ہم گذشتہ قسط میں پہلی صدی ہجری کہ واقعات قلم بند کرتے ہوئے یہاں تک پہنچے تھے کہ حضر میں پوری نماز شروع کی گئی ۔آئیے اب آگے بڑھتے ہیں۔ابنِ جریر (رح) اور واقدی(رح) اس خیال کے حامی ہیں کہ قریش کو مسلمانوں کا یہاں بھی چین سے بیٹھنا ایک آنکھ نہیں بھایا اور انہو ں نے ریشہ دوانیاں شروع کردیں۔ پہلے تو یہ خبر ملی کہ ان کا ایک قافلہ مدینہ کی طرف آ رہا ہے۔ اور اس خبر کے ذمہ دار وہ صحابہ کرام (رض) تھے جن کو حضور (ص) اکثر جاسو سی کے لیے بھیجتے رہتے تھے۔اس زما نے میں آج کی طرح سٹیلائٹ تو تھے نہیں کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ تجارتی قافلہ ہے یا فو جی ،صرف گرد اڑتی دیکھ کر غنیم کی فو ج اور تعداد کا اندازہ کرتے تھے۔ لہذا مخبروں نے خبر دی کہ غنیم کا ایک دستہ مدینہ کی طرف آرہا ہے۔ حضور (ص) نے فوراً ایک دستہ ماہ رمضان میں روانہ کیا جس میں تیس مہا جر صحابہ کرام (رح) شامل تھے ۔اس دستے کے قائد حضرت امیر حمزہ (رض)اور پرچم بردار حضرت ابوا لمرثد الغنوی (رض) تھے۔ اس کو امن کی علامت کے طور پر حضور (ص) نے سفید پرچم عطا فر مایا جس کا سامنا ابوجہل سے مجدی بن عمرو میں ہوا ابو جہل کے ہمراہ تین سو افراد تھے لیکن اس وقت جنگ کی نو بت نہیں آئی۔اسکے بعد دو سرا دستہ حضور (ص) نے حضرت عبیدہ بن حارث (رض) کی قیاد ت میں ماہِ شوال میں روانہ کیا جس میں ستر مہا جر تھے اور انہیں بھی سفید پرچم ہی عطا فرمایا۔اسکے پر چم بردار حضرت مسطح (رض) بن اثاثہ تھے اس دستے کو جب جفّہ کے درمیانی حصہ تک بھیجا گیا تواس کا آمناسامنا قریش کے قافلے سے احیاءکے مقام پرہوا اس قافلے کی قیادت سفیان صخر بن حرب کر رہا تھااس کی تعداد بھی تقریباً دو سو تھی مگر سوائے دور سے تیر اندازی کے باقاعدہ مقابلہ نہیں ہوا۔ اس کے بعد حضور (ص) نے ماہِ ذیقعدہ میں حضرت سعد بن (ص) ابی وقاص کی قیادت میں ایک چھوٹا سا دستہ بھیجا۔اس کو بھی سفید پر چم عطا فر ما یااور پر چم بردار حضرت مقداد (رض) بن ا سود تھے۔اور یہ خرار کی طرف روانہ ہوا جو کہ بیس یا اکیس افراد پر مشتمل تھااور وہ دن کے وقت آرام اور رات کو سفر کرتا ہوا پانچو یں روز خرار جا پہنچا چو نکہ انہیں حکم تھا کہ خرار سے آگے نہ بڑ ھیں۔کیونکہ اس سے پہلے والا دستہ سعد عبیر تک گیا تھا جو کہ ایک منزل اس سے آگے تھا۔یہ ہی تین دستے تھے جو سن یکم ہجری میں روانہ کیئے گئے او ر بغیر جدال و قتال کے واپس آگئے۔اس سے یہ ظا ہر ہو تا ہے کہ مسلما نو ں نے کبھی جنگ میں پہل نہیں کی بلکہ ہمیشہ امن کو تر جیح دی یہ دستے صر ف سر حد کی نگرا نی کے لیے تھے۔ یہاں ہم یہ بتا تے چلیں کہ وہ تمام دستے جو حضور (ص) نے اپنے دور میں کہیں بھی روانہ کیئے اور خود اس میں شرکت نہیں فر ما ئی “سریہ “کہلا تے ہیں اور جن میں شرکت بہ نفسِ نفیس فر ما ئی وہ “غزوہ “کہلا تے ہیں۔ وہ غزوات جن میں حضور (ص) نے بہ نفسِ نفیس شرکت فرمائی ۔ مورخین کے مطابق سترہ یا انیس ہیں سب سے پہلا غز وہ، غزوہ ابو اءیا ودّان ، دوسرا، بواط اور تیسرا عشیرہ ہے، جیسا ہم پہلے کہہ چکے وہ اوپر دی گئی تعداد سے پتہ چلتا ہے کہ اس پر بھی اختلاف ہے کہ حضور (ص) نے کل کتنے غزوات میں شرکت فر مائی۔ بعض کے نزدیک ستر ہ ہے اور بعض کے نزدیک انیس لیکن اس پر سب متفق ہیں کہ آپ نے جدا ل و قتال صرف آ ٹھ غزوات میں کیا جو یہ ہیں ”بدر ،اُحد ،احزاب ، مریسیع ،قدیر ، خیبر ، مکہ اور حنین“ جس میں سے غزوہ ابواءپہلا تھا جو کہ سن دو ہجری میں واقع ہوا۔ امام بخاری (رح)لکھتے ہیں کہ اس کی کمان حضور (ص) نے حضرت حمزہ (رض) بن عبد المطلب کو عطا فر مائی لیکن اس میں یہ کہیں نہیں پتہ چلتا کہ حضور (ص)نے کسی کو اپنا (ص) نائب مدینہ شریف میں بنا کر چھو ڑا ہو اور نہ ہی کو ئی اس کی وجہ بیان کی گئی ہے اس سے یہ ہی اندازہ ہو تا ہے کہ یہ کو ئی بہت ہی مختصر سا سفر تھا ورنہ حضور (ص) کا طریقہ کار یہ ہی تھا کہ وہ (ص) مدینہ میں اپنی غیر مو جود گی میں کو ئی نائب چھوڑ تے تھے ابنِ ہشام نے اس کی وجہ جو بتائی ہے وہ یہ ہے کہ حضور (ص) کا قصد بنی ضمرہ کو مطیع کرنے کا تھا کیونکہ یہ قبیلہ تجارتی قا فلو ں کی گذر گاہ سے قریب تھا لہذا اسے محفوظ کر نا بہت ضروری تھا آگے وہ لکھتے ہیں کہ حضور (ص) ایک ہی منزل سے واپس آگئے کیونکہ ان سے صلح ہو گئی ۔ فحشی بن عمرو الضمری انکا سردار تھا جس نے صلح کی شرائط طے کیں۔ یہا ں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ وہ قبیلہ کئی منا زل کے فا صلے پر رہتا تھا جب کہ حضور (ص) پہلی ہی منزل سے کیوں واپس آ گئے۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ انہیں جیسے ہی خبر ملی ہو انہوں نے اپنا نما ئندہ بھیج دیا ہو۔ ایک بات اور بھی ہے کہ اسی قبیلے کے ساتھ معاہدے کا ذکر غزوہ عشیر ہ میں بھی ملتا ہے ممکن ہے وہ ایک مرتبہ معا ہدہ کر کے پھر گئے ہوں اور دو بارہ لشکر سر پر دیکھ کر پھر صلح کرلی ہو جو کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ اس مو قع پر گفتگو سے ظا ہر ہو رہا کہ ”بنی ضمرہ کیا صلح پر قائم رہیں گے؟ “ ابنِ ہشام (رح) کے مطابق جب حضور (ص) غزوہ عشیرہ کے لیے تشریف لے گئے تو آپ (ص) نے مدینہ میں اپنا (ص) نائب حضرت ابو سلمہ (رض) بن عبد الاسد کو مقرر فرمایااور اپنے (ص) ساتھ جو رسالہ لیا اس کا پر چم حضرت حمزہ (رض)کو عطا فرمایا۔چو نکہ قریش کے ارادوں کا کو ئی علم نہ تھا لہذا اس غزوہ کا مقصد قریش کے اس قافلہ کو اپنی سر حدوں سے دور رکھنا تھا جو کہ شام جا ر ہا تھا۔ابنِ اسحاق (رح) نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہو ئے لکھا ہے کہ حضور (ص) مدینہ سے روانہ ہو کر پہلے نقب بنی دینار کے قریب پہو نچے، پھر وہاں سے فیضا ئے بنی خیار تشریف لے گئے پھر وہاں سے آ گے بڑ ھ کربطحائے ابن اظہر میں قیا م فر ما یا جہا ں ایک درخت کے زیرِ سایہ آپ (ص) کا خیمہ نصب کیا گیا،اس جگہ کو ذات الساق بھی کہا جاتا تھا۔ وہاں آپ (ص)نے نماز بھی ادا فرما ئی وہیں بعدمیں مسلما نو ں نے ایک مسجد بھی تعمیر کردی تھی ۔جو اب معلو م نہیں کہ مو جود ہے یا نہیں کیونکہ اکثر یاد گاروں کو بعد میں مٹا دیا گیا۔ اس لیے کہ اب تو وہاں کے فقہا اگر مسجد سڑ ک میں بھی آجائے تو بھی شہید کردیتے ہیں۔اسی جگہ آ پ اور صحابہ کرام (رض) کے لیے کھانا تیار کیا گیا جو سب نے ایک ساتھ بیٹھ کر تناول فر مایا اور آگے سفر پر روانہ ہو گئے ۔ جس جگہ سے پانی لا یاگیا اور ہمراہ سفر کے لیے لیا گیا وہ جگہ مشیرب کہلا تی تھی۔