گزشتہ قسط میں ہم یہا ں تک پہونچے تھے کہ صحابہ کرام دو پانی لا نے والے غلاموں کو پکڑ لا ئے اور ان سے قریش کے بارے میں معلو مات حا صل کیں۔ آئیے اب آگے بڑھتے ہیں ۔اس سے کچھ پہلے حضور (ص) کو بسبس بن عمرو اور عدی بن ابی الز غباءنے یہ آکر خبر دی تھی کہ قافلہ پہنچنے والا ہے ،مگر حضور (ص) نے اس پر حملہ کی نہ کو ئی تیاری کی اور نہ تعرض فرما یا۔اس سلسلہ میں ابنِ اسحاق (رح) فر ماتے ہیں کہ صحابہ کرام میں سے دو حضرات اپنے طور چلتے چلتے بدر تک جا پہو نچے وہا ں جاکرانہو ں نے دیکھا کہ دو لڑکیاں کسی لین دین پر جھگڑ رہی ہیں ۔ان میں سے ایک نے کہا کہ ایک دو دن میں قافلہ آنے والا ہے تو گھبرا مت میں مزدوری کرکے تیرا قر ضہ چکا دو نگی۔یہ دو نو ں انکی باتیں سن کر حضور (ص) کی خد مت اقدس میں حاضر ہو ئے اور پورا واقعہ عرض کیا۔ درایں اثنا ادھر ابو سفیان نے اسی کو ئیں پر پہلے مجدی کو بھیجا اور پھر خودپہنچا اور اس نے مجدی سے پو چھا کہ کیا تم نے یہا ں کسی کو دیکھا تو اس نے بتا یا کہ ہاں میں نے دو آدمیوں کو اونٹ پر پانی لے جاتے ہوئے دیکھا، اس کے علاوہ مجھے اور کو ئی دکھا ئی نہیں دیا۔ابو سفیان اونٹ بٹھانے کی جگہ پر آیا اور وہا ں جو مینگنیاں پڑی ہو ئی تھیں ان کوتو ڑ کر دیکھا تو ان میں کھجو رکی گٹھلیاں پائیں۔ وہ ا نہیں دیکھ کر بو لا واللہ یہ تو یثرب کا چارہ ہے اور اسکے بعد تیزی سے قافلے کی طرف پلٹ گیا اور اونٹو ں کے منہ پر ضر بیں لگاکر قافلہ کا رخ دوسری طرف مو ڑ دیا وہ انہیں لیکر ساحل کی سمت بڑھ گیا اور بدر کو بائیں طرف پیچھے چھو ڑ دیا۔اس کی اطلا ع ابو جہل کو اس نے دیدی اور قریش کو کہلا بھیجا کہ تم صرف قافلہ ، آدمی اور مال بچا نے نکلے تھے وہ لات اورعزیٰ نے بچا دیا اب واپس لوٹ جاؤ ۔لیکن ابو جہل نہ مانا کہنے لگا واللہ ہم جب تک بدر نہ پہنچیں اورجشن نہ منا لیں وا پس نہیں جا ئیں گے۔ وہاں ہم تین دن رہیں گے، جانور کا ٹیں گے، کھائیں گے اور کھلائیں گے اور شراب پیئں گے، مجرادیکھیں گے اور اس طرح عرب میں ہما ری دھاک بیٹھ جا ئے گی، اس لیے وہاں چلنا چا ہئے۔ لیکن اخنس بن شریق جو کہ بنی زہرہ کا حلیف تھا اس نے کہا کہ نقصان نہ ہونے کی صورت میں وہاں جانے کا کو ئی جواز نہیں ہے۔ لہذا تم بزدلی کاطعنہ مجھے دے لو اور واپس چلو کیو نکہ مال بھی بچ گیا ہے اور ہمارا آد می مخزمہ بن نو فل بھی ۔ ایسا نہ کرو جیسا یہ شخص کہتا ہے ۔آخر وہ لوٹ گیا اور بنی زہرہ کا ایک شخص بھی وہاں نہ رہا ۔کیو نکہ وہ ایسا شخص تھا جس کی ہر ایک بات مانتا تھا اور اس کے علا وہ قریش کی کو ئی شا خ ایسی نہ رہی کہ جس کا کو ئی نہ کو ئی آدمی نہ نکل گیا ہو ۔ لیکن طالب بن ابی طالب ان کے ساتھ تھا۔اس مو قعہ پر قریش کے کچھ لو گوں نے طعنہ دیا کہ اے بنی ہاشم تم بہ ظا ہر ہمارے ساتھ ہو لیکن تمہیں الفت محمد (ص)سے ہے یہ سن کر طالب بھی ان لو گوں کے ساتھ یہ کہتا ہوا واپس ہو گیاکہ میں ظالمو ں کا ساتھ نہیں دیتا ۔اور اس مو قعہ پر اس نے بہت سے اشعار اس مضمو ں کے کہے۔ جہیم نے بھی انہیں واپسی کا مشورہ دیا وہ کا فی پر یشان تھا جب یہ لوگ الحجفہ میں پڑاؤ ڈالے ہو ئے تھے تو اس نے ایک خواب دیکھا جو کہ بقول اس کے نیم خوابی کی حالت میں تھا کہ ایک شخص آیا اور وہ گھوڑے پر کھڑا ہو گیا۔اس کے ساتھ ایک اونٹ بھی تھاپھر اس نے کہا کہ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابوالحکم(ابو جہل) بن ہشام امیہ بن خلف اور فلاں فلاں مارے گئے اس میں وہ تمام نام شامل تھے جو غزوہ بدر میں بعد میں قریش میں سے مارے گئے۔ پھر اس نے دیکھا کہ اس نے اپنے اونٹ کے سینے پر ایک ضرب لگا ئی اور اس کو چھوڑ دیا اور لشکر میں وہ دوڑتا پھرا حتیٰ کہ لشکر قریش کے خیمو ں میں سے کو ئی خیمہ نہ بچا جو کہ اس کے خو ن سے تر نہ ہو گیا ہو۔ابو جہل نے اس کو جھڑک دیا اور کہا کہ تم بھی ایک اور نبی پیدا ہو گئے ہو ہمارے لیے، کل تمہا ری بھی ہم نبو ت کو جھو ٹا ثابت کر دیں گے۔ جب ہم اہلِ یثرب پرغالب ہو ں گے۔
غزوہ بدر میں قریش کا پڑاؤ: ابنِ اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ قریش یہاں تک پہنچ کر رک گئے کہ ادھر ایک پہاڑی نما ٹیلہ العقنقل تھا اور دوسری طرف وادی تھی جسکا نام وادیِ بطن یا یلیل تھا بدر کی با ؤلیاں مدینے کی طرف نشیبی علا قے میں تھیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے بارش برسا دی اور یہ وادی چونکہ رتیلی تھی لہذا نشیب کی طرف کیچڑ ہی کیچڑ ہو گئی جبکہ حضور (ص)کا قیام ذرا اونچائی پر تھا لہٰذا وہاں کی زمیں با رش سے بیٹھ کر تھو ڑی سخت ہو گئی اور چلنے پھر نے میں صحابہ کرام کے لیے سہو لت کا با عث بنی ،جبکہ کفار کے لیے زحمت کا با عث ۔ یہ پہلی افتاد تھی جو ان پر پڑی اور ان میں کے صا حب نظر اس سے خاصے خو ف زدہ ہو ئے۔ مگر ابو جہل پر تو موت منڈلا رہی تھی وہ بھلا اپنے غرور میں ان باتو ں کو کب خا طر میں لاتا۔رسول (ص) اللہ تیزی سے انکے طرف بڑھے اور بدر سے قریب ترین چشمے پر قبضہ کرلیا۔ لیکن بنی سلمہ سے یہ روایت پہنچی ہے کہ الخباب بن المنظر ا نے عرض کی یا رسول (ص)اللہ یہ کو ئی جنگی چال ہے یا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس سے انحراف ناممکن ہے یا آپ (ص)کی ذاتی رائے ہے؟۔ حضور (ص) نے فرما یا یہ (میری) ذا تی (ص) رائے ہے اور جنگی چال ہے۔ عرض کیا تو یہ مقام کو ئی اچھی جگہ نہیں ہے ۔ یہاں ابنِ کثیر (رع) نے تھوڑاسا اضافہ کیاہے کہ جب حضور (ص) سے خباب (رض) بن منذر یہ عرض کر رہے تھے تو جبرئیل (ع) برابر میں کھڑے ہو ئے تھے، انہو ں نے فرما یا کہ جو مشورہ آپ (ص)کو یہ دے رہے ہیں۔ وہ آپ قبو ل فرما لیجئے کیونکہ انکی رائے صائب ہے، حضور (ص) نے پو چھا کہ کیا آپ انہیں جانتے ہیں جبرئیل (ع) نے عرض کیا کہ انہیں، میں کیا سارے اہلِ آسماں جا نتے ہیں ہے یہ واقعی بڑے صادق القول اور صائب الرائے اور بہادر ہیں۔ تب انہو ں نے کہا کہ آپ (ص) آگے تشریف لے چلیں ہم اس چشمے کے پاس اترینگے جو قریش کے قریب ہے۔ اسکے پیچھے جتنے بھی چشمے یا گڑھے ہیں انہیں ہم ناکارہ کر کے اس طرف ایک حو ض بنا لیں گے اور اس میں پانی ذخیرہ کر لیں گے۔ تاکہ پانی ہمارے قبضے میں رہے۔ ورنہ ہمیں مشکل ہو گی۔ حضور (ص) نے فرما یا ”تم نے صحیح رائے دی“پھر رسول (ص) اللہ اور صحابہ کرام اٹھ کر چلے یہاں تک کہ جب قریش کے قریب تر ین چشمہ پر پہنچے تو وہیں ٹھہر گئے۔جس چشمے پر آپ اترے تھے اس پر حوض بنا کر بارش کا پانی ذخیرہ کر لیا گیا اور پانی نکالنے کے لیے برتن اس میں ڈالدیا گیا۔
رسول (ص) اللہ کے لیے سائبان: ابنِ اسحاق (رح) ہی راوی ہیں کہ ان سے عبد اللہ (رض) بن ابی بکر نے بیان کیاکہ ان سے کسی نے بیان کیا کہ سعد (رض) بن معاذ نے عرض کیا کہ یا رسول (ص) اللہ ہم آپ (ص)کے لیے ایک سائبان تیار کر نا چا ہتے ہیں کہ آپ (ص) اس میں تشریف رکھیں، اور آپ (ص) کے لیے سواریاں تیار رہیں۔اس کے بعد ہم مطمعن ہو کر دشمن سے مقابلہ کریں (ورنہ) ہماری جان آپ (ص) میں رکھی رہے گی۔ پھراگر اللہ نے ہمیں غلبہ عطا فر مایا اور دشمن پر فتح نصیب ہو ئی تو ہمارا مقصد حاصل ہو جا ئے گا۔ اگر کو ئی دوسری صورت پیش آئی تو آپ (ص) سوار ہو کر قوم کے ان ساتھیوں سے مل جا ئیے گا، جو ہمارے پیچھے رہ گئے ہیں۔ وہ وفاداری میں ہم سے پیچھے نہیں ہیں۔ اگر انہیں یہ یقین ہو تا کہ جنگ در پیش ہے تو وہ بیٹھ جانےوالو ں میں نہیں تھے۔اللہ ان کے ذریعہ آپ (ص)کی حفاظت فرما ئے گا۔ وہ آپ (ص) کے خیر خواہ رہیں گے اور آپ (ص) کے ساتھ مل کر جہاد کریں گے۔ رسول (ص) اللہ نے انکی بہت تعریف فرمائی اور ان کے لیے بھلا ئی کی دعا فرمائی۔اور اسکے بعد آپ (ص) سائیبان میں فرو کش ہو گئے۔
رحمت اللعالمین (ص) کی شان ِ کریمی:یہا ں بھی اس بات کی روا دار نہ ہو ئی کہ وہ کفار پرپانی بند کر دیں شاید امت کو یہ سبق دینا مقصو د تھا کہ ضرو ریاتِ زندگی دشمنوں پر بھی بند نہ کی جا ئیں۔( لیکن اور ہدا یات کی طرح امت یہ بات بھی بھول گئی اور بعد میں کافر تو کیا اپنوں تک کو بلا لحاظ ایک ہی ڈندے سے ہا نک دیا)۔لہذا جب قریش حوض پر پا نی پینے آئے تو حضو ر (ص) نے فرما یا انہیں پانی پینے دو۔ لیکن یہ عجیب اتفا ق تھا کہ اس احسان کو یاد رکھنے والوں میں سوائے حکیم ابنِ حزام کے بدر کے رو ز سب مارے گئے۔ انہوں نے اس کے بعد اسلام اختیار کرلیااور نمایاں کار نامے انجام دیئے مگر وہ زندگی بھر جب بھی کو ئی اہم قسم کھا تے تو یہ ہی فرماتے: نہیں، ایسا نہیں،اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے بدر کے دن کی ہلا کت سے بچا لیا۔ قریش کو نیک مشورہ دینے والو ں میں ایک شخص اور بھی تھا جس کو انہوں نے محمدی (ص) لشکر کی خبر لا نے بھیجا۔ وہ تھا عمر بن وہب الحجی اس نے آکر بتا یا کہ ان کی تعداد تین سو یا اس سے کچھ زیا دہ ہے۔پھر مزید یقین کے لیے وادی میں دو ر تک چلا گیا مگر پشت پر کو ئی اور کمک یا فو ج آتی نظرنہیں آئی ۔ لیکن اسے کو ئی ایسی غیر مر ئی مخلو ق ضرور نظر آئی جو لاشوں کو او نٹو ں پر اٹھا ئے ہو ئے تھی۔ ( باقی آئندہ)