15.10.2026, 10:04pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

اسلامی تعلیمات میں‌ ذات پات اور قوم پرستی کاتصور۔از:‌ڈاکٹر نگہت نسیم 
20.05.2015, 12:40am , بدھ (GMT+1)

ذات پات اور قومی امتیاز کے تصورات دنیا کی ہر قوم میں پائے جاتے ہیں۔ ہر کوئی بحثیت قوم ، رنگ و نسل اور اپنے نظریات  کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہے۔ انسانوں کا یہی غرور مقابلے بازی ،  نفرتوں،  جھگڑوں ، اور جنگوں کا زیادہ تر باعث‌ رہا ہے جس کانتیجہ یہ نکلا کہ آج دنیا امن سے محروم ہوتی جا رہی ہے ۔  اس غرور صرف غیرمسلم ہی نہیں بلکہ  مسلمان بھی اس باطل تصور کا اتنا ہی شکار ہوئے ہیں جتنا کہ دوسری اقوام۔ سب سے پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا مسلمانوں کے ہاں یہ غرور خود ان کے دین نے پیدا کیا ہے یا یہ کہیں اور سے آیا ہے جب ہم اس موضوع پر قرآن کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے۔

قران پاک میں ارشاد ہوتا ہے
(الحجرات 49:13)  ’’اے انسانو! ہم نے تمہیں ایک مرد و عورت سے پیدا کیا اور تمہیں گروہ اور قبائل بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بے شک اللہ کے نزدیک عزت والا وہی ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے۔‘‘
اسی اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مشہور خطبہ حجۃ الوداع میں ارشاد فرماتے ہیں:

 ’’تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا تھا۔ اے لوگو! سنو تمہارا رب ایک رب ہے، کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں اور نہ ہی کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت ہے۔ نہ کوئی کالا کسی گورے سے بہتر ہے اور نہ گورا کالے سے۔ فضیلت صرف اور صرف تقویٰ کے سبب ہے۔‘‘

اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں قومی و نسلی تفاخر کے اثرات دوسری اقوام سے آئے۔ دین میں اس کا کوئی تصور نہیں ملتا ۔

میں‌ یہاں نسلی تفاخر کی قسمیں بتانا چاہتی ہوں سب سے پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا مسلمانوں کے ہاں یہ غرور خود ان کے دین نے پیدا کیا ہے یا یہ کہیں اور سے آیا ہے جب ہم اس موضوع پر قرآن کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے

1۔   ہمارے ذات پات کے نظام میں بعض ذاتوں کو اعلیٰ اور بعض کو ادنیٰ سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے بہت سے لوگ دوسری ذات میں شادی کرنا پسند نہیں کرتے۔ بعض حضرات اپنے بیٹوں کی شادیاں تو دوسری ذاتوں میں کر دیتے ہیں لیکن بیٹیوں کی شادیاں صرف اپنی ہی ذات میں رکھتے ہیں۔

2۔  مختلف پیشوں کے بارے میں ہمارے یہاں کمتر ہونے کا تصور موجود ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر محنت کشوں اور ہاتھ سے کام کرنے والے پیشوں کو حقیر سمجھا جاتا ہے۔ گاؤں دہاتوں‌ میں   جاگیر دار اور زمیندار اپنے ملازمین کو حقیر سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ غلاموں کا سا سلوک کرتے ہیں۔ شہری معاشرے میں اگرچہ ملازمین کے ساتھ اتنا حقارت آمیز سلوک نہیں ہوتا لیکن انہیں بہرحال مالکوں اور اعلیٰ افسران سے کمتر ہی تصور کیا جاتا ہے۔

3۔ ہم لوگ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو بھی خود سے حقیر سمجھ کر ان کی توہین کرتے ہیں اور بسا اوقات ان سے تحقیر آمیز رویہ رکھتے ہیں۔ بالکل اسی قسم کا سلوک مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔

4۔ رنگ کی بنیاد پر بھی امتیاز رکھا جاتا ہے اور سیاہی مائل جلد رکھنے والوں کو طعنے دیے جاتے ہیں۔ اس بنیاد پر امتیاز ہماری نسبت مغربی اقوام میں زیادہ پایا جاتا ہے۔

5۔ زبان اور صوبے یا علاقے کی بنیاد پر بھی ہمارے ہاں خاصا تعصب پایا جاتا ہے اور ایک علاقے یا صوبے کا فرد دوسروں کا مذاق اڑاتا ہوا نظر آتا ہے۔ ہمارے بعض شہروں جیسے کراچی میں تو یہ تعصب ایک زمانے میں اتنے عروج پر پہنچ گیا کہ اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد لسانی فسادات کا شکار بنے۔


نسلی امتیاز (Race Discrimination)


برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی اکثریت ان افراد پر مشتمل ہے جنہوں نے ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام کو اختیار کیا۔ قدیم ہند کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ برصغیر کے قدیم باشندے چھوٹے قد کے اور سیاہی مائل رنگت کے تھے۔ وسطی ایشیا سے آریہ اور راجپوت قبائل ان پر حملہ آور ہوئے اور ان کے مقابلے میں فتح سے ہمکنار ہوئے۔

  اس کے بعد انہوں نے تمام مقامی باشندوں کو مذہبی جبر و تشدد کے ذریعے اپنے مذہب کو اپنانے پر مجبو رکیا اور اس کے ساتھ ہی ذات پات کا نظام رائج کیا۔ اس نظام کے تحت مذہبی رہنما یعنی برہمن سب سے بلند و برتر، سیاسی رہنما یعنی کھتری دوسرے نمبر پر، محنت کش اور تاجر یعنی ویش تیسرے نمبر پر اور ادنیٰ درجے کے کام کرنے والے شودر چوتھے درجے کی ذات قرار پائے۔

 جب برصغیر میں اسلام کی کرنیں داخل ہوئیں تو سب سے پہلے نچلی ذات کہلانے والوں نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے حسن سلوک اور اسلام کے آفاقی پیغام سے متاثر ہوکر یا پھر اپنے مفادات کے تحت اعلیٰ کہلانے والی ذاتوں کے افراد نے بھی اسلام قبول کرلیا۔ اگرچہ ان نومسلموں نے اسلام کے بہت سے احکام کو اپنا تو لیا لیکن اپنی ایک عادت ذات پات کی تفریق سے نجات نہ پا سکے۔

 اگر ہم پنجاب اور سندھ کی مختلف ذاتوں کی تاریخ کا جائزہ لیں تو ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ ان میں سے زیادہ تر دراصل قبائل ہی کے نام ہیں۔ اور ان میں ذات پات کی تفریق اور عداوتیں  پائی جاتی ہیں۔

بنو امیہ  سے ملوکیت ہوتی ہوئی بنوعباس تک پہنچی اور آج تک دنیامیں امت مسلمہ نسلی بادشاہت کا شکارہے۔ہمارے ہاں نام نہاد جمہوریتوں میں بھی یہی رجحان ہے کہ چند ہی خاندان میدان سیاست کے شہسوار بنے ہوئے ہیں ۔۔ سول اور ملٹری بیوروکریسی میں بھی یہی رجحان پایا جاتا ہے۔ ہمارا سب سے بڑا اخلاقی نقصان دینی حلقوں میں نسل پرستی کے رواج سے ہوا۔اگر آپ ملک کی بڑی دینی جماعتوں کے اندرونی اختلافات اور جھگڑوں کا جائزہ لیں تو ان اختلافات کی بنیادی وجہ اسی نسل پرستی کو پائیں گے ۔

2۔ معاشی تفاوت کی بنیاد پر امتیاز(Economic Discrimination)
معاشرے میں اس حوالے سے دو طبقات بنانے کے لئے بنیادی کردار جاگیردارانہ نظام (Feudal System) نے ادا کیا۔ یہ نظام دراصل ملوکیت اور بادشاہت کے سیاسی نظام ہی کی معاشی شاخ ہے۔

اس وقت تک یورپ میں صنعتی انقلاب اور انقلاب فرانس کے نتیجے میں جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ ہوچکا تھا اور اس کی جگہ سرمایہ دارانہ نظام لے چکا تھا۔ برصغیر میں بھارت نے اسی رجحان کی پیروی کرتے ہوئے کسی حد تک جاگیردارانہ نظام سے نجات حاصل کرلی لیکن اہل پاکستان ایسا نہ کرسکے۔

