ٹی وی لنک ، سہارا ریڈیو ، لٹریچر اینڈ کلچر انٹرنیشنل کے زیر اہتمام اتوار چھبیس اپریل کی شام پانچ بجے ایک انتہائی کامیاب تقریب منعقد ہوئی جسمیں شہر کے منتخب چیدہ چیدہ افراد نے شرکت کی جن خواتین کی خاصی تعداد شامل تھی
اس تقریب کی نظامت میزبان اور شاعرہ صدف مرزا نے کی
اس تقریب میں لندن سے آئے ہوئے شاعر،ادیب، مرثیہ نگار اور عالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ صفدر ھمدانی نے لگ بھگ ایک گھنٹے تک مختلف دینی، علمی، ادبی،سماجی اور فکری موضوعات پر کھل کر گفتگو کی
انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں اہل قلم اور مسجد و منبر پر قابض لوگوں کی ایک بڑی تعداد بے عمل اور غیر فعال ہے اور انہوں نے عام مسلمان کو سوچنے سمجھنے اور سوال کرنے سے دور رکھا ہے۔ اپنی گفتگو میں انہوں نے شاعر مشرق علامہ اقبال کے حوالے سے کہا کہ علامہ کی بھی اس بے عمل ملا سے یہی جنگ تھی جس نے اللہ کے جدید ترین اور فعال دین کو بے عملی کی تصویر بنا دیا ہے
ادب کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ لوگ شعر لکھنے والے کو شاعر سمجھتے ہیں حالانکہ حقیقی شاعر دراصل زمانے کا امام اور راہ دکھانے والا ہوتا ہے جبکہ ہمارا شاعر ادیب خود راہ گم کردہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی شور دیا کہ وہ دین جسکو پروردگار اپنا پسندیدہ دین کہا اور کلام پاک میں ارشاد فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے دین کے طور پر اسلام کو پسند کیا اُس دین کے ماننے والوں نے اللہ کی اس پسند کا کیا حال کیا
اسلام جیسا دین فرقوں اور مسالک میں بٹ چکا ہے اور نام نہاد اہل قلم اور مولانا حضرات عوام کو بے وقوف بنانے اور حصول علم سے دور رکھنے کو ہی اپنی کامیابی تصور کرتے ہیں
تقریب میں موجود خواتین و حضرات نے اس طویل گفتگو کو اتہائی دل جمعی اور غور و فکر سے سنا اور لگ بھگ تمام حاضرین نے صدف مرزا کو اس کامیاب تقریب پر مبارکباد دی
تقریب کے دوسرے حصے میں مقامی گلوکار پرویز اختر نے کلام اقبال پیش کیا جس کی داد حاضرین نے دل کھول کر دی۔
جناب پرویز اختر نے اس موقع پر اپنا استادانہ رنگ دکھایا اور کسی پیشگی تیاری کے بغیر جناب صفدر ھمدانی کی ایک غزل برجستہ دھن کے ساتھ پیش کی جس نے حاضرین کو حیران کر دیا
آئینے کو ماری ٹھوکر بارش نے
شاید آگ لگا دی باہر بارش نے
تقریب کے اختتام پر حاضرین کے لیئے عشایئے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ یوں لگ بھگ پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والی یہ تقریب انتہائی کامیابی سے اختتام پزیر ہوئی