محترمہ پروین شاہ وائس چانسلر شاہ عبدالطیف بهٹائی یونیورسٹی 
پاکستان اور ڈنمارک کا دوستی اور انسانی بنیادوں پر ہمدردی ،تعاون اور مالی امداد کا سلسلہ بہت پرانا ہے
سن 2005سے لے کر آج تک ڈنمارک کی طرف سے پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں ترقی و تعلیم کے لیے کروڑوں ڈالر کی امداد کی جا چکی ہے.
زلزلے اور سیلاب کی تباہ کاریوں میں ڈینش حکومت اس ہراول دستے کی طرح رہی جو انسانیت کو اپنا مزہب سمجھ کر کا دشوار اور کٹھن وقت میں ہمدردی کا ہاتھ بڑھاتا ہے
دوست آں باشد کہ گیرد دست دوست
در پریشاں حالی و درماندگی
سن 2005میں نارک کے تحت پاکستان کے بارے میں 43 صفحات کی ایک رپورٹ بنائی گئی
ناروے سویڈن اور ڈنمارک کے تعاون سے انڈیا اور پاکستان کا دورہ کیا گیااور تعلیمی نظام اور صورتحال کی رپورٹ مرتب کی گئی.
آج بھی اس رپورٹ کی مکمل تفصیل آن لائن موجود ہے جس سے ان مندوبین کی متحرک اور فعال کار کردگی کا اندازہ ہوتا ہے کہ زلزلے کے دنوں میں تو مالی امداد کے ساتھ ساتھ ڈینش افرادی قوت بھی شامل تھی۔
ڈنمارک کی نمائندہ ڈاکٹر محترمہ ساجدہ افضل اس کار خیر میں پیش پش تھیں اور دو ہفتے خود اس علاقے میں رہ کر سرجری کے
فرائض انجام دیتی رہیں۔
یہاں ڈنمارک میں اپنے ساتھی ڈاکٹرز سے مدد اور رہنمائی لیتی
رہیں۔ وہ آج بھی پاکستان میں بہتر طبی سہولیات کا خواب لیے لاہور میں مقیم ہیں اور ایک ہسپتال کی تعمیر کا خواب دیکھ رہہی ہیں
جہاں قوم کے معمار بچوں کا فوری علاج ممکن ہو گا۔
یوں تو امداد کا یہ سلسلہ تقریباً ایک دہائی سے خاموشی سے جاری ہے لیکن جب سے اسلام آباد میں ڈنمارک کے سفیر ییسپا مئولا سئورنس
Jesper Møller Sørensen
نے یہاں اپنا عہدہ سنبھالا ہے ایک ناقابلِ یقین عزم و استقلال کے ساتھ پسماندہ علاقوں میں تعلیمی نظام کی بہتری اور بالخصوص خواتین کے حوالے سے مالی امداد فاہم کی گئی.
گیارہ جنوری 2015 کو محترم سفیر ڈنمارک ییسپا مئولا سئونسن نے وزیرستان کے علاقوں کے لیے اضافی 1.6 ملین کی امداد
کااعلان کیا اور متاثرین کے لیے خیمے اور پناہ فراہم کی ۔ مارچ 2015 میں میڈیا اور صحافیوں کی بہتری کے لیے دو سالہ منصوبے کا اعلان کیا گیا۔
ڈنمارک کی شہری اور پاکستان کی مٹی سے خمیر ہونے کے ناطے سے میری کیفیات کچھ عجیب رنگوں کا امتزاج رہیں۔ کبھی اس بات کا ملال ہوتا کہ ہمارے ہاتھ کا کاسہ کبهی گرے گا ہی نہیں کبھی

یونہی ارضی و سماوی آفات ...کبهی سیاسی و سماجی کشا کش ہمیشہ ایسا ہی محسوس ہوتا تھا کہ مفلسی و بے مائگی کے کنوئیں شاید کبهی بهر ہی نہ سکیں۔
کبهی گزشتہ ربع صدی سے ڈنمارک میں رہائش پذیر ہونے سے دلی لگائو اور ایک وطن ثانی کی کیفیت ابھرتی اور احسانمندی .اور سکون کا احساس کروٹیں لینے لگتا اور جی چاہتا کہ پاکستان کی فضائوں سے کچھ ایسا ڈهونڈ کر لائوں جسے ڈینش حلقے میں احساسِ تفاخر سے پیش کر سکوں.
