15.10.2026, 05:47pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » صفدر ھمٰدانی
 

اردو تو بولنی نہیں آتی اور انگریزی بھی غلط بولتے ہیں۔ از ۔صفدر ھمدانی
12.05.2015, 03:30am , منگل (GMT+1)

میں ابتدائے کلام میں ہی برادر عزیز سید عارف مصطفیٰ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جس نے اردو زبان کے اس ادنیٰ سے طالب علم کو اس قابل سمجھا کہ اردو نفاذ کیس کے حوالے سے بنیادی معلومات فراہم کیں اور اس کار ثواب میں شامل کیا کہ میں بھی اپنی ماں بولی کے لیئے اپنے حصے کی شمع بھی جلاؤں اور اپنا فرض بھی ادا کروں۔ کیسی عجب صورت حال ہے کہ خبروں کی دنیا سے چوبیس گھنٹے منسلک رہنے والے مجھ جیسے شخس کو بھی یہ علم نہیں تھا کہ وطن عزیز کی عدالت عظمیٰ میں اردو نفاذ کیس کی سماعت جاری ہے اور آج جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو بارہ مئی بروز بدھ بھی اس کیس کی سماعت عدالت میں ہو رہی ہے

قومی زبان کسی بھی قوم کی شناختی زبان ہوتی ہے۔ یہ کسی بھی قوم میں بولی جانے والی زبانوں، زبانوں کے لہجے یا پھر مجموعی تاریخ سے تعلق رکھتی ہے۔ ایک لحاظ سے قومی زبان کو کسی بھی قوم کی شناخت مانا جا سکتا ہے۔ قومی زبان کا استعمال سیاسی اور قانونی امور کے لیے بھی ہوتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں ہے کیونکہ بعض ممالک اور قوموں میں قومی زبان اور سرکاری زبان کا تصور جدا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان میں اردو قومی زبان ہے جبکہ انگریزی سرکاری یا دفتری زبان کے طور پر رائج ہے۔ اسی طرح بعض ممالک میں ثقافتی و تہذیبی تنوع کی بنیاد پر قومی زبانیں اور سرکاری زبانیں نہ صرف جدا ہوتی ہیں بلکہ ایک سے زیادہ بھی ہو سکتی ہیں، مثال کے طور پر بھارت میں انگریزی اور ہندی سرکاری زبانیں ہیں لیکن مختلف علاقوں میں آباد کئی قوموں کی زبانیں جدا ہیں، اور وہ قومی زبانوں کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ اسی لحاظ سے کسی ایک قوم یا مملکت میں قومی زبان کا تصور جدا ہو سکتا ہے اور کسی ایک قوم کی قومی زبان کا اطلاق ریاست میں دوسری قوم پر نہیں کیا جا سکتا۔ قومی زبان کا تصور ایک ہی زبان میں پائے جانے والے لہجوں کی بنیاد پر بھی کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر چین اور تائیوان میں چینی زبان کے لہجوں کے فرق کے ساتھ قومی اور سرکاری زبان کا تصور بالکل انوکھا ہے۔ اسی طرح تاریخ کا عمل دخل بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر شام میں عربی بطور سرکاری و قومی زبان مشہور ہے مگر اب بھی کئی حصوں میں تاریخی شامی زبان کو قومی زبان کے طور پر مانا جاتا ہے۔

اس انتہائی حساس معاملے پر گفتگو ذرا آگے چل کر کرتے ہیں پہلے ذرا آپکی تفنن طبع کے لیئے فیس بک کے چیٹ روم میں میری اور برادر عزیز سید عارف مصطفیٰ کے مکالمے کا ریکارڈ حاضر ہے

