16.10.2026, 06:41am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
شخصیات، انٹرویوز » شمس جیلانی۔وینکور
 

سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(53)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
19.05.2015, 06:52pm , منگل (GMT+1)

از۔۔۔شمس جیلانی

گذشتہ قسط میں ہم غزوہ ابواءاور غزوہ عشیرہ کو زیرِ بحث اس لیے لا ئے تھے کہ دونوں میں کچھ واقعات ایک جیسے تھے اور ہم نے قصداً غزوہ بواط جو کہ تر تیب کے لحاظ سے دو سرے نمبر پرتھا اسکو چھوڑ دیا تھا جس پر ہم اب انشا اللہ بات کریں گے ۔ جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ سب مور خین اس پر متفق ہیں کہ بواط دوسرا غزوہ ہے ہجرت کے بعد جو کہ عشیرہ سے پہلے وقو ع پذیر ہوا۔ابن ِاسحاق (رح) کے مطابق غزوہ بواط دوسرے سال ماہِ ربیع الا ول سن دو ہجری میں واقع ہوا جس میں حضور (ص) نے بہ نفسِ نفیس شرکت فر مائی اور مدینے میں اور اس وقت آپ (ص) نے اپنی نیابت کے لیے جن صحابی کو مقرر فر ما یا ان کا اسمِ مبارک سائب (رض) بن مظعو ن تھا لیکن واقدی  (رح)کے مطا بق سعد (رض) بن معاذ تھے واللہ عالم۔ اس پر راوی اور مور خین متفق ہیں کہ اس غزوے کے لیے حضور (ص) نے ایک سو سوار ہمراہ لیے اور اس دستے کا پرچم حضرت سعد (رض) بن ابی وقا ص کے پاس تھا۔ روانگی کا مقصد قریش کی اس جمعیت کو روکنا تھا جس میں سو سواروں کے علا وہ دو ہزار پانچ سو اونٹ بھی تھے اور یہ امیہ بن خلف کی قیا دت میں مدینہ کی طرف آر ہا تھا ۔ چو نکہ اسوقت ان لو گوں نے کو ئی مزاحمت نہیں کی اوراپنا راستہ تبدیل کر لیا لہٰذا حضور (ص) علا قہ رضو یہ کے نواح میں بواط تک تشریف لے گئے ۔وہیں سے واپس تشریف لے آئے۔انس (رض) بن اسحاق کہتے ہیں کہ ابھی عشیرہ کی مہم سے واپسی کے بعد چند یوم ہی مدینہ میں گذارے تھے کہ آپ  (ص) کو اطلا ع ملی کہ کرز بن فہری نے ایک غار کے اندر پڑاؤ ڈالا ہوا ہے۔ لیکن ابنِ ہشام (رح) نے اس کی وجہ یہ تحریر کی ہے کہ اس نے نہ صرف وہا ں ڈیرہ جما یا ہو ا تھا۔ بلکہ مدینہ کی ایک چرا گاہ پر حملے کا بھی مرتکب ہوا، گو یا اس طرح سے یہ قریش کی طرف سے چھیڑ خانی کی ابتدا بھی تھی۔  اس اطلا ع پر آ پ (ص) اپنے ساتھ صحا بہ کرام کا ایک دستہ لیکر اس کی تلاش میں روانہ ہو گئے اور بدر سے ملحق وادی ِ سقوان تشریف لے گئے۔ واقدی (رح) ہی کے مطابق حضور (ص) نے اس دستے کا پرچم بردار حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو مقر ر فرمایا۔واقدی (رح) اور ابن ہشام (رح) دو نوں ہی اس بات پر متفق ہیں کہ اس مرتبہ آپ نے اپنی نیا بت مدینہ میں حضرت زید (رض) بن حارث کے سپرد فرما ئی۔کرز بن جابر فہری حضور (ص) کی آمد کی خبر پاکر وہاں سے فرار ہو گیا اور یہ معاملہ صیغہ راز میں ہی رہا کہ اس کے عزائم کیا تھے۔ ممکن ہے کہ منا فق اور یہو دی اکثر ساز شیں کرتے رہتے تھے وہ کسی کی دعوت پر آیا ہو ،بہرحال تمام مورخین اس پر خا مو ش ہیں کہ اس کے اس طرح آ نے کا مقصد کیا تھا۔اگر وہ گرفت میں آتا تو رو شنی متوقع تھی۔
