ہم پچھلی نشست میں قر یش کی تیا ریو ں کا ذکر کر رہے تھے۔ اُدھر ابنِ اسحاق (رح) کی روایت کے مطا بق جو کہ ا نہو ں نے یزید بن رومان اور انہو ں نے عروہ بن زبیر سے روایت کی ہے کہ حضور (ص) صحابہ کرام کی جماعت کے ساتھ مدینہ منورہ سے چند را تیں رمضا ن المبارک کی گذارنے کے بعد چلے لیکن ا بنِ ہشام (رح) کے مطا بق آ ٹھ دن گذرنے کے بعد پیر کو روانہ ہو ئے انہو ں نے مدینہ میں اپنا نا ئب امامت کے لیے عمرو بن ام ِا لمکتوم کو بنایا جو کہ بنی عامر میں سے تھے اور پھر اس کے بعد مقام رو حاءسے حضرت ابو لبا بہ (رض) کو مدینے کا عامل بناکر روانہ فرما یا۔ابنِ اسحاق (رح) کے مطا بق حضور (ص) کے سامنے دو پر چم تھے ایک حضرت علی (رض) بن ابی طا لب کے ہا تھ میں اور دوسرا ابنِ ہشام (رح) کے قول کے مطا بق سعد (رض) بن معا ذکے ہا تھ میں۔جبکہ ابن اسحاق (رح) نے نام نہیں لکھا البتہ یہ لکھا کہ دوسرا انصار (رض) کے ہاتھ میں تھا اور سواری کےلئے ستر اونٹ تھے جن پر مع حضور (ص) کے سب باری باری سوار ہوتے تھے اور لشکر کے پچھلے حصہ پہ حضرت قیس (رض) بن ابی صعصعہ جن کا تعلق بنی معا ذن سے تھا نگراں تھے۔مدینہ سے مکہ کی جا نب آپ پہا ڑی راستہ سے روانہ ہو ئے پہلے عقیق پھر ذی الحلیفہ، پھر اولات الجیش سے گذرے پھر آپ تربان، ملل، غمیص الحمام، صخیر الیمام اور سیالہ ہو تے ہو ئے فج الر وحاپہنچے۔ اسکے بعد شنوکا پر عام راستہ اختیا ر کیا، یہاں تک کہ آپ (ص) عرق الظبیہ میں تشریف فر ما ہو ئے۔ یہا ں پر ایک بدو ملا، اس سے قریش کے بارے میں پو چھا گیا مگر اس کو کو ئی خبر نہیں تھی۔ اس سے کہا گیا کہ رسو ل (ص) اللہ کو سلام کرو یہ ہما ر ا طریقہ ہے اس نے سلام کیا۔ پھر آپ (ص) نے وہا ں سے کو چ فرما یا تو المنصرف پہنچے، اور وہاں پرمکہ کا راستہ با ئیں طرف چھو ڑدیااور النا زیہ کی جا نب سے بدر کا راستہ اختیار فر ما یا۔ پھر ایک وادی کو قطع کیا جوصفرا کی تنگ گھا ٹی اور النا زیہ کے درمیان ہے اور اسے الحقان کہتے ہیں۔ وہاں سے صفرا پہنچے تو عمرو جہنی اورعدی بن ابی الز غاءکوبدر کی جانب روانہ فر ما یا تاکہ وہ قریش کی نقل و حرکت کاپتہ کر سکیں اس کے بعد وادی ذفران سے گذر کر و ہیں قیا م فر ما یا۔ وہاں آپ کو قریش کے با رے میں اطلا ع ملی کہ قریش اپنے قافلہ کی حفا ظت کے لیے نکل پڑے ہیں۔ آپ نے لو گو ں سے مشورہ فرما یااور قریش کی آمد کی خبر دی تو سب سے پہلے حضرت ابو بکر (رض) کھڑے ہو ئے اور انہو ں نے انتہائی پر جو ش تقریر کی اس کے بعد حضرت عمر (رض) بن خطاب اٹھے اور انہوں نے بھی بہت عمدہ تقریر فرما ئی پھر حضرت مقداد بن عمرو اٹھے اور انہو ں نے کہا یارسول اللہ جو آ پکو جوحکم ہوا ہے وہ بتائیے ہم ا کے ساتھ ہیں۔ واللہ ہم مو سیٰ کی اُمت کی طرح یہ نہیں کہیں گے ”کہ آپ اور آپکے رب جا ئیں اور جنگ کریں اور بے شک ہم یہاں بیٹھے رہنے والے ہیں“ بلکہ ہم کہیں گے کہ آپ (ص) اور آپکا پر وردگار دو نو ں چلیں اور لڑیں ۔ہم بھی آپ (ص)کے ساتھ ہو کر لڑیں گے ۔