15.10.2026, 06:42am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

ڈینش خواتین کی حق رائے دہی اور عمومی حقوق حاصل کرنے کی سعئی۔ صدف مرزا 
02.04.2015, 07:30am , جعمرات (GMT+1)

صدف مرزا بیورو چیف سیکنڈے نیویا عالمی اخبار
آج کے ترقی یافتہ  ترین ڈینش معاشرے میں جہاں صنفی امتیاز و تخصیص  کے  بغیر یکساں حقوق  اور وقار حاصل کرنے کی جنگ آج بهی جاری ہے 
سو برس پہلے تک خواتین کو حو رائے دہی کے لیے باقی دنیا کی خواتین  کی  طرح جہد مسلسل  کرنا پڑی. 
اگر صرف عورت کو قلم اٹهانے کی اجازت کے حصول کے حوالے سے دیکها  جائے تو وہ اپنی جگہ  اہک طویل اور قابل داد جنگ ہے. مردانہ  تسلط کے معاشرے میں مردانہ  نام کی زرہ بکتر پہن کر مردانہ  شناخت کے دار الاماں
میں رہائش  پذیر  نسائی قلمکاروں  نے اپنی شناخت پانے کے لیے بهی قربانیاں دی ہیں. 

تاریخ  کا یہ چہرہ دیکهنے کے لیے  کئی صدیاں قبل کا سفر ضروری ہے.

 ادب کے اس سفرکا آغاز 

 شہنشاہ کرسچن چہارم کی ذہین و فطین بیٹی 
Leonora Christina    لیونورا کرسٹینا 1621-     ۔۔1698
سے ہوتا ہے جسے  بادشاہ کی وفات کے بعد شاہی تاج و تحت کے حصول کے لیے  اس کی بهابی اور بهائی نے غداری کے الزامات  لگا کر بائیس برس تک  بلو ٹاور   یعنی
 نیلا گنبد  میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا.   

اس نے قید و بند کی اس بے بس زندگی میں بھی ایک ایسی شہرہ آفاق کتاب تحریر کی جس نے سولہویں صدی کی ادبی و تہذیبی تاریخ محفوظ کر دی۔

لیونورا ڈینش ادب کی تاریخ میں اور شہنشاہیت کی ماہ و سال کی داستان کا ایک نادر روزگار کردار ہے جس کی تفصیل کے لیے الگ ابواب درکار ہیں یہاں محض اس کا تذکرہ نسائی صدائوں کے آغاز کے طور پر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ایک طویل عرصے کی منجمد خامو شی رہی جس میں اکا دکا آوازیں صدا بصحرا کی مانند بھٹکتی رہ گئیں۔

ڈینش ادب بلکہ سکینڈے نیویا کے ادب میں خواتین  قلمکاروں نے اپنے وجود اور خیالات کو منوانے کی ایک طویل جنگ لڑی ہے.  تخلیقی آزادی تا اقتصادی و سماجی مساوات تک ایک ایسی جنگ  جس میں دائرہ در دائرہ نئے مقاصد کا تعین ہوتا رہا.  

جدو جہد کی یہ باہم پیوست زنجیر زماں در زماں اور داستاں در داستاں کهنکتی رہی.  ان خواتین نے ایک ایسے معاشرے  اور اس کے عیوب و اسقام کو دیکهنے , محسوس کرنے.,  سوچنے اور پهر بولنے اور لکهنے کی جرآت کی.  لیکن اس وقت کا سماج جو عورت کو محض آرائشی سامان کی طرح  زیب و زینت,  فخر و امتیاز, احساسِ ملکیت اور اظہارِ تعیش و تسلط کے لیے استعمال کرتا تها
اسے قلم اٹهانے اور اپنی سوچ اور ذات کے اظہار کی اجازت نہیں دیتا تها. 
اس سماج میں  جہاں عورت کا اولین و بنیادی فریضہ  اپنے حسن و جوانی کے سرمائے کا تحفظ اور اس کے دورانیے کی طوالت کی کوششیں ہی تها.  مسندِ شاہی کی آرائش اور مسلسل اولاد پیدا کر کے اپنی ضرورت و اہمیت کو منوانا تها.  غیر منصفانہ اور غیر مساوی طرزِ عمل کے  خلاف صدا بلند کرنے کے لیے جو خواتین بارش کا پہلا قطرہ بنیں  انہوں نے اس جسارت و جرآت کی بهاری قیمت بهی ادا کی.  قلم اٹھانے اور اپنے منتشر افکار کو با آواز بلند دہرانے کی پاداش میں اس زمانے کے معاشرتی ٹھیکے داروں کے ساتھ محاذ آرائی کی سزا خود اپنی ذات کا زندانی ہونے کے مترادف تھی۔

