|
داعش فتوحات ، عراق اور شام کے سرحدی علاقوں میں دوبارہ منظم
23.05.2015, 10:21am , ہفتہ (GMT+1)
داعش نے عراق کے صوبائی دارالحکومت اور شام کے انتہائی اہم تاریخی شہر پر قبضہ حاصل کرکے خود کو عراق اور شام کے سرحدی علاقوں میں دوبارہ منظم کرنا شروع کردیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق داعش کے جنگجوؤں نے، جو آدھے شام پر قابض ہیں، دوبارہ سے اپنی طاقت کو جمع کرتے ہوئے دمشق اور بغداد کے درمیان قائم ہائی وے پر موجود شامی شہر الطناف میں بھی ’خلافت‘ نافذ کردی ہے۔
خیال رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی علاقے کے ایک مختصر حصے کے علاوہ جو کردوں کے قبضے میں ہے، داعش نے شام اور عراق کے سرحدی علاقوں پر قبضہ مضبوط کرلیا ہے۔
داعش کے خلاف امریکی اور اس کے اتحادیوں کی فضائی طیاروں کی گزشتہ 8 ماہ سے جاری بمباری کے باوجود اس تنظیم کے جنگجو شام کے صوبے انبار کے دارالحکومت رمادی اور ایک قدیم تاریخی شہر پالمیرا پر قبضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہے۔
واضح رہے کہ داعش کی اس بڑھتی ہوئی فتوحات کے باعث شام اور عراق کے لاکھوں شہریوں میں خوف کی فضا پیدا ہوگئی ہے کہ شدت پسند تنظیم کے جنگجو شامی شہروں کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کرے جو انہوں نے عراقی شہر موسل اور نمرود کے تاریخی مقامات کا کیا تھا۔
اقوام متحدہ کے مطابق رمادی کے علاقے سے رواں ماہ میں اب تک 55 ہزار شامی شہری ہجرت کرچکے ہیں۔
امریکی صدر باراک اوباما نے بھی داعش کی اس بڑھتی ہوئی فتوحات پر تشویش کا اظہار کیا ہے تاہم انہوں نے امریکی اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے داعش کے خلاف جنگ میں شکست کے امکان کو مسترد کیا ہے۔
دوسری جانب فرانس کے صدر فرینکوئس ہولاندے نے کہا ہے کہ دنیا انتہاء پسندی کو روکنے میں اپنا کردار لازمی ادا کرے۔
شام میں موجود انسانی حقوق کی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ شام اور عراق کے سرحد پر قائم پالمیرا کے شہر میں داعش نے 17 شامی حکومتی عہدیداروں اور حامیوں کو قتل کردیا ہے۔
|