ایسے میں ایک دن اچانک شاہ عبد الطیف بهٹائی یونیورسٹی کی بین الاقوامی کانفرنس میں میری ملاقات ایک ایسی ہستی سے ہوئی جس پر قلم کشائی میرے لیے باعثِ افتخار ہی نہیں دلی مسرت کا سبب بهی تها.
ایک ایسے علاقے میں جسے خواتین کے حوالے سے مایوس کن کہا جاتا ہو اچانک وہاں ایک ایسی ہستی تمکنت اور وقار سے سر اٹهائے کهڑی ہو جائے...
لو دیکهو.. ہاتھ سے کشکول گرنے کا وقت بهی آ جاتا ہے ۔
یقین کیجئے یہ کشکول تب ہی گرے گا جب ہر عورت کو پروین شاہ بننے کا جنون ہو جا ئے گا۔
محترمہ پروین شاہ کے تعارف اور تفصیلی بات چیت سے پہلے ڈینش خواتین کی زندگی کے ایک پر آشوب باب کا تذکرہ کرتی چلوں
عالمی سطح پر.. کسی بهی ملک و قوم کی تاریخ اٹها کر دیکهئے... زندگی نے خواتین پر علم و ترقی اور آزادی کے ابواب کبهی رضامندی اور انسانیت پسندی کے جذبے کے تحت نہیں کهولے بلکہ خواتین کو اس کی گراں قیمت ادا کرنا پڑی.
1999سن
میں ڈینش شاعرات پر ایک مضمون لکهنے کا . اتفاق ہوا۔ میرا موضوع جدید پیشرفت کے دورانیے 1870-1890 کی خواتین قلمکا ر اور ان کی زندگی و تخلیقات تها. اس دورانیے کی خود کشی کی ظلمت بهری دنیا میں پناہ لیتی.... زہنی امراض کے ہسپتال کی اذیت بهری تنہائیوں سے لڑتی .... اور ازدواجی زندگی کے محفوظ حلقے سے باہر نکل کر ملامت بهری رسوائیوں کی دلدل میں دهنستی .... قلمکار اچانک کیسے زقندین بهرتی علم و ادب و اقتصادیات کی دنیا میں جهنڈا لہرانے لگیں...
خود کو بنائو سنگهار اور سامان آرائش سمجهنے سے انکار کر کے اسی مساوات کا مطالبہ جو معاشرے کے دوسرے فریق کو تهی. عورت صرف ایک جسم اور حسن کا استعارہ نہیں بلکہ ایک زہانت بهی ہے. اسے بهی تعلیم کا حق اور ملازمت کا حق ملنا چاہیے. تحسین و آفرین .... رشک و داد.. کئی طرح کی کیفیات غلبہ پاتی رہیں. اس زمانے میں ایک ڈینش ادیبہ وہٹا آناسن . کہ کتاب
Hold kæft og være smuk ""بکواس بند کرو اور آرائشِ حسن کرو"" سے متاثر ہو کر ایک غزل کہی....
زلف و لب و عارض کے فسانوں میں نہیں ہوں
میں اب تری مرضی کے جہانوں میں نہیں ہوں
تُو حسن و نزاکت کی نمائش میں نہ الجها
اب میں ترے طے کردہ ٹھکانوں میں نہیں ہوں
جینے کے لئے اپنی الگ سوچ ھے میری
میں حسن و جوانی کی دکانوں میں نہیں ہوں
زندان میں کب تک تُو مجھے قید رکھے گا
صیاد میں اب ٹوٹی اڑانوں میں نہیں ہوں
کب تک کوئی سامانِ تعیش ہی بنائے
میں صرف نمائش کے زمانوں میں نہیں ھوں
آج جب میں محترمہ پروین شاہ کی گفتگو قلمبند کرنے بیٹهی ہوں تو مجهے صرف وہی اس غزل کی حقدار دکهائی دیں سو یہ دیرینہ جذبات ان کے نام ....
وائس چانسلر محترمہ پروین شاہ کی آمد شاید بہار آمد نگار آمد کے مصداق بهٹائی یونیورسٹی کے لیے ایک نعمت الہی سے کم نہی .
خوش لباس و خوش کلام و خوش خصال و خوش ادا...
خاتون بهر پور اعتماد اور لگن کے ساتھ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے مصروف عمل رہیں.
تمام مندوبین ان کی توجہ و احترام کا مرکز رہے بہ نفس نفیس ہر ایک سے گفتگو اور ہرایک کی عزت افزائی ان کا شعار ہے. اپنے ادارے کے منتظمین کی قدر دانی اور عزت افزائی ان کا مطمع نظر ہے.

