|
شرم سے شرم خود شرمارہی ہے ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
23.05.2015, 12:01am , ہفتہ (GMT+1)
از۔۔۔شمس جیلانی
کبھی سندھ کی روایت یہ تھی وہاں کے کتے اتنے غیرت مند ہوا کرتے تھے کہ مالک کے “بجھا “(کسی کو بطور لعنت پانچوں انگلیاں دکھانا)دکھانے سے شرم سے مرجایا کرتے تھے؟ اور مالک کو جب پتہ چلتا تھا کہ اپنے کتے ساتھ کے ساتھ اس سے ناانصافی ہوگئی ہے ، کتا قطعی بے قصور تھا اور اس نے غلط “ بجھا“ دکھا یا جو اسکے صاحب ِ غیرت ہونے کی وجہ سے اسکے لیے جان لیوا ثابت ہوا؟ تو وہ اپنے اظہار تاسف کے طور پر کتے کا مزار بناکر اس ظلم کی تلافی کرتا تھا؟جو کہ “ کتے جو قبہ “ کے نام سے آج بھی موضع ساڈونی کے قریب ضلع سانگھڑ (سندھ) میں موجود ہے۔ اور یہ بھی رواج تھا کہ ہر برے آدمی کا نام جب کسی محفل میں آتا تھا لوگ توبہ ،توبہ کرتے ہوئے ناک اور کانوں کو ہاتھ لگاتے تھے؟ آج کی طرح نہیں کہ اسکی تعریف کریں کہ “ایک مکاری سب پر بھاری “ جو لوگ وہاں کے قدیم باشندے نہیں ہیں وہ تو جو چاہیں کریں کیونکہ وہ سندھی تہذیب سے واقف نہیں ہیں؟ مگر مجھے تو حیرت ان پر ہورہی ہے کہ وہ بھی انہیں جیسے ہوگئے جو وہاں کے مقامی باشندے اورسندھی تہذیب کے امین تھے؟ اگر وہ اپنی راہ پرقائم رہتے تو انکی دیکھا دیکھی شاید باہر سے آنے والے بھی انہیں راہوں پر چلتے جن پر وہ چلتے آرہے تھے۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال میں 1948 کی دیتا ہوں کے کراچی میں جب بھانت بھانت کے لوگ پہونچے تو بس اسٹینڈ پر آوارہ لڑکے کھڑے ہوکران لڑکیوں پر آوازیں کس نے لگے جو حصولِ تعلیم کے لیے اسکول اور کالجوں کو جارہی ہوتی تھیں۔ یونیورسٹی اسوقت تک کراچی میں تھی نہیں لہذا اس میں موجود موجودہ مسائل بھی نہیں تھے کہ لوگ اب تو وہاں غیر تدریسی مشاغل کے لیے بھی جاتے ہیں جس میں سیاسی غلبہ اور دہشت گرد بننا بھی شامل ہے ۔ حتیٰ کہ اسوقت عدالتوں کے ازخود نوٹس لینے کا رواج ہی نہیں تھا ۔ کیونکہ حکومت خود کان اور آنکھیں رکھتی تھی اور انہں کسی کی طرف سے مصلحت کے تحت بند نہیں کرتی تھی ۔ لہذا فوراً اس کے تدارک کے لیے حکومت کو سیفٹی ایکٹ یاد آگیا چونکہ دستور ابھی بنا نہیں تھا اور اس میں بائیس تک ترمیمیں بھی نہیں ہوئی تھیں نہ ا ٹھارویں ترمیم تھی؟ جو کسی کی ڈھال بن جائے؟ لہذا اسی قانوں کے تحت چیف منسٹر سندھ غلام علی تالپور (مرحوم) وزارت سے معزول کرکے مٹھی جیل میں اونٹ پر بٹھاکر بھیجد یتے تھے اور ابراہیم جلیس جیسے صحافی کو بھی جن کا قلم ذرا تیز تھا، بس یوں سمجھ لیں کہ یہ واحد قانون تھا جو ہر مرض کی دوا تھا یعنی محمود اور ایاز دونوں کے لیے ایک ہی قانون استعمال ہوتا تھا، اسی کی تحت ایک قانوں بنانا پڑا تاکہ اس برائی سے نبٹا جاسکے ، یہ اس وقت چونکہ انوکھی بات تھی ۔ کیونکہ اس سے پہلے ایک کی ماں سب کی ماں اور ایک کی بیٹی یا بہن، سب کی بیٹی یا بہن ہوا کرتی تھی اور کوئی ان کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا۔ اس پر مزاحیہ شاعر ظریف جبلپوری مرحوم نے ایک قطعہ کہا تھا کہ “ چچی لیلیٰ کی گر خفا ہوجاتی، ساری وحشت قیس کی ہوا ہو جاتی ، اس زمانے کے لوگ تھے “ حیا “ والے، بیٹا اس دور میں ہوتے تو سزا ہوجاتی“ اچھا ہوا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انہیں اٹھا لیا اگر وہ آج کا ماحول دیکھتے تو جانے وہ اورکیا کیا کہہ جاتے؟ اسوقت انہیں دینے کو صرف ایک ہی مثال ملی وہ بھی عرب کی، سندھ کی نہیں؟ شاید اسکی وجہ یہ ہو کہ سندھی تہذیب عرب سے بہت متاثر تھی،اوپر والی مثال تاریخ میں بہت مشہور ہے اور مورخین کا اس پر اختلاف بھی نہیں ہے کہ وہ ماں باپ عرب تھے جن کی بیٹی کا نام قیس نامی ایک شخص ہروقت جپتا رہتا، لیلیٰ کا کہیں آناجانا اس نے مشکل کررکھا تھا؟ وہ اسکی محمل کے پیچھے بھاگتا پھرتا تھا اور ماں باپ صاحب ِ اقتدار ہونے کے باوجود اسے کچھ نہیں کہتے کہ “ پاگل ہے کیا کہیں ؟اگر آج کا دور ہوتا تو ایک اشارے کی دیر ہوتی اور مجنوں کا پتہ بھی نہیں چلتا کہ کہاں گیا؟ بعد میں پھانسی سے پہلے کوئی ملزم اعترافات کی جو فہرست سو ادوسو آدمیوں کے قتل میڈیا کو دیتا تو اس میں اسکا نام بھی شامل ہوتا؟ اور اس تمام واقعہ پر صرف صاحب معاملہ کایہ کہنا کافی ہوتا کہ یہ سب جھوٹ ہے؟اس کی بات کوتمام لوگ مانتے کہ وہ ان کا سردار جو ہوا؟اور ٹی وی پر بڑھ چڑھ کر اسکا دفاع کر رہے ہوتے؟ اسی طرح کسی دوسرے سردار پر کوئی اور اسکا ہی پرنا ساتھی لعنت ملامت کر رہا ہوتا اور اس کے بیڈ روم تک کے راز کھول رہا ہوتا اور وہ سردار صرف یہ کہدیتا کہ میں اس کی باتوں پر کیا کہوں؟ اس صورت ِ حال پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے؟ کیونکہ اب یہ تہذیب صرف سندھ تک نہیں پورے ملک میں پھیل گئی ہے، کوئی کسی سے کچھ اس لیے کہ نہیں کہتا کہ جمہوریت نام ہے مک مکاؤ کا؟ اسکا پہلا اصول یہ ہے کہ “ میں تیرا پردہ رکھوں تو میرا پردہ رکھ ؟ تجھے میری طرف سے چھٹی ہے، مجھے تیری طرف چھٹی ہو نا چاہیے“ اس لیے کہ اب مومنوں کی دوستی جوکہ صرف اللہ سحانہ تعاٰلیٰ کے لیے کبھی ہوا کرتی تھی وہ اب کہیں نہیں پائی جاتی ہے ۔البتہ عیبیوں کی دوستی اس سےزیادہ پائیدار ہے؟ اس کی وجہ سے حالات اس حد تک بگڑ گئے ہیں۔کہ پہلے لوگ برے کام پر “ نکو “ بن جاتے تھے اور عوام سے منہ چھپائے پھرتے تھے؟ اس لیے کہ انکی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی اب چونکہ وہ اکثریت میں ہیں، لہذااب بے چاری شرم عوام سے منہ چھپائے پھر رہی ہے جو کہ کبھی شرفا کا سب سے بڑا ہتھیار ہوا کرتی تھی؟ کیونکہ وہ اب کسی کو کسی بات پر نہیں آتی ہی نہیں ہے؟ معصوم بچوں سے بھی کوئی بزرگ کہے کہ جھوٹ بولتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی؟ تو وہ ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہیں کہ “ آپ خود جو جھوٹ بولتے ہیں اور ہم سے کہلواتے ہیں کہ ابا ّ گھر پہ نہیں تو وہ ہمیں بھی کیوں آئے“ اسی لیے ہادی اسلام (ص) نے یہ فرمایا تھا جسکا بامحاورہ ترجمہ یہ ہے کہ “ دراصل حیا ہی ایمان ہے “ جبکہ وہ کہیں ڈھونڈے سے اب نہیں ملتی، ہم میں بھی نہیں ؟ جبکہ الحمد للہ ہم سب مسلمان ہیں ؟ نہ الزام لگانے والوں کو شرم ہے اور نہ انہیں جو مورد ِ الزام ہیں، حیا ہے؟ کہ یہ فحاشی کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ اور ہرقسم کی فحاشی کی تشہیر کی اسلام نے سخت مذمت کی ہے ، مگر اس کے ساتھ بھی ہمارا معاملہ وہی ہے جو بقیہ اسلام کے ساتھ ہے ؟ہم یہ کہیں گے ضرورکہ “ الحمد للہ ہم مسلمان ہیں “ جبکہ ٹی والے ہر واقعہ کا اس طرح پوسٹ مارٹم کر رہےہوتے ہیں اور اس کو اس طرح کرود رہے ہوتے ہیں جیسے کہ گدھ کسی مردہ لاش کو تاکہ چھوٹی سے چھوٹی تفصیل نشر ہونے سے نہ رہ جائے اور ان کے سننے اور دیکھنے والے ان قیمتی معلومات سے محروم نہ رہ جائیں؟
|