|
پھول میرا وطن چاند میری زمیں ۔۔ عالم آرا ، وینکوور
08.06.2015, 03:02am , سوموار (GMT+1)
آج بس ایک ہی سوال دل میں بار بار اآرہا ہے کہ ہم سب کچھ بنے مہاجر ،پٹھان ،پنجابی ۔بلوچ ،سرائیکی، اور نہ جانے کیا کیا ۔مگر کاش ہم صرف اور صرف پاکستانی بنے ہوتے تو شاید اآج ان دکھوں سے نہ گزر رہے ہوتے جن سے گزر رہے ہیں ۔ ہم نے کبھی اپنی شناخت کو توجہ نہیں دی کہ اگر ہم پاکستانی پہلے اور باقی سب کچھ بعد میں ہوتے تو شاید یہ دن نہ دیکھنے پڑتے ۔ہمارے بڑے لوگوں کو ہر ملک میں پناہ بھی مل جاتی ہے اور مراعات بھی کیونکہ کیونکہ ہم اپنا فائدہ پہلے رکھتے ہیں ملک اور قوم کا بعد میں ۔ہمیں کسی کے بھی محب وطن ہونے میں زرہ برابر بھی شک نہیں ہے کہ پاک دھرتی کا نام لگانے والے دھوکہ دے ہی نہیں سکتے مگر ہمارا یہ مان کس کس طرح ٹوٹتا ہے وہ بھی ایک المیہ ہی ہے ۔جس طرح کی باتیں سوشل میڈیا پر اور میڈیا پر دکھائی جا رہی ہیں وہ ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرتی ہیں کہ یہ سب ہمارے لوگ ہیں جنہوں نے ہماری دھرتی ماں کو ماں کہہ کہہ کر لوٹ بھی لیا اور بر باد بھی کر دیا ۔
جوان جس کے چاہے ہتھے چڑھ جاتے ہیں کیونکہ انہیں صحیح راہ دکھانے والے ہی ان سے وہ کام لے لیتے ہیں جو انہیں تباہ کر دیتے ہیں ۔ہم سوچتے ہیں کہ کیا سیاست صرف ہمارے ملک میں ایسی ہے ؟ شاید نہیں اور ممالک میں بھی کچھ نہ کچھ ہوتا ہوگا مگر اس طرح نہیں شاید ۔کہ یہ تو قوم و ملک کو بنانے کی بات ہے نہ کہ اُسے سب کی نظروں میں گرا دیا جا ئے ۔الیکشن کے بارے میں جو جو تاویلیں دی جا رہی ہیں وہ بھی ایک المیہ ہی ھے ۔اگر صرف اتنا سوچ لیا جائے کہ اگر بے ضابتگیاں بھی ہیں تو انہیں ختم کرنا ہے تاکہ ہمارے وہ نمائندے سامنے اآئیں جو ہمارے ووٹ لیتے ہیں نا کہ ردی نکلے ۔بغیر انگوٹھے کے نشان کے نکلے یا اور کوئی بے ضابتگی ہو ۔ہم نے یہاں انتہائی سہل طریقہ دیکھا ہے ووٹنگ کا ۔صرف نام کے سامنے ایک مارکر سے کانٹے کا نشان لگانا ہوتا ہے ۔نہ دستخط کی ضرورت نہ انگوٹھے کے نشان کی ۔صرف فوٹو کی شناخت کرائی جاتی ہے پتہ پوچھا جاتا ہے اور بس ۔ایک مشین جس میں ہم اپنا نشان لگایا ہوا بیلٹ کاغز ڈالتے ہیں ۔لیکن ہمارے سامنے ہی تین جگہ ہمارا ووٹ گن لیا جاتا ہے ۔ایک وہ جہاں ہماری شناخت ہوئی ۔دوسرے بیلٹ پیپر کا وہ حصہ جو افسر اپنے پاس کاٹ کر رکھ لیتا ہے اور تیسری وہ مشین جس میں ہم اپنا بیلٹ کاغز ڈالتے ہیں ۔اتنا سہل ہے ان ملکوں میں ووٹ ڈالنا جن میں ہمارے وزراء ہر تیسرے دن دوروں پر ہوتے ہیں مگر ان باتوں پر توجہ کے بجائے انکی اور انکی بیگمات کی توجہ صرف اور صرف شاپنگ اور بزنسز پر ہوتی ہے اگر ان باتوں پر توجہ دیتے تو شاید موجودہ حکمران اور وزیر جو ان ملکوں کی دشتِ سیاحت میں یَدِ طولیٰ رکھتے ہیں اپنے ملک کے الیکشن سسٹم پر ضرور توجہ دیتے ۔مگر افسوس ہم سے ہر دَم محبت کا دَم بھرنے والے ہمارے کس طرح دشمن ہیں یہ سوچنے کے قابل ہمیں چھوڑا ہی نہیں ۔کیونکہ سچ نہ خود بولتے ہیں نہ سچائی کا سامنا کرتے ہیں اور نہ ہی شاید اپنے جھوٹ پر شرمندہ ہوتے ہیں کہ یہ خصوصیات ہمارے امراء اور حاکموں میں ہونی ہی نہیں چاہئیں ۔ورنہ ملک بن جائیگا اور یہ سارے چُھری تلے آجائینگے ۔