کہیں کوئی قلمکار ذہنی اور جذباتی طور پر پس قدمی اختیار کر کے خود کشی کو اپنا واحد ذریعہ نجات سمجھتی ہے تو کہیں  کسی کو اپنی رائے کا اظہار کرنے پر معاشرہ ذہنی مریض قرار دیتا ہے اور وہ اپنی حریت فکر سمیت ذہنی امراض کے شفا خانے میں محبوس کر دی جاتی ہے

اپنا حق مانگنے والی، لکھنے پر اصرار کرنے والی، اور فہم و ادراک کے اظہارئیے پر بضد عورت کو اپنی ازدواجی زندگی دے محروم  ہونا پڑا. 
یہاں یہ بات باور کروانا ضروری ہے کہ اس زمانے میں یہ سانحہ کوئی معمولی بات نہیں تهی. خاندان اور قبیلے و آبرو  عورت ہی کے پلو سے بندھی تهی اور اسے بہر صورت سماجی پسندیدگی اور قبولیت کے لیے مجازی خدا کی نظر میں رہنا تھا۔

ڈینش ادب میں جدید پیش رفت  یعنی ماڈرن بریک تهرو کا دور ایک انقلابی دور قرار دیا جاتا ہے ۔  یہی وہ زمانہ تھا جب نسائی صداؤں کا باقاعدہ آغاز اور حوصلہ افزائی  کی گئی۔  اس ضمن میں جارج برینڈس کا نام اور اس کا علمی ، ادبی و تخلیقی جنون اور پیش رفت نے ڈینش ادب میں ایک نئے اور روشن باب کا اضافہ کیا۔
 

ماڈرن بریک تھرُو(جدید دور میں تیزرفتار ترقی)

\"Det moderne gennembrud\"
"The Modern Breakthrough\"

1870-1890
’ماڈرن بریک تھرُو‘‘ انیسویں صدی کے اواخر میں سکینڈے نیویا میں اٹھنے والی اس ہمہ گیر تحریک کا نام ہے جو نظریۂ فطرت اور مناقشاتی ادب کو لے کر اٹھی اور اس نے ادب اور مباحثہ کے رومانی طرزِ خیال یعنی رومانوی  دور  کی جگہ لے لی۔ 
جلد ہی یہ تحریک پورے یورپ میں پھیل گئی تھی۔ یہ اس ادبی دور کا نام ہے جب دانش وروں، ادیبوں اور شاعروں نے فرسودہ اور گھسی پٹی روایات کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا تھا۔ سکینڈے نیویا میں بالخصوص اور باقی یورپ میں بالعموم جدید ترقی کی اس طوفانی لہر نے مروجہ اور گزشتہ ادبی روایات کو طاقِ نسیاں کی زینت بنا دیا۔ 
زندگی کی تیزی سے بدلتی ہوئی اقدار، معاشرتی نظام میں تغیر و تبدل اور پھر اس ماحول کی وجہ سے افکارو خیالات میں ایک انقلاب ، پرانی رسومات سے انحراف اور ان کی جگہ نئے ضابطوں اور تبدیلیوں کے لئے ذہن کے دروازے کھول دینے کا عمل ہی
جدت کہلاتا ہے۔

ادبی صورتِحال

ڈنمارک میں ادبی دنیا ابھی تک ان ہی خطوط پر گامزن تھی، رومینٹسزم کے خصائل، ملکی سا لمیت کے گیت، خانگی زندگی کا تحفظ اور زبان و بیان کی یکسانیت۔ ڈنمارک جیسے باقی دنیا سے کٹ کر رہ گیا تھا ڈینش رومانیت کا دور  بعد میں قومی رومانی  دور  میں بدل گیا۔ اورایڈم جیسا معروف شاعر بھی صرف چرچ اور بادشاہ کے گیتوں تک محدود ہو گیا۔ 

ایک لگے بندھے راستے  پرادب کا طواف جاری تها.  اس میں ابتدا والا خالص پن مفقود تھا۔ قومی گیت، شاہی ترانے اور عوامی تھیٹر کے قدیم آرائشی اندازباقی رہ گئے۔اس فضا 
کا جمود ایک نئی اور توانا آواز نے توڑا۔

Georg Morris Cohen Brandes

گؤ پغانتس

 (1842-1927)
جارج برینڈس
ڈینش ادب میں اپنی تصنیفات اور خطبات کے ذریعے ایک تیز رفتار انقلاب لانے والا بلند آہنگ لہجہ مصنف، شاعر اور نقاد جارج برینڈس کا ہے ۔ ڈینش شعر و   ادب کی تاریخ  میں  ایک تیز رفتار انقلاب کی بنیاد رکهنے والا یہ قلمکار کوپن ہیگن کے ایک متوسط طبقے کے یہودی گھرانے میں پیدا ہوا
  
 سن 1859 میں اس نے پہلے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا لیکن جلد ہی اس کو اپنی افتادِ طبع کا اندازہ ہو گیا اور اس نے فلسفے اور علم الجمال کے شعبے کا انتخاب کیا۔

 سن 1862میں اس نے یونیورسٹی سے طلائی تمغہ حاصل کیا
جارج  برینڈس ایک نیا پیغام لے کر اٹھا کہ ڈینش شعر و ادب تک باقی دنیا کی  علمی و ادبی ترقی کی خبر  اور  زمانے کے انقلابات کی ہوا تک نہیں پہنچی۔

یورپ کے سفر کے دوران 
(1865–71)
 اسے پیرس میں متعدد ادبی و علمی شخصیات  سے ملاقات  کا اتفاق ہوا اور وہ ان سے بے حد متاثر بهی ہوا.  وہاں کی ہوائوں سے وہ جدید ادبی موضوعات  کو ذہن میں جذب کر کے 
اس عزم کے ساتھ  واپس آیا کی ڈنمارک کی علمی ادبی اور سماجی زندگی کو جدید تغیرات زمانہ  کے شانہ بشانہ چلنا ہو گا. 

جارج کے خطبات 

اس کے خطبات کو ڈینش ادبی تاریخ میں بے حد اہم مقام حاصل ہے خصوصی طور پر، 3 نومبر 1871 ء کو دیئے گئے اس کے ابتدائی لیکچر کو ڈینش جدید ادب کے افتتاحیے کی حیثیت حاصل ہے۔ 
اس نے موجودہ موضوعات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ، ’’ڈینش ادیب ہماری زندگی کو موضوعِ سخن نہیں بناتے بلکہ وہ صرف ہمارے خواب بیان 
کرتے ہیں‘‘

جارج برینڈس  کو ہی جدید پیش رفت  کی  تحریک کا بانی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے لیکچرز نے ہی اس رجحان اور نظرئیے کی بنیاد رکھی۔

اس کی تصنیف ، 

 تحریک کا بانی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے لیکچرز نے ہی اس رجحان اور نظرئیے کی بنیاد رکھی۔اس کی تصنیف 
Hovedstrømniger i det nittende aarhundredes Literatur

(1872–90; Main Currents in 19th Century Literature)

انیسویں صدی کے ادب کی مرکزی لہریں ‘‘ کو اس تحریک کا سنگِ بنیاد گنا جاتاہے""

