
گُھٹی گُھٹی سانسوں ،ذہنی کشمکش ،فضا میں آہوں کا دھواں معاشرے کے اِس دور میں جہاں سانس لینا دشوار ،مزاج کا پُر لطف قصہ تھوڑی دیر کیلئے فضا کو روشن اور ذہنی دباؤ کو کم کر دیتا ہے اور ہنسی کی کھنک اِس ڈوبتے دل کی شرینوں میں خون کی گردش تیز کر دیتی ہے ۔
کئی بار ہر وہ خوبصورت بات دل و دماغ کے گوشے سے اُبھر کر اپنی یاد ہانی کرواتی ہے ۔ایسے ہی ایک بات ہمارے شہر میں ایک حکیم صاحب ہواکرتے تھے ۔انکا چرچا شہر میں ہی نہیں پاس پاس کے ہر گاؤں ایسے جن میں رہنے والے ان کے علاج سے مُستفید ہوتے تھے ۔ان حکیم صاحب کا کمال یہ تھا کہ مرد حضرات سے رو برو بات ہوتی انہیں ایک ہی دن میں فارغ کر دیا جاتا ۔اور عورتوں اور حکیم صاحب کے درمیان ایک پردہ ہوتا ۔حکیم صاحب کا انداز تھا کہ نبض پر ہاتھ رکھتے اور بیماری کی نشاندہی کرتے ۔لوگوں کو ان کی بات پر اتنا یقین جیسے پتھر پر لکیر ۔۔۔
وہ اپنی بھوؤں کو اوپر چڑھاتے ،آنکھوں کے کنچے پورے کھولتے ،شیر کی طرح دھاڑکر بیمار کو مرض بتاتے ۔بس آگے سے مریض کو سوال کرنے کی جُرات ہی نا ہوتی ۔۔عورت کی نبض دیکھنے کا الگ سے طریقہ یعنی ایک میٹر لمبادھاگہ رکھا ہوتا ایک سِرا نبض پر دوسرا حکیم صاحب کے ہاتھ میں ۔عورتیں تو بیوقوف ٹھہریں مگر مرد حضرات بھی اللہ اللہ ۔۔۔۔۔
عورت کو فیلو ہو تو حکیم صاحب کہتے لو جی آج سے یہ فیلو میرا ہوا ۔۔۔عورت اتنے میں ہی ٹھیک
اسی دوران سنا ہے ایک آدمی اپنی بیوی کو لے کر حکیم صاحب کے ہاں حاضر ہوا ۔۔بتایا کہ میری بیوی سارا وقت روتی رہتی ہے کچھ بتاتی نہیں ہم بہت پریشان ہیں ۔حکیم صاحب نے محترمہ کی نبض دیکھی اور خاوند سے بولے کیا یہ کبھی شادی سے پہلے سگرہٹ پیتی تھیں ؟
وہ شخص حیران ہوا۔۔۔نہیں تو
اَب اسے سگرہٹ کی اجازت دے دو تاکہ اپنا غم دھواں میں اُڑایا کریں ۔۔اسے بہت غصہ آیا اور وہ چلتا بنا ۔۔صحت کو زندگی کا حاصل جاننے والے جب ناکامی کی طرف گامزن ہونے لگتے تو وہ حکیم صاحب کو پُل سمجھتے ۔۔سُنا تھا حکیم صاحب کی طبیعت بہت غصے والی تھی اسپیشل عورتوں کے معاملے میں کہ وہ نظر اُٹھا کر دیکھتے ہی نہیں تھے ۔۔کافی وقت ایسے گزر گیا ایک دن معلوم ہوا حکیم صاحب جہان فانی سے کوچ کر گے ہیں ۔حیرت ان کے مرنے پر نہیں حیرانگی کی بات یہ تھی کہ جو عورت کی طرف نظر اُٹھا کر نہیں دیکھتے تھے نبض پر رکھے دھاگے سے چار بیوؤں کے مالک بن بیٹھے تھے ۔سنا ہے جس کو سگرہٹ پینے کا مشورہ دیا تھا وہ بھی ان کی بیوؤں میں شامل تھی ۔۔ایک بیوی خاندان سے تھی چار کو دھاگے سے کھینچ لائے تھے ۔۔۔