اگر ہم اپنے دین کی تعلیمات کا جائزہ لیں تو ہمیں اس کے بالکل متضاد صورتحال نظر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم محنت کرنے والوں کو اللہ کا دوست ہونے کا مژدہ سناتے ہیں۔  یہ قرآن ہی تھا جس نے جاگیر دارانہ نظام اور چند ہاتھوں میں دولت کے ارتکاز کے خاتمے کے لئے سود کی حرمت، زکوۃ کی فرضیت اور وراثت کی تقسیم کے قوانین دنیا کو عطا کئے تھے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ بہت سے مغربی ممالک میں نسلی، جنسی اور مذہبی امتیازات کے خلاف Anti-discrimination laws  پاس ہو چکے ہیں لیکن مسلم ممالک اس معاملے میں اب بھی بہت پیچھے ہیں۔

3۔مذہب کی بنیاد پر امتیاز(Religious Discrimination)
امتیاز کی جو سب سے شدید اور نازک قسم ہمارے ہاں پائی جاتی ہے، وہ مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک ہے۔ ہمارے ہاں مذہب اور دین کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا ہم نے غور و فکر کرکے انتخاب کیا ہو۔ ذات پات کی طرح مذہب بھی ہمارے لئے ایک نسلی چیز بن گیا ہے۔ ہم اسی لئے مسلمان ہیں کہ ہمارے والدین مسلمان تھے۔ ہمارے پڑوس میں رہنے والا اس لئے عیسائی ہے کہ اس کے والدین عیسائی تھے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو ان دونوں کے طرزعمل میں کوئی فرق نہیں۔

دین اسلام کسی نسلی مذہب کا نام نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا پیغام ہدایت ہے جو آفاقی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی شخص اگر اپنے رب کی طرف خلوص نیت سے مائل ہونا چاہتا ہے تو اس کے لئے کھلی دعوت ہے کہ وہ اس دین کا انتخاب کرلے۔

اسلام اپنے ماننے والوں سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے اپنے طرز عمل سے اللہ کی حجت تمام کریں اور انہیں اس کے دین کا پیغام پہنچائیں۔ دعوت دین کے لئے محبت، شفقت، نرمی اور عدل و احسان مطلوب ہے جس کا ہمارے ہاں فقدان پایا جاتا ہے۔

قرآن مجید میں واضح طور پر ان غیرمسلموں ، جنہوں نے کبھی مسلمانوں سے جنگ نہیں کی اور نہ ہی ان کے خلاف معاندانہ رویہ رکھا ہو، کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتا ہے:  لا يَنْهَاكُمْ اللَّهُ عَنْ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ۔  (الممتحنہ 60:8)  ’’جن لوگوں نے تمہارے ساتھ دین کے معاملے میں کوئی لڑائی نہیں کی اور نہ ہی تمہیں جلاوطن کیا ، ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے اور منصفانہ رویہ اختیار کرنے سے اللہ تمہیں منع نہیں کرتا بلکہ اللہ تو انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔"

یاد رکھئے کہ قرآن کی ان آیتوں میں صرف ان غیر مسلموں کے ساتھ سختی کا حکم دیا گیا ہے جنہوں نے ہم سے جنگ کی ہو۔ اسلامی ریاست میں رہنے والے ہر غیر مسلم کو پوری طرح تمام انسانی حقوق فراہم کرنا اسلامی حکومت اور مسلم معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ ان کے ساتھ عدل و انصاف کرنا اور ان کے حقوق انہیں پہنچانا ، یہ مسلمانوں پر لازم ہے اور جو اس سے روگردانی کرتا ہے ۔

 اللہ پاک  اس سے باخبر ہے۔
 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلاَّ تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ۔  (المائدہ 5:8)  ’’
اے ایمان والو! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہو جاؤ اور سچائی اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ۔ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم عدل نہ کرو۔ یہ (عدل) تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ۔ بے شک اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔ ‘‘

اب معاملہ بالکل الٹ ہو چکا ہے۔ بہت سے غیر مسلم ممالک میں تو مسلمان آزادی سے اپنے دین پر عمل کرتے ہیں لیکن یہ سہولت بعض مسلم ممالک میں انہیں حاصل نہیں۔

4۔ رنگ کی بنیاد پر امتیاز(Color Discrimination)
(الحجرات49:11)  ’’اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے۔ عین ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ ہی (بالخصوص) خواتین ، دوسری خواتین کا مذاق اڑائیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ ایک دوسرے کی عیب جوئی نہ کرو اور نہ ہی ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔ ایمان کے بعد فسق و فجور کے نام بہت بری چیز ہیں۔ جو لوگ (ان گناہوں پر )توبہ نہ کریں ، وہی ظالموں میں سے ہیں۔ ‘‘