نسائی صداؤں کی حوصلہ افزائی 

جارج نے برطانوی فلسفی جان سٹوارٹ ملر کی کتاب
The Subjection of Women 
کا ترجمہ کیا اور ا سکے دیباچے میں اس نےخواتین کو آزادی اور مساوات کے لئے جہدِ پیہم کا درس دیا اور ان کی ترقی کے لئے مکمل تعاون کا یقین بھی دلایا۔ ڈینش ادب میں نسائی دور کا آغاز ہوا اور متعددخواتین نے اس میدان میں قدم رکھ دیا اور مردانہ تسلط کے معاشرے اور اس کی اقدار کے خلاف آواز بلند کی۔ یہ دور  نسائی صدائوں  پر دور ستم کے حوالے  سے  بهی  یاد  رکها  جا سکتا ہے کیونکہ   متعدد خواتین کو قلم کشائی کی قیمت ادا کرنا پڑی. نہائت اختصار سے چند ایک کا تذکرہ کیا جا رہا ہے اگرچہ ان خواتین  کے حالات  زندگی اور تحریروں پرکتابیں قلمبند کی جا سکتی ہیں 

Elisabeth Grundtvig
ایلزا بیتھ کغنتوی (1856-1945)

معروف شاعر و مصنف گرونڈوگ  کی پوتی تھی اگرچہ اس نے معلمہ کی تعلیم حاصل کی تھی لیکن بطور استاد اس نے کبھی کام نہ کیا اس کی بجائے اس نے 1890 میں پہلی خاتون سٹینو گرافر کی ملازمت اختیار کی اگرچہ اربابِ اختیار ایک عورت کو یہ ملازمت دینے کے سختی کے خلاف تھے۔ اس زمانے میں مرد و زن کے حقوق اور دائرہ کار میں واضح تخصیص تھی اور ملازمت پیشہ خواتین کو پسندیدہ نظروں سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔

وہ کئی برس تک ڈینش  ویمن کمیٹی کی سرگرم رکن تھی
Dansk Kvindesamfund   1871
(Danish Women's Society)
. 
اور 1885-1886 تک اس نے"Kvinden og Samfundet"” عورت اور معاشرہ“ کی ادارت بھی کی ۔

1887
الزبتھ کا خطاب
"Nutidens sædelige Lighedskrav"
عصرِ حاضر کے تصورِ پارسائی میں مساوات کا مطالبہ

یہی وہ زمانہ تھا جب سکینڈے نیویا میں زن و مرد کی مساوات کا غلغلہ اٹھا جس نے انتہا کر باقاعدہ ایک جھگڑے کی صورت اختیار کر لی۔ 
جدید ذہنیت کے حامل مرد جن میں جارج برینڈس پیش پیش تھا ، عورت کو بھی اپنی طرح جنسی پیش رفت اور آزاد جنسی تعلقات کے لیے رضا مند دیکھنا چاہتے تھے جبکہ دوسرا فریق اک ہموار اور متوازن معاشرے کا قیام چاہتا تھا جس میں سب اپنے دائروں میں سفر کریں اور ازدواجی زندگی کی بہتری اوراستحکام کے لئے ضروری تھا کی زن و شو کے تعلقات کے قوانین ہوں اور ان کا احترام کیا جائے۔

ان متنازع موضوعات پر بحث کا یک سلسلہ چل نکلا جو کھنچا ؤ اورکشمکش پر منتج ہوا۔دلچسپ بات یہ تھی کہ نسائی تحریک نے جارج  برینڈس  کے ساتھ سختی سے اختلاف کیا اور محض آزادی کے نام پر مرد کا کھلونا بننے کی مخالفت کی اس پہلو پر ان کی اس سے ٹھن گئی۔اپنے مشہور لیکچر میں الزبتھ نے کہا کہ عورت کو بے راہروی کے راستے پر اپنی برابری پر چلانے کی بجائے مرد بھی شادی ہونے تک خود کو عورت ہی کی مانند باکردار رکھیں۔ تا کہ معاشرے میں ازدواجی فسادات کم سے کم ہوں۔   جارج  برینڈس  کی اپنی ازدواجی زندگی بھی بحران کا شکار تھی۔

اس موضوع پر 1887میں ایک جلسے میں اسے اپنی تقریر ، ” عصرِ حاضر کے تصورِ پارسائی میں مساوات کا مطالبہ “ پر بہت شہرت حاصل ہوئی ۔ ایلزا بتھ نے بے باکی اور جرات مندی سے جارج کے آزاد جنسی تعلقات اور شادی سے قبل تعلقات کے نکتہ نظر کی سختی سے مخالفت کی اور اس بات کا مطالبہ کیا کہ صرف عورت کو ہی نہیں بلکہ مرد کو بھی معاشرتی پابندیوں کا خیال رکھنا چاہئیے تا کہ معاشرے میں ازدواجی فسادات کم سے کم ہوں۔
اس جنگ میں نارویجن ادیبہ ایمیلیا سکام کے ناولوں نے بھی ایک اہم کرداگرچہ اسے اپنے احساس، الفاظ اور اظہار کی قیمت اپنی سلسل ذہنی بیماری اور دو ازدواجی زندگیوں کے بحران کی صورت چکا نا پڑی۔


Amalie Skram
ایمیلیا سکھام
1846تا 1905
وہ مردوں کے دہرے معیار، شادی شدہ زندگی کا بحران، محبت کی عارضی زندگی اور اس کےمتعلق لکھتی تھی۔اس کے ناول بہت مشہور ہوئے اور اس کو اپنے دور کی معروف مصنفہ ہو نے
کااعزاز حاصل تھا۔

1864کےبحران میں والد نے دیوالیہ ہو نے کے بعدامریکہ کی راہ لی ۔

والدہ نے سمجھابجھا کر دس برس بڑے کپتان سے شادی پر آمادہ کر لیا

شادی کے بعد اس نے تقریبا دنیا بھر کا بہت سفر کیا جس سے اس کا ذہنی افق بھی وسیع ہوا۔ اس شادی سے اس کے دو بیٹے پیدا ہوئے۔

ناموافق اور ناخوش ازدواجی زندگی کو دنیا کی خوشنودی کی خاطر جینے سے اسے اپنی ذات کے ساتھ برسر پیکار رہنا پڑا جس کا نتیجہ مسلسل بیماری کی صورت میں نکلا۔

وہ اعصابی مریضہ بن چکی تھی اور نروس بریک ڈائون کے بعد طویل عرصہ ذہنی امراض کے شفا خانے یں زیرعلاج رہنے کے بعد اس نے اس ازدواجی زنجیر کے حلقوں سے آزادی حاصل کر لی اور واپس ناروے لوٹ گئی۔

اس نے جس موضوع پر بھی قلم کشائی کی اس کی تحریر گواہی دیتی تھی کہ اسے اس پر مکمل دسترس ہے۔ناشر ملنا، کتابیں شائع کروانا ایک معرکے سے کم نہیں تھا۔

امیلیا اس اولین صف کی مجاہدہ تھی جہاں وار سہنے اور دفاع کے بعد ایک ایک قدم آگے بڑھنے کی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے۔

اس نے اپنی ازدواجی زندگی اور اپنے گردو پیش موجود، پِسی، دبی ، گھٹی اور مسلسل سمجھوتے کرتی، باورچی خانے کے چولہے سے ، کپڑے دھونے کے تسلے تک، وہاں بچے کے پنگوڑے اور اپنے جسم و جان کے مالک کے بستر تک، وہاں سے اتوار کو کلیسا کی پہلی صف میں حاضری لگواتی ، ۔۔۔۔اپنے رفیقِ حیات کی غیر ازدواجی عیش و عشرت پر لا علمی کے پردےڈالتی اور اپنے خوابوں اور خواہشات کی تکمیل کو بارِ عصیاں سمجھتی عورت کے فسانے ببانگ دہل، شعور و ادراک کی پوری وسعت اور تخیل و ادراک کی بھر پور یکجہتی کے ساتھ لکھے ہیں ۔ ایمیلیا کے ناولوں پر لکھنے کے لیے کتاب کی نہیں کتابوں کی ضرورت ہے۔


اس کا ناول ’’ فریب زدہ ‘‘
""
         
Forrådt 1892

اپنی ذاتی زندگی کی مکمل تفصیل پیش کرتا ہے۔ زندگی کو بیان کرتا یہ قصہ تکنیکی اعتبار سے سادہ ہے ۔ اس میں صورتحال مکالمے کے ذریعے آگے بڑھتی ہے۔ ماضی کے حالات بتانے کے لیے جھلکیاں پیش کرنے کی بجائے ناول مرحلہ وار ترتیب سے آگےبڑھتا ہے لیکن مکالمے ایسے جاندار ہیں جو قاری کے شعور کو پوری طرح سے اپنی گرفت میں رکھتے ہیں اور اسے کسی طور اپنے سحرسے آزاد نہیں کرتے بلکہ اسے ذہنی طورپر اپنے ساتھ ڈیڑھ صدی پہلے کی اسی دنیامیں لے جاتے ہیں جہاں عورت کی ذہنی تربیت ہو رہی ہے ۔ ایشیا کے رہنے والوں کو اس کے ساتھ گہری شناخت کا ایک منہ زور احساس ہو گا۔

ایک جملہ ملاحظہ فرمائیے



لڑکی! شادی بھی ایک جنازے کی طرح ہے، ایک دنیا کو چھوڑ کر دوسریدنیا میں جانا ‘‘

چشمِ زدن میں ہر ایشیائی عورت کا ذہن اسے ایک اور جملے پرمنطبق کرے گا

٫٫ اب یہاں سےڈولی جا رہی ہے ، بس وہاں سے جنازہ ہی اٹھے‘‘


تیس سالہ مرد کی سترہ سال بیوی اس ناول میں مسلسل سوچتی ہے۔ ماں پہلے باکرہ رکھنے کی ہر ممکنہ تربیت میں اسے جن حرکات و حالات سے متنبہ کرتی اور ڈراتی رہتی تھی اب وہ سب اسے کرنا ہیں کیونکہ کلیسا میں مقدس پادری کے سامنے چند بولوں نے ایک شخص کو اس کے جسم و جان ، زندگی، سوچ، عمل اور احساس تک کا مالک بنا دیا ہے۔ اسے بس ہر بات پر ہاں کرنی ہے اور چونکہ وہ اس کا شوہر ہے اسے جب وہ چاہے۔۔۔ جہان اور جیسے اس کی رضا ہو۔۔۔ اس کے بستر بھی پر بچھنا ہے۔اس خوفزدہ، نا تجربہ کار، ماں کے احکامات و تعلیمات کے ماطبق زندگی بسر کرتی سترہ برس کی لڑکی سے تقاضا و توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس تیس سالہ کھیلے کھائے مرد کو نہ صرف خوش رکھے بلکہ اس وارثین سے بھی نوازے۔

اس کے باروچی خانے سے لے کر خوابگاہ تک ہر جگہ ایک ماہرو مشاق عورت ہونے کا ثبوت دے۔ اس کی رضا کے سامنے کوئی رضا نہ رکھے اور اسے اپنی محبت اور خدمت سے زیر کرے۔

فریب خوردہ کمسن سترہ سالہ بچی جس سے عورت بننے سے پہلے ماں بننے کے آثار و بشارت مانگی جاتی ہے پریشان ہے کہ وہ راتوں رات اپنی زندگی میں شامل ہو نے والے اس حاکم سے کیسے محبت کرے۔ شعور کی آنکھ کھولتے ہی جس جسمانی اختلاط کو گندگی،آلائش، قابلِ نفرت کہہ کر اس سے دوررہنے کا درس دیا جاتا تھا اب اسے خودسپردگی کے نام پر ایک مرد ہی کی رضا کےمطابق والہانہ کیا جائے۔ سترہ سالہ لڑکی کی سوچیں ان تمام روایات و احکامات پرسوالیہ نشان لگاتی رہتی ہیں ۔

اس کی والدہ آج کے مشرقی معاشرے کی راضی برضا اور صابرمائوں کی طرح اسے ’’ ایک میمنے کی طرح فرمانبردار‘‘ رہنے اور ’’ شوہر کے غیر مشروط حقوق کی ادائیگی ‘‘ کا گر پلو سے باندھ کر معاشرے کے خوف کی گرہ لگا دیتی ہے ۔

اگراس مکمل ناول کا ترجمہ کیا جائے تومعاشروں میں نسائی صدائوں کے ارتقائ اور حقوق کی جنگ کے یہ مراحل، اسلحہ، جنگی چالیں اور پنترے ایک دوسرے سے اس قدر مشابہہ ہیں ارو جوابا عورت کی استقامت، جرات اور قلم کی طاقت استعمال کرنے کے دفاعی اقدامات بھی بالترتیب ایک ہی جیسے ہیں ۔


اپنے بدنام زمانہ ناول”” لوسی“” میں اس نے ہر رات اپنے بدن کو سودا کرتی اس عورت کو بھی موضوعِ سخن بنایا جو ہر شام اپنے بدن کی دکان سجا کر کھڑی ہوتی اور آوارہ و فاحشہ کہلاتی۔۔ اس کا خریدار اپنی ہوس اور نفسانی آلودگی کی تسکین کے سارے چھینٹے اور وحشت کی ساری سلوٹیں اس بدکار عورت کے بستر کی سلوٹوں میں چھوڑ آتا ہے اور گھر جا کر جرمن نعرے کی مثلث میں چک پھیریاں کھاتی عورت کے مجازی خدا کی حیثیت سے کھانے کی میز پر نمک مرچ اورکیک کے میٹھے کے نقائص نکالتا۔

اسی بدنام عورت نے اپنے ایک گاہک سے شادی کر لی لیکن اس کے ماضی کیغلاظت اور رسوائی کے داغ “” چٹی چادر “” کے داغوں کی مصداق دور سے ہی معاشرے کو دکھائی دیتےرہے۔۔۔۔ وہ بد چلن ہی رہی اور معاشرتی ہزیمت اور تضحیک تعاقب میں چلتی رہی ، وہی منطقی انجام ہوا جو ایسی کہانیوں کے آغاز سے پہلے ہی لکھا جا چکا ہوتا ہے اسے علیحدگی کے خارزار سے گزرنا ہی پڑا۔۔۔۔۔

اپنی پہلی طلاق کے بعد ایمیلیا کو اپنے بچوں کی خاطر بہت محنت کرنا پڑی لیکن وہ نارویجن ادبی حلقے میں اپنی شناخت پا چکی تھی۔ یہاں پر اس کی ملاقات ڈینش مصنف ایرک سکھام کے ساتھ ہوئی اور نئی ملاقاتوں کا در امکاں دوسری شادی کی دنیا میں کھلا۔

1884  میں وہ کوپن ہیگن آ گئی۔   
اس شادی کے بعد بھی تینتالیس سال کی پختہ عمر میں اس کی بیٹی پیدا ہوئی اور اس وقت گھر اوربچے کی ذمہ داری، قلمکاری کا جنون، دوسری شادی کو کامیاب بنانے کے تفکرات بھرے خوف کی یلغار نے اسے ایم مرتبہ پھر اپنےہی ذہن کے ساتھ جنگ کے دوراہے پر لا کھڑا کیا۔

متواتراور مسلسل ذہنی امراض کے ہسپتال میں رہنا ایک حساس مصنفہ کے لیے مزید ذہنی اذیت کا باعث تھا۔ یہاں سے اسے ، مرضی کے خلاف ڈنمارک کے سب سے بڑے شفا خانے میں سیکنٹ ہینس میں منتقل کر دیا گیا اور یہاں بیماری، بے بسی اور کسمپرسی کی حالت میں اس عظیم قلمکار نے اپنی زندگیکے آخری سانس گنے۔


