قومی اسمبلی میں گزشتہ بدھ کو قومی احتساب آرڈیننس 1999ءکی منسوخی اور احتساب کا نیا قانون وضع کرنے کا بل 2009ءپیش کر دیا گیا ہے ، بل وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے ایوان میں پیش کیا۔ نئے قانون کی وضاحت کر تے ہوئے انھوں نے کہا کہ پوری قوم کے علم ہے کہ بد قسمتی سے ملک میں احتساب کے نعرے اور سسٹم کو سیاستدانوں کے خلاف انتقام اور لوٹے بنانے کی فیکٹریاں بنانے کے لیے استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے احتساب انتقام کا ادارہ بن گیا۔یہ ایک سیف الرحمان اور ایک جرنیلی ادارہ تھا۔نئے قانون سے مفاہمت کی راہ ہموار ہو گی۔ غیر سیاسی غیرانتقامی احتساب کمیشن قام کیا جا رہا ہے احتساب سے انتقام کو نکالا جا رہا ہے 12رکنی کمیٹی قائم ہو گی ۔ جس میں نصف کا تعلق حکومت نصف کا تعلق اپوزیشن سے ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ ٹرائل کسی قلعہ میں نہیں ہو گا۔ کوئی رکن پارلیمنٹ یا جرنیل احتساب کے نئے ادارے کا سربراہ نہیں ہو گا۔ بل کے حوالے سے وضاحت کے بعد انھوں نے احتساب کا نیا قانون وضع کرنے کا بل 2009ءقومی اسمبلی میں پیش کیا۔جبکہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر نیئر حسین بخاری کو سینیٹ میں نیا قائد ایوان مقرر کر دیا ہے۔ سینیٹر نیئر حسین بخاری سینیٹ میں نئے قائد ایوان ہوں گے۔ وزیر اعظم نے منظوری دے دی ہے۔ سینیٹر نیئر حسین بخاری 17اپریل سے سینیٹ کے لیے پارلیمانی سال کے پہلے سیشن سے اپنے فرائض کی انجام دہی شروع کر دیں گے۔ واضح رہے کہ پہلے سینیٹر میاں رضا ربانی سینیٹ میں قائد ایوان تھے۔
چیئر مین سینیٹ کے انتخابات میں پارٹی فیصلہ سے اختلاف کر تے ہوئے وہ وزارت اور قائد ایوان دونوں عہدوں سے مستعفی ہوگئے تھے اور ان کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا تھا۔ ان کی جگہ سینیٹر نیئر حسین بخاری سینیٹ میں نئے قائد ایوان ہوں گے۔جبکہ اندھیر نگری کے راجا ووفاقی وزیر پانی و بجلی پرویز اشرف نے کہا ہے کہ حکومت نے بجلی کے بحران کو مستقل بنیادوں پر ختم کرنے کے لئے متبادل توانائی بورڈ کو مستحکم کیا ہے ملک میں پہلے ونڈ انرجی کے 50 میگاواٹ منصوبے کا افتتاح وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی 19 اپریل کو کریں گے اس حکومتی اقدام سے ملک انرجی سیکٹر کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے ۔ گزشتہ سال کی نسبت 50 فیصد توانائی کے بحران پر قابو پا لیا گیا ہے
۔پاکستان کے ساحل پر ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے یونٹ جلد لگائے جائیں گے ۔ 22 ٹرمینل کلرکہار میں لگائے گئے ہیں جن کا بہت جلد افتتاح کریں گے اگر فنانشنل مس مینجمنٹ میں ملوث ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے ایسے عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا گیا اور پیپکو بھی چوری کی ذمہ دار ہے ۔ اسے چاہئے کہ بجلی کی چوری کو روکنے کے لئے خصوصی اقدامات کرے ۔ واپڈا ملازمین کو بجلی مفت میں نہیں دی جاتی اور وفاقی اداروں سے واپڈا کے واجبات حاصل کرنے کے لئے کابینہ میں میکانزم بنایا گیا ہے ۔ کراچی میں بجلی کے بحران کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ کے ای ایس کی نجکاری کے بعد کمپنی نے حکومت سے کئے گئے معاہدے پورے نہیں کئے ۔
