ملت جعفریہ کے علم برادروں سے ایک ایسے مظلوم کا استفسار ،جس کے ساتھ کذب ،اخلاقی اور روحانی دہشت گردی کی جارہی ہے؟

مورخہ 16مارچ 2015 بوقت دس تا گیارہ بجے شب حق زہراہ سلام اللہ علیہ کے موضوع پر پروگرام ’’ ورفعنا لک ذکرِ ک ‘‘ کے خلاف ایک بے بنیاد اور بے حس پروپنگنڈ کی بنیاد پر یکطرفہ کاروائی کرتے ہوئے پروگرام کو معطل کر دیا گیا
۱۔،’’ جس میں کہا گیا کہ اہل سنت و جماعت نے اعتراض کرتے ہوئے ’’ ادارہ آف کام ‘‘ میںشکایت کی ہے
۲۔ مجلس علمائے شیعیہ یورپ نے شدید طور پر تحریری اعتراض اُٹھایا ہے
( واضع رہے کہ اس سلسلے میں راقم نے بذات خود صدر ایم یو ایس مولانا سید علی رضا رضوی سے پوچھا تو ان کی معلومات کے مطابق ایسے نہ صرف تحریری بلکہ زبانی اعتراض کا بھی وجود نہ پایا گیا ۔ اس سلسلے میں صدر صاحب سے رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔ )
’’ یاد رہے مندرجہ بالا اعتراضات کا تا حال کوئی ثبوت مظلوم راقم کو بار بار طلب کرنے کے باوجود مہیا نہیں کیا گیا ‘‘ اور بد اخلاقی کی انتہا یہ ہے کہ پروگرام ملتوی کرنے کی اطلاع مذکورہ ٹیلی ویژن کی خود پسند انتظامیہ کی جانب سے نہ دی گئی۔ اور راقم کے استفسار پر انتہائی بھنونڈے انداز میں اعتراضات اُٹھائے گئے ۔ اور پروگرام کے ملتوی کرنے کا حکم نامہ زبانی کلامی صادر ہوا۔
جب کہ پروگرام دیکھے بغیر یہ فیصلہ کیا گیا اور پروگرام کے باقی تمام مبادیات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اتحاد بین مسلمین کی پخ لگا کر پروگرام کو جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔جبکہ راقم یہ پروگرام گزشتہ پانچ برس سے بہ دستور بریڈفورڈ ، برمنگھم مانچسٹر اور اب لندن سے پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا تھا بشمول اپنے پسران کے ایک الگ پروگرام کے
’’ Wise VIsta‘‘
سیمت ۔ قابل ذکر ظلم کہ اہل بیت ٹی وی پر بھی یہ کہا گیا کہ ہم نے راقم کو معطل کی ہے اور تم نے ان کوپروگرام کی نشریات کے لئے بٹھا لیا ہے ۔ واضع ہو کہ یہ ذکر تمام کا تمام رسول و آل رسول ﷺ کی مدحت کے لئے تھا۔ نہ کہ میری ذات سے متعلق
۳۔ اس بیہمانہ حرکت سے دو ہفتہ قبل میری شدید بیماری کے باوجود میرے شیڈول پروگرام لگانے کے بجائے کوئی اور پروگرام نشر کیا گیا اور انتظامیہ کی ایک اور بد اخلاقی حرکت کہ فون بھی نہ سنا گیا ۔ اگلے روز فرجاد کا پروگرام Wise Vista نشر کرنے کے بجائے کوئی اور پروگرام نشر کیا گیا ۔ جسے میں نے میجر سید جاوید کو فون کر کے نشریات کو روک کر
Wise Vista
نشر کروایا ۔ ایک بات واضع رہے کہ راقم کو ہدایت ٹی وی کی انتظامیہ نے ایک دوسرے ٹی وی ڈی ایم ٹی وی سے منت سماجت کر کے بلایا تھا۔ جب میں سنی عقیدہ رکھتا تھا ۔
۴۔ اس سے پشتر ایک اور بے حسی پر مبنی مضحکہ خیز اور تضیحک آمیز رویہ طلبائے علم بھی تاریخ میں شامل کر لیں۔ صبح چھ بجے راقم اپنے نو عمر بچوں کے ہمراہ ایک طویل مسافت کر کے برمنگھم مقام نشریات بہنچا تو مقام نشریات مقفل تھا ۔اور اس واقع کو انتہائی بھونڈئے انداز سے انتظامیہ کی بے حسی کی نذر کر دیا گیا ۔ اِس واقع سے راقم ،جو کہ اپنی عمر کے پیتنس سالہ نشریات اور بلاغت پر مبنی تجربہ کی نہج پر تھا اندازہ ہوا کہ اتحاد بین مسلمین سے پہلے ہمیں اتحاد بین مومننین بلخصوص اتحاد بین علما اور عرفا کی شدید ضرورت ہے!۔جن پاکیزہ احسا سا ت کی بنیاد پر کثیف رد عمل اور ناپاک ظلم وجبر کی سزا کا شکار ہوں ۔کیا ایم یو ایس ایسے اعمال قبیح کا موخذا کر سکتی ہے ؟ یا انصاف کے لے آیت اللہ سیستانی مدظلہ اعلی یا سربراہ اعلیٰ آیت اللہ خامنائی کو زحمت دی جائے ؟ یا اہل سنت و جماعت سے اخلاقیات کی رہمنائی حاصل جائے ۔ یا دنیا کی بنائی ہوئی عدالتوں سے آیہ مباہلہ کے آخری حصے کے مطالب اور معنی جاننے کے لئے رابطہ کیا جائے ۔
۵۔It is pertinent to mention
کہ مظلوم راقم نےاہل سنت و جماعت سے مذہب حقہ کی جانب ہجرت کی اور بحمد للہ مخدومہ کائنات بنت مصطفی سید ہ النسا سلام اللہ علیہا کی محبت کا غلام ہے اور رہے گا انشااللہ اور شہزادی کا ہی سایہ مجھ جیسے مریض قلب کا آسرا ہیں۔
الحمد اللہ ! پانچ پسران ، دختر واحد اور زوجہ سمیت تمام خاندان اپنے اور ماں کی کوکھ سے جنم لنیے والے اقرابا، سنی دوست احباب، بالخصوص علما اہل سنت کی تمام تر دشمنی اوردھمیوں کے باوجود علیؑ علیؑ کرتے ہوئے مذہب حقہ پر سر پرستی امام زماں ؑکے زیر سایہ قائم و دائم ہیں ۔ مجھے یہ بات لکھنے میں کوئی عار نہیں کہ ملت جعفریہ کی خدمت کرنے کے لئے میں اور میرے اول الذکر پسران دختر اور زوجہ جو کہ اعلی تعلیم یافتہ بھی ہیں اور تمام کے تمام طبی شعبہ سے منسلک ہیں ۔ اس بیان کردہ مذموم واقعہ کے باعث شدید مضطرب ہیں اور میرے قلبی مرض کی خرابی میں اضافے باعث بھی ۔ کیونکہ دوسر ی جانب اہل سنت و جماعت کے علما، مفکر ، مشائخ اور عوام کی جانب سے بہ دستور یہ طنہ زنی کی جارہی ہے کہ ہمارے خلفا کی شان میں گستاخی کرنے والوں کا ایسا ہی انجام ہوتا ہے اور آخرت اس سے بھی بری۔ اور بار بار یہی کہا جا رہا ہے کہ شیعہ ہونے کا مزہ لو۔
آخر میں صرف اتنی کوشیش اور خواہش ہے کہ ہم مل کرسب سے پہلے اتحاد بین المومینن ،اتحاد بین العلما وزعمااور پھر اتحاد بین المسلمین کے لئے راہ ہموار کرنے کا نیک عمل جاری رکھیں دوستوں کو دشمن نہ سمجھں۔
Because Charity Begnis At Home
بمعنی دیگر اول خویش بعد درویش۔
اہل دانش اہل ظرف اور اہل معرفت کے لئے قران کی یہ آیت ، حدیث مبارکہ اور امام المتقین کا ارشاد رہنمائی کے لئے رقم کیا جا رہا ہے ۔
يَا أَيُّہا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا ۚ إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ ۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّـهِ الْغَرُورُ ﴿٣٣﴾
انسانو! اپنے پروردگار سے ڈرو اور اس دن سے ڈرو جس دن نہ باپ بیٹے کے کام آئے گا اور نہ بیٹا باپ کے کچھ کام آسکے گا بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے لہٰذا تمہیں زندگانی دنیا دھوکہ میں نہ ڈال دے اور خبردار کوئی دھوکہ دینے والا بھی تمہیں دھوکہ نہ دے سکے
ترجمہ( علامہ جوادی) تنزیل قران
حدیث رسول پیامبر اکرمﷺ
اَلدُّنیَا مَلعُونَۃٌ مَّلعُوُنٌ ماَ فِیھَا اِلاَّ ماَکَانَ لِلَّہ مِنھا
دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے سب پر لعنت سوائے اُس چیز کے جو محض اللہ تعالی ٰ کے لئے ہے۔
ارشاد، امیرا لمومنین علی ابن ابیطالب علیہ السلام
تمہارے تین قسم کے دوست ہیں اور تین قسم کے دشمن ، تمہارا دوست ، تمہارے دوست کا دوست،
تمہارے دشمن کا دشمن اور دشمن یہ ہیں ، تمہار دشمن، تمہارے دوست کا دشمن اور تمہارے دشمن کا دوست۔اس ارشاد کی روشنی راقم اہل بیت کا دوست نہیں غلا م ہے سوچ لیں اس سے دشمنی کا کیا مطلب ہے۔