ہم انتہائی نا شکری قوم ہیں جسے ایسا وطن عنایت کیا گیا جس میں زخائر کے انبار ہیں اور جغرافیائی اہمیت اتنی کہ ہر کسی کو ہماری ضرورت ہے مگر ہم نے اپنے کردار ایسے کر لئے ہیں کہ نحوست ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتی ۔ہم ایک دوسرے کی برائیوں میں ساتھ ہیں اسی لئے جب کوئی کسی کے خلاف کھڑا ہوتا ہے تو دوسرا اس سے یک جہتی کا عَلم لے کر سب سے لڑنے مرنے کو تیار ہوجاتا ہے ہونا تو یہ چاھئے کہ اگر کسی کے خلاف کوئی دھاندلی ۔بے ایمانی بے ضابطگی سامنے اآئی ہے تو اس کو اس کا جواب دہ کرنا چاہئے ناکہ اِسٹے لے لے کر پکے کردئے جاتے ہیں ۔
اگر ملک و ملت کو بنانا ہے تو ان برائیوں کے خلاف کھڑا ہونا پڑے گا ۔پھر رگڑا کسی کو بھی لگے ۔لیکن یہ جو ہاتھ ملائے جاتے ہیں پیسہ کھانے اور کمانے کے لئے ان کو جب تک توڑا نہیں جائیگا ہم اپنے ملک کی زمین کو ان عزابوں سے نہ بچا سکینگے جو گُھن کی طرح ہمیں کھائے جا رہے ہیں ۔حضرت سلیمان علیہ السلام کا عصا بھی جب گرا تھا جب بالکل کھوکھلا ہوگیا تھا اندر سے اور اوپر سے کسی کو پتہ ہی نہ چلا تھا ۔یہ اللہ جل شانہ کی حکمت تھی کہ جِن جیسی قوم جو خود کو ہر طرح با خبر سمجھتی تھی ڈھیر ہو گئی ۔اس لئے اُن باتوں کو نظر میں رکھنا ضروری ہے جو ہمیں زوال پزیر کر رہی ہیں ۔
آنے والی نسلوں کی خبر لیں جو ایسے ماحول میں پل کر جوان ہو رہی ہے جہاں کوئی کام بھی چاہے کتنا ہی سیدھا کیوں نہ ہو بغیر رشوت کے نہیں ہوتا ،کیا سب سے ؛پہلے حکومتوں کا کام یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ایسی لعنت سے ملک کو پاک کریں ۔جو ہمارے ملک میں تو ہونی ہی نہیں چاہئے ۔لیکن شاید اب سب سے زیادہ ہم ہی اس کا شکار ہیں ۔مردم شماری سب سے پہلے کرائی جانی چاہئے تھی جو نہیں کرائی گئی ہم کیسی قوم ہیں جنہیں یہ ہی نہیں معلوم کہ ہماری تعداد کتنی ہے ؟ ہم بس اندازوں اور مفروضوں پر زندہ ہیں ۔
ہمارے اس وقت کے حکمران اور وزرا وہ ہیں جو سارے کے سارے ہی آٹھ آتھ سال دیارِ غیر میں رہ کر آئے ہیں لیکن وہاں انہوں نے جس طرح قانون اور قاعدے کے مطابق کام ہوتے دیکھے ان میں سے کسی ایک اچھائی کو جو ہمارا ہی خاصہ ہیں اپنے ملک میں رواج نہ دے سکے ۔افسوس کا مقام ہے اور دکھ کی جا ۔
ہم انکے محل دیکھتے ہیں تو ششدر رہ جاتے ہیں ،بس ہمارےامیر مسلمانوں نے شاید دولت جمع کرنا اور لٹانا ہی سیکھا ہے ،ہم تو بس ایک بات پر حیران رہ جاتے ہیں کہ اتنا پیسہ کمایا کیسے اور اگر کمایا تو کھل کر بتانے میں کیا حرج ہے ۔ پیسہ جس طرح باہر بھیجا جاتا ہے اور جس طرح ہم نے ایک ماڈل کو جیل سے عدالت جاتے دیکھا اس نے بھی ہمارے چودہ طبق روشن کر دئے کہ جیل میں بھی کتنی سہولتیں ہیں ۔جو چاہے پہنو ،جیسا چاہے کھا ؤ ،جو چاہے پئیو ۔مگر بڑا نام ہونا ضروری ہے یہاں ہمارا بھی ایک سوال ہے کہ کیا واقعئی جیل میں رہنے والوں کو اتنی آزادی ہونی چاہئے ،یا دی جانی چاہئے کہ اصل چہرہ اب بھی سامنے نہ آئے ؟؟
ہماری تو سب سے بس ایک ہی استدعا ہے کہ اپنے وطن کی قدر کرو اس کو بناؤ سنوارو کہ یہ ہمارے بچوں کا ہماری نئی نسل کا مستقبل ہے ۔اس سے نہ کھیلو ۔
پھول میرا وطن چاند میری زمیں ۔ اللہ اسے سلامت رکھے آمین
|