اگرچہ اسے اوراس کی تحریروں کو گردشِ زمانہ نے بھلادیا کیونکہ نئی صدی کی ابتدا بے حد تیزرفتار تھی اب خواتین کے سامنے حقوق کی جنگ اور تعلیم و روزگار کے مواقع میں مساوی درجہ ا ور مساوی مواقع کے حصول کا ایک طویل خارزار راستہ تھا۔ 1915 میں خواتین کو ووٹکا حق دیا گیا۔

لیکن ساٹھ کی دہائی میں جب نسائی تحریک نے زور پکڑا تو ایمیلیا کی تحریں از سر نو زندہ ہو کر ڈنمارکاور ناروے میں اپنا آپ منوانے لگیں ۔

ناروے میں اس کے نام کے ٹکٹ جاری کئے اور اس کے پیدائشی شہر میں اس کا مجسمہ نصب کیا گیا۔ اب اس کی تما تر تخلیقات نیشنل لائبریر آف ناروے پر ڈیجٹل صورت میں محفوظ ہیں اور ہر خاص وعام کی دسترس میں ہیں ان کے تراجم کیے جا رہے ہیں ۔

:دیگر مضامین
(28.03.2015) ڈنمارک کے عاشق اقبال غلام صابر نوے برس کی عمر میں بھی فعال اور متحرک
(26.03.2015) پاکستانی سفارتخانہ کوپن ہیگن ۔ یومِ پاکستان کی تقریب کی تصویری جھلکیاں
(24.03.2015) پاکستانی سفارتخانہ کوپن ہیگن ڈنمارک میں یومِ پاکستان کی تقریب
(17.03.2015) مسلم امہ فلسطینیوں کو فوجی امداد فراہم کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔حماس کے خالد مشعل
(16.03.2015) پاکستان ویمن فورم کویت کے تحت عالمی یوم نسواں کی تقریب
(14.03.2015) لٹریچر اینڈ کلچر انٹرنیشنل  ڈنمارک کے زیرِ اہتمام یوم النساء کا انعقاد 
(06.03.2015) پاکستان میں سینٹ کے انتخابات  اور اس سے قبل سیاسی ہلچل
(04.03.2015) خیبر پختونخوا کے 145 مدارس 'انتہائی حساس' قرار دے دیئے گئے
(28.02.2015) پاکستان میں ڈینش سفیر سے عالمی اخبار کی بیورو چیف سکینڈے نیویا صدف مرزا کی گفتگو
(26.02.2015) معروف شاعرہ اور محقق صدف مرزا سکینڈے نیویا کے لیئے عالمی اخبارکی بیورو چیف مقرر
(24.02.2015) عدالت میں شرافت کا ایک باب ختم، رانا بھگوان داس انتقال کر گئے
(23.02.2015) کویت میں مقیم شاعر،کالم نگار اور افسانہ نگار شاہین حیدر رضوی سے طارق اقبال کی گفتگو
(16.02.2015) فیض احمد فیض کی سالگرہ 13فروری تھی۔ وہ 1911 میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے
(11.02.2015) قوم کی ترقی میں "‌عورت کا مقام "‌ ۔۔۔ از"‌ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(11.02.2015) جشن آمد رسول کے سلسلے میں سٹاک ہولم میں محفل نعت
(08.02.2015) وزارتِ اطلاعات و ثقافت پنجاب  کا قومی ہم آہنگی مشاعرہ
(06.02.2015) خون کشمیر رنگ لائے گا،وہ زمانہ ضرور آئے گا۔ 5فروری یوم یک جہتی کشمیر
(02.02.2015) خوشیاں حاصل کرنے کے لیئے کیا کریں ۔۔ 21 اصول یاد رکھیئے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(27.01.2015) دنیا بھر میں کشمیریوں نے بھارت کا یوم جمہوریہ یوم سیاہ کے طور پرمنایا
(26.01.2015) سعودی عرب کے سلمان ابن عبدالعزیز ال سعود مملکت کے نئے بادشاہ



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں