گذشتہ قسط میں ہم سال ہجری کا تعین اور پہلی صدی ہجری کے اہم واقعات تک پہونچے تھے ۔آیئے اب اورآگے بڑھتے ہیں۔ یہود یوں نے پرو پیگنڈہ شرو ع کر رکھا تھا کہ انہو ں نے جادو کردیا ہے ا ور جلد ہی ا نصار ا ور مہاجرین کا نام مٹ جائے گا۔ اب آئندہ ان کے یہاں اولادِ نرینہ پیدا نہیں ہو سکتی ۔ گو کہ عرب مسلمان تو ہو گئے تھے، مگر یہو دیو ں کے اس نفسیاتی حربے سے تھوڑے تشویش میں مبتلا تھے۔ لیکن یہ تشویش بھی اللہ تعالیٰ نے فو راً ہی اپنی رحمتِ کاملہ سے دور فرما دی کہ سن یکم ہجری کے اوائل یعنی ما ہ ِ شوال میں حضرت عبد اللہ بن زبیر پیدا (رض) ہو ئے۔ ان کی پیدائش پرانکے والد حضرت زبیر (رض) نے انکو حضور (ص) کی گود میں لے جاکر لٹا یا۔ حضور (ص) بہت خوش ہو ئے اور کھجور طلب فرمائی اس میں سے نصف تو ڑ کر پہلے خو د اچھی طرح چبائی اور پھر نو زا ئیدہ کے منہ میں ڈالدی اور باقی نصف کو ا بال کر گھٹی بنا ئی گئی اور وہ بھی حضور (ص) کے رو بروچٹا دی گئی۔ یہ مدینہ کے مہاجرین میں وہ پہلا بچہ تھا جس نے پہلی چیز جو چکھی وہ حضور (ص) کا لعاب ِ دہن تھا اور یہ ہی وہ سوار تھا جس کی میت کو بنی اُمیہ نے تین دن تک پھا نسی پر لٹکا ئے رکھا، جسکو دکھ زدہ ماں حضرت اسماء نے دیکھ کر فر مایاکہ دیکھو کیسا اچھا سوار ہے جو سواری سے اترتا ہی نہیں۔ جرم یہ تھا کہ انہو ں نے ان کی سیاد ت کو چیلینج کیا تھا وہ اس خیال میں تھے کہ یہ کم از کم حرم کا احترام مدِ نظر رکھیں گے مگر یہ خطرہ حضرت امام حسین (ع) نے تو بھانپ لیا ا ور حضرت عبد اللہ بن زبیر (رض) کے مشورے کو نہ مانتے ہو ئے مکہ اور مدینہ دو نو ں کو میدانِ کار زار بننے سے بچا لیا تھا۔
مگر انہو ں نے ا ندازہ کر نے میں حسنِ ظن سے کام لیا ا ور اہلِ اقتدارنے بھی حرم شریف کی بے حرمتی کرنے میں ذرا بھی تحمل نہ برتا۔ اس طرح حضرت امام حسین (ع)کے خدشات کی تصدیق بھی ہو گئی۔کیو نکہ ابھی تک بعض لوگ اس کے قائل ہیں کہ اگر وہ مکہ یا مدینہ میں قیام فر مارہتے تو واقع کر بلا رو نما نہیں ہوتا۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر (رض) کو ایک اور سعادت بھی حاصل تھی کہ انہو ں نے حضور (ص) کے سایہ عا طفت میں پرورش پائی تھی کیو نکہ انکی خالہ اُم المو نین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے انکی پرورش فر مائی او ر اسی مناسبت سے وہ ام عبد اللہ کہلائیں ۔انکی پیدائش کے بارے میں کچھ مورخین کا اختلا ف ہے واقدی اس خیال کے حامی ہیں کہ حضرت نعمان(رض) بن بشیر کی پیدائش جو کہ انصار میں سے تھے وہ پہلی پیدائش تھی جو کہ بقول انکے چودہ ماہ بعد اور حضرت زبیر (رض) اٹھارہ ماہ بعد پیدا ہوئے۔لیکن اسکے خلاف دو مصدقہ احا دیث ہیں جو اس کی نفی کرتی ہیں ۔پہلی تو حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے اور د و سری خود حضور (ص) سے۔ پہلی قتیبہ نے ابی اسامہ ،ہشام بن عروہ اورانکے والد سے سنا کہ حضرت عائشہ (رض) نے فرما یاکہ اسلام میں پیدا ہو نے والے پہلے بچے عبد اللہ بن زبیر (رض) ہیں۔دوسری حدیث یہ ہے کہ جب عبداللہ اریقط کے ساتھ جب وہ مدینہ سے مکے واپس جانے لگے تو حضور (ص) نے زید (رض)بن حارث اورا با رافع کو بھی ساتھ بھیج دیا تاکہ وہ وہا ں سے آپکے اور ابو بکر (رض) کے اہل و عیال کو لے آئیں، اسکے کچھ ہی عرصے کے بعد عبداللہ بن زبیر (رض) پیدا ہو ئے “ان دو نو ں میں باقی تفصیلا ت وہی ہیں جو کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔اسی سال ایک ا ور اہم واقعہ حضرت کلثوم (رض) بن ہدم کی وفات تھا ۔یہ ان لو گو ں میں سے تھے جو کہ حضور (ص) کے مدینہ پہو نچنے سے پہلے ایمان لے آ ئے تھے جن کا تعلق بنی عمرو بن عو ف سے تھااور انتہا ئی عمر رسیدہ آ دمی تھے حتیٰ کہ چلنا پھر نا بھی انہیں دشوار تھا۔لیکن جیسے ہی انہیں پتہ چلا کہ حضور (ص) نے قبا ءمیں ورودِ مسعود فرما یا اسی شام وہ قباءپہنچ گئے ا ورآپکے (ص) صحابہ کرام سے حضرت سعد (رض)بن ر بیع کے مکان پر تمام رات اسلام اور حضور (ص)کی حیاتِ طیبہ کے بارے میں باتیں کرتے رہے حتیٰ کہ صبح کی سفیدی نمو دار ہو گئی۔ طبری (رح) انکے سعد بن زرارہ سے بھی پہلے وفات پا نے کے قائل ہیں مگر با قی مورخین اولیت حضرت سعد (رض) بن زرارہ ہی کو دیتے ہیں جیسا کہ ہم پہلے ہی ان کی وفات کے سلسلہ میں عرض کر چکے ہیں۔
حضرت عائشہ (رض) کی رخصتی:جیسا کہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ حضور (ص) کا عقد ِ مبارک مکہ ہی میں ہو چکا تھالیکن رخصتی نہیں ہو ئی تھی۔ لہذا جب مسجدِ نبوی(ص) اور حجرات تیار ہو گئے ا ور حضرت عائشہ (رض)مدینہ پہنچ گئیں تو رخصتی عمل میں آئی ۔اسطرح یہ پہلی شادی تھی جو ہجرت کے بعد انجام پز یر ہو ئی۔لیکن یہاں بھی اختلاف ہے اور بعض مورخین اس کے قائل ہیں کہ چھ ماہ پہلے حضور (ص) کا ام المو نین حضرت سودہ (رض) سے نکا ح ہوا اور اسکے بعد حضرت عائشہ (رض) کی رخصتی عمل میں آئی۔ میرے خیال میں یہ اشکال شاید اس روایت سے پیدا ہو ا کہ حضرت سودہ (رض) نے عائشہ (رض) کوبنا یا سنوار ا ورنہ یہ امر مصدقہ یہ ہے کہ وہ پہلے سے منکو حہ تھیں اور رخصتی بھی پہلے ان ہی کی ہو نی چا ہیئے تھی۔ اما م احمد (رح)بن حنبل نے ان کی رخصتی کے بارے میں وکیع، سفیان،اسما عیل بن امیہ،عبد اللہ بن عروہ اورانکے والد (رض)اور خود حضرت عا ئشہ (رض) کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے فر مایاکہ ”رسول اللہ (ص) نے مجھ سے شادی شوال کے مہینے میں کی یعنی میری رخصتی اسی ماہ شوال ہوئی،میرے ساتھ شادی سے زیادہ شاید ہی کسی اور عورت کے ساتھ شادی سے حضور (ص)خوش اور مطمعن ہو ئے ہوں “ اور پھر حضور(ص) سے منسوب یہ ارشادِ گرامی جو کہ صحیح بخاری میں حضرت عمرو (رض) بن عاص سے روایت کیا گیا ہے کہ ا نہوں نے رسو ل اللہ(ص) سے ایک دن دریافت کیا کہ آ پ کو عو رتو ں میں سب سے زیادہ کون عزیز ہے تو حضور(ص) نے فرما یا ”عائشہ (رض) “ عمرو (رض)بن عاص کہتے ہیں اسکے بعد میں نے پو چھا مردوں میں تو فرما یا ”ان کے باپ “۔ اس سے ثابت ہو تا ہے کہ یہ حضرت خدیجہ (رض) کے بعد سب سے کامیا ب شادی تھی۔ اور بقول مور خین کے اگر حضور (ص)کی شادی ِ مبارک حضرت عائشہ (رض) سے نہ ہو تی تو نصف سے زیادہ احادیث مروی نہ ہو تیں اور خصو صاً خوا تین کے بارے میں تو ز یاد ہ تر احکا مات انہیں کی معر فت پہونچے۔ یہا ں ایک اور تو ہم پرستی کی تردید ضرو ری ہے جو کہ ہم میں جانے کہاں سے رائج ہو گئی ، وہ یہ ہے کہ شوال میں شادی کر نا سعد نہیں۔ اس سے زیادہ مسعو د شادی کس کی ہو سکتی ہے جیسی کہ حضور (ص) کی اور حضرت عائشہ (رض) کی تھی، تمام نکاح خواں ہر خطبہ نکاح کے بعد د عا مانگتے ہیں کہ اے اللہ میاں بیوی میں ایسی الفت پیدا کر جیسی کہ حضور (ص)اور حضرت عائشہ (رض) کے درمیان تھی۔
نمازحضر کی رکعتوں میں اضا فہ: ابنِ جریر (رح) کہتے ہیں کہ سن ہجری کے سال اول میں ہی میں نمازِ حضر میں اضا فہ کیا گیا،اس سے قبل سفر اور حضر دو نوں میں دو ہی رکعتیں پڑھی جاتی تھیں نماز حضرمیں یہ اضا فہ رسول اللہ (ص) کی ہجرت کے بعد مدینہ میں ماہِ ربیع الآخر کے مہینے میں کیا گیا ۔جب ا س مہینے کی بارہ راتیں گذر چکی تھیں۔اس کے بارے میں آج بھی اہلِ حجاز میں کو ئی اختلاف نہیں ہے۔ایک اور روایت میں امام بخاری نے معمر کے ذریعہ زہری ،عروہ ، اور حضرت عائشہ کے حوالے سے جو روایت پیش کی ہے اس میں خو د حضرت عائشہ نے فرما یا؛ کہ ”جو نماز ا ول، اول جب فرض کی گئی تھی اس میں دو رکعات تھیں۔ میں اگر چہ سفر میں دو رکعات ہی پڑھتی تھی، لیکن حالتِ حضرمیں اس میں اضا فہ کر لیتی تھی“ لیکن ایک اور روایت بیہقی ،حسن بصری (رح) کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ جب نماز فرض کی گئی تو قیا م کی حالت میں چار رکعات ہی تھیں ۔ واللہ عالم ۔ لیکن سفر میں ہمیشہ دو رکعات ہی پڑ ھی گئیں ۔ مگرآج کل کچھ جدت پسندو ں کے نزدیک یہ جدت کہ “ سفر آسان ہو گیا ہے لہذا قصر نماز نہ پڑھی جائے “ایک طرح سے اسلام کے قیامت تک کے لئے ہو نے سے انکار ہے ۔جو وہ فیشن میں یا نا دانستہ طور پر اپناتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔ اور اسلام کی اصل روح کے مطابق عمل کر نے کی تو فیق عطا فر ما ئے (آمین) یہاں یہ نکتہ ہر مسلمان کو ذہن میں رکھنا چاہئیے کہ ہمیشہ سے اورہمیشہ تک ہو نے والے کل واقعات اورایجادات کو علم باری تعالیٰ محیط کئے ہو ئے ہے۔ باقی آئندہ