15.10.2026, 06:50pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » صفدر ھمٰدانی
 

عارف رانا کا آدھا کنواں۔۔۔اگر پورا کنواں ہوتا تو کیا ہوتا ۔ صفدر ھمٰدانی
27.04.2016, 01:02am , بدھ (GMT+1)

صفدر ھمٰدانی۔لندن
عارف رانا کے افسانے کے مجموعے “ آدھا کنوں “  پر کسی قسم کی رائے سے پہلے مجھے اپنی شرمندگی اور صحت کی خرابی کے باعث تاخیر سے کچھ تحریر کرنے پر عارف رانا اور ان کی اہلیہ فریدہ سے دست بستہ معذرت کرنی ہے ۔ اور تاخیر سے لکھنے کی دوسری وجہ میری عادت اور مجبوری ہے ۔۔۔ جو دل نہ چاہے تو جھکتی نہیں جبین میری ۔۔ بس کچھ اسی طرح جب تک قلم خود لکھنے کی اجازت نہ دے میں خالی خولی لفظوں اور خوبصورت فقروں اور ادبی مجموعوں کے شعروں سے کام چلانے کا عادی نہیں ۔ اس وقت بھی میرے مطالعہ کے کمرے میں کم از کم دس کتابیں رائے اور تبصرے کے لیئے روز صبح مجھے یاد دہانی کرواتی ہیں اور میں ان سب احباب سے شرمندہ ہوں کہ جس سرعت سے انہوں نے کتابیں ارسال کیں میں اس تیزی سے ان کتابوں پر لکھ نہیں پایا ۔ لیکن یہ وعدہ کہ جلد ہی اس فرض سے سبکدوش ہونگا اس سے پہلے کہ ایسی کتابوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو جائے ۔

عارف رانا کو میں ستر کے عشرے سے جانتا ہوں اور جاننے کا یہ سفر شناسائی اور آشنائی کے زینوں سے ہوتا ہوا قلمی ، فکری اور نظریاتی ہم آہنگی تک آ پہنچا ہے ۔ عارف کی اہلیہ فریدہ بانو  سے بھی اس وقت سے جان پہچان ہے جب وہ کشمیر کے ایک ریڈیو استیشن پر بشیرصرفی اور طاؤس بانہالی کے پاس پروگرام کرنے آیا کرتی تھیں ۔ ان دونوں میاں بیوی سے میرا ہمیشہ احترام کا رشتہ رہا ہے اور پاکستان میں نیلام گھر کے حوالے سے جب عارف رانا کا طوطی بولا کرتا تھا تو مجھ جیسے ادبی اور نشریاتی طالب علم عارف رانا سے ملنے کے مشتاق ہوا کرتے تھے ۔ سچ پوچھیں تو اس زمانے میں اکثر لوگ عارف رانا کو نیلام گھر کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے ۔ میرے اپنے مشاہدے کی بات یہ ہے کہ اس پروگرام کا نیلام گھر تھا ورنہ اس میں کوئی چیز بھی نیلام نہیں ہوئی ۔ ہر چیز کو عزت وقار اور مرتبہ ملا ۔ 

مجھے ایک بہت طویل عرصے تک یہ معلوم بھی نہیں تھا کہ عارف رانا کے اندر ایک دانا افسانہ نگار بھی ہے ۔ بہت کم ادبی محفلوں میں اسے دیکھا لیکن ٹی وی کے پروڈیوسر ہونے کے ناطے اس کے بڑے بڑے ادیبوں سے تعلقات ضرور تھے ۔ ابھی گزشتہ برس کے آخری مہینوں کی بات کہ اس کے افسانے کے مجموعے “ آدھا کنواں “ کی ایک بہت بری تقریب اسلام آباد میں ہوئی ۔ جس کی کاروائی زرائع ابلاغ میں پڑھنے کے بعد میں نے جب عارف کومبارکباد لکھی تو جواب میں عارف نے لندن کا پتہ مانگا اور پھر کوئی پندرہ روز کے بعد کتاب آسٹریلیا سے لندن پہنچ گئی ۔۔ جس پر انیس نومبر دوہزار چودہ کی تارخ درج ہے ۔

آپ پریشان نہ ہوں کتاب کی تقریب اسلام آباد میں تھی اور کتاب آسٹرلیا سے چل کر لندن کیسے پہنچی ۔ یہ کوئی ایسی سلجھانے والی گھتی نہیں ، بات صرف اتنی ہے کہ عارف رانا اپنے اہل خانہ کے ساتھ اب کچھ برس سے آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مقیم ہے ۔ 