نو منتخب حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے تمام معاہدے پورے کریں اگر انہوں نے ان معاہدوں پر من و عن عمل نہ کیا تو حکومت ان سے اپنے طریقہ سے نمٹے گی ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بجلی کی کمی کا مستقل حل تلاش کرنے کے لئے ونڈ انرجی ‘ سولر انرجی ‘ بائیو گیس کے متعدد منصوبے شروع کئے گئے ہیں ۔ ان منصوبوں پر ابتداءمیں نسبتاً زیادہ خرچ آتا ہے لیکن بعد میں بجلی پیدا کرنے پر بہت کم خرچ آتا ہے ۔ حکومت نے سندھ اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں سولر انرجی کے منصوبے شروع کر دیئے ہیں ۔ جن سے بہت سے گھروں کو بجلی فراہم کی جا رہی ہے اور بلوچستان میں مزید 300 گاوں کو سولر انرجی کے منصوبے فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ 325 ملین امریکی ڈالرز سے بائیو گیس سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ بھی شروع کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ میں میڈیا کے توسط سے عوام کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ بجلی کی بچت کرنے میں حکومت کی مدد کریں تاکہ ملک کو اس بحران سے جلد باہر نکالنے میں مدد ملے ۔
وفاقی وزیر نے توانائی کے مختلف منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بائیو گیس کا 35 میگاواٹ کا منصوبہ کراچی بھینس کالونی میں شروع کیا جا رہا ہے اس کے علاوہ انڈس شوگر مل راجن پور ‘ گھوٹکی ‘ شوگر مل اور جمالدین والی شوگر مل رحیم خان سمیت دیگر بلوں کو و یسٹ انرجی سے بجلی حاصل کرنے کے منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے ۔ان کمپنیوں کو نیپرا میں ٹیرف طے کرنے کے لیے بھیجا گیاہے ۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ حکومت نے قومی ضرورت کا 10 فیصد بائیو ڈیزل سے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی تکمیل کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے سال کے آخر تک بجلی کے بحران کو ختم کرنے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ ہم مڈٹرم انرجی پالیسی سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ملک میں موجود وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ہر ممکن طریقہ سے بجلی تیار کی جا سکے ۔ حکومت کی خواہش ہے کہ ایک میگاواٹ سے لے کر 1000 میگاواٹ تک کے جتنے بھی منصوبے ممکن ہوں شروع کئے جائیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ورلڈ بینک کی مدد سے ملک بھر میں بوائلرز اور زرعی ٹیوب ویلوں کو سولر انرجی سے چلانے کے لئے منصوبوں پر عمل جلد شروع کر ے گی۔جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جمہوریت کے بعد پاکستان کو سیکیورٹی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو 34 ارب 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے ۔ موجودہ جمہوری حکومت نے سیاسی عمل اور قومی اتفاق رائے عدلیہ کا بحران حل کیا ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف امریکہ کی نہیں بلکہ پاکستان کی اپنی جنگ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں نیشنل پریس کلب میں میٹ دی پریس پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 34 ارب 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے جس سے پاکستان کی معاشی صورت حال خراب ہوئی ہے ۔ اگر فرینڈ آف پاکستان کے اجلاس میں پاکستان کو 4 ارب ڈالر کی امداد مل جائے تو بجٹ خسارے میں موجودہ گیپ کو پر کیا جا سکتا ہے ۔ پاکستان میں پارلیمنٹ بھرپور طریقے سے کام کر رہی ہے اور تمام جمہوری ادارے مضبوط اور فعال ہیں ملک میں جمہوریت کو استحکام ملا ہے ۔
موجودہ حکومت نے سیاسی عمل اور قومی اتفاق رائے سے عدلیہ کا مسئلہ حل کیا ہے ملک میں تمام عدلیہ آزادانہ طریقے سے کام کر رہی ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکہ یا کسی اور کی جنگ نہیں بلکہ پاکستان کی اپنی جنگ ہے اور ہم اس میں بھرپور طریقے سے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں جس کو عالمی برادری نے بھی سراہا ہے ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ فرینڈ آف ڈیموکریٹک پاکستان اور ڈونرز کانفرنس کا مقصد صرف پاکستان کی سیاسی امداد نہیں بلکہ معاشی امداد بھی ہے اگر پاکستان کو 4 ارب ڈالر کی امداد ملے تو ہم بجٹ میں پائے جانے والے خلاءکو پر کر سکتے ہیں ۔ 