5۔ زبان اور علاقے کی بنیاد پر امتیاز (Geographic & Ethnic Discrimination)
چونکہ ہمارے ملک میں مختلف صوبے لسانی بنیادوں پر قائم ہیں اس لئے ہمارے ہاں لسانی اور صوبائی تعصب ایک ہی چیز سمجھا جاتا ہے۔ انگریزوں سے دوسرے نظریات کی طرح قوم پرستی کا نظریہ بھی ہندوؤں میں منتقل ہوا۔ 1930  کے عشرے تک یہ قوم پرستی جنون کی صورت اختیار کرچکی تھی۔ اس کے رد عمل میں مسلمانوں میں بھی ’’مسلم قوم پرستی‘‘ کے نظریے نے جنم لیا۔ حقیقتاً اس مسلم قوم پرستی کی بنیاد اسلام پر نہ تھی بلکہ اس بات پر تھی کہ نسلی مسلمان ایک قوم ہیں۔

یہ قوم پرستی صرف مسلم تک ہی محدود نہ رہی بلکہ مسلمانوں کے مختلف لسانی گروہ اس کا شکار ہوئے۔ مسلمانوں نے اسلام کا نام استعمال کرکے پاکستان حاصل تو کرلیا لیکن جیسے ہی ہندو قوم پرستی کا خطرہ ٹلا، مسلم قوم پرستی ، صوبائیت اور لسانیت میں تحلیل ہوگئی۔ صرف چوبیس سال کے عرصے میں اس قوم پرستی نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کرڈالا۔ اس کے بعد سے وطن عزیز پنجابی، سندھی ، پٹھان، بلوچ اور مہاجر کی قوم پرستیوں میں گھرا ہوا ہے۔ انہی قوم پرستیوں کے نتیجے میں ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی دو عشرے تک خون اور آگ کی ہولی کا شکار رہا ہے ۔

دین اسلام اپنے ماننے والوں کو علاقے اور زبان کی بنیاد پر تقسیم ہونے سے بچاتا ہے اور انہیں ایک ہی لڑی میں پرو کر بنیان مرصوص یعنی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کی تلقین کرتا ہے۔ اگر تحریک پاکستان سے لے کر آج تک ہمارے لیڈر اور عوام صحیح اسلامی روح کے ساتھ ایک امت مسلمہ بننے کی کوشش کرتے اور انہی بنیادوں پر پاکستان کی تعمیر کی کوشش کرتے تو نہ بنگلہ دیش بنتا اور نہ ہی کوئی اور لسانی جھگڑا کھڑا ہوتا۔

 ہمارا دین ہمیں ایک قوم پرست گروہ بننے کی بجائے ایک امت بننے کا حکم دیتا ہے جو خالصتاً اخلاقی اصولوں کی بنیاد پر اٹھے اور دنیا میں حق و صداقت کا پرچار کرے۔ دین اسلام کی تمام تعلیمات ہمیں ہر قسم کے امتیاز سے بچ کر خالصتاً اللہ کا ہوجانے کی دعوت دیتی ہیں۔ یہ ہمارے لئے شرم کا باعث  ہے کہ ہمارے پاس ہدایت کا نور ہوتے ہوئے بھی اہل مغرب ان نسلی، علاقائی، مذہبی، اور لسانی تعصبات سے نجات حاصل کرنے میں ہم سے آگے نکل گئے ہیں۔ وہاں امتیاز کے خلاف (Anti-Discrimination)   قوانین بنائے جاچکے ہیں اور میڈیا کے ذریعے عوام الناس میں اس کا شعور بھی بیدار کیا جارہا ہے۔

قرآن وحدیث کی ان تصریحات سے یہ تو واضح ہوجاتا ہے کہ اسلام کسی ذات پات، رنگ ،نسل اور قومیت کو فضیلت کی بنیاد نہیں مانتا بلکہ صرف اورصرف تقویٰ اور پرہیزگاری کو ہی فضیلت کامعیار قرار دیتا ہے اورقوم پرستی کی بنیاد پر رونما ہونے والے اختلافات کا قلع قمع کرتا ہے جیسا کہ انصار کے واقعہ سے واضح ہوا۔

۔قومیت پرستی بہت سی خطرناک معاشرتی بیماریاں جنم دیتی ہے مثلا:
۱۔قوم پرستی سے انسان کی ذہنی صلاحیتیں محدود ہوجاتی ہیں۔
۲۔قوم پرستی سے انسان میں قبول حق کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔
۳۔قوم پرست ملکی وملی مفاد میں کم اور قوم اور قبیلے کے مفاد میں زیادہ سوچتے ہیں جس سے اجتماعیت کی روح متاثر ہوتی ہے۔
۴۔یہ قوم پرستی ہی کا اثر تھا کہ یہود اسلام لانے سے محروم رہے حالانکہ اُنہیں حضور اقدسﷺ کے نبی برحق ہونے کا اپنی اولا دسے زیادہ سچا یقین حاصل تھا لیکن وہ اسی وجہ سے ایمان نہیں لائے کہ حضورﷺ اُن کی قوم میں پیدا نہیں ہوئے۔



حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہ تو کسی کو اپنے آباؤ اجداد کے نیک اعمال کے سبب جنت میں داخل کیا جائے گا اور نہ ہی ان کے برے اعمال کے سبب اسے کوئی سزا یا ذلت دی جائے گی۔ ہر کسی کے عزت و مرتبہ اور درجات میں ترقی اس کی اپنی کاوشوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والے تقویٰ کے سبب ہوگا۔ افسوس اس بات پر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے بالکل برعکس ہم نے اپنی کاوشوں کو چھوڑ کر اپنے آباؤ اجداد کے کارناموں ہی پر فخر کرنا شروع کردیا ہے۔

(‌مضمون کی تیاری کے لیئے نیٹ کے کئی مضامین اور اسلامی کتابوں سے استفادہ کیا گیا )

:دیگر مضامین
(28.04.2015) صحت مند رہنے کی اہمیت ----- ۔۔ از:‌ڈاکٹر نگہت نسیم 
(04.03.2015) اکثر اہل ادب ،عورت کے معاملے میں بے ادب کیوں؟ ۔۔ از:‌ ڈاکٹر نگہت نسیم‎
(01.03.2015) ہم بزرگوں کی عزت کیوں کریں ۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(16.02.2015) انفرادی تربیت ہی عالمی امن کی پرورش کر سکتی ہے۔ از:‌ڈاکٹر نگہت نسیم
(13.02.2015) کیا ہم کسی کے اچھے دوست ہیں ۔۔۔۔ ؟‌ از:‌ ڈاکٹر نگہت نسیم
(12.02.2015) ہندوستان کو جمہوریت کی حقیقی فتح مبارک ہو ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(20.01.2015) میں کوئی نیا کالم کب لکھونگی ؟ ۔۔۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(16.01.2015)  پاکستان میں طالبان سے زیادہ خطرناک طالبانی سوچ ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(09.01.2015) کیا اسلام کی بدنامی کے لیئے خود مسلمان ہی کافی نہیں ہے؟ از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم۔ سڈنی
(02.01.2015) آزاد ملک پاکستان کے آزاد شہری اتنے بے بس و لاچار۔از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(26.12.2014) اے ہمارے قائد اعظم ہم شرمندہ ہیں ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔ سڈنی 
(17.12.2014) لعنت خدا کی بھیجئے ایسے نظام پر ۔ از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(16.12.2014) اسی ایویں نہیں کلے رہ گئے آں ۔۔ سقوط ڈھاکہ ؛از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(25.09.2014) مسجد اب اللہ کی نہیں ، سُنی، شیعہ ، بریلوی ہے ۔ از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(07.09.2014) چودھری نثار علی خان مان جاہیئے آپ ہار گئے ، از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(02.09.2014) مضطرب پاکستان کا پرسکون اور گمشدہ صدر۔ از:‌ڈاکٹر نگہت نسیم
(01.09.2014) دوسروں کو غلط ثابت کرنے کی بجائے اپنے اندر جھانکیں۔از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔۔۔ اشاعت مکرر
(18.07.2014) او مائی گوڈ ۔۔اب مسلمانوں کا کیا ھو گا ؟ ۔از:‌ ڈاکٹر۔نگہت نسیم
(14.07.2014) طاقت نظریے کو کبھی شکست نہیں دے سکتی ۔ از:‌ ڈاکٹر نگہت نسیم
(08.07.2014) سب مل کے مسلماں کہو 'داعش' پہ ہو لعنت ۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں