معروف اداکار اور صداکار قیصر نقوی صاحب کی خدمات کے اعتراف میں ریڈیو پاکستان کے سبزہ زار میں سجائی گئی یہ تقریب کئی حوالوں سے اہمیت کی حامل تهی. . سب سے بڑا حوالہ تو خود محترم قیصر نقوی ہیں کہ جن کے دم سے یہ رونق تهی اور دوسرا حوالہ آصف خان کهیتران تهے جنہوں نے سٹیشن ڈائریکٹر کے عہدے پر تعیناتی کے بعد پہلی تقریب اپنے ہم دم دیرینہ کے اعزاز میں منعقد کر کے ایک خوبصورت روایت کا اہتمام کیا.
میں جب سجاد کهوکهر، یوسف عابد رائو اسد کے ہمراہ عمران خان کی جلسہ گاہ کی بجائے ریڈیو پاکستان کے پنڈال میں داخل ہوا تو شاکر حسین شاکر بهی پیر و مرشد رانا اعجاز کے ہمراہ وہاں موجود تھے. عمران خان نیازی کی تقریر عین اسی وقت سپورٹس گراونڈ میں جاری تهی. . مگر میں تو میانوالی کے اس سپوت کو سننے آیا تھا جس سے لوگ بے پناہ محبت کرتے ہیں. .
جی ہاں عطا اللہ عیسی" خیلوی بهی تو خوشی کے ان لمحات کو معتبر بنانے آئے تهے. . قیصر بهائی کے لئے گفتگو کرنے والوں میں سعید احمد اور حیدر عباس گردیزی کو سٹیج پر بلایا گیا. . گفتگو دونوں کی خوبصورت تهی. فرق صرف اتنا تها کہ سعید احمد ایک دوست اور رفیق کار کی حیثیت سے اظہار خیال کر رہے تھے. .
ان کے ایک ایک لفظ سے محبت جهلکتی تهی. . کوئی تصنع یا دکھاوا نہیں تها. سو حاضرین نے ان کے ایک ایک جملے پر داد دی. . باتیں حیدر عباس کی بهی بہت خوبصورت تهیں لیکن انہیں ان کے والد محترم حسن رضا گردیزی کے حوالے سے سٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی. . اور ظاہر ہے حوالہ اتنا مضبوط اور معتبر ہو تو بهر اپنی شخصیت دب جاتی ہے.
قیصر نقوی خود سٹیج پر آئے تو تشکر کے جذبات سے ان کی آواز ان کا ساته چهوڑ گئی. وہی آواز جو ان کی پہچان ہے اور وہی آواز جس نے انہیں اس بلندی پر پہنچایا. . قیصر بهائی آپ عمر بهر مائیک سے کهیلتے دیکھا آج مائیک نے کیا کهیل
دکھایا.یہی وہ لمحہ تها جب پنڈال تالیوں سے گونج اٹھا اور اب تک گونج رہا ہے.