جب حضور (ص) ذات الساق سے آگے بڑھے تو راستے میں خشک کنویں پڑتے رہے آخر سفر کرتے ہو ئے شعبئہ عبداللہ پہو نچے اور وہاں سے حسب شاد ہوتے ہو ئے اور اس علاقے کے مقدمات اور معاملے نپٹاتے ہو ئے مخیراتِ یمام پہو نچے اور وہاں سے عشیرہ پہو نچ کر قیا م فر مایا۔ وہاں آپ (ص) نے جمادی الاوّل کا پورا مہینہ اور جمادی الآخر کی کچھ راتیں بسر فرمائیں۔ وہیں آپ نے قبیلہ بنی مدلج اور اسکے حلیف قبیلہ بنی ضمرہ سے مواعید پر گفتگو فرما ئی اور پھر مدینہ کی طرف واپس تشریف لے گئے۔ اس سفر میں چونکہ قریش کو خبر مل گئی تھی اس لئے وہ سر حد سے دور رہے اور کسی لڑائی کی نو بت نہیں آئی۔عشیرہ کے ہی سلسلہ میں ایک روایت اور مو جود ہے جس کے راوی حضرت زید (رض) بن ارقم ہیں، وہ اس طرح ہے کہ ان سے ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور (ص) نے کل کتنے غزوات میں شرکت فر مائی تو انہو ںنے فرمایا انیس میں ،پھر اس نے پو چھا کہ آپ نے ان میں سے کتنو ں میں شرکت فر مائی تو انہوں نے فرمایا کہ سترہ میں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو ابو ترا ب کا خطاب بھی اسی غزوے کے دوران در بارِ رسالت مآب (ص) سے عطا ہوا جس کی تفصیل اس طرح ہے جبکہ راوی حضرت یاسر (رض) بن عمار ہیں کہ جب ہم یعنی علی اور وہ (رض)غزوہ عشیرہ کے سفر میں ینبع کے ریگستانی علا قے میں پہو نچے تو ہم نے کچھ جھاڑ یو ں میں قیا م کیا اور گہری نیند سو رہے ۔ تھو ڑی دیر بعد آہٹ سے ہماری آنکھ کھل گئی تو دیکھا کے حضور (ص) ہمارے قریب کھڑے ہیں یہ دیکھ کرہم دو نوں جلدی سے اُٹھ کھڑے ہو ئے ا ور آپ (ص) کو سلام کیا۔ آپ (ص) نے فرما یا ”یہ تم لو گو ں کا کیا حال ہے؟دیکھو تو سارے جسم پر ریت ہی ریت ہے “ پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مخاطب ہو کر فرمایا ”ابو تراب “ تمہارا تو ساراسر بھی ریت میں اٹا ہوا ہے یہ فرما کر آپ (ص) حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سر سے مٹی جھاڑ نے لگے پھر آپ (ص)نے فرمایا کہ علی تم پر دو شقی القلب لو گو ں میں سے ایک بے خبری میں حملہ کرے گا (یعنی اس طرح تنبیہ فر ما ئی کہ بے خبر مت سو یا کرو) پھر اسکے بعد حضور (ص) قبیلہ بنی مدلج اور انکے حلیف قبیلہ بنی ضمرہ کے بارے میں گفتگو فرماتے رہے اور ان سے صلح اور مواعید کا ذکر ختم ہوا تو مجھ سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے پو چھا کہ یاسر (رض) تمہارا کیا خیال ہے کیا مذ کو رِہ بالا قبائل اپنے وعدو ں پر قائم رہیں گے ؟ اس کے بعد حضور(ص) نے اس قبیلہ کے دو آدمیوں کے نام بتائے او رحضرت علی کرم اللہ وجہہ کو ان سے خبر دار رہنے کی تلقین فر مائی۔لیکن صحیح بخاری میں ایک اور حدیث ہے وہ اس کی نفی کرتی ہے جس میں یہ بتا یا گیا ہے کہ ایک روز حضرت علی کرم اللہ وجہہ (غالباً) کسی بات پر حضرت فاطمہ (س) سے نا راض ہو کر مسجد میں آ کر سو گئے اور وہاں ننگے فرش پر سو ئے ہو ئے تھے جب اس کی اطلاع حضرت فاطمہ (س) نے دی تو حضور (ص) وہاں تشریف لے گئے اور حضرت علی کو انکے جسم سے مٹی جھاڑتے ہو ئے “ابو ترا ب “ فر مایا ، لہذا جب سے ابو تراب کی وجہ تسمیہ یہ ہی چلی آتی ہے۔ واللہ عالم۔