میں نہ کتاب پڑھے بغیر کتاب پر لکھنے کا عادی ہوں اور نا ہی دوستیوں میں طرفدار۔ اور بس اسی  وصف کے باعث اللہ پاک کا شکر ہے کہ میں نقادوں میں شامل نہیں ہوں ۔ کیونکہ ہمارے ہاں میرے زاتی تجربے میں کچھ پیشہ ور نقاد ایسے بھی ہیں جو کتاب شائع ہونے سے پہلے تو کیا کتاب لکھی جانے سے بھی پہلے تبصرہ اور رائے لکھ دینے کے ماہر ہیں ۔ 

عارف رانا کے افسانوں کا یہ مجموعہ ایک سو انسٹھ صفحوں پر مشتمل ہے ۔ اور ابتدائی تمہیدی پیش لفظ اور نو مضامین کے بعد اس میں تیس افسانے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ عارف کے تخلیق کردہ افسانوں کی تعداد اس سے بہت زیادہ ہوگی اور یہ افسانے اس کے انتخاب کا ثمر ہیں۔ عارف نے کتاب کا انتساب یوں توچونکا دینے والا نہیں لکھا لیکن مردوں کے اس معاشرے میں جنہیں قد آور خاتون بھی کوتاہ قد نظر آتی ہے عارف نے اس کا انتساب اپنی اہلیہ “ بانو“ کے نام کر کے انقلابی فکر کا چاہے ایک چھوٹا سا ہی قدم سہی لیکن جرات کے ساتھ اٹھایا ہے ۔ عارف نے بانو کے بارے میں یہ کہہ کر واقعی اپنی عارفیت کا ثبوت دیا کہ “ بانو کی تنقید اور مشورے میری راہنمائی کرتے رہے اور اکثر کہانیوں کے عنوان اسی کے مشورے سے طے ہوئے ۔ وہ میری زندگی کی ایسی ساتھی ہے جس کی مہربانیوں کا احاطہ کرنے سے قاصر ہوں ۔ مشرقی معاشرے پھر مسلم معاشرے اور سب سے بڑھ کر پاکستانی معاشرے میں اگر کوئی خاوند اپنی بیوی کے کمال اخلاص کا اس طرح سے زکر کرے تو اس پر بہت آسانی سے فتوی صادر فرمایاجایا سکتا ہے ، لیکن اللہ نے عارف کو پہلے ہی محفوظ کر لیا اور ایسے مفتیوں کے دیس سے نکل کر باعمل ، مخلص اور محبت کرنے والے لوگوں کے درمیان آ گیا۔ 

اگر میں غلط نہیں تو یہ عارف کے افسانوں کا دوسرا ایڈیشن ہے اور اسے نیشنل بک فاؤنڈیشن نے شائع کیا ہے ۔ مجمو عے پر لکھی ہوئی کتاب کی تعداد پڑھ کر سوچ رہا ہوں کہ اس مجموعے کو اگر واقعی پانچ سو لوگ پڑھ لیں تو ہمارے ادبی معیار کے مطابق سمجھیں کہ کرہ ارض کی نصف آبادی نے مطالعہ کر لیا ۔ رہی بات قیمت کی تو جن معاشروں میں قلم کی قیمت لگتی ہو ، ضمیر بکتا ہو ، دین فروشی بہترین تجارت ہو ، عدالتوں میں قران کی گواہی بکتی ہو اور جہاں فاقہ زدہ مائیں بیٹیاں بیچتی ہوں ، وہاں برسوں آنکھوں کا نور اور دل کاخون جلانے کے بعد ان تمام حرفوں اور لفظوں کی قیمت  دوسو پچاس روپے قلم پیدا کرنے والے پروردگار کی خاص عنایت لگتی ہے ، لیکن زرا رکیئے اور اس سیف لسان کی یہ بات بھی سنتے جایئے جس ملک میں ہری مرچ ڈیڑھ سو روپے کلو ہو ، تیزاب میں بھیگا ہو ادرک دوسو روپے کلو ملے ، بھارت سے منگوایا ہوا ٹماٹر ڈیڑھ سو کلو ہو اور بیرونی ممالک سے درآمد کردہ کھانوں کے مراکز میں ایک برگر پانچ سو میں ملتا ہو وہاں آنکھوں کے نور اور دل کے خون کی قیمت دو سو پچاس روپے صرف اس معاشرے کے منہ پر طمانچہ نہیں بلکہ ا س ملک کے ادبی مجاوروں اور درباری ادیبوں شاعروں اور ادب کے نام پر کمائی کرنے والے ادبی اداروں کے سربراہوں کے لیئے شرم کا وہ مقام ہے جو شاید انہیں کبھی محسوس ہی نا ہو ۔ 

