  تک 75 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

:دیگر مضامین
(19.03.2016) سفر جل ایک پھل جو معدہ کے لیے بہترین ہے اور ہیضہ کو ختم کرتا ہے
(16.03.2016) طب امام رضا اور جدید حفظان صحت ۔ ایس ایچ بنگش
(13.03.2016) ورزش ذہنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے،تحقیق
(08.03.2016) زیتون شفا ہے اور ایک معجزاتی پھل ہے ۔ از۔ رافیعہ گیلانی
(27.02.2016) خبردار: خراٹے بنا سکتے ہیں آپ کو ذیابیطس کا شکار،نئی تحقیق
(27.02.2016) بچوں کے بیڈروم میں نئے گیجٹس کی موجودگی نقصان دہ: تحقیق
(23.02.2016) دل کی پیوند کاری کے بعد 33 سال تک زندہ رہنے والا شخص چل بسا
(23.02.2016) ماں کا دودھ پینے والےبچے ذہین اور دولت مند ہوں گے
(21.02.2016) چہرے کی جھریاں ختم کرنے کے لئے گھریلو چیزوں سے تیار کردہ ماسک
(19.02.2016) آئنسٹائن کے نظرئے کی توثیق: پاکستانی نژاد سائنس داں کا کارنامہ
(16.02.2016) کھا نے میں نمک کا کم استعما ل صحت کے لئے مفید ہے
(14.02.2016) سائیکل چلانا صحت کے لئے انتہائی مفید۔ لندن میں ہونے والی تحقیق
(11.02.2016) کیا گوشت کھانے اور دودھ پینے سے کینسر ہو سکتا ہے؟
(10.02.2016) کولمبیا: تین ہزار حاملہ خواتین زیکا وائرس کا شکار
(08.02.2016) 'زیادہ شکر کا استعمال موٹاپے اور دانتوں کی خرابی کا باعث'
(03.02.2016) سردی کا موسم اور احتیاط ۔ از۔ رافیعہ گیلانی
(30.01.2016) اساتذہ کا ڈیپریشن کلاس روم میں بچوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے: تحقیق
(25.01.2016) روزانہ 4 کپ چائے یا کافی پینے سے بلڈ پریشرکم ہو جاتا ہے
(22.01.2016) بچوں میں نیند کی کمی بیماری کا باعث بن سکتی ہے، تحقیق
(19.01.2016) چھاتی ، پھیپھڑوں اور لبلبے کے کینسر کیلئے دوا کا معیار بہتر بنانے کا دعویٰ



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں