نہ شیخِ شہر، نہ شاعر، نہ خرقہ پوش اقبال
فقیر راہ نشین است و دل غنی دارد
اقبال نہ تو شہر کا شیخ ہے، نہ شاعر ہے اور نہ ہی گڈری میں
ملبوس درویش
راہگزر پر بیٹھنے والا ایک فقیر ہے لیکن بے نیاز دل کا مالک ہے۔
آج کے چهوٹے سے ڈنمارک نے صدیوں پہلے .. صدیوں تک سکینڈے نیویا پر حکمرانی کی.
کالمر یونین کے تحت اس کا پرچم ہر جگہ لہراتا رہا. دنیا کی باقی اقوام کی طرح ڈنمارک نے بهی عروج و زوال کے ادوار دیکهے لیکن ہر حال میں اپنے ملکی تشخص اور اپنی زبان کا احترام ملحوظ خاطر رکھا.
ستر کی دہائی کے بعد جب ڈنمارک نے غیر ملکیوں کے لیے اپنی سرحدیں کهولیں اور پهر انهیں شہریت دی تو انهیں بهی اپنی لسانی، قومی اور مذہبی تشخص اور اس کے فروغ کی مکمل آزادی اور خودمختاری دی. جس کے تحت یہاں مساجد اوت ہر طرح کی تنظیمیں اور تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں آیا.
اقبال اکیڈمی سکینڈے نیویا کا قیام بهی ان ہی علمی اور ادبی کاوشوں کی ایک مثال ہے.
اس اکیڈمی کے بانی اور صدر محترم غلام صابر جو گزشتہ چار دہائیوں سے یہاں مقیم ہیں اور مسلسل قلمی سفر جاری رکهے ہیں اس سال صدارتی تمغے کے حقدار قرار پائے.
مغربی دنیا کے معروف فلسفی
Søren Kierkegaard
سئورن کرکهے کو اور مشرقی دنیا کے ممتاز شاعر ڈاکٹر محمد اقبال کا تقابلی جائزہ دنیامیں پہلی مرتبہ کیا گیا۔ یہ کتاب بنیادی طور پر اردو میں لکھی گئی لیکن بعد ازاں ڈینش فلسفی
Peter Tudvad
پیٹر ٹڈ ویڈ کی زیر نگرانی کتاب کو ڈینش زبان میں منتقل کیا گیا۔
سن 2011 میں ٹی وی لنک نے محترم غلام صابر صاحب کی رہائش گاہ پر جا کر ان کا انٹرویو کیا۔ اس وقت ان کی معروف کتاب
“Kierkegaard and Iqbal”
کهیرک کو اور اقبال کی اشاعت پر ان کو مبارکباد دی اور تفصیلی گفت و شنید بھی کی۔
سال ہذا میں ایک مرتبہ پھر عاشق اقبال جناب غلام صابر صاحب نے مغربی دنیا میں مقیم تمام اردو بولنے والوں کے سر فخر سے بلند کر دئیے ہیں۔
Iqbal Rligion and Pysics Of the New age
پر صدارتی تمغہ دیا گیا ہے۔ یہ ایوارڈ جلد ہی کوپن ہیگن میں پاکستانی سفارت خانے میں ایک تقریب میں دیا جائے گا۔
سو اس مرتبہ پهر ٹی وی لنک نے ان کہ رہائش گاہ پر جا کر ان سے گفت و شنید کا اعزاز حاصل کیا.
نوے برس کی عمر میں ایک آسودہ ، مسرور اور مکمل زندگی کی بلند ترین سیڑھی پر ایستادہ غلام صابر نے پیچهے مڑ کر دہکهتے ہوئے اپنی عمر گزشتہ پر نظر دوڑائی.