عارف کے اس مجموعے میں شامل سب افسانے موضوع کے اعتبار سے اور پھر کردار اور بنت کے اعتبار سے سماج اور زندگی کے آئینہ دار ہیں ۔ عارف نے چھوٹی سی کہانی کو ارسطو کا فلسفہ بنا کے پیش نہیں کیا۔ اور اس کے کردار ا سکے  قلم سے نہیں اس کی زبان سے گفتگو کرتے ہیں ۔ زبردستی کہانی کو مکمل کرنے کا عنصر شاید ہی کسی ایک آدھ افسانے میں نطر آیا ہو ورنہ کمال فن یہ ہے کہ مجھ جیسے طالب علم کو یہ منفرد جہت ان افسانوں میں نطر آئی کہ عارف اگر ان نوے فیصد افسانوں کے اختتام اور انکی مجموعی طوالت میں ایک فقرہ کم یا ایک فقرہ زیادہ لکھتا تو آغاز کلام سے ماحول کا بنا ہوا تاثر ضائع ہو جاتا  اور قاری چند لمحوں کے لیئے گم صم یہ سوچتا کہ بات ختم ہوئی یا ابھی باقی ہے ۔ 

میں نے اپنی قلمی زندگی میں جس قدر کتابوں پر رائے اور تبصرہ لکھا ہے نناوے فیصد ان آراء میں منتخب اشعار اور پیراگرافوں کا سہارا نہیں لیا ۔ لیکن آج ریڈیو اور ٹی وی کے بہت بڑے پروڈیوسر اور نشریات کی دنیا کے قد آور نام آغا ناصر کا یہ فقرہ ضرور نقل کرنا چاہتا ہوں جو کتاب کے تمام تبصروں پر حاوی اور بڑے سے بڑے نقاد کے نقد و نظر کا خلاصہ ہے ۔ عارف کی قلمکاری زندگی کا احاطہ بھی ہے اور اس افسانوی مجموعے کا خلاصہ بھی ۔ بڑے لوگ صفحوں کی تعداد اور فقروں کی لمبائی کی بجائے اختصار کے فن کو استعمال کرتے ہیں ، اور ایک سانس کی بات ایک سانس میں کہتے ہیں ۔ آغاناصر کا یہ فقرہ بس ایک سانس کا فقرہ ہے وہ سانس عارف رانا کی ہو ، آغا ناصر کی ہو ، میری ہو یا کسی قاری کی ہو  ۔ آغا ناصر لکھتے ہیں “ عارف رانا نے چھوٹے چھوٹے کرداروں پر بڑی بڑی کہانیاں لکھیں اور اپنی ہر کہانی کلائمکس پر ختم ہوئی جو ایک اچھے کہانی نگار کا خاصہ ہے “  آغا ناصر کی اس سند کے بعد مجھ جیسے طالب علم کا کچھ کہنا بلکل اسی طرح ہے جیسے اچھے کھانے کی محفل میں میٹھے کے بعد دوبارہ نمکین کھلوا دیا جائے ۔ 

جن احباب نے اس مجموعے پر رائے تحریر کی ہے ان میں آغا ناصر کے علاوہ ڈاکٹر انعام الحق جاوید ، اشرف شاد ، سرمد صہبائی ، طارق عزیز، فاروق اقدس اور ارشد چہال شامل ہیں ۔  میں اور میرے رشتے کے عنوان سے عارف رانا نے بہت خوبصورت اور پر تاثیر مضمون بھی شامل ہے ۔ اور پاکستان کے معروف کمپیئر اور شاعر طارق عزیز کی بولتی ہوئی باتیں بھی ہیں ۔ افسانوں کے عنوانات ، افسانے کی بنت کی طرح سیدھے سادھے ہیں اور میرے لیئے بہت مشکل ہے کہ میں ان تیس افسانوں میں سے کسی ایک افسانے کو اپناپسندیدہ افسانہ کہہ سکوں ۔ 

