ہم گذشتہ نشست میں غزوہ بدر اول کے حالات بیان کرنے کے بعد یہاں تک پہو نچے تھے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن کی ایک آیت نازل فرما کر وہ تذ بذب دور فرما دیا تو حضور(ص) نے مالِ غنیمت اپنی تحو یل میں لے لیا او ر مزید ہدا یات کے منتظر رہے ، درایں اثنا مزید ا حکا مات مو صول ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے نہ صرف حضرت عبد اللہ بن حجش (رض) کی براءت ایک آیت کے ذریعہ فر مائی بلکہ مالِ غنیمت میں انہیں کے فیصلے کی تو ثیق بھی فر مادی۔ جس کے تحت عبد الآباد تک ان کا فیصلہ بھی اسلا می قا نو ن کاحصّہ بن گیا اسی کے تحت حضو ر (ص) نے اس مال غنیمت میں سے پانچواں حصّہ خو دلیا اور با قی ما لِ غنیمت شرکا ئے جنگ میں تقسیم کردیا۔اس طرح اس جنگ کو کئی چیزو ں میں فو قیت حا صل ہو ئی۔ اسکے بعد قریش کو اجا زت دی گئی کہ وہ اگر زرِ فدیہ دیں ،عتبہ بن غزوان اورسعد بن ابی وقاص (رض)کو واپس کردیں جن کو نا حق قید کر رکھا ہے تو اپنے قید یوں کو واپس لے جا سکتے ہیں اور ساتھ میں انہیں یہ انتباہ بھی جاری کیا گیا کہ اگر انہو ں نے ہما رے (ص) آدمی قتل کیئے تو ہم (ص) بھی انکے قیدی قتل کردیں گے۔ لہذا قریش نے فدیہ ادا کرکے اپنے قید ی چھڑالیے مگر ان میں سے حضرت کیسا ن (رض) کے دل میں اس دوران حضو ر (ص) کا سلو ک اتنا گھر کرچکا تھا کہ وہ ایما ن لے آئے اور کئی غزوات میں داد شجاعت دی او رغزوہ بیر معو نہ میں شہادت پا ئی ۔عثمان بن عبداللہ واپس مکہ چلا گیا اور کفر کی حالت میں مر گیا۔اکثر مورخین نے اس چھو ٹی سی جھڑپ کوغز وہ بدر کا پیش خیمہ قرار دیا ہے اور بڑی حد تک یہ حقیقت پر مبنی ہے۔ اسکی کئی وجو ہات ہیں ایک تو یہ ہے کہ کفار مکہ اس سے دہشت زدہ ہو گئے اور ان کے اندر یہ وہم گھر کر گیا کہ آئندہ اور قافلو ں پر بھی حملے ہو نگے جو کہ حقیقت پر مبنی نہیں تھا ۔ لیکن اس سے ابو سفیان نے فائدہ اٹھا یا۔اور یہ غلط اطلا ع بھیج دی کہ مسلمان حملہ کرنے والے ہیں جس کی وجہ سے اہلِ مکہ اپنے مال کی حفاظت کے لیے نکل پڑے اور جب قا فلہ بخیریت بچ نکلا تو بھی ہا ئے ، عمرو ہائے عمروکے واویلا نے کام کیا اور جو کہ جنگ کے حق میں نہیں تھے وہ بھی ابو جہل کا ساتھ دےنے کے لیے مجبور ہو گئے۔ مگر اس پر ہم آگے چل کر بات کریں گے۔ اس سے پہلے ترتیب کے لحاظ سے جو وا قعہ پیش آیا وہ“ تحویلِ قبلہ “ تھا اور مورخین کے مطا بق دو سری ہجری میں ما ہ رجب میں وقو ع پذیر ہوا۔ یہ ایک بہت بڑا امتحان تھا جو کچھ لو گوں کے ایمانوں کوزائل کر گیا جبکہ جونبی (ص) کی ہر بات پر آمنا اور صدقنا کہتے تھے ان کے ایما نوں کو مزید پختہ کر گیا۔ مو منین پہلے امتحان سے اس وقت گزرے جب کہ باپ دادا کا قبلہ چھو ڑ کے بنی اسرئیل کا قبلہ قبو ل کیا اور اب اللہ تعا لیٰ نے انہیں دوسری مرتبہ آز ما یا شا ید اس لیے کہ ایک بڑ ا امتحان سامنے آ رہا تھا جہاں کہ ایک مسلح فوج کے سامنے تقر یباً نہتے لو گو ں کو نبی (ص) کی اس یقیں دہا نی پر یقین کرتے ہو ئے کہ اللہ نے مد د کا وعدہ کیا ہے ،صرف تین سو سے کچھ اوپر بندوں کو مقا بلہ کے لیے نکلنا تھا لہذا جن کے ایمان کمزور تھے وہ پھر گئے اور گرد چھٹ گئی اور اسطرح دو دھ اور پانی کو اللہ تعا لیٰ نے جدا فرما دیا۔ یہاں اس یقین کو پختہ کر نا بھی تھا کہ نبی (ص) کی ہر بات پر یقین کر نا ہی اسلام ہے ۔اور یہ یقین دہا نی بھی حضور (ص) کی ہی خصو صیت تھی جو اللہ تعا لیٰ نے کسی اورکو عطا نہیں فرما ئی کہ”یہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں فرماتے جو میں چا ہتا ہو ں وہی کہتے ہیں “ اس پر جو ردِ عمل ہو نا تھا اس پر قرآن کی آیتیں صاد کر رہی ہیں۔ جن کا تر جمعہ مندرجہ ذیل ہے؛ ”عنقریب بیو قو ف لو گ کہیں گے کہ کس چیز نے انہیں انکے اس قبلے سے پھیر دیا جس پر وہ تھے کہہ (فرمادیجئے) مشرق اور مغرب اللہ کے ہیں ،وہ جسے چا ہتا ہے سیدھی را ہ دکھا دیتا ہے، اسی طر ح ہم نے تمہیں بہترین جماعت بنا یا کہ تم لو گو ں کے لیے گواہ بنواوررسول تمہارے لیے گواہ بنے اور جس قبلہ پر تو تھا وہ تیرے لیے، وہ ہم نے صرف اس لئے مقر ر کیا تھا کہ جو رسول کی پیر وی کرتا ہے، اسے اس شخص سے ممتا ز کر دیں جو اپنی ایڑ یو ں کی طرف لو ٹ جا تا ہے“ پھر اللہ تعالیٰ مزید وضا حت فر ما تے ہیں”اگر چہ یہ بڑی (بھاری) بات تھی (مگر ان لو گو ں پر کو ئی با ت بھاری نہ تھی) جنہیں اللہ نے سیدھی راہ دکھا دی تھی اب یہاں صحابہ کرام کے دل میں یہ خد شہ پیدا ہو سکتا تھا کہ ہما ری پچھلی نما زو ں کا کیا ہو گا ؟ اس کو اول تو پہلی آیت میں یہ فرما کر مطمعن فرما دیا تھا کہ اصل چیز تو نبی (ص) کی اطاعت ہے ورنہ مغرب اور مشرق دو نو ں ہی اللہ تعا لیٰ کے ہیں، لیکن یہا ں اس پہلو کو بھی اپنی شانِ کریمی سے تشنہ نہیں رکھا۔ تسلی فرما دی کہ ” اور اللہ ایسا نہیں کہ تمہا را ایمان بر باد کردے “ یعنی تم نے جو کچھ بھی اس طرف منہ کرکے عبا دت کی ہے وہ اتبا عِ رسول میں کی ہے لہذا وہ ضائع نہیں ہوگی( بشرطِ خلو ص کے تقاضے پو رے کرتی ہو ) کیو نکہ ”بےشک اللہ تعالیٰ لو گو ں پر مہربا نی اور رحم کرنے والا ہے “۔ پہلے قبلہ کی تبدیلی بھی ایک امتحا ن تھا اور حضو ر (ص) با خبر تھے اسی لیے وہ ہر لمحہ منتظر رہتے تھے ۔کہ اللہ کی طر ف سے تحویلِ قبلہ کاحکم آنے والا ہے جس کی اگلی آیت سے نشاندہی ہو رہی ہے ورنہ نبی (ص)تو مجسمہ تسلیم و رضا ہو تا ہے ۔اس تو قع پر آسما ن کی طر ف دیکھنا کچھ معنی رکھتا تھا۔ جس کی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں پردہ کشا ئی فرمادی ”آسمان کی جانب تیرے چہرے کو ہم بار ،بار اٹھتا ہوا دیکھ رہے ہیں پس بے شبہ ہم تجھے اسی قبلے کی جانب پھیر دیں گے ،جسے تو پسند کرتاہے۔پس اب تو اپنا چہرہ مسجدِ حرام کی طرف پھیر لے (اور اے امت کے لو گوں) تم جہا ں کہیں بھی ہو اپنے چہرے اُسی جانب کردو “ اس پر یہو دیو ں نے ایک ہنگا مہ بر پا کر دیا جبکہ اہلِ ایمان اور حضور (ص) پر اس کا کو ئی اثر نہ ہوا تو انہو ں نے تحریص سے کام لینا چا ہا اور ابن ِاسحاق فرماتے ہیں کہ یہو دکے زعما ءجن میں رفاعہ بن قیس ، قرد م بن عمرو، رافع بن ابی رافع ، کعب بن اشرف ، اور حجاج بن عمرو، ربیع بن الربیع، کنا نہ، رسول (ص) اللہ کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور کہا: ”اے محمد (ص)آپ جس قبلہ پر تھے، اس سے کس چیز نے آپکو پھیر دیا۔ آپکا دعویٰ تو یہ تھا کہ آپ ملت ابرا ہیمی پر اور دینِ ابراہیمی پر ہیں ۔ آپ (ص) جس قبلے پرتھے اس پر لوٹ آ ئیں ، ہم آپ (ص)کی پیر وی کریں گے اور سچا مان لیں گے۔ وہ حیلے کے طور پر پر یہ تحریص استمال کر رہے تھے تا کہ حضور (ص) ان کی بات مان لیں تو وہ دنیا کو یہ دکھا سکیں کہ دیکھو یہ ہیں تمہارے نبی (ص) جو ہما رے چکر میں آگئے۔ اگر انہیں حضو ر (ص) کی رسالت پر یقین ہو تا تو کبھی بھی ایسا چکر نہیں چلاتے وہ یہ بھی جانتے کہ یہ نبی اپنی مر ضی سے کچھ نہیں کرتے اور انکی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ مو جود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ان کی قلعی کھو ل دی۔( ترجمعہ)”اور بیشک جن لو گو ں کو کتا ب دی گئی ہے یقینا اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ ( تحویلِ قبلہ) حق ہے لو گو ں کے پر ور دگار کی جانب سے ہے اور جو کام وہ کر رہے ہیں اللہ اس سے غافل نہیں ہے اگر تو ان لو گوں کے پاس جنہیں کتاب دی گئی ہے ہر طرح کی نشا نی لا ئے تو وہ تیرے قبلے کی پیر وی نہیں کریں گے اور تو بھی انکے قبلے کی پیروی کرنے والا نہیں ۔اور ان میں کے بعض افراد بھی دو سرے بعض افراد کی پیر وی کرنے والے ہیں ۔اور تیرے پاس جو علم آچکا ہے، اس کے بعد بھی اگرتو نے ان کی خوا ہشو ں کی پیر وی کی تو بے شبہہ ظالمو ں سے ہو گا،بے شبہ وہ حق ہے تیرے پر ور دگا ر کی جا نب سے اس لیے تو شک لا نے وا لو ں میں ہر گز شامل نہ ہو “۔ اسکے بعد چو نکہ کسی اہلِ ایما ن کے لیے شک و شبہ کی گنجا ئش نہ رہی تھی لہذا سوا ئے منحر فین ، منا فقین او ر یہو د کے سب اس وسو سے سے پا ک ہو گئے ،جو دشمنا ن اسلام نے پھیلا یا ہو ا تھا۔ یہا ں اللہ تعا لیٰ کا یہ فر ما نا کہ وہ ( اہلِ کتاب) اس سے واقف ہیں کہ حق کیا ہے( مگر ان کے مفا دات اور حسد انہیں یہ نہ ما ننے پر مجبور کر رہا ہے)۔ اللہ تعا لیٰ کا حرم شریف کو قر آ ن میں بیتِ عتیق کہنا خو د اس با ت پر دلا لت کر تا ہے کہ پہلی عبا دت گا ہ یہ ہی تھی جس کی بنیاد حضرت آدم (ع) کے زما نہ میں رکھی گئی۔ جو کہ تما م عالم کے لیے عبا دت گا ہ تھی اور اس وقت تک رہی جب تک کے کفار مکہ نے اسے بتو ں سے اسے آلو دہ نہیں کردیا۔ اور ایسی کچھ روایات بھی ان میں چلی آ رہی تھیں کہ جب نبی (ص) آ خر الزماں تشریف لا ئیں گے، تو وہ بیت العتیق کو دو با رہ پا ک کر کے عبا دت گا ہ بنائیں گے۔ کچھ احا دیث اس کی پہلی سا خت کے بارے میں بھی مو جو د ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ پہلا حرم شریف حضرت آدم (ع)کے زما نے میں ایک خیمہ کی شکل میں تھا جو کہ فرشتو ں نے جنت سے لا کر نصب کیا تھا۔ جو بعد میں طوفان ِ نوح کے وقت اٹھا لیا گیا اور با ری تعا لیٰ نے حضرت ابرا ہیم (ع) کو اسی جگہ دو با رہ تعمیر کی ہدایت فرمائی۔