((((((ع م ۔۔۔ ہمدانی صاحب
السلام علیکم 
آپ یکے از عاشقان اردو ہیں اور اعلیٰ پائے کے اہل ادب میں شمار ہوتے ہیں،، آپکو اردو نے بہت کچھ دیا ہے،،، کیا ہی اچھا ہوکہ اس تاریخی مرحلے پہ کہ جب نفاز اردو کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے آپ نثر میں بھی اور نظم میں بھی اس مطالبے کی حمایت میں اپنے پیج پہ اور اپنے اخبار میں کچھ لکھیں تاکہ فضاء میں جذبات کے رنگ بھی نمایاں ہوسکیں،،،
 ص ھ ۔۔۔ جی ضرورانشااللہ ویسے یہ دور اعلی پائے کے اہل ادب کا نہیں سری پائے والے اہل ادب المعروف فرقہ قاسمیہ کے اہل ادب کا ہے

ع م ۔۔۔ میں آپ سے یہ توقع بھی کرتا ہوں کہ آپ اس تاریخی مرحلے پہ تحریک اردو کا ادبی مورچہ سنبھالینگے اور اپنے اہل تعلق ادباء و شعراء کو بھی اس مطالبے کا عملی ہمنوا بنائینگے اور ان سے بھی لکھوائینگے،،، آپ میڈیا کے شناور ہیں اور آپ سے بہتر اور کون جانتا ہے کہ تکرار اور تسلسل کا انسان کی ذہن سازی میں کتنا مؤثر کردار ہوتا ہے،،،

 ص ھ ۔۔۔ آپکی بات سے مکمل اتفاق ہے

ع م ۔۔۔ یقین کیجیئے کہ نہ ہمیں اپنے نام کی تشہیر سے کوئی غرض ہے اور نہ توصیف سے مطلب،،،  بس ساری تگ و دو ھدف کو پانے کی ہے،،

 ص ھ ۔۔۔ عارف بھائی ۔ عزت افزائی کہ اس کم علم کو  آپ اس قبل سمجھتے ہیں ورنہ مجھ جیسے اب قابل نہیں بلکہ کابل ہیں

ع م ۔۔۔ کئی بڑے بڑے نامور ادیب تو ایسے ہیں کہ اس خوف سے منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھے ہیں کہ کہیں سرکاری تقریبات میں مدعو کیئے جانے سے اور بیرونی یاتروؤں سے محروم نہ کردیئے جائیں ،،، ہمیں اور آپکو انکی بھی بات ہے ،،،لیکن ہم یہ احتیاط ضرور کرینگے کہ کسی چھٹ بھیئے کی کسی آڑی ترچھی بات کا جواب دیکر اسے کہیں 'اہمیت' نہ دلا بیٹھیں،،،

ص ھ ۔۔۔ جی بالکل درست حکمت عملی ہے ۔از راہ عنایت مجھے اس مقدمے کے بارے میں کچھ پس منظر اور موجودہ صورت ای میل میں لکھ دیجئے تا کہ آپکی علمی معلومات سے استفادہ ہو سکے اور تحریر کی بنیاد بن سکے ۔ممنون ہونگا

ع م ۔۔۔ یہ مقدمہ بہت سادہ سا ہے ،، اسے تحریک اردو کی جانب سے ایک دردمند اور قومی جذبے سے سرشار وکیل محترم کوکب اقبال نے دائر کیا ہے اور اسکی چند سماعتوں ہی میں صورتحال بہت بہتر سمت جاتی نظر آرہی ہے کیونکہ جسٹس جواد خواجہ نے اس سلسلے میں بہت سخت ریمارکس دیئے ہیں اور حکومت کو دوٹوک نوٹس دیدیا ہے کہ وہ یہ بتائے کہ اس اہم آئینی ضرورت کے نفاذ میں اسقدر تاخیر کیوں کی گئی ہے اور اسکے ذمہ داران کون کون ہیں،،، ان دنوں اٹارنی جنرل ہرکس وناکس کی بغل جھانک کر اس میں سے جواب کا کارتوس برآمد کرنے کی سعی کرتے پھر رہے ہیں۔۔۔
س جی تو اب میں یوں سمجھیں نا کہ آپکی شاعری اور نثر دونوں سے قومی استفادے کا وقت آن پہنچا ۔۔۔

ص ھ ۔۔۔ آپکی اس محبت کے لیئے بے حد ممنون ہوں ۔۔۔ ستر کے عشرے میں رئیس امروہوی والی اردو بقا اور اردو نفاذ تحریک میں ایک نظم لکھی تھی جو شاید اسوقت کراچی کے جریدے الفتح میں شائع ہوئی تھی۔ وہ نظم میرے ریکارڈ میں بھی محفوظ نہیں لیکن اسکی چند سطور ابھی تک میرے حافظے میں محفوظ ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ستر کے عشرے سے آج تک صورت حال جوں کی توں ہے

زبان اردو سے دشمنی کیا ہے کچھ بتاؤ
کہاں ہیں منصف انہیں بلاؤّ
جنہوں نے اک روز یہ کہا تھا
زبان اردو تیرا تحفظ
ہمارے منشور میں لکھا ہے

ع م ۔۔۔ اردوئے مرحوم  کا دلگداز نوحہ یا مرثیہ ضرور لکھیئے کہ جو اپنوں ہی کے درمیاں بے خانماں ہوکر برباد ہوئی پھرتی ہے اور ہر وزارت میں بہتیرے شمر براجمان ہیں)))))))))

اردو زبان کے ساتھ جو سلوک وطن عزیز میں خاص طور پر حاکموں نے کیا ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اپنے بچے پاکستان میں ایچی سن کالج اور بیرون ملک آکسفورڈ، کیمرج اور ہاورڈ میں پڑھتے ہیں اور خوب منہہ ٹیڑھا کر کے انگریزی بولتے ہیں۔ ان حاکموں اور انکی اولادوں کا اردو بولتے جیسے سانس رکتا ہے۔ چین اور ایران سمیت دنیا کے کیسے کییسے ترقی یافتہ ممالک ہیں جنکے حکمران چاہے انکی اپنی اسمبلی ہو یا اقوام عالم کی اسمبلی اقوام متحدہ وہاں اپنی ہی قومی زبان میں تقاریر رکتے ہیں لیکن یہ اعزاز ہمارے ہی حاکموں کو حاصل رہا ہے کہ وہ تقریر نویسوں کی لکھی ہوئی انگریزی کی تقاریر غلط لہجے اور غلط تلفظ میں کرتے ہیں اور اس پر بھی فخر محسوس کرتے ہیں

یہ کیسی عجیب بات ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی مادری زبان گجراتی تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ کچھی، سندھی، اردو اور انگریزی بھی بولنے لگے تھے اور انکی متعدد تقاریر اردو میں موجود ہیں۔ خاص طور پر انکا یہ فقرہ تو روح میں اتر جاتا ہے کہ ۔۔۔ مسلمان مشکل سے گھبرایا نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کی قومی زبان اردو ہے جبکہ زيادہ تر دفتری کام انگريزی ميں کیے جاتے ہيں۔ پاکستان کے خواص بھی بنيادی طور پر انگريزی کا استعمال کرتے ہيں۔ پاکستان ميں تمام تر اعلیٰ تعليم بھی انگريزی ميں ہی دی جاتی ہے۔ اس کے باوجود اردو پاکستان کی عوامی و قومی زبان ہے۔ کچھ نام نہاد دانش وروں نے یہ راگ بھی الاپا ہے کہ اردو پاکستان کی قومی زبان نہیں بلکہ رابطے کی زبان ہیں۔ یہ دانش کے بغیر وہ دانشور ہیں جن کے ہوتے ہوئے اردو کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں۔ ان میں ہی کئی ایسے نام بھی ہیں جو اردو کے نام پر عالمی اردو کانفرنسوں میں شرکت کرتے ہیں ، کلب کلاس کے ٹکت پر ہوائی جہاز کا سفر کرتے ہیں، فائیو سٹار ہوٹل میں رہتے ہیں اور اردو کانفرنس میں ہی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اردو کو دیو ناگری یا رومن میں لکھا جائے۔

اردو کے علاوہ پاکستان ميں کئی اور زبانيں بولی جاتی ہيں، ان ميں پنجابی، سرائکی، سندھی، گجراتی، بلوچی، براہوی، پہاڑی، پشتو اور ہندکو زبانیں قابلِ ذکر ہيں۔ وطن عزیز میں بولی جانے والی  زبانوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔


اردو قومی زبان
انگریزی سرکاری زبان
پنجابی 44.17٪
سندھی 14.12٪
سرائیکی (پنجابی سے ملتی جلتی)10.42٪
اردو 7.59٪
پشتو 15.44٪
بلوچی 3.59٪
ہندکو، کھوار، براہوی، برشاشکی، چترالی اور دیگر زبانیں6٪

میں اور مجھ جیسے کتنے ہی اردو کے عاشق اس امر کے حامی ہیں کہ قومی زبان کے ساتھ دوسری مقامی اور علاقائی زبانوں کے فروغ کو بھی پورا پورا موقع ملنا چاہیئے

 گورنر ہاؤس کراچی میں باغ اردو بنانے سے نفاذ اردو کا مسلہ حل نہیں ہو گا ۔ باغ اردو بھی ایک مستحسن قدم ہے لیکن یہ نفاذ اردو کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ 

منہہ کو ٹیرھا کر کے انگریزی بولنے والے طبقے نے اردو کو اردش بنا دیا ہے۔ ایسی اردو جس میں کا کی تھا تھی تو اردو کے ہیں اور باقی سب انگریزی، اخبارات ، ٹی وی ریڈیو اور ڑیڈیو میں خاص طور پر ایف ایم کی نشریات دراصل اردو کے نام پر اردو کا قتل ہے 

برادر سید عارف مصطفیٰ نے اس ضمن میں اپنے ایک کالم میں بالکل درست کہا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔  اس بیچاری زبان اردو کے معاملات پہ ادیبوں و شاعروں کا طبقہء اشرافیہ قابض ہے اور وہ گھر کی اس لونڈی کو اپنے دل کی ملکہ کا منصب سونپنے کو قطعاً آمادہ نہیں،،،یہ زبان انکے لیئے پارٹی بازی، ٹائم پاس کی گپ شپ اور چند لمحات کے نشاط و سرور کا باعث ہونے سے زیادہ کوئی وقعت نہیں رکھتی ،،، اس زبان کے لیئے ان نام نہاد بڑے اہل ادب لوگوں کی عملی خدمات کی کہانی اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ مختلف وقفوں سےاردو  کانفرنسوں کے نام پہ ایسے میلےرچالیئےجائیں کہ جہاں پہ دنیا بھرسے اپنے احباب کو بلالیا جائے اور تازہ ترین غیبتوں ، کا تبادلہ کرتے ہوئے رقص و موسیقی اور فیشن کے نئے مظاہر سے استفادہ کیا جائے۔۔۔ درحقیقت یہ کانفرنسیں اہل ادب کے مابین ملبوسات ، جیولری اور پرفیومز کے بارے میں 'جانکاری' کو جاندار اور 'نئے امکانات' کیلیئے پرسنالٹی کو شاندار بنائے رکھنے کی خاطر ہواکرتی ہیں ،،،ان کانفرنسوں میں عام طورپہ 'آؤچ آؤچ' کرتی برگر کلاس کا بھی وہ خاص طبقہ نظر آتا ہے کہ جسے 'ان' رہنے اور باذوق نظرآنے کا بھی خبط ہے۔۔  ورنہ  اگر ٹینا ثانی کا'ریفرنس' نہ دیا جائے تو انہیں فیض اور شیخ فیضو کے کلام کو الگ الگ شناخت کرنا بھی دشوار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جناب حیات امروہوی نے سعودی گزٹ کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کمال کی مختلف بات کی ہے۔ آپ بھی پڑھیئے اور سوچیئے ۔ وہ کہتے ہیں

(((( ’ایسا لگتا ہے کہ فیض احمد فیض، منیر نیازی اور احمد ندیم قاسمی سمیت بہت سے معروف شعراء نے ارادتاً اردو زبان کو نقصان پہنچایا ہے۔ میرا خیال ہے کہ خدانخواستہ یہ ایک سازش تھی۔ ظفر اقبال اور ان کی طرز کے دیگر اپنے عجیب لسانی تجربات سے ہماری خوبصورت زبان اور شاعری کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ آج ادارے قدیم ادب کو دوبارہ شایع کررہے ہیں، چنانچہ اصلی کام نایاب ہوچکا ہے۔ بہت سے شاعر اور مصنف اردو کو تنزلی سے بچانے کی کوشش کررہے ہیں، یہ کام اداروں کی جانب سے کیا جانا چاہیے۔‘‘ اردو شاعری اور ادب کا معیار روزبروز زوال پذیر ہے)))))


دوستو،،، تلخ نوائی معاف ۔۔۔ باغ اردو ٹائپ کے چھچھورے سطحی اور نمائشی کام کرنے والے یہ بودے لوگ اس مظلوم زبان کے نادان دوستوں میں سے ہیں کہ جو جانے انجانے میں اسے کسی دانا دشمن سے بھی زیادہ نقصان پہنچارہے ہیں کیونکہ ان لوگوں کو اس عظیم زبان کی یہ حقیقی خدمت کرنے کی کبھی بھی توفیق نہیں ہوئی کہ اسکے نفاذ کیلیئے کوئی عملی دوڑ بھاگ کرتے ،، بااختیار حلقوں میں اپنے رسوخ کو بروئے عمل لاکر اسے سرکاری زبان بناپاتے یا کم ازکم ایسی کوئی جدوجہد ہی کرتے دکھ پاتے،،،،،، حتیٰ کہ غیرمعروف اور لاچار ادب دوستوں کی تخلیقات کی اشاعت کا انتظام کرواپاتے،،،

میں اور مجھ جیسے اردو کے طالب علم  جناب کوکب اقبال کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے یہ دلیرانہ قدم اٹھایا اور نفاذ اردو کا مقدمہ اس طریقے سے پیش کیا کہ جج صاحبان کو منصفی کی لاج رکھنا پڑی اور حکومت کے لیے اب فرار کے تمام راستے جیسے بند ہوتے جا رہے ہیں ۔ لیکن حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اردو کے نام پر کمائی کرنے والے اور اردو کے نام پر گلوں میں اعزازات کے طوق پہنے ہوئے بڑے بڑے نام نہاد فرزندان اردو اور محافظان اردو اس جہاد میں دور دور نظر نہیں آ رہے

اس بار ان حاکموں سے اور اردو کے نام پر مسلسل کمائی کرنے والوں سے اس سوال کا جواب حاصل کرنا ہی ہو گا کہ  آخر 1973 کے آئین کی منظوری کے موقع پہ اردو کو سرکاری زبان بنانے کیلیئے جو 15 برس کی خصوصی مہلت طلب کی گئی تھی ، اسکے ختم ہونے کے 27 برس بعد بھی ابتک اسکے نفاذ کی نوبت کیوں نہیں آسکی ،،، 

قومی زبان کو ماں بولی کہنے والوں کو کم ازکم اسوقت لفظ ماں ہی کی لاج رکھنی ہو۔ عدلیہ بھی اگر چاہے تو اپنی پیشانی کے داغ کو دھو سکتی ہے اور نفاذ اردو کے طویل مسلے کو حل کروا سکتی ہے

