ولایت کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ جو یہاں ایک بار آیا وہ پھر کبھی واپس نا گیا ۔جس کو سنو وہ یہی کہتا رہا بس دو تین سال اور رہونگا پھر چلے جائیں گے ۔بچے بڑے ہو رہے ہیں ماحول ٹھیک نہیں یہاں کا ۔۔بچے پیدا ہوئے جواں اور اَب ادھڑ

عمر کی طرف رواں ۔مگر کوئی گیا بھی نہیں۔
یہ دنیا کا وہ پرستان ہے جہاں کوئی آدم زاد آکر واپس نہیں جاتا ۔چکا چوند روشنی اور حُسن کی جھلک اُسے پتھر بنا دیتی ہے اور پتھر کا بُت بھی ایسا کہ جو چلتے پھرنے کے قابل نہیں رہتا ۔اِسی ولایت کی مٹی میں محنت کا بیج بونے والے چالیس پچاس برس فیکڑیوں میں کام کرتے کرتے مشینوں کا پُرزا ہو کر رہ گے ۔لاکھوں پونڈ کمائے مگر خود پر خرچ کرنے سے ڈرتے رہے ۔بال جڑ کے ،دانت گے ۔اب تو بہت سے چینی بھی نہیں خریدے کیونکہ انہیں شوکر کا مرض لاحق ہے ۔
نا دیس نے قبول کیا نا پردیس میں چین ۔کچھ نے تو ریٹارمینٹ کے بعد تسبیح پکڑ لی اور مسجد میں سارا وقت گزارنے لگے ۔بیویاں شاپنگ سنٹر میاں مسجد میں اور کچھ خاص تو شاعر بن بیٹھے ۔
گھر کے افراد نے جب جب ناقدری کی اُنہی پر شاعری لکھ لی ۔اور پھر مشاعروں کا رُخ کرنے لگے ۔یہ بھی گھروں سے بھاگنے کا بہانہ ہی تو ہے ۔ابھی حال ہی میں ایک تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا ۔شاعر ایسے نکل نکل کر آ رہے تھے جیسے مرغی کے چوزے ۔ایک سے بڑھ کر ایک ۔۔برطانیہ میں تو شاعری سے ایسا عشق ہو رہا ہے بلکل ایسے جیسے محلے میں جوان لڑکی اور لڑکے کے درمیاں ۔۔۔۔جس شاعر کو دیکھا اپنی بیاض جیب میں ڈالے مشاعرے میں براجمان ،
دیوان پَر دیوان چھپ رہے ہیں ۔تقریب رونمائی میں جوش و خروش ۔۔چاہیے تو صاحبِ کتاب کے گھر سے کوئی مستورات حاضر ہوں نا ہوں مگر شاعرات کا خیر مقدم پُر جوش طریقے سے ہوتا ہے ۔۔جہاں شاعروں کی لمبی لمبی قطاریں وہاں ماشااللہ خواتین بھی کم نہیں ۔۔۔
اَب تو اساتذہ کو ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں پڑھتی ۔جس کی دو کتابیں مارکیٹ میں آجائیں وہ بڑا شاعر اور محفل میں بہت بڑا ،منفرد شاعر کہہ کر مائیک پر بُلایا جاتا ہے ۔پھر ایک کتاب والے کو اپنا استاد بنا لیتاہے ۔۔کیا بات ہے ۔
کئی قدامت پسند شعرأ بھی اپنی کرامت نئے شاعروں کو سناتے ہوئے نظر آتے ہیں۔۔۔میں بھی پہلے سمجھتی تھی افسانہ نویسی ہی صنف ہے ناکسی کو شکایت نا خود کو ۔۔۔مگر جب سے شاعری شروع کی ہے اَب صرف شکایت ہی کی جاتی ہے ۔پہلے ہماری سنی جاتی تھی اَب ہمیں سنائی جاتی ہیں ۔
پہلے پہلے تو ہم بھی شعر سناتے وقت اسٹیج پر مائیک کے سامنے تھر تھر کانپتے تھے ۔حالانکہ قسم لے لیجئے وہ اشعار سولہ آنے اپنے لکھے ہوتے تھے ۔۔استاد ہوتو مولا خیر کرے شعر بھی شیر لگتا ہے۔جب تک شاعر مشہورنہیں ہوتا تب تک شکی نظروں سے دیکھا جاتا ہے ۔۔بس ایک بار مشہور ہوا نہیں بڑے بڑے شاعروں کے ساتھ بیٹھتے ہی دشمن زیر۔پھر تو ہر چھوٹے بڑے شاعر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے باتیں کرنے لگتا ہے ۔حاضرین بھی منہ میں انگلی دابے آنکھیں بند کیئے یقین کرنے لگتے ہیں ۔۔
سچ نمازوں سے زیادہ شاید مشاعرے پڑھے ہیں ۔بس ذرا ہلکے ہلکے شاعروں کی محفلوں میں ۔شان بھی تو وہیں ہوتی ہے ۔نا اسٹیج سے اُتارے کا خطرہ نا شعر غلط پڑھنے پر مار کا ۔۔۔مشہور ہو جانے کے بعد کسی کی اُڑائی ہوئی غزل بھی لہک لہک کر پڑھ لیں تو کسی کو رتی بھر شک نہیں گزرتا ۔اَب تو مجھے مشاعرہ ختم ہوتے ہی سب کہتے ہیں آپ کافی پڑھی لکھی انسان ہیں ۔۔۔میں بھی مسکرا اُٹھتی ہوں ۔منہ دوسری طرف کر کے اسکی بیوقوفی پر ۔
کس قدر ناسمجھی والی بات ہے ،شاعر اور سمجھدار دوسرا شاعری کا تعلیم سے کیا تعلق ۔۔۔بس اللہ کی طرف سے انعام ،و مقام ۔۔
ورنہ ہر لکھا پڑھا شخص بس شاعر ہی ہوتا ۔۔۔۔