کہتے ہیں انسان کی پہچان علم سے نہیں بلکہ اَدب سے ہوتی ہے کیونکہ علم تو ابلیس کے پاس بھی تھا مگر وہ اَدب سے محروم تھا ۔ادبی و علمی لوگ میری پسند میں ہمیشہ شامل رہے ہیں ۔

میں قدر دان ہوں اُن لوگوں کی جو کتابوں اور قلم سے محبت کرتے ہیں ۔اسی طرح دو دن پہلے مجھے عذرا ناز صاحبہ کی4159صروف تھی ۔لہذا انہیں کہا کل چلی آئیں ۔۔میں عذرا ناز کو نہیں جانتی تھی ۔ایک بار ملاقات ہوئی تھی ریڈنگ میں کسی کتاب کی رسم اجرا کے موقع پر ۔تب انہوں نے کہا تھا کہ وہ شاعرہ ہیں ۔اور پاکستان میں ادبی تقریبات میں کافی سر گرم رہتی تھیں
۔پولیس کے محکمے میں ان کی ملازمت تھی ۔۔۔مگر حالات کی چکی کی رفتار ان کی ازدواجی زندگی کے درمیان حائل ہو گی پھر وقت اور چکی کے پٹ میں اتنا عرصہ دبی رہی ۔۔اب کافی وقت گزرنے کے بعد دوبارہ سے اپنے کو وقت دینا چاہتی ہیں
۔آج دوپہر کے وقت وعدے کے مطابق وہ اپنی بیٹی کے ساتھ ملنے چلی آئیں ۔مجھے محسوس ہوا ہمارے ملک کے اہل ادب ،اہل علم ،اور اہل دانش کہاں کہاں بکھرے پڑے ہیں ۔عذرا ناز نے اپنی ابتدائی مصروفیت کا تذکرہ بڑی فراوانی سے سنایا ۔۔
کئی دلچسب باتیں ،قصے سنائے ۔ساتھ ساتھ اپنی شاعری کا حوالہ بھی دیتی رہیں ۔ایک ادھ شعر سے بھی نوازہ ۔مگر انہیں اعتراض اِس چیز پہ ہے کہ آج کا ادب جو ہے تجارت کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔
بس یہی بات تو میں ہزاروں بار اپنے کالموں میں لکھ چکی ہوں ۔بس فرق میری بات میں یہ کہ آج نہیں ہمیشہ سے ہی تجارت رہا ۔جس کی جان پہچان اچھی وہ بڑے شاعر کے بغل میں ۔جس کی پہچان نہیں وہ ادبی تقریب میں بھی آخری کُرسی پَر ۔۔۔۔
اہل ادب و علم میں سرزد کمزوریاں مستقبل کی نسلوں کو بھی بھگتنی پڑیں گی ۔۔میرا ایمان ہے ایک سچا لکھاری کبھی بھی خاموش نہیں رہ سکتا ۔
عذرا نازؔ صاحبہ ایک عرصے سے لکھ رہی ہیں مگر انکا شعری مجموعہ منظرعام پر نہیں آسکا تھا ۔ظاہر ہے ہر شاعر امیر تو نہیں ہوتا ۔جب پاکٹ اجازت دے تو اسکا دل بھی چاہتا ہے کہ وہ صاحب کتاب کہلائے ۔عذرا ناز ؔ نے بتایا کہ اس کی کتاب اَب مارکیٹ میں آنے کے لیئے تیار ہے ۔ایک ماہ تک انشااللہ کتاب کی بقاعدہ رسم اجرأ کریں گی ۔خوشی ہوئی کہ ایک شاعرہ کا کلام پڑھنے کو ملے گا ۔

۔تین چار گھنٹے ہماری گفتگو کا سلسلہ ادب کال محصول ہوئی کہ مجھے ملنا چاہتی ہیں ۔میں و ادبی سر گرمیوں پر خوب چلا ۔ساتھ ساتھ چائے اور لوازمات کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔میں سمجھتی ہوں اچھا شاعر یا لکھاری ہونے سے پہلے اچھا انسان ہونا بہت ضروری ہے ۔ان کی خوش اخلاقی کا پہلو کافی حد تک اُن کے چہرے پر نمایاں تھا ۔پاکستان میں پولیس کی نوکری اور اخلاق یہ بات ذرا چُبنے والی تھی ۔۔۔
خیر عذرا نازؔ سے یہ ملاقات خوشگوار رہی اور انہوں نے میری کتابیں پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا جسے میں نے بڑے خلوص سے قبول کیا اور انہیں اپنی دو کتابیں ایک شعری مجموعہ اور افسانوں کا مجموعہ تحفے میں دیں اور عذرا ناز ؔ کی بیٹی نے ہماری چند تصویریں کیمرے میں محفوظ کیں ۔اور میں نے عذرا ناز ؔ کے لائے ہوئے محبت سے پھولوں کو اپنے گھر کے فائیر پلیس کے پاس پڑے گلدان میں سجا دیا ۔
اُس نے جانے کی اجازت چاہی دوبارہ ملاقات کا وعدہ کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے دروازے تک چھوڑنے آئی اور خداحافظ کہا ۔۔۔