18 فروری 2008 ءکو عوام نے حکومت پر بھاری اعتماد کرتے ہوئے انہیں مینڈیٹ دیا ہے ملک میں جمہوریت بحال ہو چکی ہے اور پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کر رہی ہے ۔ سیاسی عمل سے جج بحال ہوئے ۔ پاکستان میں میڈیا مکمل آزاد ہے ان پر کوئی پابندیاں نہیں ہیں ۔پاکستان کی حکومت اور عوام ایران ‘ بھارت ‘ چین ‘ افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتے ہیں تاکہ خطے میں امن و استحکام قائم ہو سکے ۔ انہوں نے جاپان کی فنی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے استحکام کے بعد پاکستان کو معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے ۔ پاکستان میں آئین کو اصل شکل میں واپس لانے کے لئے کل جماعتی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے ۔ تاکہ ملک میں آئین کی عملداری کو ممکن بنایا جا سکے ۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو فرینڈ آف پاکستان سے توانائی ‘ سیکیورٹی ‘ معیشت ‘ زراعت اور دیگر شعبوں میں امداد درکار ہے اس لئے صدر پاکستان اور دوسری پاکستانی قیادت جاپان آئی ہے تاکہ ٹوکیو موجود پاکستان کے عالمی دوستوں کو پاکستان کے مسائل سے آگاہ کیا جائے ۔ پاکستان کو اس وقت معاشی اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوزیشن برقرار رکھی جا سکے ۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ فرینڈز آف پاکستان پاکستان کو اقتصادی اور سیکیورٹی کے مسائل سے نمٹنے کے لئے مدد فراہم کریں گے ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کے لئے جاپان کی حمایت باعث فخر ہے اور پاکستان جاپان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بلندی کی سطح پر لے جانے کا خواہش مند ہے ۔ 17 اپریل کو صدر آصف علی زردرای فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان فورم کے اجلاس میں آئندہ 10 سالوں کے لئے حکومت کا ترقیاتی پروگرام پیش کریں گے اسی روز ڈونرز کانفرنس میں پاکستان کو دوست ممالک کی جانب سے آئندہ دو برسوں میں قومی بجٹ کی تیاری کے لئے مالی مدد ملنے کا امکان ہے۔ اس وقت ملک بھر میں جو عوامی رائے اور تبصرے جاری ہیں ان کے خیال کے مطابق یہی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں ایک بڑی تحریک کا اٹھنا نوشتہ دیوار ہے ۔
یہ امریکہ مخالف اور اسے ہزیمت سے دوچار کرنے والی تحریک ہو گی ۔ امریکہ نے مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگ شروع کر رکھی ہے اور دہشت گردی کے نام پر پوری دنیا میں انہیں ظلم کا نشانہ بنایا جارہاہے ۔ امریکہ کی طرف سے مشروط امداد کو اس کے منہ پر دے مارنا چاہیے بلکہ غیر مشروط امداد بھی قبول نہیں کرنی چاہیے ۔ سوات امن معاہدے سے علاقے میں امن قائم ہو ا ہے ۔ اب فریقین پر لازم ہے کہ اس معاہدے پر خوشدلی سے عمل کیا جائے اور تشدد کی سیاست کو بالائے طاق رکھا جائے ۔ امریکہ نے اپنے تمام حواریوں کے ساتھ اس بات کی پیش بندی کر رکھی ہے کہ جہاں جہاں معدنیات ، تیل اور دیگر وسائل ہیں ، وہاں قبضہ کر لینا چاہیے ۔ اس کا افغانستان میں آنے کا مقصد بھی یہی ہے
یہاں بیٹھ کر وہ ایران اور چین کے حوالے سے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتاہے ۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو اپنے قبضے میں لینا چاہتاہے اور بھارت کا مصنوعی طور پر قد کاٹھ بڑھا کر اسے اس خطے کا تھانیدار بنانا چاہتاہے امریکہ کے تھنک ٹینکس پشتون بیلٹ کو خطرناک علاقہ قرار دے چکے ہیں جہاں سے تحریکیں اٹھتی رہی ہیں اور اس علاقے کے لوگوں نے برطانیہ اور روس کو شکست سے دوچار کیا ۔ امریکہ کو اس کی موت یہاں لے آئی ہے ۔
برطانیہ اور روس کے ساتھ جو کچھ ہواہے امریکہ کے ساتھ بھی وہی کچھ ہونے والا ہے ۔ عوامکب تک ڈرون حملوں کو دیکھتے ر ہیں گے جو مسلسل پاکستانی قوم کا مذاق اڑا رہے ہیں ۔ ان حملوں سے پاکستان کے معصوم عوام کا خون بہہ رہاہے ملک بھر کے عوام کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ امریکہ نے قرض دینے کے لیے جو شرائط عائد کی ہیں ان کو تسلیم نہ کیا جائے اور اس کی امداد کو جو در اصل قرض ہے اس کے منہ پر دے مارا جائے بلکہ بغیر شرط کے بھی امداد قبول نہ کی جائے ۔ اس امداد نے ہماری آزادی اور عزت و وقار کو پوری دنیا میں ختم کر دیاہے ۔ نئی تعلیمی پالیسی امریکہ سے آ رہی ہے جس میں خدا اور رسول کا نام ہی نصاب سے ختم کیا جارہاہے ۔ جبکہ کچھ جماعتوں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ حکومت پر دباو ڈالیں گے کہ وہ اپنی پالیسیاں بدلے اور قوم کے ساتھ کیے گئے تمام وعدے اورعوام کو روٹی کپڑا اور مکان دینے کا وعدہ پورا کرے ۔ عوامی دباو کے نتیجے میں حکومت نے ججوں کو بحال کیاہے ۔ دھرنا لانگ مارچ جمہوری طریقے ہیں ان کے ذریعے حکومت پر دباو بڑھا یا جا ئے گا۔
وار آن ٹیرر جو امریکہ کی جنگ ہے اور مجاہدین کے خلاف ہے، حکومت پر دباو ڈال کر اس کو ختم کر ایا جائے۔ ایوان کے اندر اور باہر تمام سیاسی جماعتوں سمیت ہر پاکستانی کافرض بنتاہے کہ حکومت کو باور کرائے کہ وہ اپنے منشور پر عمل کرے اور ملک کی بہتری کے لیے پالیسیاں بنائے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر تمام فیصلے کیے جائیں۔کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے مرکزی امیر مولانا صوفی محمد نے کہا ہے کہ مالاکنڈ ڈو یڑن میں انتظامی امور حکومت پاکستان کے تحت ہی چلائے جائیں گے تاہم یہاں فیصلے شریعت محمدی کے تحت ہوں گے ، موجودہ ججوں کو ہٹاکر قاضی تعینات کریں گے پھر دیگر اضلاع میں یہ نظام نافذ کیا جائیگا جبکہ قاضی حکومت پاکستان کے تا بع نہیں ہوں گے ،قاضی عدالتوں کے علاوہ ڈویڑن کی سطح پر ایپلنٹ کورٹ قائم کیا جائے گا جس کا فیصلہ حمتی ہو گا اور اس کا فیصلہ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا ، سیاست ریاست اور حکومت کا معاملہ ہے،پورے پاکستان کی طرح مالاکنڈ ڈو یڑن میں بھی انتخابات ہوں گے ،دارالقضاء قائم کیاجائے گا،
سوات میں قربانیاں دینے والوں کو اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں اجردیں گے،اے این پی نے اسلام اور وطن دوستی کا ثبوت دیا۔ بٹ خیلہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ صرف عدالتی امور میں اختیارات حاصل کرنا چاہتے تھے جو انہیں دے دیئے گئے ہیں ۔ انہوںنے حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مالا کنڈ ڈویڑن کے عوام کے اعتماد کی بحالی اور یوم تشکر کے سلسلے میں 19 اپریل کو گراسی گراونڈ مینگورہ میں ایک جلسہ منعقد کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ قاضی عدالتوں کے علاوہ ڈویڑن کی سطح پر ا یپلنٹ کورٹ قائم کیا جائے گا جس کا فیصلہ حمتی ہو گا اور اس کا فیصلہ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ بے شک جمہوریت کے حق میں نہیں ہیں لیکن ان کا بنیادی مطالبہ نفاذ شریعت تھا جسے منظور کر لیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں جو بھی طرز حکومت ہو ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے ۔مولانا صوفی محمد نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے امن قائم کرنے کی ایک مثال قائم کی ہے اور یہ اسلام دوستی اور وطن دوستی کا ثبوت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مالاکنڈ میں کیمپ قائم کرنے کے لئے مشورہ کیاجائے گا
سب سے پہلے مالاکنڈ ڈو یڑن میں موجودہ ججوں کو ہٹاکر قاضی تعینات کریں گے پھر دیگر اضلاع میں یہ نظام نافذ کریں گے جبکہ قاضی حکومت پاکستان کے تا بع نہیں ہوں گے۔ ضلعی قاضیوں کی حیثیت کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مولانا صوفی محمد نے کہا کہ مالاکنڈ ڈو یڑن حکومت پاکستان اور آئین پاکستان کے تحت ہی ہوگا تاہم یہاں فیصلے شریعت محمد ی کے تحت ہوں گے۔انہوں نے طالبان سے اپیل کی کہ اسلحہ کی نمائش سے اجتناب کریں اور حکومت سے تعاون کریں۔ جب سے دنیا بنی ہے کفار سازشوں میں مصروف ہیں مگر ہم مسلمان اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتخابات میں پورے پاکستان کی طرح مالاکنڈ ڈو یڑن میں بھی انتخابات ہوں گے جبکہ مالاکنڈ ڈو یڑن کی سطح پر دارالقضاءقائم کیاجائے گا۔مولانا صوفی محمد نے آئندہ کے پروگرام کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مالاکنڈ ڈو یڑن کے بعد بونیر، شانگلہ، کوہستان او رچترال میں بھی قاضی عدالتیں بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔جبکہ سابق چیف جسٹس جسٹس ( ر ) سعیدالزمان صدیقی نے کہاہے کہ شرعی عدالتوں کے فیصلے ہائی کورٹ میں چیلنج ہو سکتے ہیں انہوںنے کہاکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ قومی اسمبلی کی جانب سے جو قانون منظور کیاگیا ہے ۔
اس میں کیا لکھا ہے تاہم انہوںنے کہاکہ اگر یہ لکھا ہوا ہے کہ قاضی کورٹ کے فیصلوں کو کسی دوسری عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تب بھی رٹ پٹیشن کے اندر آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ میں چیلنج کئے جا سکتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ اس سے پہلے بھی اسلامی قوانین کے تحت سنائے گئے فیصلوں کی اپیلیں فیڈرل شریعت کورٹ میں ہوتی تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت عدلیہ کا سب سے بڑا ادارہ سپریم کورٹ ہی ہے۔جبکہ امریکا نے پاکستان کو سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد کو غیر مشروط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ واشنگٹن میں دفتر خارجہ کے ترجمان رابرٹ وڈ نے بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ پاکستان کو دی جانے والی امداد کے نتائج چاہتا ہے اور اس لیے اس کے اہداف بھی مقرر کئے جائیں گے ۔ ترجمان نے کہا کہ امریکی ٹیکس دہندگان اپنی رقوم کا صحیح استعمال چاہتے ہیں یہ ممکن نہیں کہ امریکا پاکستان کو امداد غیر مشروط طور پر دے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چےئرمین سینیٹر جان کیری کے دورہ پاکستان میں اسلام آباد کو 10 سالہ پروگرام کے تحت سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد کو غیر مشروط طور پر دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔جبکہ نگران صدر فاروق ایچ نائیک نے مغربی میڈیا پر زور دیا ہے کہ اسلام کا غلط عکس پیش کرنا بند کرے اور مذہبی ہم آہنگی بڑھانے کے لئے اسلام اور مسلمانوں کی صحیح سوچ پیش کی جائے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ بدھ کے روز اسلام آباد میں یونائٹیڈ انٹرنیشنل کمیونٹی فورم ( یو آئی سی ایف ) کے 7 رکنی وفد سے ملاقات کے دوران کیا ہے۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مغربی میڈیا کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کا غلط تشخص پیش کرنے سے نہ صرف بداعتمادی اور انتشار پیدا ہوتا ہے بلکہ اس سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو روکنے کے لئے کی جانے والی کوششوں میں رکاوٹ بھی پیدا ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے غربت ‘ محرومیوں اور ناانصافی کو ختم کرنا ہو گا ۔ نگران صدر نے وفد سے گفتگو کے دوران کہا کہ بیرون ملک مقیم یہ پاکستانی ملک کا اثاثہ ہیں اور زرمبادلہ کا بڑا ذریعہ ہیں ۔ انہیں بیرون ملک پاکستان کے سفیر بن کر دنیا بھر میں اسلام کی اصل روح کی اشاعت کرنی چاہئے۔