|
کمال ہو گیا ،واقعہ کا نوٹس لے لیا ۔۔از:عالم آرا۔ وینکوور
30.06.2015, 01:00am , منگل (GMT+1)
ہم ہر حادثے کے بعد پڑھتے اور سنتے ہیں کہ وزیرِاعظم نے یا کسی وزیر نے واقعئے کا نوٹس لے لیا ہے ۔واقعئے کا نوٹس لے لینا ہی ہماری باچھیں کھِلا دیتا ہے کہ واہ کیا کمال ہے کہ نوٹس لے لیا گیا ہے اگر نہ لیتے تو ہم ان کا کیا بگاڑ لیتے بھلا ؟؟؟ یہ ہماری خوش قسمتی ہی سمجھئے کہ بڑے بڑے واقعات کا نوٹس لے لیا جاتا ہے ورنہ چھوٹے واقعات تو اتنے ہیں کہ شاید وزیرِ اعظم کو انکا نوٹس لینے کے لئے بھی ایک اور ٹرم کی ضرورت پڑے گی خدا نخواستہ ۔
ملک میں اتنے دھماکے اتنے اغوا اور اتنی افرا تفری ہے کہ دماغ ماؤف سے ہوگئے ہیں ،کہ کس پر قلم اُٹھائیں اور کسے چھوڑ دیں ۔ایک اور خبر جو ہمیں چونکا دیتی ہے کہ غریب ملک کا پیسہ کس طرح اب کونے کدھروں سے نکل رہا ہے وہاں تک کون لے گیا اس پر اتنا بڑا سولیہ نشان ہے کہ اسے کھولنے کے لئے جِنوں کی ضرورت پڑے گی جو اآج کل ہماری اآبادی کے بڑھنے کی وجہ سے نہ جانے کہاں جا چھپے ہیں ۔بس شاید اُن لوگوں ہی کو نظر اآتے ہیں جو لوگوں کو دھوکا دے کر انہیں اُتارنے کا ڈھونگ رچاتے ہیں ۔
کہتے ہیں کہ کہیں سے کروڑوں روپیہ ملا ہے ۔کس کا ہے پتہ نہیں اور یہ پتہ چلے گا بھی نہیں،، اِلا` یہ کہ اُن صاحب کے خلاف کوئی اُن کا دوست ہو جائے یا پھر کوئی ایمان والا اسکی تفتیش کرے جو اب ملک میں جنِسِ نایاب ہیں ۔گو بہت ہیں مگر کہاں ہیں پتہ نہیں ،نظر نہیں اآتے کسی اداروں میں ۔لانچ کھڑی ہے اُس میں کروڑوں روپیہ ہے کس کا ہے ؟کس نے رکھا ؟کیسے وہاں پہنچا ہے۔ ہے کوئی جرائت مند جو کھوج لگائے ۔کوئی اینکر کوئی خبر دینے والا ۔کوئی تجزیہ نگار ۔یہ وہ مقامات ہیں جہاں ہمارے یہاں کا کوئی کردار بھی ہمت نہیں دکھاتا کہ لو اآج ہم سر پر کفن باندھ کر تمہیں بتاتے ہیں کہ کون لوٹ رہا ہے ہمارا ملک ،کون کر رہا ہے ہمیں بے آسرا ،کون مار رہا ہے غریب کے پیٹ پر لات جو شاید اب لات کھانے کا بھی متحمل نہیں ہو سکتا وہیں ٹیَں بول جائیگا ۔
بس جس طرح واقعے کا نوٹس لیا جاتا ہے اور اسکے بعد ٹائیں ٹائیں فِش اسی طرح ملک کے ان رازوں کو بھی راز ہی رکھا جاتا ہے کہ بڑے لوگ تو ہر کیس سے بَری ہو جاتے ہیں ۔اور واپس اپنے عہدوں پر اُسی شان سے اآجاتے ہیں جس شان سے گئے تھے ۔بلکہ واپسی میں سہرا اور بھی لمبا اور وزنی ہوتا ہے ،۔‘‘ کہ دیکھا کیسا چِت کیا اُن لوگوں کو جو وا ویلا مچا رہے تھے ‘‘ مگر ہماری سمجھ میں ایک بات نہ اآئی کہ پھر ان معاملات میں آرڈر کس کا ہوتا ہے یا خود بہ خود بندوقیں چل جاتی ہیں جن ہاتھوں میں ہوتی ہیں ۔کیونکہ الیکٹرانک زمانہ ہے بس کسی نے سوچا اور چل گئی گولی مگر سوچنے والا کدہر ہوتا ہے یہ راز کبھی افشا نہیں ہوتا جیسا کہ ماڈل ٹاؤن کا واقعہ تھا ۔بس ایک رپورٹ اآتی ہے اور سب کچھ حق میں ہو جاتا ہے مگر یہ رپورٹ صرف بڑے لوگوں کے لئے ہوتی ہے غریب اور بے گناہ کے لئے ایسی رپورٹ کبھی نہیں اآتی بلکہ وہ تو اپنا مقدمہ لڑتے لڑتےادھ موا ہوجاتا ہے ۔انصاف نہیں ملتا کہ یہ بھی باندی بن گیا ہے امیروں کی ۔
سنتے اآئے ہیں کہ ہر نا انصافی اور ظلم کی ایک انتہاء ہوتی ہے اور جب یہ دونوں چیزیں بے مہار ہو جاتی ہیں تو وہ طبقہ اُٹھ کھڑا ہوتا ہے جس سے بچنا اآسان نہیں ہوتا یعنی نچلا اور درمیانہ طبقہ جو شاید ہمارے ملک میں ابھی تک خراٹے کی نیند سو رہا ہے ۔کوئی آواز ان باتوں کے خلاف اُٹھتی نظر نہیں اآتی جو اآج کل روز ہی خبروں میں ہیں ۔یہ بے حسی ہے ؟خوف ہے یا پھر کوئی مصلحت ۔جس نے زبانوں کو تالے لگا دئے ہیں ۔ایک ماڈل کس کے پیسے لے جارہی تھی ابھی تک نہ کھل سکا بلکہ شاید ہی نام سامنے آئیں کہ اینکر کہہ دیتا ہے کہ آپ سب کو معلوم ہی ہے ،وزیر کہہ دیتا ہے کہ آپ سب جانتے ہی ہیں ۔مشیر کہہ دیتا ہے کہ آپ سب کے سامنے ہے ۔ اور اسی ٹیم ٹام میں آپ کے سامنے کبھی کوئی نام نہیں آتا ۔کاش اینکر ہی ہمت کر لیں اور نام لے دیں ۔کہ شک پیدا کرنا اور شک کی گنجائش دینا بھی گناہ میں شمار ہوتا ہے جو ہمارے میڈیا والے اور حکومتی ارکان شاید بڑی ڈھٹائی سے کر رہے ہیں ۔یہ سب وہ باتیں ہیں جو برکت اُٹھا دیتی ہیں ۔جو زہنوں کو زنگ لگا دیتی ہیں جو انصاف سے دور کر دیتی ہیں لیکن ہم نے ان سب باتوں کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے ۔کابش ہم صرف اور صرف سچ بولنا شروع کر دیں تاکہ کچھ تو نحوست کم ہو ۔
یا پھر یہ سب میڈیا کا پرو پیگنڈہ ہے جس نے ہمیں خوف زدہ کیا ہوا ہے ۔یا پھر وہ کہاوت صادق اآرہی ہے کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا ۔نہ علامہ کچھ کر سکے اور نہ ہی کھلاڑی بس سب اپنی اپنی جگہ واپس پہنچ گئے بدلا کچھ بھی نہیں کہ یہ شاید تقدیر ہے کہ ہم جیسے بے بس ، بس یہ ہی سوچ سکتے ہیں اور یہ خوف بھی رکھتے ہیں کہ یہ خاندانی جمہوریہت اور خاندانی سیاست یونہی چلتی رہے گی اور لوگ روتے رہینگے نکلینگے نہیں کہ سب سے اآسان کام بقول ہماری بوا کے‘‘ ٹسوے بہانا ہے ‘‘۔ اور یہ شاید دنیا کا سب سے اآسان کام ہے ۔جو ہمارے یہاں کا ہر طبقہ کر رہا ہے ۔ہماری سوچ ہے کہ جو اآٹھتے نہیں وہ کبی چل نہیں سکتے ،جو چلتے نہیں وہ کبھی بھاگ نہیں سکتے اور جو بھاگ نہیں سکتے وہ کبھی اپنی منزل پر جلدی پہنچ نہیں سکتے ۔ہماری دعا ہے کہ ملک میں اب کوئی اور سانحہ نہ ہو ، آمین ۔
ایک بار اگر ہر کرسی پر بیٹھا شخص اپنے اندر جھانک لے اور تصور کر لے آخری آرمگاہ کا تو شاید رات کو سکون سے سونا بھی مشکل ہوجائے مگر ہمیں نیند بہت عزیز ہے اس لئے ہم میں سے کوئی بھی اپنے اندر جھانکنا نہیں چاہتا کہ اندر اندھیرا تنا ہے کہ شاید کچھ نظر بھی نہیں آئیگا سوائے اپنی ذات کے جو لے ڈوبتی ہے اچھے اچھوں کو ۔
اللہ ہم سب پر رحم کرے اور ہمیں نیکیوں کی طرف راغب فرمائے ۔آمین
|