اردو افسانے میں مختصر افسانے اور پھر افسانچے تک کا فنی سفر اہل علم کا موضوع ہے ۔ لیکن میں تاریخ ادب کا طالب علم ہونے کے ناطے یہ ضرور جانتا ہوں کہ افسانہ اپنی ابتدا سے ہی انسانی زندگی اور سماجی مسائل کی عکاسی کرتا رہاہے لیکن ابتدا میں زیادہ رجحان رومانیت کی طرف تھا تاہم برصغیر کے تناظر میں نصف صدی قبل افسانے نے اصلاح پسندی اور مثالیت پسندی کے لیئے اپنے در وا کر دیئے ۔ مختلف بڑے چھوٹے ، نامور اور گمنام افسانہ نگاروں کے ہاں رومان پسندی ، حقیقت پسندی ، اظہاریت ، لاشعوریت ، جدیدیت ، مثالیت اور پھر ادب برائے ادب اور ادب برائے حیات کے عناصر اور رخ الگ الگ نظر آتے رہے ۔۔ میر اکہا کوئی سند نہیں لیکن جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یہی ہے کہ عارف کے ہر افسانے میں ایسے لگ بھگ تمام عناصر موجود ہیں اور کسی ایک فنکار کی تخلیق میں ایک ہی جگہ ایسے تمام عناصر کا شامل ہونا بذات خود ایسی کامیابی ہے جس کے بعد شاید کسی اور کی سند کی ضرورت نہیں رہتی ۔ 

بہت تاخیر سے ہی سہی لیکن میں عارف رانا کو “ آدھا کنواں “ کی اشاعت پر اس دعا کے ساتھ دلی مبارکباد دیتا ہوں کہ انشاللہ عارف رانا کا اگلا مجموعہ پورا کنواں ہو گا اور اس مرتبہ کی طرح اگلی مرتبہ بھی یہ کنواں خود چل کر میرے پاس آئے گا ۔

 تمہارے لیئے بہت سی دعاؤں کے ساتھ  
صفدر ہمدانی 
لندن 

:دیگر مضامین
(21.04.2016) آغا جی آُپ کا قلم اور مائیکروفون میرے پاس امانت ہے۔اشاعت مکرر
(28.01.2016) محبت کی خوشبو میں گندھی نسرین انجم بھٹی زمین کی گود میں۔ صفدر ھمٰدانی
(01.11.2015) میری اور عالمی اخبار کی پیدائش کا ایک ہی مہینہ ہے۔۔۔ نومبر۔۔۔۔۔ از۔۔۔ صفدر ھمٰدانی
(15.10.2015) ’دنیا کو آج پھر ہے ضرورت حسین کی‘‘۔ از۔ صفدر ھمٰدانی
(23.09.2015) اے نوید مسیحا تیری قوم کا حال موسیٰ کی بھیڑوں سے ابتر ہوا۔صفدر ھمدانی
(14.08.2015) اے قائد ہم شرمندہ ہیں۔۔۔۔از۔۔۔۔۔ صفدر ھمدانی
(31.07.2015) بوالہوس کو آئینہ دکھلائیں گے ۔ از ۔صفدر ھمٰدانی۔ پہلی قسط
(18.06.2015) کیا آج روزہ ہے؟ جی ہے ۔ جی نہیں ہے۔ از۔ صفدر ھمٰدانی
(12.05.2015) اردو تو بولنی نہیں آتی اور انگریزی بھی غلط بولتے ہیں۔ از ۔صفدر ھمدانی
(01.05.2015) یکم مئی : آج کا دن ہے یوم انالحق آج کا دن مزدور کا دن ہے؟ از صفدر ھمٰدانی
(26.03.2015) پاکستان کو سعودی عرب اپنے مظالم میں شامل کررہا ہے ۔ از۔ صفدر ھمدانی
(23.03.2015) ایسے حکمران اپنے زوال کا خود باعث بن جاتے ہیں ۔ از ۔ صفدر ھمدانی
(19.01.2015) ہم ایک بے حس، مردہ اور مکروہ معاشرے کے فرد ہیں۔ از۔ صفدر ھمٰدانی
(31.12.2014) صفدرؔ خُدا کی لعن ہو ایسے نظام پر ۔ از ۔ صفدر ھمٰدانی . قند مکرر
(22.12.2014) سانحہ پشاور کے تناظر میں فکری ، علمی اور عملی بیداری کی ضرورت ۔ صفدر ھمدانی
(22.10.2014) سعودی عرب کے مفتی اعظم نے ٹویٹر کو برائیوں کا منبع قرار دے دیا۔از۔صفدر ھمٰدانی
(10.10.2014) ہماری بربادی ہماری بے حسی میں لکھی گئی ہے ۔ از۔ صفدر ھمٰدانی
(04.10.2014) عالم اسلام کی غربت اور خانہ کعبہ کے لیئے 20ملین ریال کا غلاف ۔ از۔ صفدر ھمٰدانی
(02.09.2014) پارلیمان کا مشترکہ اجلاس ۔نشستن، گفتن ، برخاستن ۔ از۔ صفدر ھمٰدانی۔ صوتی کالم
(31.08.2014) چراغ کی لو پھڑ پھڑا رہی ہے۔ اگست 2013 کا منظوم کالم جو آج بھی تازہ ہے۔ صفدر ھمدانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں