|
اہل فلسطین کے رمضان المبارک کےمعمولات کیا تھے؟یادوں کے جھروکوں سے!
27.06.2015, 12:20am , ہفتہ (GMT+1)
مرکزاطلاعات فلسطین
ماہ صیام ہردور میں اور مقام پراہل ایمان اور فرزندان توحید کے لیے باعث برکت، محبت اور مسرتوں کا مہینا بن کرنازل ہوتا اور ہرآن مسلمانان عالم پر خداوند کریم کی رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کی برکھا برستی رہتی ہے۔ ماہ صیام آتے ہی پوری مسلم دنیا میں خصوصی انتظٖامات معمول بن جاتے ہیں۔
اس رپورٹ میں مرکزاطلاعات فلسطین نے 'اہل فلسطین رمضان کیسے گذارتے تھے؟ کیا وہ روایات اب بھی زندہ ہیں؟" پرروشنی ڈالی گئی ہے۔
رمضان المبارک کی آمد آمد ہوتی اور ہرطرف ایک نئی چہل پہل، رونق، شہروں، قصبوں، محلوں اور بازاروں میں منفرد گہما گہمی نظرآنا شروع ہو جاتی ہے۔ بچہ ، بوڑھا، مرد، عورت سب خوش خوش دکھائی دیتے ہیں۔ ہر گھرمیں بساط سے بڑھ کر رمضان کریم کے استقبال کی تیاریاں کی جاتی ہیں۔ لو جی آج شعبان کی 29 ہوگئی اور لوگ خصوصی پکی عمرکے تجربہ کار افراد گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے۔ ہرایک اپنی مخصوص توجہ کے ساتھ ہلال رمضان کی تلاش میں ہے۔چاند نظرآنے پرہرطرف سے اعلانات اور مبار کبادوں کا تبادلہ شروع ہوجاتا ہے۔ لوگوں گھر گھر جا کرپڑوسیوں کو ماہ صیام کی آمد پر مبارک باد دیتے ہیں۔ ہرایک کے دل میں دوسرے کے لیے محبت اور انس کے جذبات ہیں اورسبھی نے دوسروں کے خلاف اپنا غصہ یہیں دفن کردیا ہے۔
محبت کا یہ پیغام عام کرتے ہوئے کسی غریب کو اپنی غربت کا احساس نہیں اور کسی امیر کو اپنی دولت کا گھمنڈ نہیں ہوتا۔ گویا "ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز" کی کیفت طاری ہوتی ہے۔ کچھ دیربعد نماز تراویح کے ایمان پرور موقع پر تو عملا سب امیر غریب، چھوٹا بڑا، با اثر بے اثر سب صفیں باندھے حافظ قرآن پیش امام کے پیچھے تراویح کے لیے کھڑے ہوتے ہیں"۔
یہ وہ معمولات ہیں جو آج بھی اہل فلسطین کےہاں مشترک ہیں۔ ہرشہر اور گلی کوچے میں رمضان کا آغاز اور استقبال تقریبا اسی طرح کیا جاتا ہے۔
رمضان سب کے لیے خوشیوں کا مہینا
اگرچہ آج کے مادہ پرستانہ دور میں ماہ صیام کی برکات سمیٹنے کی کم ہی فرصت ملتی ہے اور ہرشخص تلاش معاش کی اپنی اپنی دوڑ میں مصروف ہے مگر اہل فلسطین کے یہ مہینا ماضی اور حال میں اب بھی ایک ہی جیسا ہے۔ اہل فلسطین کی کچھ روایات کو صدیوں سے چل رہی ہیں آج کی نئی نسلیں بھی انہیں سنھبالے ہوئے ہیں۔ غزہ کی 69 سالہ "ام خالد حمو" کہتی ہیں کہ فلسطین میں استقبال رمضان جس طرح 50 سال قبل اس کے بچپن میں کیا جاتا تھا، اب اس کے پوتے پوتیاں بھی ایسے ہی کرتے ہیں۔ تاہم اب کسی حد تک لوگ ترقیافتہ ہوچکے ہیں۔ اس کے باوجود رمضان المبارک کو سب کی مشترکہ خوشیوں کا مہینا سمجھا جاتا ہے۔ لوگ خوشیاں بانٹ کر مسرتیں کماتے ہیں۔ ہرطرف ہرایک خوش خوش دکھائی دیتا ہے۔ روزے چاہے طویل ایام کے ہوں یا چھوٹے دنوں کے کسی کے چہرے پرناگواری یا تھکاوٹ کا نشان نہیں ہوتا۔
ماضی کو کریدتے ہوئے بوڑھی اما"ام خالد" نے بتایا کہ ان کے پچپن میں کھانے پینے کی اشیاء اتنی وافر نہیں ہوا کرتی تھیں اس کے باوجود ہم ماہ صیام آتے ہیں مخصوص قسم کے کلچے، پودینے کی چٹنی اور مربے تیار کرلیتے۔ یہ مربے اور چٹنی نہ صرف افطاری میں استعمال ہوتے بلکہ سحری کے کھانوں کا بھی حصہ رہتے۔
سحری کے اوقات میں روزہ داروں کو جگانے کے لیے "المسحراتی طبلہ" کےنام سے ایک گروپ ڈھول بجاتے ہوئے گلیوں اور محلوں کے اندر سے گذرتا۔ ڈھول کی تھاپ کے ساتھ ساتھ وہ آوازیں بھی لگاتے جاتے۔ یہ تب کی بات ہے جب بجلی کی سہولت نہیں تھی اور لوگ چمنیوں اور لال ٹینوں سے روشنی کا انتظام چلاتے تھے۔ مسحراتی طبلہ کی آواز پربھی جس گھروالے بیدار نہ ہوتے تو انہیں دروازہ کھٹکھٹا کر جگایا جاتا تھا۔ یوں رات کو سب لوگ نہایت اطمینان کے ساتھ سوجاتے کیونکہ انہیں سو فی صد یقین ہوتا تھا کہ انہیں ڈھولچی بیدار کریں گے۔
روزہ داروں کوجگانے کے لیے گلیوں اور محلوں میں دف بجانے والوں کو دوسروں کے گھروں سے کھانا بھی مل جاتا۔ عموایک روٹی، اچار یا مربہ وغیرہ انہیں کھانے کودیا جاتا۔
چونکہ اس دور میں اتنی بہ کثرت مساجد نہیں ہوتی تھیں اور نہ ہی مساجد میں لائوڈ اسپیکر تھا تاہم ان کے دور میں گھڑیوں اور ریڈیو کا استعمال شروع ہوگیا تھا۔ ہم ریڈیو کی مدد سے اپنی گھڑیوں کا وقت درست کرتے اور اس کے مطابق سحر وافطار کا اہتمام کرتے۔ بعض علاقوں میں پانی کی کم یاتی رہتی لیکن اس کے باوجود لوگ ماہ صیام میں اپنے گھروں کی صفائی ستھرائی کا خاص اہتمام کرتے۔
اگرچہ طرز زندگی سادہ ہوتا تھا لیکن خوشیوں سے بھرپور تھا۔ ریت کے گھروندوں میں رہنے والے بھی ماہ صیام کی خوشیوں میں برابر کے شریک ہوتے تھے۔
ماہ صیام میں زیادہ مرغن غذائیں نہیں استعمال کی جاتی ہیں جیسا کہ آج کل کا چلن ہے مگر اکثر گھروں میں شام کے کھانے اور سحری کے لیے دالیں استعمال کی جاتیں۔ بعض اوقات لوبیا کے ساتھ کوئی دوسری دال بھی پکالی جاتی۔ گوشت بہت کم استعمال کیا جاتا تھا اور لوگ سبزیوں اور دالوں کو گوشت سے زیادہ مرغوب سمجھتے تھے۔
ام خالد نے بتایا کہ وہ سال ہا سال سے غزہ کی پٹی کے ساحلی پناہ گزین کیمپ میں رہ رہی تھیں۔ کیمپ کے پناہ گزین مقامی فلسطینیوں سے زیادہ غریب ہوتے تھے اور ان کی غربت آج بھی اپنی جگہ ایسی ہی ہے جیسے کے ماضی میں تھی۔
افطاری سے قبل توپ کے گولے کی آواز سنائی دیتی تھی جو روزہ افطار کرنے کا اعلان ہوتا۔ رمضان المبارک کا چاند نظرآنے پربھی توپ سے گولہ داغا جاتا اور لوگ ایک دوسرے کو آوازیں دیتے اور مبارک بادیں پیش کرتے۔ شام کا اندھیرا چھا جانے کے بعد بھی ہدیہ تہنیت کا سلسلہ جاری رہتا اور لوگ ہاتھوں میں شمعدان پکڑے پڑوسیوں کے ہاں مبارک باد دے رہے ہوتے تھے، لیکن اب یہ طرز عمل اگرچہ موجود ہے مگر جس شدت کے ساتھ اس روایت پرماضی میں عمل کیا جاتا تھا اب اس کا اہتمام نہیں کیا جاتا۔
سوغات رمضان
ام محمد نے مرکزاطلاعات فلسطین کی نامہ نگار کو بتایا کہ ماہ صیام کی آمد کے ساتھ ہی لوگ خصوصی روایتی کھانوں کی تیاری میں مشغول ہوجاتے۔ اگرچہ کھانے سادہ ہوتے مگران کا ذائقہ اور لذت اپنی مثال آپ تھی۔ کھانے کی خوشبوں دور سے محسوس ہوجاتی اور سب کو پتا چل جاتا کہ اس گھرمیں کون سی چیزتیار کی جا رہی ہے۔
ماضی کے کھانوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ام محمد کا کہنا تھا کہ روٹی پکانے کا طریقہ مختلف تھا مگر چپاتی آج ہی کی طرح کی تیار کی جاتی تھی۔ ہم آٹا گوندھنے کے بعد اس کے پیڑے بناتے یا چپاتیاں بنانے کے بعد بیکری پر لے جاتے جہاں انہیں بھٹی میں ڈال کرپکایا جاتا اور ہمیں واپس کردیا جاتا۔
البتہ ماہ صیام کے خصوصی کچلوں کی تیاری کا طریقہ ذرا مختلف تھا۔ گندم کے آٹے سے تیار کیے جانے والے کلچوں کو مقامی زبان میں "القطیف" کہا جاتا ہے۔ آٹا گوندھنے سے قبل اس میں رنگ ملایا جاتا، ہلدی ڈالی جاتی اخروٹ، دار چینی اور شکر ملانے کے بعد اس کے چھوٹے چھوٹے پیڑے بنائے جاتے۔ جسے بعد ازاں توے پر رکھ کر پکایا جاتا۔
رمضان المبارک کی دیگر سوغاتوں میں القطین، خشک کھجور، البسیسہ جیسی ڈیشز شامل تھیں۔ القطین کیک کی طرز پرتیار کیا جاتا جس میں شہد اور تیل کی آمیزش ہوتی۔ الفطیر نامی سویٹس بھی بہت مقبول تھیں۔ اس کی تیاری میں میدہ، ہندوستانی اخروٹ، کشمش اور دار چینی کا استعمال کیا جاتا۔
افطار میں شرکت
ام مہند نے مرکزاطلاعات فلسطین سے گفتگو کرتے ہوئے ماہ صیام کی افطاری کی روایات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت عام تھی اور بن بلائے ایک دوسرے کی افطاری میں شرکت کرتے تھے۔ بعض اوقات افطاری ایک بڑے جلسے کی شکل میں بھی تبدیل ہوجاتی۔
اجتماعی افطاری کی ایک روایت یہ تھی کہ تمام شرکاء اپنے اپنے گھروں سے افطاری کا سامان لے کرآتے اور مل بیٹھ کر روزہ افطار کرتے۔
خواتین اپنے طورپر بھی اجتماعی افطار کا اہتمام کرتیں۔ افطاری کے لیے لذیذ کھانوں کی تیاری میں خواتین میں مقابلے کی کیفیت ہوتی تھی لیکن ہرایک دوسرے کے کھانے کی تعریف کرتا۔
سہولیات زندگی اگرچہ محدود تھیں لیکن زندگی خوبصورت تھی۔ کسی کو اپنے یا دوسرے کے بارے میں کوئی شکایت نہ ہوتی تھی۔ سب صحت مند ہوتے اور بہت کم کسی روزہ دار کے بیمار پڑنے کی خبر ملتی تھی۔
ام مہند نے کہا کہ نماز تراویح کے لیے مساجد میں رش لگ جاتا اور بچے، بوڑھے سب نماز میں مشغول ہوتے۔ خواتین میں تلاوت کلام پاک کے مقابلے ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی قوم خوش وخرم رہنے والے لوگ ہیں مگر ستم رسیدہ اور مظالم برداشت کرنے کے بعد اب ان کی زندگیوں سے خوشیاں کم ہوچکی ہیں۔ غزہ کی پٹی کے عوام کو دہری مشکلات کا سامنا ہے۔ ہرطرف پابندیاں ہیں۔ آئے روز کی اسرائیلی گولہ باری اور تباہی اور بربادی کے ناقابل دید مناظر۔ ایسے میں زندگی اور بھی مشکل ہوگئی ہے۔ ان حالات میں فلسطینیوں کو ایک دوسرے سے مل بیٹھ کر دکھ سکھ بانٹنے کا پرانہ طرزعمل پھر سے اختیار کرنا چاہیے۔ اجتماعی افطاریوں کا اہتمام بحال ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ پچھلے سال اسرائیل نے غزہ کی پٹی پراس وقت حملہ کیا جب لوگ ماہ صیام کے روزے رکھ رہے تھے۔ اکاون دن تک جاری رہنے والی جارحیت میں ہماری خوشیوں پرہمارے ہی پیاروں کا خون چڑھایا گیا۔ ہم وہ دن کبھی بھلا نہیں پائیں گے کہ جب ہم روزہ افطار کرنے کی تیاری کرتے تو ہمارے سروں پر بم برس رہے ہوتے تھے۔ دسترخوان پر لگے کھانے وہیں رہ جاتے اور ہماری عورتیں اور بچے ننگے سر اور ننگے پائوں جانی بچانے کے لیے پناہ گاہیں تلاش کرتے پھرتے۔ کئی گھروں پر اس وقت بمباری کی گئی جب لوگ افطاری میں مصروف تھے اورکھانے کے دسترخوانوں کو ہمارے پیاروں کے جسموں کے چیتھڑوں سے بھر دیا گیا۔
|