وہ 1925 میں مراد آباد میں پیدا ہونے والے غلام صابر نے ابتدائی تعلیم اپنے والد کے ایک دوست صوفی مولانا مجیب الحق سے حاصل کی۔ اس عظیم استاد نے اپنے شاگرد رشید کو نہ صرف اس وقت کی معروف زبانیں عربی اور فارسی پڑھائیں بلکہ ریاضی کی تعلیم بھی دی۔
وہ اپنے اساتذہ کو تشکر اور احسانمندی کے لہجے میں یاد کرتے ہیں.
۱۹۴۰ میں انھوں نے الہ آباد یونیورسٹی سے میٹرک کیا۔
لیکن میٹرک اور گریجویشن کے درمیان بارہ طویل سالوں کا عرصہ حائل ہوا ۔ ان بارہ سالوں میں زندگی کے نشیب و فراز نے انھیں صبر و تحمل اور جہد مسلسل کے کئی اسباق دئیے اور حالات نے ایک ہیرے کی تراش خراش کی.
زندگی کی اس اٹها پٹخ اور ہنگامہ خیزی کا بهی وہ جوانمردی سے
تذکرہ کرتے ہیں.
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی "" کے مصداق تمام کشاکش کے باوجود حصول علم کی لگن ان کی ہمرکاب رہی اور پھر 1952پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کی
بعد ازاں فارسی ادب میں آنرز کی ڈگری بھی حاصل کی
قیام پاکستان کے حالات و واقعات کے عینی شاہد بهی رہے اور ان حالات کی چیرہ دستی کا شکار بهی. پهر ہجرت کی اور
سن 1947میں لاہور آنے کے بعد انھوں نے اورینٹ ائر ویز میں ملازمت اختیار کی بعد ازاں اس فضائی کمپنی کو پاکستان انٹر نیشنل ائر لائنز کہلانے کا اعزاز حاصل ہوا۔
معاشی جدوجہد کے دوران بھی انھوں نے اپنی دلچسپی کے مضامین یعنی ادب اور فلسفے کا مطالعہ جاری رکھا۔
زندگی میں ایک مرتبہ پھر ہجرت کی اور
سن 1976میں ملازمت کے سلسلے میں کوپن ہیگن ڈنمارک تشریف لائے جہاں ۱۹۸۰ تک سکینڈے نیویا کے سیلز مینجر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دئیے۔
اور1992 میں اس ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔
جیسا کہ مغربی دنیا کے سروے کے مطابق بیسٹ سیلرز کی کتب ان کی درمیانی عمر یا نصف صدی گزارنے کے بعد آ ئی ہیں جب خانگی و ذاتی زندگی کی ذمہ داریوں اور پیچیدگیوں نے اپنا محدود دائرے کو وسیع کیا۔
یا فکر معاش نے تخلیقی قوتوں اور فکری شوق اور جذبے کو پروان چڑھنے کے بہتر مواقع دئیے
اسی طرح جناب غلام صابر نے بھی اپنے دیرینہ خواب کی تکمیل اور شوق کی آبیاری کی اور اقبال اور کلام اقبال سے اپنی فطری دلچسپی کو باقاعدہ اور منظم انداز میں پیش کیا۔
ان کی پہلی کتاب
"" اقبال شاعر فردا"" کے اب تک چار ایڈیشن چهپ چکے ہیں اور یہ کتاب صرف سکینڈے نیویا میں ہی نہیں بلکہ یورپ میں بہت معروف ہے اور لوگ اسے بطور تحفہ پیش کرنے لگے ہیں.
اقبال اکادمی پاکستان نے اسے سائبر لائبریری میں یونی کوڈ کی صورت میں پیش کیا ہے تاکہ ہر خاص و عام استفادہ کر سکے.
اس کا لنک پیش خدمت ہے.
http://www.iqbalcyberlibrary.net/txt/3382.txt
ڈاکٹر وحید عشرت ان کی کتاب
"اقبال شاعر فردا "
کے خوبصورت دیباچے میں لکھتے ہیں
""
اقبال سے ان کا عشق اس قدر ہے کہ جب بھی اقبال کے اشعار انہیں یاد آتے ہیں تو ان کے دل کے تار چھڑ جاتے ہیں اور انہیں گُنگُنانے لگتے ہیں۔ اگر کبھی تنہا ہوتے ہیں تو ایک ایک شعر اور مصرعے کو سینکڑوں مرتبہ اور گھنٹوں دہراتے رہتے ہیں، کبھی سرور و سرمستی میں ڈوب جاتے ہیں او رکبھی یادِ رفتگاں میں کھو جاتے ہیں اور آنکھوں سے موتیوں کی جھڑی شروع ہو جاتی ہے ۔ دوستوں کی محفل ہو تو کلام اقبال سے خود بھی تڑپتے ہیں اور اوروں کو بھی تڑپاتے ہیں"" ۔
عرض مصنف میں صابر صاحب رقمطراز ہیں
"" کیوں چمن میں بے صدا مثل رمِ شبنم ہے تو
لب کُشا ہو جا ، سردوِ بربطِ عالم ہے تو
اقبال ؒ
حکیم ا لاُمت اقبال کا یہی شعر ہے جس نے مُرغِ چمن بن کر مجھے نغموں پر اکسایا ۔ فلسفۂ مغرب کو خشک اور بے رنگ و بوپا کر جب میں نے اقبال کی آنکھوں سے کائنات کو دیکھا‘ تو خالقِ کائنات کی عظمت اور بزرگی نگاہوں میں نور بن کر چمکنے لگی۔ کائنات کی رنگا رنگی اور اس کی غایت اور مقصدیت میری روح کو مسرور کرنے لگی اور میرا دل پکار اٹھا۔
سینہ ہے تیرا امیں اُس کے پیامِ ناز کا
جو نظامِ دہر میں پیدا بھی ہے ، پنہاں بھی ہے
اپنے دل کو ٹٹولا تو ایک دبی چنگاری پائی اور خواہش پیدا ہوئی کہ یہ چنگاری بھڑک اٹھے، اور اتنی روشن ہو جائے کہ ملّتِ اسلامیہ کے ہر نوجوان کے دل میں علم اور محبت کی شمع جلا دے ۔ اس خواہش نے جب اظہار کے لیے راستے تراشے تو قلم کو جنبش ہونے لگی اور میں نے لکھنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ چنانچہ ماہنامہ شاہین کوپن ہیگن میں راقم الحروف کا سلسلہ مضامین میری اسی اُمنگ کا آئینہ دار تھا۔ ان مضامین کو اب کتابی شکل دے کر یورپ میں نوجوانوں کے لیے افکارِ اقبال کو روشناس کرنے کی غرض سے پیش کیا جارہا ہے ""
میں نے یہاں مناسب سمجها ہے کہ صابر صاحب کے بارے میں خود ان ہی کے الفاظ تحریر کیے جائیں جو قارئین کے لیے زیادہ دلچسپی کا باعث ہونے کے ساتھ ساتھ زیادہ معتبر ہوں گے.
""
میں اوائل عمر میں جگر مراد آبادی سے مثاثر ہوا۔ چند برس ہی گذرے تھے کہ برصغیر کے سیاسی حالات مسلمانوں کے حق میں دگرگوں ہوتے نظر آئے ۔ شعر و شاعری جو اسکول کے زمانے ہی سے شروع کر دی تھی اس کو خیر باد کہہ کر کلامِ اقبال کا مطالعہ شروع کیا، جس کے ذریعے نگاہوں کے سامنے ایک جہانِ نو آباد پایا۔
برصغیر کے حالات مسلمانوں کے لیے خراب سے خراب تر ہوتے چلے گئے ۔ آخر کار 14 اگست 1947ء کی رات آئی ۔ اس رات میں ریاست ٹونک میں مرحو م اختر شیرانی کا مہمان تھا۔ صبح ہوئی تو قرب و جوار میں مسلمانوں کا قتل عام شروع ہو چکا تھا ۔ ریاست ٹونک البتہ محفوظ تھی ۔ کئی دن گزرنے کے بعد جب حالات کے پرسکون ہونے کی کوئی اُمید نظر نہ آئی تو واپسی کا سفر اختیار کیا ۔ ٹونک سے دلی تک اس سفر میں جو کچھ دیکھا او رجو گزری وہ ایک الگ دلدوز داستان ہے۔ بہرحال کسی نہ کسی طرح پاکستان کی سر زمین پر پہنچ کر سجدۂ شکر ادا کیا"" ۔
انھوں نے سکینڈے نیویا اقبال اکیڈمی کی بنیاد رکھی اور سالانہ دو تقاریب کا اہتمام کیا۔ کلام اقبال اور فکر اقبال کو عام کرنے کے لیے مسلسل کام کیا
آج نوے برس کی عمر میں بھی ان کا عزم نو بہ نو اور تازہ بہ تازہ ہے۔ جسمانی پیرانہ سالی کے باوجود ان کے افکار، مزاج اور ذوق و شوق اسی طرح پر شباب ہے
اس انٹرویو میں انھوں نے اپنی عمر رفتہ کے دلکش ترین دور کو یاد کیا.. کبهی گزشتہ دنوں کی یادوں کے بہائو کے ساتھ بہہ نکلے... کبهی ذرا دیر کو گم سم ہوئے... پیچهے کو دوڑتی گردشِ ایام کے نقشِ قدم پر بهی چلدئیے.
کبهی نمناک ہوئے... اور کبهی شیر کے شکار کا قصہ سناتے ہوئے
بچے کی سی معصومیت سے کهلکهلا کر ہنسے. بنگلہ دیش کے معروف ٹائگر شیر کے شکار کو نکلے اور ایک ہرن مارنے پر راضی ہو گئے
تو ہی ناداں چند کلیوں پر گزارا کر گیا. ..
حقیقت تو یہ ہے کہ جب ہم شام ڈهلے ان کی دلکش یادوں اور شیریں باتوں کے چمنستاں سے نکلے تو یہی محسوس ہوا کہ کسی ٹائم مشین کے ذریعے ہم بهی ان کے ساتھ گردشِ ایام کے مرکب رہے.
آخر میں ہماری فرمائش پر اپنے خصوصی ترنم کے ساتھ کلام اقبال پیش کیا
ٹی وی لنک ان کا خصوصی طور پر ممنون ہے
اپنی زندگی کے باارے میں بات چیت کرتے ہوئے ان کا انداز ہمیشیہ کی طرح متشکرانہ تھا اور انھوں نے بارہا عاجزی کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کیا جس نے انھیں زوال عمر کی زد میں ہونے کے باوجود ذہنی طور پر چاک و چوبند رکھا اور توفیق عطا فرمائی کہ وہ اپنا کام جاری و ساری رکھ سکیں
انھوں نے ٹی وی لنک کا بطور خاص شکریہ ادا کیا جو طویل راستہ طے کر کے ان سے گفت و شنید کے لیے پہنچا۔
ابھی ہم نے اندر جا کر قدم رکھا ہی تھا کہ وہ بہ نفس نفیس خود اپنے کمرے سے باہر تشریف لے آئے
"" لو بھئی ہماری بیٹی آ ہی گئی۔۔۔۔""
بشاشت اور شفقت سے کہتے ہوئے نشست گاہ میں آ کر ملے۔ اتفاق سے اس دن خوب چمکیلی اور اجلی دھوپ نے شام گئے تک حصار قائم رکھا اور نشست گاہ کی بڑی کھڑکیوں سے بے محابا دندنانتی ہوئی یہاں وہاں براجمان رہی۔
مغرب کے بعد ان کی بے حد ملنسار اور مہمان نواز بہو رفعت نے پر تکلف عشائیہ دیا . بے تکلف اور پر لطف باتوں میں خوبصورت دن پلک جھپکتے اختتام کو جا پہنچا.