یقینا قدرت نے انہیں قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ دلبرانہ ادائے دلنوازی عنایت کی پهر ان پر اپنے انعامات کی بارش بهی کہ حسن و رعنائی اور دلپذیر آواز عطا کی اور پهر
ان صلاحیتوں کو جو ایک جوہر خالص کی طرح کہیں شخصیت کے گل کدے میں موجود تهیں اعلی تعلیمی مواقع بخش کر
مزید گلکاری کی.
یقینا ایک ایسے علاقے میں جسے نسائی ترقی کے اعتبار سے پسماندہ ترین تصور کیا جاتا ہے وہاں ایسی ہفت پہلو جھلملاتی شخصیت نے میرے احساسِ تفاخر کو بلند کیا.
بیک وقت میرا زہن اور قلم مصر ہو گئے کہ ان سے ایک مکالمہ و ملاقات کی جائے ان مراحل و حالات سے آگاہی حاصل کی جائے جس سے یہ معجزہ رونما ہوا.
اگرچہ میرے سوالات وہی عام سے تهے
تعلیم و تربیت میں کس کا زیادہ ہاتھ رہا
دوران تعلیم تجربات.... مسائل.... حل.... ؟
تعلیمی زندگی کے متوازی.. زاتی .. خانگی زندگی کے بارے میں بتائیے
ملازمت پیشہ خواتین کے لیے زندگی.... آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
کے مصداق آسان کبهی نہیں رہتی
بیوی اور ماں... کے کردار نبهاہنا۔۔۔۔۔کیسے دریا پار کیا ؟
ہفت پہلو شخصیت کی تعمیر کے حوالے
. . قائدانہ صلاحیتیں کیا قدرت نے ودیعت کیں یا کی
کسی دانائے راز کی نظر کرم بهی رہی ؟
اس علاقے کی خواتین کے لیے کیا پیغام دینا چاہیں گی
دنیا کو. . جو سندھ کی عورت کو علمی و ادبی میدان میں پسماندہ سمجهتی ہے...
کیا کہنا چاہیں گی. وغیرہ وغیرہ
.
لیکن ان عام سوالات کے منفرد جوابات نے مجهے مجبور کر دیا کہ انہیں خصوصی خراجِ تحسین پیش کیا جائے.
موافق حالات اور تعلیمی استعانت اور گهریلو معاونت سے تو حصولِ علم مشکل نہیں لیکن جہاں
تعلیم نسواں کا تصور ہی موجود نہ ہو وہاں سے ایسی تعلیم کامیابی فتح مبین کے برابر ہے محترمہ پروین شاہ نے
بڑے سکولوں کے ناموں اور بڑے تعلیمی اداروں کے ساتھ ہلیت کو وابستہ کر ے کا محدود اور احساس کمتری کا پروردہ خیال بهی غلط ثابت کر دیا.
انہوں نے حصول علم کی تشنگی اور ذوق و شوق کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ کسی نے ایک دفعہ ان کا ہاتھ دیکها اور کہا ک آپ کے ہاتھ میں تعلیم کی لکیر نہیں ہے
یا بہت کم ہےتو بجائے اس پیش گوئی سے بد دل اور شکستہ ہونے کے انہیں مزید تحریک ملی کہ اگر ہاتھ کی لکیروں میں یہ درج ہے تو اس قسمت کو بدلنا ہے.