قسم ہے اس ذات پا ک کی جس نے آپ (ص)کو نبی بنا کر بھیجا ہے اگر آپ ہمیں برک ا لغماد (یمن کا ایک مقام) تک بھی لے چلیں توہم آپ کا ساتھ دیں گے۔ یہاں تک کہ آپ وہیں پہنچ جا ئیں۔رسول (ص) اللہ نے ان کی تعریف کی اور ان کے لیے دعا فرما ئی اور دوبارہ فرما یا ”اے لو گوں مجھے مشورہ دو “ اصل میں اب حضور (ص) کا رو ئے سخن انصار کی طرف تھا کیو نکہ انہو ں نے بیعت عقبہ کے مو قع پر یہ تو ذمہ داری لی تھی کہ جب آپ (ص) ہماری بستیوں میں پہنچ جائیں گے تو آپ (ص) ہما ری ذمہ داری ہو نگے اور ہم اس طرح آپ (ص) کی حفا ظت کرین گے جس طرح ہم اپنے بچوں اور عو رتو ں کی حفا ظت کرتے ہیں۔ لہذا حضور (ص) کو یہ خد شہ تھا کہ ممکن ہے کہ انصار کہیں یہ نہ سو چیں کہ ان کی ذمہ داری تو صرف اس صو رت میں ہے جبکہ کو ئی مدینہ پر آکر حملہ آور ہو نہ کہ مدینہ سے با ہر نکل کر کسی سے جنگ کریں۔جب دو بارہ حضور (ص)نے یہ الفاظ دہرائے تو سعد (ص)بن معاذ کھڑے ہو ئے اور استفسار فرما یا کہ کیا حضور (ص) کا رو ئے سخن ہما ری طرف ہے؟ ۔ حضور (ص) نے فرما یا نعم (ہاں)انہو ں نے جوا باً فرما یا کہ بے شبہ ہم آپ (ص) پر ایمان لا چکے ہیں۔ ہم نے آپ (ص) کی تصدیق کی اور گواہی دی کہ جو چیز آپ (ص) نے ہمارے سامنے پیش فرما ئی ہے وہ حق ہے اس پر ہم آپ (ص) کو قو ل دے چکے اور آپ (ص) کی فر ما نبرداری اور اطاعت پرپختہ وعدہ کرچکے ہیں، اس لیے یا رسول اللہ ! آپ (ص) جہاں چا ہیں تشریف لے چلیں ہم آپ (ص) کے ساتھ ہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ (ص) کو سچا ئی کے ساتھ مبعوث فرما یا اگر آ پ (ص) سمندر بھی سا منے لے آ ئیں اور اس میں داخل ہو ں تو ہم آ پ (ص) کے ساتھ داخل ہو جائیں گے۔ اور ہمارا ایک شخص بھی پیچھے نہیں ہٹے گاہم یہ بات نا پسند نہیں کرتے ہیں کہ کل کو آپ (ص) ہمیں ساتھ لیکر دشمن کے مقا بل ہو ں ہم جنگ کر نے کے لیے بڑے مضبو ط ا ور مقابلے میں کامل ہیں۔ امید ہے کہ اللہ ہماری جا نب سے ایسے کار نا مے دکھا ئے گا جن سے آپ (ص) مطمعن ہو جا ئیں گے۔ غرض آپ ہمیں ہمرا ہ لے چلئے۔حضور (ص) حضرت سعد بن معاذ(رض) کی تقریر سے بہت خو ش ہو ئے اور دعافرما ئی۔اور پھر اللہ تعا لیٰ کی حمد و ثنا کے بعد ارشاد فرما یا ”چلو اور خوش ہو جا ؤ کہ اللہ نے مجھے (ص) دو نوں گر وہو ں میں سے ایک کا وعدہ فر مایا ہے۔واللہ اس و قت میں (ص) بے شبہ ان لو گو ں کے بچھڑ نے کے مقامات دیکھ رہا ہو ں “ پھر رسول (ص) اللہ نے ذفرا ن سے کوچ فر مایااور ان پہا ڑوں میں سے چلے، جن کا نام الا صا فر تھا۔ وہاں سے ایک بستی کی جانب رخ فر ما یا جس کا نام الد بہّ تھا اور الحنان کو جو ایک ٹیلہ، بڑے پہا ڑ کی طرح تھا،سیدھی جانب چھو ڑکر بدر کے قریب نزول فر ما یا۔ پھر حضور (ص) حضرت ابو بکر (ص) کی معیت میں ایک قریبی بستی میں ایک بو ڑھے عرب کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے قریش کے بارے میں در یا فت کیا۔بو ڑھے نے یہ شرط بطو ر معا وضہ رکھی کہ پہلے آپ یہ بتا ئیں کے آپ ہیں کو ن ؟ حضور (ص) نے بوجہ اس کو اپنی پہچا ن نہیں کرائی بلکہ فرمایا ”نحن من ماء“یعنی ہم پا نی سے ہیں ( اس جواب میں کتنی بڑی حکمت پو شیدہ تھی وہ عام فہم سے با ہر ہے) لیکن اس نے خو د ہی تو ضیح کرلی ،اچھا تومیں سمجھا! کہ تم اہلِ عراق میں سے ہو۔شیخ نے کہا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ محمد (ص) اور ان کے ساتھی فلاں روز نکلے ہیں اور اگر اس نے سچ کہا ہے تو فلا ں مقام پر ہو نگے ا ور یہ وہی مقام تھا جہا ں اس وقت حضو ر (ص) کا لشکر پڑاؤ ڈالے ہو ئے تھا۔ پھر آپ (ص) نے قریش کے با رے میں پو چھا تو اس نے بتایا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ قریش فلاں رو ز نکل چکے ہیں اور اگر بتا نے والے نے درست بتا یا، تو وہ فلاں مقام پر ہو نگے۔ چو نکہ اس کی اندا زہ لگا نے کی صلا حیت پہلی پیشن گو ئی سے ثابت ہو چکی تھی لہذا حضور (ص)و ہا ں سے و اپس تشریف لے آئے ابنِ ہشام (رح) نے اس بوڑھے کا نام سفیان الضمری تحریر کیا ہے۔ ابنِ اسحاق (رح) آگے بیان فرماتے ہیں کہ پھر حضور (ص) اپنے صحابہ کی طرف پلٹ آئے۔ شام کو علی بن ابی طا لب، زبیر بن عوام اور سعد (رض)بن ابی وقاص کو ایک جما عت کے ساتھ بدر کے چشمہ کی طرف روانہ فر ما یا تاکہ پانی لینے آنے والو ں سے قریش کا پتہ کریں۔ انہیں پانی لے جا نی والی ایک جماعت ملی،جو کہ بنی الحجاج کا غلام اسلم اور بنی العاص بن سعید کا غلام ابو یسار تھا۔یہ لو گ ان دو نو ں کو پکڑ لا ئے اور سوال جواب کر نے لگے جبکہ حضور (ص) نماز ادا فر ما رہے تھے۔ انہو ں نے سچ سچ بتا دیا کہ وہ قریش کے لیے پانی لینے آئے تھے ،مگر اِن کو شبہ تھا کہ یہ ابو سفیان کے غلام ہیں اور اہلِ قافلہ میں سے ہیں جب انہو ں نے سختی سے باز پرس کی تو انہو ں نے سفیان کا غلام ہو نے کی حامی بھر لی۔ درایں اثنا حضور (ص) نے سلام پھیرا اور فرما یا کہ جب وہ سچ بو لرہے تھے تو تم نے نہیں ما نا مگر جب جھوٹ بو لا تو تم نے تسلیم کرلیا لہٰذا اب انہیں چھوڑدو۔ پھر رسول (ص) اللہ نے ان سے استفسار فر ما یا کہ تم مجھے قریش کے با رے میں خبر دو۔ وہ لو گ بو لے وہ سامنے والے ٹیلے ”عقنقل “ ( لیکن قرآن میں اس کو عد وة القصو یٰ کا نام سو رہ انفعال میں دیا گیا ہے) کے پیچھے ہیں ۔ پھر تعداد پو چھی تو انہو ں نے بتا یا کہ بہت ہیں مگر گنتی نہیں معلو م ۔ پھر حضور (ص) نے پو چھا کہ رو زانہ کتنے اونٹ کاٹے جا تے ہیں انہو ں نے بتایا نو ،دس۔ اس سے حضور (ص) نے اندازہ لگا یا کہ وہ نو سو اور ہزار کے درمیا ن ہیں۔ پھر ان سے پو چھا کہ قریش کے سر بر آوردہ لو گو ں میں سے کو ن کون ہے انہو ں نے بتا یا کہ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابو البختری بن ہشام حکیم بن حزام، نوفل بن خویلد، الحارث بن عامر بن نو فل، طعیمہ بن عدی بن نو فل، النضر بن حارث، زمعہ بن الاسود،ابو جہل بن ہشام، امیہ بن خلف ، حجاج کے دو بیٹے نبیہ او ر مبیہ ،سہیل بن عمرو اور عمرو بن عبد ود۔ یہ سن کر رسول (ص) اللہ نے حاضریں سے فر ما یا کہ انہو ں نے تمہارے سامنے اپنے جگر کے ٹکرے ڈال دیئے ہیں۔ ( باقی آئندہ)