خوبصورت موسم نے بھی ساتھ دیا اور قدرتی روشنی اور دھوپ میں بالکل فطری انداز میں جناب غلام صابر سے بات چیت کی گئی۔
ریکارڈنگ جلد ہی یو ٹیوب پر پیش کر دی جائے گی.
زبیر صاحب نے اپنے کیمرے اور تاریں لپیٹیں ، ریکارڈنگ کا سامان پیک کیا اور اپنے مخصوص سادہ و بے ریا انداز میں سب کا شکریہ ادا کیا .
شام کے سائے بڑهنے لگے لیکن باتوں اور خوش گپیوں کا سلسلہ دراز ہوتا گیا. زندگی کی باتیں ، شاعری کے تذکرے اور آزمائشوں کو بهول کر نعمتوں کو گنتے اور اس کا شکر ادا کرتے غلام صابر صاحب کا قانع ، مسرور اور ممنون چہرہ دیکھ کر مجهے اپنے بزرگوں کی یاد آتی رہی . ان کی شفقت اور قدر افرائی ہمیشہ آبشار کی صورت مجهے سرشار بهی کرتی ہے اور شکر گزار بهی .
سو ان کی نذر وہ شعر جو بابا جان نے مجهے سکول کے زمانے میں یاد کروایا تها اور جس کی نسبت سے میں نے ان پر مضمون لکها.
اولوالعزم بزرگ کسی ایک خاندان کا سرمایہ نہیں ہوتے بلکہ وہ سورج کی شعاعوں ، چاند کی کرنوں اور ہوا کے معطر جھونکوں کی طرح کائنات سے وابستہ ہوتے ہیں -
چہ باید مرد را طبعِ بلندے، مشربِ نابے!
دلِ گرمے، نگاہِ پاک بینے، جان بیتا بے
اللہ ان کو ہمیشہ یونہی شاداں و شادماں رکهے-
اس دلکش شام کی روداد کا اختتام محترم غلام صابر صاحب ہی کے الفاظ پر کرتی ہوں .
""
آج کل میں اقبال کے فلسفے کی روشنی میں مغربی مفکرین اور فلسفیوں کا مطالعہ کر رہا ہوں اور ساتھ ہی ساتھ ڈنمارک میں اخبارات کے ذریعے افکارِ اقبال کی تشہیر ‘ خصوصاً بیرون ملک بسنے والے اپنی قوم کے نوجوانوں میں عقابی روح بیدار کرنے کا عزم لیے ہوئے، اپنی بساط کے مطابق انتھک کام کرنے کی سعی کر رہا ہوں۔ اللہ کا شکر ہے کہ یہاں کے پڑھے لکھے طبقے نے میری بڑی حوصلہ افزائی کی ہے۔
اقبال کے اشعار یاد آتے ہیں تو دل کے تار چھیڑ جاتے ہیں اور میں گنگنانے لگتا ہوں۔ اگر تنہا ہوتا ہوں تو کبھی کبھی ایک شعر کو سینکڑوں مرتبہ اور گھنٹوں بار بار پڑھتا رہتا ہوں ‘ کبھی سرور و مستی میں ڈوب جاتا ہوں اور کبھی یادرفتگان کا جھونکا آتا ہے تو آنکھوں سے موتی ٹپکنے لگتے ہیں ۔ اگر دوستوں کی محفل ہے تو کلامِ اقبال سے خود بھی لطف اندوز ہوتا ہوں اور احباب کو بھی تڑپا تڑپا دیتا ہوں۔ میری یہی تڑپ میرے ان مضامین میں نمایاں ہے جو اس کتاب کی صورت اپنے قارئین کی نذر کر رہا ہوں۔ اقبالیات کے بازار میں یہ افکار سوت کی اٹی ہی سہی لیکن یہ بھی کیا کم ہے کہ میں بھی فکرِ اقبال کی تعبیر و تشریح کرنے والے حضرت علامہ کے عشاق میں شامل ہوں ۔ یہی میرا سرمایۂ حیات اور یہی میری کمائی ہے