اور تعلیم حاصل کر کے عورت کے مقدر کو بدلنے کی سعی بهی کرنا ہے
گهر میں سب سے پہلے تعلیم حاصل کرنے کی مخالفت بے پناہ پیار کرنے والے بابا سے شروع ہوئی جن کو وہی روائتی سوالات ہراساں کر رہے تهے کہ تعلیم حاصل کر کے کیا کرو گی یا پهر یہ کہ لوگ کیا کہیں گے کیونکہ اس علاقے کے رواج کے مطابق عزتِ سادات اور کسی چیز میں پنہاں ہو یا نہ ہو اس چیز کے ساتھ ضرور مربوط ہوتی ہے کہ شاہوں کی مستورات گھر کی چار دیواری سے نکل کر مکاتب و مدارس کی سمت قدم نہ بڑھائیں اس میں بھی ناموس و آبرو کے گنبدِ بے در میں شگاف پڑنے کا خدشہ لاحق رہتا ہے۔
محترمہ پروین شاہ نے اپنی والدہ کے استقلال اور پختہ عزم کو سراہتے ہوئے ایک احساسِ تشکر کے ساتھ بتایا کہ ان کے والد گو انہیں تعلیم دلانے کے حق میں نہیں تھے لیکن ان کی والدہ نے اس بظاہر محال نظر آتے مقصد کے حصول میں ان کا ساتھ دیا۔ وہ نہ صرف ان کو اس شوق و جستجو کے سفر میں ان کی شان
بشانہ ہمسفر رہیں بلکہ انہوں نے ہر ممکن طریقے سے ان کی حوصلہ افزائی کی ، ان کے جذبے کو سراہا اور ان کے سر پر اپنی دعاؤں کا گھنا شاداب سایہ بھی رکھا۔
.راستے کی کهٹنائیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انهوں نے کہا کہ محبت جہاں انسان کے بے پناہ استحکام اور مضبوطی بخشتی ہے وہیں ایک خاردار طویل راستے پر چلتے چلتے اپنے نقشِ قدم پر آنے والوں کے لیے راستے صاف اور ہموار کرتے کرتے ایک خاموش اور خائف کرتی کمزوری بھی ساتھ ہمسفر ہو جاتی ہے کہ کہیں ان کے اٹھائے ہوئے قدم عشاق کے اس قافلے کا راستہ کھوٹا نہ کر دیں۔
محبت کے لیے دل ڈھونڈ کوئی ٹوٹنے والا
یہ وہ مے ہے جسے رکھتے ہیں نازک آبگینوں میں
اپنے پیاروں کو اور اپنی خاطر ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح کهڑے ہونے والوں کا اعتبار انسان کی سب سے بڑی دولت ہوتا ہے
اس سے محرومی کا تصور ہی وصلوں کو کمزور کرتا ہےخود کو سرخرو کرنے کے اسی محکم جذبے نے انہیں آمادہ رکها کہ اپنی مستحکم قوت ارادی اور
ان تهک قوت عملی سے راستے کی مشکلات بهری کهائیوں اور حوصلہ آزما پہاڑوں کی مغرور چوٹیوں کو فتح کرتی ہوئی منزل مراد تک پہنچیں.
اپنی تعلیمی منازل اور مشکل مراحل میں کامیابی اور سرخروئ حاصل کرنے کے اس طویل سفر میں انہوں نے راستے کے سب سایہ دار اشجار کو یاد کیا اور ان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی والدہ نے اپنی قریبی سہیلیوں کے سکول میں اور پهر پرائیویٹ طور پر جیسے بهی ممکن ہوا ان کا تعلیمی سلسلہ جاری رکها
قدرت کی عطا کردہ زہانت اور چیلنج قبول کرنے والی فطرت کے تحت انهوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں وقف کر کے ہر مرحلے پر شاندار کامیابی حاضل کی اور اپنی والدہ اور اساتذہ کو سرخرو کیا انهوں نے اول پوزیشن سے میٹرک کے امتحانات میں کامیابی تو پا لی لیکن
جب کالج داخلے کا وقت ایا تو پهر مسائل ایک نیا چہرہ پہنے آ موجود ہوئےطے یہ پایا کہ برقعہ پہن کر با پردہ تعلیم حاصل کرنے جائیں گی .
انهوں نے اپنی رہنما اور اپنی خضر نما استاد مریم نوحانی کی رہنمائی میں اکنامکس جیسے مضمون میں ایم اے کیا اور سرفرازی نے قدم چومے پهر سندهی زبان و ادب میں بهی ایم اے کی ڈگری حاضل کی .
یونیورسٹی میں درس و تدریس سے وابستہ ہو گئیں جہاں انهیں جی سلانہ جیسی شخصیت کی شفیق چهتنار رہنمائی ملی اور مسلسل ترقی کرتے ہوئے آج شاہ عبدالطیف بهٹائی یونیورسٹی میں وائس چانسلر کے عہدے پر جلوہ افروز ہیں.
