گذشتہ قسط میں ہم حضور (ص) کی مدینہ شریف ہجرت کے بارے میں عرض کر رہے تھے۔ بات یہاں تک پہنچی تھی کہ حضور (ص) نے حضرت ابو ایوب انصاری (رض) کے یہاں قیا م فرمایا۔ آئیے اب آگے بڑھتے ہیں۔ حضور (ص) نے اس جمعہ کو جو خطبے دیئے وہ حضرت ا بو سلمہ (رض) سے مروی ہیں جنہیں ابنِ اسحاق (رح) نے تحریرکیا ہے اور ہم پہلے اور دوسرے خطبے کا ، یہاں اردو ترجمہ پیش کر رہے ہیں۔
پہلا خطبہ:(حمدو ثنا کے بعد)لوگو! اپنی ذات کے لیے اچھے کام کرلوتمہیں معلوم ہو نا ضروری ہے کہ تم میں سے ہر شخص ذائقہ ِموت کا نشانہ بنے گا ۔ پھروہ اپنی بکریوں کواس حالت میں چھوڑ جائے گاکہ ان کا کوئی چروا ہا نہیں۔ پھر پرور دگاراس طرح گفتگو فر مائے گا کہ نہ کوئی تر جمان(درمیان میں) ہوگااور نہ اس کے سامنے کوئی پردہ ہو گا،کہاں ا سے چھپائے ، وہ فر مائے گا کہ اے ! بندے کیا تیرے پاس میرارسول (ص) نہیں آیاتھا اور اس نے تبلیغ نہیں کی تھی؟میں نے تجھے مال دیا، تجھ پر اپنا فضل رکھا،تو نے اپنی ذات کے لیے (موت سے)پہلے کیا کیا؟بندہ د ا ئیں بائیں دیکھنے لگے گااور کچھ نہ پائے گا،پھر وہ سامنے دیکھے گاتو دوزخ کے سوا کچھ نہ دیکھے گا،لہذا جس سے ہو سکے،اپنا چہرہ آگ سے بچائے ،اگرچہ ایک کھجور کے تکڑے کے ذریعے سے ہو۔اسے چاہئے کہ وہ (ضرور) ایسا کرے ۔او ر جو کھجور کا تکڑا بھی نہ پائے تو ایک نیک بات ہی کے ذریعہ سے (سہی، نیکی کا مرتکب ہو) کیونکہ اس کا بھی بدلا دیا جا ئے گا اور ایک نیکی کا عو ض دس گنا سے سات سو گنا تک ہو گا۔ تم پر اور اللہ کے رسول (ص) پر سلام اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں۔
دوسرا خطبہ:
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تعریف تو ساری ا للہ کی ہے۔میں (ص)اسکی تعریف کرتا ہو ں اور اس سے امداد کا طلبگار ہوں اور ہم نفسوں کی شرارتوں اور اپنے اعما ل کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔جسے اللہ نے ہدایت کی، اسے گمراہ کرنے والا کوئی نہیں اور اس نے گمراہ کردیاتو اس کے لیے کوئی رہنما نہیں۔ا ور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوںکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ یکتا ہے، اسکا کو ئی شریک نہیں۔سن لو کہ بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے ا للہ نے اس( کتاب) کی خو بی جس کے دل نشین کردی اور اسے کفر کے بعد اسلام میں داخل کردیا۔اور اس نے دوسری تمام لو گوں کی باتوں پر اس کتاب کو تر جیح دی،بے شبہ وہ پھلا پھو لا اس نے ترقی حاصل کر لی۔بلا شبہ وہ بہترین اور بلیغ کلام ہے۔ جس چیز سے اللہ کو محبت ہے،تم بھی اس سے محبت رکھو۔پورے دل سے اللہ کو چاہواور اللہ کے کلام اوراسکی یاد سے بیزار نہ ہو جا ؤ۔تمہارے دل اس سے سخت نہ ہو جائیں۔ کیونکہ وہ جن جن چیزوں کو پیدا کرتا ہے ان میں سے( بعض کو) برگزیدہ ا ور منتخب بنا لیتا ہے۔ اس نے اس کا نام اعمال میں سے اپنا برگزیدہ ا ور بندو ں میں سے اپنا منتخب اور کلام میں سے اچھا رکھا ہے۔ان چیزوں میں سے جو لو گوں کودی گئی ہیں حلال ،حرام بھی ہے،پس اللہ کی عبادت کرواور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرا ؤاور جیسا اس سے ڈرنا چاہئیے ویسا ہی ڈرواور اللہ کے متعلق سچ کہوکہ جو کچھ تم اپنے منہ سے کہتے ہو،اس میں بہترین (عمل) ہے۔اللہ کی رحمت کے سبب تم آپس میں محبت رکھو۔عہد کو توڑنے سے اللہ غضب نا ک ہوتا ہے تم پر اللہ کی رحمت ہو:
مسجد نبوی (ص)کی تعمیر: ہم پہلے بھی عرض کر چکے ہیں کہ اسلام ایک اجتما عی مذہب ہے اس لیے وہ اجتماعی پہلو کو ہمیشہ سامنے رکھتا ہے۔ لہذا یہاں بھی نبی کریم (ص)نے جو پہلا قدم اٹھا یا وہ مسجد کی تعمیر تھا۔اور اونٹنی کو اس کی صواب دید پر چھو ڑنے سے دو مسئلے سامنے آئے کہ اللہ تعا لیٰ نے جو علم انہیں ودیعت کیا تھا اسکی بنا پر وہ اپنی ا بدی آرام گاہ سے واقف تھے ۔اور رحمت عالم کو جو خطہِ جنت بہ شکل ”ریا ض الجنتہ“ عطا ہوا تھا اس کو بھی اپنی امت کے سجدو ں کے لیے عام کر نا مقصود تھا۔یہ دونوں مسئلے بخیر خو بی اونٹنی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سبحانہ تعالیٰ نے حل فر مادیئے۔جبکہ اس تمام قصے میں کسی کی دل شکنی بھی نہیں ہوئی۔ اس سے ہمیں بھی یہ سبق ملتا ہے کہ ہم بھی کو شش کریں کہ کسی مسلمان کی دل آزاری کا باعث نہ بنیں اور مسجد کو بھی اسوہ حسنہ (ص) کے مطا بق ہی کام میں لا ئیں ۔ یہ تو ہم پہلے ہی عرض کر چکے ہیں کہ حضور (ص)نے مسجد کے لیے وہ جگہ منتخب اور خرید فر مالی تھی۔ جس پر آ پکی (ص) اُونٹنی بیٹھی تھی۔ لہذا انہوں (ص) نے تعمیراتی سامان جمع کرنے کا حکم دیا۔ اس وقت کے رواج کے مطابق مدینہ میں کچے گارے اور کھجور کے تختے اور کھجور ہی کا پالن اور کھجور ہی کے تنے بطورشہتیر استعمال ہوتے تھے۔لہذا پہلے تو اس جگہ کی صفائی کی گئی، جس میں سرورکائنات (ص) نے بہ نفسِ نفیس حصہ لیا اور اسکے بعد مسجد کی تعمیر شروع ہوئی۔یہاں پھر مورخین میں اختلاف ہے کہ وہ کچی اینٹوں کی تھی یا پھر گارےکی کیو نکہ اس وقت دو نوں ہی طر یقے رائج تھے۔ اور محراب وغیرہ قسم کی چیز یں صرف اینٹو ں سے بن سکتی تھیں، اس لیے ممکن ہے کہ دو نوں ہی طریقے استعمال کیئے گئے ہو ں؟ اس وجہ سے یہ اشکال پیدا ہوا ۔کیو نکہ تعمیر میں دونوں چیزوں کے ڈھونے کا ذکر ملتا ہے۔ ا بن ا سحاق (رح) لکھتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر (رض) شروع سے ہی تعمیر میں بڑی سرگرمی سے حصہ لے رہے تھے۔ بعض مور خین نے لکھا ہے کہ تعمیر کی ابتدا انہوں نے ہی کی ۔ ایک مرحلے پر انہوں نے اپنے پیٹھ حضور (ص) کودکھائی ا ور کہا حضور (ص) ملاحظہ فرمائیے !مجھ پر کتنا وزن لاد رکھا ہے جتنا یہ خود نہیں اٹھاتے۔ شاید مجھے مارڈالنا چاہتے ہیں۔ حضور (ص)نے فر ما یاکہ “ تمہاری مو ت وزن سے نہیں ہو گی بلکہ تم باغیوں کے ہاتھوں لڑتے ہوئے شہید ہوگے۔اور اس خوشخبری کے بعد وہ پھر اینٹیں ڈھونے میں مصرو ف ہوگئے ۔انکی زبانِ مبارک پر یہ رجز تھا جوکے اس سے پہلے حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی پڑھ رہے تھے، مگر یہ تصد یق نہیں ہو سکی کہ یہ ان کےاپنے اشعار تھے یا کسی اور کے ۔ (ترجمہ)”جو شخص مسجد کی تعمیر کرتا ہے، ان میں قیام وقعود میں بسر کرتا ہے، اور وہ شخص جو گردو غبار سے کتراتا نظر آتا ہے، دو نو ں برابر نہیں ہو نگے “ اس کو کچھ لو گو ں نے طنز سمجھا اور حضور (ص) سے شکایت کی حضور (ص) نے اس پر اظہارِ نا پسندیدگی فر ما یا اور کہا کہ لوگ عمار (رض) سے کیو ں بغض رکھتے ہیں ،وہ مجھے اپنی ناک کے اندر کے چمڑے سے بھی زیادہ عزیز ہے۔لہذا پھر صحابہ کرا م نے ان سے تعر ض نہیں کیا ۔ان کے بارے میں یہ ہی الفاظ دو بارہ فر ما ئے کہ عمار (رض) تمہاری شہادت یہاں نہیں لکھی،(یعنی کفار کے ہا تھو ں سے نہیں )بلکہ با غیو ں کے ہاتھوں سے ہوگی جو کہ تقر یباً چا لیس بیا لیس کے بعدجنگ حنین میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف سے لڑتے ہو ئے شہید ہو کر پوری ہو ئی۔ البتہ ایک رجز جو سب لو گ بمعہ حضور (ص) کے پڑھ رہے تھے وہ وہی تھا ”لا عیش الا عیش الا خرہ الہم ارحم الا انصاروالمہاجرہ “ جو کہ مدینہ میں حضور (ص) داخل ہوتے ہو ئے پڑ ھ رہے تھے۔جب کہ مسجد کی تعمیر مکمل ہو گئی ا ور حجرو ں کی بھی تعمیر مکمل ہو گئی تو حضور (ص) وہاں منتقل ہو گئے درایں اثنا حضور (ص) کی زوجہ محتر مہ ام ا لمو نین حضرت سودہ اوردختران فاطمہ،ام کلثوم (رض) وغیرہ بھی تشریف لے آئیں ، جن کو مدینہ منورہ لانے کے لیے حضرت ابو رافع ، اور حضرت زید بن حارثہ (رض) ، پانچ سو درہم بطور زاد ِ راہ دے کربھیجے گئے تھے ۔ جبکہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض)اپنے بھا ئی حضرت عبدا للہ (رض) کے ہمراہ تشریف لا ئیں ۔چونکہ ابھی انکی رخصتی نہیں ہو ئی تھی لہذا انہو ں نے اپنے والد حضرت ابو بکر (رض) کے پاس قیام فر مایا۔ صاحبزادی رقیہ (رض) اپنے شوہر حضرت عثمان (رض) کے ہمراہ بعد میں تشریف لائیں ۔اور حضرت زینب (رض) اپنے شوہر العاص بن ربیع کے پاس مکہ میں ہی رہ گئیں جو اسوقت تک ایمان نہیں لائے تھے۔ مو ر خین کے نزدیک حضور (رض)تقریباً سات ماہ تک حضرت ابو ایوب انصاری (رض) کے مہمان رہے ۔ مگر کچھ مورخین نے مسجد نبوی میں منتقل ہو نے کی تاریخ یکم صفر لکھی ہے۔ اس سے یہ عر صہ دس ماہ کے قریب بنتا ہے۔ واللہ عالم ۔ باقی آئندہ