
کویت مشرق وسطی کا ایک چھوٹا مگر بہت مضبوط ملک ھے کویت دینا کا پانچواں امیر ترین ملک ھے یہ تیل جیسی بہت قیمیتی مدن سے مالا مال ھے اور اسکے زیر زمین مدنی خزانے سوسال میں بھی کم نیہں ھونگے
اسکی کرنسی بھی دینا کی مضبوط ترین کرنسی ھے یہ ایک خوبصورت ملک ھے جہاں دینا بھر سے ھنر مند اپنی آنکھوں میں ان گنت سپنے سجائے آتے ھیں یہاں آنا اور کمانا ھر انسان کی خواھش و خواب ھوتا ھے ۔اور جو لوگ یہاں برسوں سے مقیم ھیں وہ یہاں بڑی آرام و آسائش والی زندگی گذارتے ھیں ۔۔۔ یہاں بڑی بے فکری سے رھتے ھیں
جمعے کو بھی عام دنوں کی طرح اسی اطمینان و لگن سے نماز کی تیاریوں میں مصروف تھے اور یہ کو ئ عام جمعہ نیہں تھا رمضان المبارک کا جمعہ تھا اس لیے نمازیوں نے عام دنوں کی نسبت زیادہ اھتمام کیا تھا کویتی روائتی سفید دشداشہ میں ملبوس سر پر غترہ باندھے ھاتھوں میں عقیق و فیروزے کی تسبح پڑھتے کویت کے قلب میں واقع مسجد امام صادق علیہ اسلام کی طرف رواں دواں تھے ۔
یہ کویت کی ایک بہت خوبصورت مسجد ھے یہآں کوئی 2000 نمآزیوں نماز کی آدائیگی کرتے ھیں آج بھی نمازیوں کی تعداد عام دنوں سے بہت زیادہ ھے
سارے نمازیوں کے چہروں پر روزے کا نور اور عبادت کی پاکیزگی چھائ ھوئی تھی لوگ نہایت انہماک سے اللہ کی عبادت میں مصروف ھیں کسی بھی خوف سے بے نیاز ۔۔ اللہ کے گھر میں خوف کیسا ؟نمآز شروع ھوچکی ھے ۔۔۔۔
جیسے ھی نمآزی سجدے میں گیے ھیں ایک زور دھماکہ ھوا ھے اور حالت سجود ھی میں 27 نمازی شہید ھوچکے ھیں زخمیوں کا بہت برا حال ھے مسجد کا صحن و فرش محراب و منبر چھت دروازے سب بے گناھوں کے خون سے رنگی ھوئ ھیں خودکش حملہ آور جسکی شناخت خالد الشمری کے نام سے ھوئ اپنے نا پاک عزائم میں کامیاب ھوگیا ۔۔۔۔
تکفیری گروپ داعش نے ٹويٹر پر اس خودکش حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی ھے میں سوچ رھی ھوں مسجد میں روزے کی حالت میں شہید کرنے کی روايت نئی تو نیہں ھے ، شہیدوں میں کم عمر بچے بھی تھے نوجوان بھی اور بزرگ بھی تھے شہیدوں کے جسم ایسی حالت میں نیہں ھیں کہ غسل دیا جاسکے وہ اپنے پاکیزہ سپید پیراھن میں ھی دفن کیے جائنگے یہ سب اللہ کے دربار میں جانے کی خاص تیاری کرکے آيے ھونگے ۔۔
الوداع یا ابو علی ،، الوداع یا ابو عبداللہ الوداع یا ابو الحسین تم سب کا خون رايئگاں نیہں جاۓ گا