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں پتا کہ جسے قائدانہ صلاحیتیں کہا جاتا ہے یہ اسی ارادے کی دین ہے جس کے تحت میں کسی بھی مسئلے کے ہر پہلو پر غور کر کے جب کسی فیصلے پر پہنچ جاؤں تو پھر اس پر مصمم ارادے سے ڈٹ جاتی ہوں خواہ راستے میں کتنی ہی مشکلات کیوں نہ آئیں پھر اسے انجام
تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہوں
شاہ عبد لطیف بھٹائی یونیورسٹی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا
کہ جب انہیں یہاں تعینات کیا گیا تو انہوں نے ان شعبوں کا جائزہ لیا
بہترین اور ادبی و علمی صلاحتون سے مالا مال ٹیم نے ان کے ساتھ تعاون و تندہی سے کام کیا جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف کونوں سے محققین و مصنفین اور مدرسین یہاں تشریف لاتے ہیں
ننھے ننھے ستاروں کا یہ قافلہ ہی مل کر سفر کی نئی جہات مقرر کرے گا اسر سندھ میں آنے والی نئی نسل کے کل کو روشن
امکانات سے مالا مال کرے گا۔
ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا ایک منہ بولتا ثبوت ان کی اپنی ٹیم جس میں محترم ڈاکٹر یوسف خشک اور محترمہ ڈاکٹر صوفیہ خشک شامل ہیں. وائس چانسلر محترمہ پروین شاہ کا ان کی صلاحیتوں کا فیاضانہ اعتراف کرتی ہیں. بہت محبت اور فخر سے ان کا نہ صرف ذکر کرتی ہیں بلکہ اعلی ظرفی سے انہیں سراہتی ہیں. چلو تو کو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو کی عملی تفسیر ہیں.
اکیسویں صدی کے تحیرات میں سے ایک سرعت اور برق رفتاری
سے
قائم ہونے والا یہ رابطہ ہے جس کی مدد سے یہ انٹرویو مکمل ہوا
ہمارے سوالات کے جوابات ریکارڈنگ کی صورت میں ملتے رہے.
ہم ایک مرتب پھر محترمہ پروین شاہ صاحبہ کے ممنون ہیں جہنوں نے اپنے قیمتی وقت سے لمحات نکال کر نہ صرف ہمارے سوالات کے جوابات عنایت فرمائے بلکہ انہوں نے انٹر نیٹ کے بھر پور اور موئثر استعمال کے ذرئعے یہ بات بھی واضح کر

دی کہ ان میں نہ صرف قائدانہ صلاحیتیں ہیں بلکہ آئینِ نو اور ترقئ نو کے قدم بہ قدم چلنے کا عزمِ نو بھی شامل ہے۔
میرے نزدیک وائس چانسلر صاحبہ ایک ہستی کا نام نہیں ، یہ ایک عہدے کی علامت نہین اور نہ ہی یہ ایک جامعہ کی سربراہی کا استعارہ ہیں بلکہ یہ ایک زمانہ ساز اور مستقبل ساز تبدیلی کا قطبی ستارہ ہیں جو روشن اجالوں کی خبر دے رہا ہے اور جو تعلیم کے دروازے بلا تخصیص صنف ہر ذی روح پر کھولنے کا نصب العین لیے ہوئے ہے۔ ان کی زات نے یہ بات بھی ثابت کر دکھاٗی ہے کہ کہ جب عورت ، جو خالقِ مجازی ہے کسی بات کا تہیہ کر لیتی ہے تو اس کے لیے نئے جہان کی تخلیق بھی اسی مجازی کن فیکون کے طلسم سے آباد کرنا بازیچۂ اطفال ہی ٹہرتا ہے۔
میرے سامنے ان کی تصاویر پڑی ہیں اور ان کے جوابات کی ریکارڈنگ چل رہی ہے اور ان کی دلکش اور مستحکم آواز ان کے ارادوں کی خبر دے رہی ہے اور میں مسحور و فاتحانہ احساس لیے سوچ رہی ہوں کہ مجبوریوں کی بیڑیاں اور پابندیوں کی ہتهکڑی پہننے والی عورت اگر اس مصمم عزم سے خود کو منوا سکتی ہے تو جب اسے حریت فکراور احترام و یقین کے ساتھ یہ حق دیا جائے گا تو وہ کیسے کیسے نئے افق روشن کرے گی اور اد کی آغوش ایسے جواہر تراشے گی جو ایک
بہتر نسل اور صحتمند معاشرے کی بنیاد رکهے گی.
سندھ کی سر زمین سے اس عزم و اسقلال اور محبت و احترام کی
مٹی سے گندهی عظیم ساحرہ کو سلام پیش کرتے ہیں
میرے پاس اک ایسا طلسم ہے جو کئی زمانوں کا اسم ہے
اسے جب بهی چاہا بلا لیا اسے جو بهی چاہا بنا دیا