جو بات لکھ رہی ہوں بالکل صد بہ صد سچ ہے لیکن نام ، کردار اور مقام میں تبدیلی بھی اس لیئے کی ہے کہ بکری ذبح بھی تو کر دی جاتی ہے اور میرا ابھی رتبہ شہادت پانے کا کوئی پروگرام نہیں ہے
قصہ یوں ہے کہ شادی ھوتے ھی ردا کو احساس ھو گیا تھا کہ اس کے شوہر سراج کی زندگی میں کوئی پہلے سے ہی موجود تھا کیونکہ اس کو اچھی طرح یاد تھا جن دنوں نئی شادی ھوئی تھی ان دنوں سے آج تک اس کا شوہر اس کو چھوڑ کر کھیں اور چلا جایا کرتا ھے یہ کہہ کر کے اس کی زمہ داریاں اور بھی ھیں جو نبھانی ھیں
اسے یہ بھی یاد ھے جب نئی شادی ھوئی تو اس کو اس کے شوہر نے کہا کہ وہ اس کو مری گھمانے لے جائے گا ،لاھور کے تاریخی مقام دکھائے گا، مگر جیسے ھی وہ اپنی گاڑی پر لاھور کے لئے روانہ ھوئے تھے ابھی ملتان ھی پہنچے تھے کے کسی نے ان کو کچھ ایسی اطلاع دی تھی کہ اس کو فورا گھر آنا پڑا تھا وہ اپنے ھنی مون کا سارا پروگرام بھول گیا تھا
اس کے پوچھنے پر اس کے شوہر نے یہ کہا تھا کہ گھر میں ایمر جنسی ھو گئی ھے کہ اس کے بھیڑ بکریوں کے ریؤڑ پر رات کسی بھیڑیا نے حملہ کر دیا ھے اور 40 کے قریب بکریاں زخمی ھیں جن میں سے کافی قریب المرگ ھیں
تو اس کا شوہر سراج بہت پریشانی کی حالت میں گھر لوٹ آیا تھا اس کو یہ بھی بھول گیا تھا کہ اس کی نئی شادی ھوئی ھے اور وہ اپنی نئی نویلی دلہن کو سیر سپاٹے کرانے گھر سے نکلا ھے
ردا اس کی نئی نویلی دلہن جو اس سے عمر میں کا فی چھوٹی تھی پھر نئی نئی کسی دوسرے شہر سے بیاہ کر اس کے گھر میں آئی تھی اس کے لئے ماحول ،گھر سب لوگ نئے تھے وہ جھجک اور شرم میں کچھ کہہ نھیں سکی تھی اس کو دل میں رنج ضرور ھوا تھا کہ کون ایسا اھم ھے جس کے لئے سراج سب خوشی کے لمحات فراموش کر سکتا ھے ، لیکن چپ رھتی تھی
اسی طرح جب دو سال بعد ان کے ہاں بچے کی ولادت متوقع تھی تب بھی متعدد بار ایسا ھوا تھا اس کی طبیعت خراب ھوتی تو سراج کئی کئی دن اس کو ڈاکٹر کو تو کیا دکھانے لے جاتا اس کو دوائی بھی وقت پر نا لا کر دیتا تھا جب کہ اس سامنے ہر وقت یہی زکر ھوتا کہ میری فلاں بکری بیمار ھے اس کو حمل ھے اس کو مویشی کے ڈاکٹر کو دکھانا ھے
ڈاکٹر جو 10 میل دور شہر میں رھتا تھا اس کو گاڑی پر لایا جاتا اور واپس چھوڑنے بھی گاڑی ھی بھیجی جاتی تھی جب کہ وہ جتنی بھی تکلیف میں مبتلا ھوتی ایسے ھی کئی کئی دن پڑی رھتی ، پھر جا کر اس کو قسمت سے علاج میسر آتا ، اس پر سونے پر سہاگہ والی بات اس کی ساس صاحبہ یہ فرماتیں کہ سراج اپنی بیوی کا غلام نا بن جانا ، عورتیں تو مکر فریب کرتی رھتیں ھیں کوئی بیمار شمار نھیں ھوتیں بس یوں ھی خاوند کو رجھانے کے لئے ڈرامے کرتی ھیں -
ویسے بھی بیوی کے لئے ھمدردی اور محبت کے جزبات کیا رکھنے جس سے نکاح کرو وہ بیوی بن جاتی ھے ۔ مرد کو تو پھر کئی نکاح کرنے کی اجازت ھے کیوں جزباتی ھو کر بیوی کی محبت میں مبتلا ھونا یہ ایک حقیقی سبق جو اس کو سکھایا گیا تھا وہ اس کو ازبر یاد تھا اور ساری عمر ھی یاد رہا -
پھر یوں ھی اسی حال اور حالات میں ردا کے تین بچے پیدا ھوئے بچے وہ سب ھی آپریشن سے پیدا ھوئے اور بچوں کی پیدائش کے دوران جن پریشانیوں اؑعصابی تناؤ اور جسمانی و زہنی پریشانیوں سے وہ گزری اس کو وہ ھی جانتی تھی اگر اس کو الٹی بھی ھوتی تو اس کی ساس کہتی تھی کہ زیادہ کھا لیا ھو گا تب الٹی ھو ئی ھے اب آگے سے اس کو رات کا کھانا نھیں کھانے دینا ، جب کہ اگر گھر میں کسی بکری بھیڑ کو کوئی مسلہ ھوتا جیسے گھاس کھانا چھوڑ دیتی تو فورآ دوسرے شہر سے ڈاکٹر بلایا جاتا، قیمتی عرقیات دوا کے طور پر دی جاتیں اور اگر سردی کا موسم ھوتا تو شہد ، گڑ اور بے شمار قیمتی مغزیات اور ڈرائی فروٹ کی دوا بنا کر دی جاتی -جسے مقامی زبان میں پنجیری کھتے ھیں -
یہ فرق تھا ایک زمیندار کی بیوی کی زندگی میں اور اور ایک زمیندار کی بکری ھونے میں ، اور اور بناؤ سنگھار میں بھی کوئی خاص فرق نا تھا اگر ردا زیورات پہنتی تھی تو بکریوں مال مویشیوں کو بھی خوبصورت موتیوں کی مالائیں پہنائی جاتیں تھیں، اس کا شوہر سراج خاص کر قیمتی خوبصورت رنگ کے موتی خرید کر کے اس کی گانیاں بنواتا تھا جو ہار کی طرح گلے میں بکریوں بھیڑوں کو پہنائی جاتیں تھیں
ایسے اور بھی کئی ایسے لمحات اور واقعات رو نما ھوتے تھے جن کی وجہ سے ردا کو یہ احساس ھوتا تھا کی کاش وہ ایک بکری ھوتی - اس کی کوئی وقعت ھوتی قدر ھوتی عزت ھوتی اس سے کوئی پیار کرتا اس کو اپنی نظروں میں دل میں زہن میں رکھتا ، ردا کو کھیں باہر آزادی سے گھومنے پھرنے کی اجازت نا تھی نا ھی ضروری سمجھا جاتا تھا کہ اس کو کسی سے ملنا چاھئے شہر جا کر کسی کے گھر جائے یا سراج اپنے ساتھ لے کر جائے اور فخر سے محبت کے ساتھ لوگوں رشتہ داروں سے ملوائے -
اس کے شوہر کو یہ بہت شدت کے ساتھ احساس تھا کہ پورے علاقہ میں اس کی بکریوں سے زیادہ خوبصورت قیمتی اعلی نسل کی بکریاں کسی دوسرے کے پاس نھیں ھیں یہی بات سن کر دور دور سے لوگ اس کی بکریوں دیکھنے آتے تھے اور وہ خوشی اور گھمنڈ سے پھولے نھیں سماتا تھا ، جبکہ دوسری طرف ردا پڑھی لکھی تھی ہنر مند تھی کافی ایسے کام تھے جنھیں سراج کے خاندان کی دوسری عورتیں نھیں جانتی تھیں مگر اس کی ہنر مندی بھی اسے قابل ھونے کی فہرست میں کھڑی نھیں کر سکی تھی - جو اھمیت اور مقبولیت سراج کی بکریوں کو حاصل تھی ، اس لئے تو وہ کھتی تھی کاش وہ بکری ھوتی
لاشعوری طور پر اب بھی کبھی کبھی یہ ہوجاتا ہے کہ آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے میں بکری کی صورت اختیارکر لیتی ہوں لیکن اگلے ہی لمحے جب کسی بچے کے چلانے کی آواز آتی ہے تو یہ خواب بھی جیسے ٹوٹ جاتا ہے
یہ حقیقت کسی ایک سراج اور ردا کی نہیں ہے ۔ ہمارے وطن میں ایسی سینکڑوں نہیں لاکھوں ردائیں اور لاکھوں سراج ہیں۔ میں اپنے ہی علاقے کے ایک بڑے زمیندار کے گھر کے بارے میں جانتی ہوں کہ سردیوں میں اسکی بکریاں اور بھینسیں تو چھت کے نیچے رہتی ہیں لیکن بیوی اور جوان بیٹی باہر صحن میں کھلے آسمان تلے سوتی ہیں، بکریوں کو گھی سے چوپڑی روتی ملتی ہے لیکن بیٹی بیوی سوکھی روٹی کھاتی ہیں
اسلام نے تو عورت کو بہت سے حقوق دیئے تھے، عزت دی تھی پھر ملسمان نے یہ سب کچھ عورت سے کیوں چھین لیا؟