اس ھدف کے حصول کے لیئے ضروری ہے کہ تحریک نفاذ اردو کو فعال بنایا جائے اور اسکو دوست نما دشمنوں سے محفوظ رکھا جائے

زبان اردو سے دشمنی کیا ہے کچھ بتاؤ
کہاں ہیں منصف انہیں بلاؤّ
جنہوں نے اک روز یہ کہا تھا
زبان اردو تیرا تحفظ
ہمارے منشور میں لکھا ہے

:دیگر مضامین
(01.05.2015) یکم مئی : آج کا دن ہے یوم انالحق آج کا دن مزدور کا دن ہے؟ از صفدر ھمٰدانی
(26.03.2015) پاکستان کو سعودی عرب اپنے مظالم میں شامل کررہا ہے ۔ از۔ صفدر ھمدانی
(23.03.2015) ایسے حکمران اپنے زوال کا خود باعث بن جاتے ہیں ۔ از ۔ صفدر ھمدانی
(19.01.2015) ہم ایک بے حس، مردہ اور مکروہ معاشرے کے فرد ہیں۔ از۔ صفدر ھمٰدانی
(31.12.2014) صفدرؔ خُدا کی لعن ہو ایسے نظام پر ۔ از ۔ صفدر ھمٰدانی . قند مکرر
(22.12.2014) سانحہ پشاور کے تناظر میں فکری ، علمی اور عملی بیداری کی ضرورت ۔ صفدر ھمدانی
(22.10.2014) سعودی عرب کے مفتی اعظم نے ٹویٹر کو برائیوں کا منبع قرار دے دیا۔از۔صفدر ھمٰدانی
(10.10.2014) ہماری بربادی ہماری بے حسی میں لکھی گئی ہے ۔ از۔ صفدر ھمٰدانی
(04.10.2014) عالم اسلام کی غربت اور خانہ کعبہ کے لیئے 20ملین ریال کا غلاف ۔ از۔ صفدر ھمٰدانی
(02.09.2014) پارلیمان کا مشترکہ اجلاس ۔نشستن، گفتن ، برخاستن ۔ از۔ صفدر ھمٰدانی۔ صوتی کالم
(31.08.2014) چراغ کی لو پھڑ پھڑا رہی ہے۔ اگست 2013 کا منظوم کالم جو آج بھی تازہ ہے۔ صفدر ھمدانی
(29.08.2014) حد ہو گئی ۔۔۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔۔۔ از۔۔۔۔صفدر ھمٰدانی
(18.08.2014) عمران خان کا اعلان ۔ سول نافرمانی شروع۔ فیس بُک پر عالمانہ گفتگو کا لطف لیجئے
(14.08.2014)  آزاد فضاؤں کے باسیوں کو نویدِ آزادی دینے والی آواز . مصطفیٰ علی ھمٰدانی
(31.07.2014) داعش نے باقاعدہ شادی دفاتر بھی کھول لئےہیں۔ از۔۔۔ صفدر ھمدانی
(29.07.2014) وطن کے سب غریبوں کے لیئے یہ عید وحشت ہے ۔ از ۔ صفدر ھمدانی
(11.07.2014) جل رہا ہے غزہ اور عرب کے منافق یہ سب دوغلے حکمراں۔از۔صفدر ھمٰدانی۔۔۔نہ حالات بدلے نہ2010 کی نظم
(18.06.2014) ملک کے اندر کے طالب بھی نمایاں ہو گئے۔ منظوم کالم ۔ صفدر ھمدانی
(10.06.2014) ہم پاک وطن کی گلیوں سے بازاروں سے شرمندہ ہیں۔از۔صفدر ھمدانی
(10.06.2014) ہیں صفدر حکمراں بے غم کراچی جل رہا ہے۔۔از۔۔صفدر ھمدانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں