آج مارچ کی تئیس تاریخ ہے۔یوم قرار داد پاکستان۔ یا رکھیں کہ انسانیت اور حکمرانیت کی تاریخ ایسے کتنے ہی واقعات سے بھری پڑی ہے کہ گرتی ہوئی دیوار کو سہارا دینے کے لیئے حکمران اور انکے حواری غلطی در غلطی کے ایک ایسے سمندر
میں اُتر جاتے ہیں جہاں سے واپسی ناممکن ہو جاتی ہے۔
نہ جانے یہ حکمرانوں کی نسل کیسی ہے جسے اپنی ڈوبتی ہوئی کشتی کا احساس تک نہیں ہوتا اور جو ان عقل کے اندھوں کو یہ احساس دلوا رہے ہوں انہیں یہ بے حس اور ناعاقبت اندیش حکمران اور انکے حواری ملک دشمن،ترقی کے دشمن اور باغی قرار دیکر مقدمات میں پھنسا دیتے ہیں اور اپنے تئیں یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے طوفان کا رُخ موڑ دیا ہے حالانکہ طوفان کا یہ رُخ انکے تاج و تخت اور انکی حاکمیت کی طرف ہو جاتا ہے اور پھر کرسی پر مُکہ مار کر یہ کہنے والا حکمران بھی اگلے ہی لمحے اقتدار سے الگ ہو جاتا ہے کہ‘‘میری کرسی مضبوط ہے اور کوئی ماں کا لال مجھے اس اقتدار سے الگ نہیں کرسکتا‘‘۔
پاکستان بھی آج ایک بار پھر ایسے ہی حالات سے گزر رہا ہے کہ تاجِ مغلیہ کے وارث اپنے ارد گرد نورتنوں کا ایک دربار سجائے بیٹھے ہیں اور یہ مشیر جو کسی بھی حکومت کے زوال کا وسیع تر تجربہ رکھتے ہیں ان خوابیدہ قسمت حاکموں کو ‘‘سب اچھا ہے‘‘ کی رپورٹ دینے کے ساتھ ساتھ اس غلط فہمی میں مبتلا رکھے ہوئے ہیں کہ یہ تو لوگوں کی ایک بہت چھوٹی سی اقلیت ہے جو ملکی ترقی کی اور آنحضور کے نظریہ روش خیالی کی مخالف ہے ورنہ عوام کی ایک بہت بڑی اکثریت تو آپ کے اقتدار کی سلامتی اور آپ کی طویل عمری کی دعائیں کر رہی ہے۔ کاش یہ حکمران دن کے اجالے میں نہیں تو کم ازکم رات کے اندھیرے میں ہی اپنے آہنی حصار والے ایوانوں سے باہر نکل کر دیکھیں کہ اس ملک کے عوام کس حال میں ہیں۔
عجب حال ہے ملک میں کوئی ایک شعبہ بھی اپنی اصل حالت میں نہیں ۔ حکومت پہلے پی پی پی کے زمانے میں ایک گھر کی لونڈی تھی اور شریفوں کے زمانے میں ایک گھر کی لونڈی ہے۔ عاقلان شہر شاید درست ہی کہتے ہیں کہ حکومت دراصل ایک بار پھر فوج ہی کی ہے اور فوج اس بار سامنے آنے کی بجائے عقبی دروازے سے کام کر رہی ہے۔ وزیراعظم کو جو کہا جاتا ہے وہ اسکو پورا کر دیتے ہیں
حاکموں کا اب تک کا وقت محاذ آرائی میں گزرا ہے اور باقی بھی اس طرح گزر جائے گا۔ عمران خان سے ہو یا مولوی قادری سے یا پھر اب تازہ ترین ایم کیو ایم سے ۔ شاید انکو طرز حکمرانی اسی طرح سکھایا گیا ہوا ہے۔
عوام کی حالت عشروں سے اسی طرح ناگفتہ ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اس سرزمین پر شاید حشرات اور حیوان ان عوام سے بہتر زندگی گزار رہے ہوں۔ صرف اپنے چند روزہ اقتدار کے لیئے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کی قسمت اور زندگی کو داؤ پر لگا دینا یہ کہاں کا انصاف ہے۔ ایسے حکمران اور انکے درباری شاید یہ بھول بیٹھے ہیں کہ ایک دن قیامت کا بھی آئے گا جب ان سے ہر اس شخص کی بد حالی اور زبوں حالی کا حساب لیا جائے گا جو انکے زیر اقتدار تھے۔
ہمارے ہی نہیں دنیا کے اکثر حکمرانوں کی یاداشت بہت کمزور ہوا کرتی ہے اور یہاں تک کہ وہ اپنے پیش رو سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کرتے۔ ہماری تاریخ کا چونکہ غالب حصہ فوج کی حکمرانی میں گزرا ہے اس لیئے فیلڈ مارشل ایوب خان سے لیکر ضیاالحق تک کسی نے بھی اپنے فوجی بھائی سے سبق حاصل نہیں کیا۔
ہم کس عہد میں زندگی گزار رہے ہیں اور کس قسم کی حاکمیت اور اقتدار کی مثال اپنے بچوں اور جوانوں کے لیئے چھوڑ رہے ہیں۔ یہ دور جو ٹیکنالوجی اور سائنس کا دور ہے اس دور کی جدت کو جیسے حرام قرار دیا جا رہا ہے۔ کیا ٹیکنالوجی کے ماہر اور نشریات کے نام نہاد ماہر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ یو ٹیوب کو بند کر کے اور ٹی وی کی سکرینوں کو اپنے چہروں سے سجا کر، یوم پاکستان آتش بازی کر کے عوام سے حقائق چھپا لیں گے۔ اگر ایسا ہے تو میں اسے خود کُشی کے علاوہ اور کچھ نہیں کہہ سکتا۔
پروپیگنڈے کے زور پر ہر نا اہل حکومت کو زندہ رکھنے والی پاکستان کی وزارت اطلاعات کے انچارج وزیر اور سیکرٹری سمیت ان سب اصحاب سے یہ پوچھا جائے کہ انکی جمیعت میں کتنے ایسے لوگ ہیں جو اس نشریات کی سائینس سے واقف ہیں اور کتنوں نے اس مضمون میں تعلیم حاصل کی ہے۔ کتنے ہیں جو ذرائع ابلاغ کی جدید سائینس سے واقف ہیں۔
یہی تو بد قسمتی ہے کہ ذرائع ابلاغ کی پالیسیاں بنانے والے اور انکے کے لیئے ضابطے ترتیب دینے والے لوگ وہ ہیں جنہیں خود اس سائینس کا علم نہیں اور جو اپنے عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ کر ابلتے ہوئے لاوے کا ٹمپریچر بھی نہیں دیکھ سکتے۔ دوسری طرف نجی ایف ایم اور ٹی وی چینلوں کے زیادہ تر مالکان اسے صرف ایک تجارت کے طور پر چلا رہے ہیں۔
کوئی ان حاکموں کو بتائے کہ عوام بہت بری حالت میں ہیں ، بھوک ابھی بھی بہت بڑا مسلہ ہے ۔
قانون پر عمل در آمد ایک خواب ہے اور امن و امان میلوں دور نظر اتا ہے
ماضی قریب میں ہم نے اپنے ہمسایہ برادر ملک ایران میں دیکھا کہ اسوقت کے سیاہ و سفید کے مالک شاہ رضا شاہ پہلوی کو بھی اپنے آقا امریکہ پر اسی طرح بھروسہ تھا اور پھر قُم کے مقدس شہر سے اٹھنے والے ایک معمر شخص آیت اللہ خمینی نے جب اونچی آہنی دیواروں کے پیچھے مقید اس شہنشاہ کو للکارا تو یہ آہنی دیواریں ریت کی دیوار ثابت ہوئیں۔
طاقت کے نشے میں مست ہاتھی کی طرح جھومنے والے شاہ ایران نے لاکھوں کے مجمع پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے گولیاں برسائیں تو شہید ہونے والوں کا خون لاوے کا طوفان بن کر قصرِ شاہی کی بنیادیں ہلا گیا اور اس شہنشاہ کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اپنے محل سے فرار ہونا پڑا اور قدرت کا ستم کہ اسے اپنے ہی ملک میں قبر کے لیئے بھی دو گز زمین نہ ملی اور غیر کی سر زمین پر اسے موت اس صورت میں آئی کہ اسکے جنازے میں شامل افراد دو ہاتھوں کی انگلیوں کی پوروں کے برابر ہی تھے۔
عوام کی طاقت اور عوام کے سیلاب کے سامنے تو پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہل جاتے ہیں یہ فراموش کرنے کی بات نہیں ہے۔خدا کے لیئے ہوش کے ناخن لیں۔ آنکھوں کو بند رکھنے سے بلی بھاگ نہیں جائے گی۔
عقل،فہم اور شعور کا تقاضہ ہے کہ حاکمینِ اپنے مشیروں کی آنکھوں سے دیکھنے کی بجائے اپنی بصارت استعمال کریں اور اپنے کاسہ لیسوں کے مشوروں پر عمل کرنے کی بجائے اپنی بصیرت کو کام میں لائیں اور اس بات کو فراموش نہ کریں کہ
‘‘تاریخ سے سبق نہ سیکھنے والے حکمران اپنے زوال کا خود باعث بن جاتے ہیں‘‘۔
سات سال بعد اسلام اباد میں کروڑوں روپے کی لاگت سے فوجی پریڈ کر کے ملک سے غربت ختم نہیں ہو گی، امن و امان قائم نہیں ہو گا، اس کے لیئے طرز حکمرانی درست کرنا ہو گا اور بادشاہت کے انداز کو خیر باد کہنا ہو گا ورنہ ہم اگلے پچاس سال بھی بانی پاکستان بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح سے شرمندہ رہیں گے