 حضرت امام احمد حنبل(رح) کئی ثقہ راویوں کے حوالہ سے تحریر فرماتے ہیں کہ غزوہ عشیرہ سے واپس ہوتے ہو ئے حضور (ص) مقام جہینہ سے گزرے تھے جہاں کے تمام باشندے باہمی گفت و شنید کے ذریعہ مسلمان ہو گئے ۔ مگر اس کا ذکر با قی مور خین نے نہیں کیا۔ مدینہ منورہ تشریف لے جاتے ہوئے حضور  (ص)نے ایک دستہ دشمنو ں کی سر گر میوں پر نظر رکھنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔اسکے سپرد یہ ذمہ داری تھی کہ وہ ہر قافلے پر نظر رکھے۔ وہاں جو مجا ہدین مقیم تھے ان میں اس بات پر اختلاف تھا کہ اگر کسی قافلے سے مقابلہ کی نو بت آئی تو مالِ غنیمت کا کیا ہو گا۔ کچھ لوگ اس خیال کے حامی تھے کہ جو جس کے ہا تھ آئے وہ رکھ لے۔ لیکن کچھ لو گوں کا خیال تھا کہ رمضان میں جدال اور قتال حرام ہے لہذا اس دستے کو اب مدینہ شریف واپس چلا جا نا چا ہئے۔لہذا طے پا یا کہ اس سلسلہ میں حضور (ص) سے رجو ع کیا جائے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا ایک آدمی کو مدینہ روانہ کیا گیا تا کہ وہ تازہ ہدا یا ت لے کر آئے۔ جب وہ قاصد در بارِ رسالت میں پہو نچا تو حضور (ص) غصہ سے اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور پوچھا کہ کیا میں (ص) نے امیر نہیں مقر ر کیاتھا؟ اس کی اطا عت تم پر واجب نہ تھی کیا تمہا را سر براہ برے بھلے میں تمیز نہیں کرسکتا تھا کیا تمہارا سر براہ خورد و نوش کا انتظام نہیں کر سکتا؟پھر فر ما یا یقیناً یہ سب کچھ تھا تو پھرتذبذب کی وجہ کیا تھی۔اسکے بعد عبد اللہ بن حجش اسدی (رض) کو روانہ فرما یا، جنہیں مور خین عساکر اسلام کا پہلا امیر قرار دیتے ہیں۔لیکن بہقی  (رح)کے مطابق جو کہ انہوں نے یحییٰ ابی زائدہ اور مجاہد کی زبا نی تحریر کیا ہے کہ وہ یہ ہے کہ ایک طبقہ تو یہ کہتا تھا کہ ماہِ حرام میں جدال اور قتال منع ہے لہذا انہیں قریش کے کسی قافلے پر حملہ نہیں کر نا چا ہئے۔ دو سرا کہتا تھا کہ قریشِ مکہ نے اس کی خلا ف ورزی کرتے ہو ئے اسی مہینے میں مکہ سے نکا لا تھا اور وہ وقت ضرو رت ان مہینو ں میں ردو بدل کرتے رہتے ہیں لہذا اگر وہ بڑھتے ہیں، تو مقابلہ کرنا چاہئے۔ لیکن ابنِ اسحاق اورواقدی (رح) عبید بن حارث اور حضرت حمزہ (رض) بن عبد المطلب سر براہ بتائے ہیں۔ واللہ عالم۔چونکہ حضور  (ص)اس موقعہ پر کرز بن جابر فہری کی تلاش میں بدر تک تشریف لے گئے تھے اس لئے اس غزوہ کا نام ابنِ کثیر (رح) نے بدر اوّل رکھا۔ابن ِاسحاق (رح) لکھتے ہیں کہ حضور (ص) نے بدر اوّل کی مہم کے بعد ایک دستہ حضرت عبداللہ (رض) بن حجش کی سر برا ہی میں تر تیب دیا جس میں ابو حدیفہ، عکاشہ بن محصن ،عتبہ بن غزوان، سعد بن ابی وقاص زہری،عامر بن ربیعہ ، واقد بن عبد اللہ، خالد بن بکیر، سعد بن بیضا فہری رضوا ن اللہ تعالیٰ علیہم ا جمعین پر مشتمل تھا۔ حضو ر (ص) نے حضرت عبداللہ (رض) بن حجش کو ایک ہدایت نامہ دیا تھا اور حکم دیا تھا کہ اس کو دو دن کی مسا فت طے کر نے کے بعد کھو لا جائے۔ لہذا تعمیل ارشاد کی گئی اور دو منزل کے بعد اس نامہ کو کھو لا گیااور اسکے مند رجات پڑھ کر سنائے ،جس کا ترجمہ ہم پیش کر رہے ہیں۔ ”جب تم میری اس تحریر کو دیکھو تو یہا ں تک چلو کہ مکہ اور طائف کے درمیانی نخلہ میں اترو اور وہاں رہ کر قریش پرنگاہ رکھو اور انکی خبروں سے ہمیں آ گا ہ کرتے رہو “انہوں نے ارشادِ رسالت مآب سنانے کے بعد کہا کہ یہ تو جان جو کھوں کا کام ہے میں تو بہر حال تعمیل کرو نگا مگر تم لو گو ں کو اجازت ہے کہ جو میرا ساتھ دینا چا ہے وہ دے اور جو مدینہ واپس جا نا چا ہے وہ چلا جائے سب نے ایک زبان ہو کر ساتھ دینے کا فیصلہ کیااور یہ دستہ حجاز میں سطح مرتفع تک جا پہنچا جو بحرین کہلا تا ہے ۔ یہا ں سعد  (رض)بن ابی وقاص اور عتبہ (رض) بن غزوان کا اونٹ جو کے وہ اپنے پیچھے لا رہے تھے کسی طرف بھٹک کر نکل گیا جس کی وجہ سے یہ دونو ں پیچھے رہ گئے اور انہیں قریش نے گرفتار کرلیا جب کہ عبداللہ (ص) بن حجش اور بقیہ ساتھی آ گے بڑھ کر نخلہ میں ٹھیر گئے یہاں ان کی مٹھ بھیڑ ایک قافلے سے ہو گئی جوکہ وہاں سے گزر رہا تھا اور جس میں عمرو بن حضرمی، عثمان بن عبد اللہ، اس کا بھائی نو فل، ہشام بن مغیرہ او ر اس کا غلام حکم بن کیسان شامل تھے۔ چو نکہ یہ اپنے دو ساتھی کھو چکے تھے لہذا یہ جذبہ انتقام میں جل رہے تھے۔ لہذا خو د کو اس پر حملے سے بعض نہ رکھ سکے( واضح رہے کہ حضور (ص) نے انہیں جدال و قتال کا حکم نہیں دیا تھاصرف ان کی سر گر میوں پر نگا ہ رکھنے کا حکم تھا) انہو ں نے آپس میں مشاورت کی تو را ئے یہ ٹھیری کہ ان پر حملہ کیا جائے کیو نکہ انہو ں نے ان میں سے عکاشہ کو دیکھ لیاتھا لہذا راز فاش ہو چکا تھااور انکو خدشہ تھا کہ یہ قریش کو بتا دیں گے تو وہ انہیں گرفتار یا قتل کر دیں گے۔ انہیں فو ری طور پر کچھ کرنا تھا۔ کیو نکہ قافلے کی اگلی منزل حدودِ حرم تھی اور دوسرے دن ماہِ رمضان بھی شروع ہو رہا تھا ۔ پہلا تیر واقد (رض) بن عبد اللہ نے پھینکا اور عمرو بن الحضرمی کو قتل کر دیا، عثمان بن عبداللہ ،الحکم بن کیسان کو قید کرلیا مگر نوفل بن عبد اللہ بھاگ نکلنے میں کا میاب ہو گیا۔ چو نکہ راز کھل چکا تھا لہذا ان لو گو ں نے بھی اسی میں عافیت سمجھی کہ مال ِغنیمت اور قید یو ں کو لے کر مدینہ کی راہ لی جائے لہذا  پا نچواں حصہ انہو ں نے حضور(ص) کے لیے متخص کیا اور باقی آپس میں مساوی تقسیم کر لیا۔ ابنِ اسحاق (رح) راوی ہیں کہ جب یہ لوگ در بارِ رسالت (ص) میں پہو نچے تو فر ما یا”میں نے تمہیں ما ہِ حرام میں تو کسی جنگ کا حکم نہیں دیا تھا “ پھر مالِ غنیمت اور قیدیو ں کا معا ملہ ملتوی رکھا اور اس میں سے کچھ بھی لینے سے انکا ر فرما دیا۔قریش اور یہو دی چہ میگو ئیاں کرنے لگے کہ محمد (ص) نے تو حرام کو بھی حلال کر دیا ۔ دراصل اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہر سال ماہِ حرام اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کرتے رہتے تھے جس سے غالباً اہل ِ مدینہ باہمی رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے لاعلم تھے۔ جبکہ وہ اپنی ان تما م حرکا ت کو شاید بھو ل گئے تھے جو کہ وہ پہلے انہیں ماہِ حرام میں کرتے رہے تھے ۔ بقول حضرت عبداللہ بن حجش جب یہ واقعہ ہوا تو ابھی ما ہِ حرام شروع نہیں ہوا تھا مگر کفار بزعم خود مصر تھے کہ جو کچھ ہوا وہ رمضان میں ہوا ۔اور یہو دیوں نے تو جھو ٹی فا لیں بھی گھڑلیں تھیں جس کا لب لباب یہ تھا کہ اب ایک جنگ ِ طویل اہل، مدینہ کی منتظر ہے۔ جب لو گوں میں چہ میگو ئیاں حد سے بڑھیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نا زل فر ما ئی ( ترجمہ) ”لو گ آپ سے پو چھتے ہیں ماہِ حرام کے متعلق (یعنی) اس میں جنگ کر نے کے متعلق، دریا فت کرتے ہیں تو کہدیجئے کہ ان کا اس میں جنگ کرنا بڑا گنا ہ ہے اور اللہ کی راہ سے رو کنا اور اس کا انکار کر نا اور مسجدِ حرام سے رو کنا اس کے رہنے والو ں کو اس سے نکا لنا اللہ کے نزد یک اس سے بھی بڑا گنا ہ ہے“ (باقی آئندہ)



:دیگر مضامین
(17.05.2015) وہ رات نبی صلی اللہ رب کے جب مہمان ہوئے۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی
(09.05.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(52)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(02.05.2015) سیرتِ پاک حضور  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے (51)از ۔۔۔ شمس جیلانی
(30.04.2015) سیرتِ پاک حضور ۔۔۔روشنی حراسے (50)از ۔۔۔ شمس جیلانی
(18.04.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(49)۔ ۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی
(14.04.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے(48)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(04.04.2015) سیرتِ پاک حضور  صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(47)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(29.03.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(46)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(21.03.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ روشنی حراسے(45)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(07.03.2015) سیرتِ پاک حضور ۔۔۔روشنی حراسے(44)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(28.02.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے (43) ۔۔۔ شمس جیلانی
(21.02.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(42)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
شمس جیلانی۔وینکور  »
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں