15.10.2026, 07:23pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » شمس جیلانی
 

جوبے موت مر رہے ہیں غلطی یہ انکی ہے۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی
04.07.2015, 04:01am , ہفتہ (GMT+1)

از۔۔۔شمس جیلانی
  اب تک یہ تو ہوتا رہا ہے کہ لاشیں سڑکوں پرپڑی رہیں کیونکہ یہ واضح نہ تھا کہ یہ مقام کس تھانے کے حدود میں ہے لہذا یہ طے نہیں ہوسکا کہ لاش اٹھانا کس کی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ ایک تھانے یا ضلع کی پولس ایک دوسرے کے حدود پھلانگ نہیں سکتی اور اس طرح چوروں کی چاندی رہتی تھی ہے کہ ان کا طریقہ واردات بقول علامہ اقبال (رح) یہ ہے کہ ع ادھر ڈوبے ا دھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے۔ اگر کسی کواسکی و جہ معلوم نہ ہو تو یہ بڑا عجیب سا لگے گا؟ کہ آج کے دور میں جبکہ دنیا کہاں سے کہاں پہونچ گئی یعنی سیٹلائٹ کے ذریعہ لوگ ہزاروں میل دور بیٹھ کر یہ تک دیکھ سکتے ہیں کہ کس کا گھر کہاں ہے؟ ا انہیں کیا پتا کہ وہاں تھانے بکتے ہیں اگر پولس بغیر اجازت ایک دوسرے کی سرحدیں پھلانگنے تو ان کی آمدنی میں رخنہ پڑتا ہے ۔ مگر اس مرتبہ جو یہ انتہائی مکروہ صورت ِ حال پیدا ہوئی وہ بڑی اندوہناک ہے کہ دوہزار کے قریب لوگ اپنی جان سے گئے اور کوئی یہ ماننے کو تیار نہیں ہے کہ یہ ذمہ داری کس کی ہے ۔ کل ہم نے اجتماعی قبریں دیکھیں ،اجتمائی نمازِ جنازہ بھی ٹی وی پرہو تے دیکھی۔ یہ خبریں پڑھیں اورسنیں کہ کفن نہیں مل رہے ہیں،قبریں نہیں مل رہی ہیں ۔ اور سب جگہ اپنی باری کا انتطار فرمائیے کے نہ نظر آنے والے بورڈ لگے ہوئے ہیں جو کہیں دکھائی نہیں دیتے ۔مگر ہیں؟ بس جتنا گڑڈالو اتنا میٹھاہوگا؟ کیونکہ قبرستان پہلے ہی لوگوں نے بیچ کھائے ہیں یا ان پر قبضہ کرلیا ہے؟ پیشہ ور گورکنوں کی اجارہ داری ہے۔ لہذا جس طرح اور شعبوں میں مافیہ ہے اسی طرح یہاں بھی “ قبر ستان مافیہ  “گرم عمل ہے۔ اور یہ تو کہنے کی بات ہی نہیں ہے کہ مال جبھی بنتا ہے جب کہیں پر کسی کی اجارہ داری قائم ہو؟ اور ایسے موقعے روز، روز تو آتے نہیں ہیں؟ اس افتاد سے پہلے قبروں کا حصول اٹھارہ بیس ہزار روپیہ میں ممکن تھا اب  خبر ہے کہ ایک لاکھ سے بھی اوپر چلا گیا ہے؟
 جبکہ ارباب ِاقتدار یہ طے نہیں کر پارہے ہیں کہ یہ کس کی ذمہ داری ہے ۔ہمیشہ ایک کمیشن بنا دیاجاتا ہے جوکہ اس مرتبہ بھی بنادیا گیاہے ، اس نے کسی آسمانی آفت کو نہیں بلکہ زمینی بجلی کو ذمہ دار قرار دیا یعنی K E کی انتظامیہ کو ذمہ دار قرار دیا ہے کیونکہ بقول کمیشن کے کوئی پیسہ اس نے الیکٹرک سپلائی (بجلی کی ترسیل) میں بہتری پیدا کرنے میں نہیں لگایا جیسا کہ اس نے خرید تے وقت وعدہ کیا تھا؟ یہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہےکہ وہاں کسی وعدے کو نبھانے کا سوال ہی کسی کے ذہن میں پیدا نہیں ہوتا کیونکہ کوئی یہ ماننے کو ہی تیار نہیں ہے کہ وعدہ بھی کوئی چیز ہوتا ہے ؟جبکہ بدعہدی کی قر آن  نےبار ،بار شدید مذمت کی ہے اور بدعہدی کو منافقت کی تین نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا ہے ۔ اور ذمہ داری  آخر میں کمیشن نے ذمہ داری مرکزی حکومت پر ڈالدی کہ وہ ذمہ دار اس لیے ہے کہ اس کا 26  فیصد اس میں حصہ ہے۔ اس نے بھی اس پر پردہ ہی ڈالے رکھا کہ باقی74 فیصد حصہ جات کس کے ہیں اور وہ کون ہے۔ یہ کارنامہ ہے مشرف اور شوکت عزیز کے مشترکہ دورِ حکومت کا جس میں صرف وعدوں پر ادارے سپرد کردیے گئے۔ وعدے بھی کس کے جس ملک میں سب کا مفاد ہے اس لیے کہ وہ سب کا وطن ثانی ہے؟ لہذا بلّی کے گلے میں گھنٹی باندھے گا کون؟ 
   جبکہ کچھ دن پہلے تک صوبائی حکومت مرکزی حکومت کو ذمہ دار قرار دے رہی تھی اور اسکے خلاف پوری صوبائی کابینہ مع وزیر اعلیٰ دھرنا دیئے بیٹھی تھی ۔ اور میڈیا اس پر تبصرہ کر رہی تھی کہ اب ان کو اٹھا ئے گا کون ؟ مگر جب اٹھانے کوئی نہیں آیا تو وہ خود ہی یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے کہ ہم خود ہی اٹھے جاتے ہیں۔ اچھا کیا ورنہ کسی کو ڈولی ڈنڈا کرنا پڑتا۔       پھر وزیر اعظم آگئے تو کایہ ہی پلٹ گئی کہ سب گلے شکوے جاتے رہے۔ اور ایک دوسرے کی تعریف کرنے لگے۔ مہذب ملکو ں میں تو یہ بات عام ہے مگر اسلامی ملکوں میں ایسا سلوک ذرا کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ جبکہ ہمارے علماء ان کی نقل کرنے کو منع کرتے ہیں اور تعریف کرنے کو بھی؟
       جبکہ وہی برے لوگ ہماری اچھی باتیں سیکھ کر اسکا فائیدہ ٹھا رہے ہیں “ جیسے عدل اور احسان “ کاش کہ ہم  اب واپس برے لوگوں کی اچھی باتیں سیکھ لیں ؟ جیسے کہ ان کے یہاں ہر ایک شہری حکومت ،صوبائی حکومت سے اور صوبائی حکومت مرکزی حکومت کی مداخلت سے بے نیاز ہےاور کبھی ایسا اتفاق ہو جائے کہ ہم خیال یا ایک ہی جماعت صوبے اور مرکز میں منتخب ہو کر آجائے تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا، اس لیے کہ مرکزی جماعت باکل علیٰحدہ ہوتی جس کا مرکزی جماعت کے ساتھ الحاق بھی نہیں ہوتا۔ تاریخ میں پہلی دفعہ نواز شریف صاحب کی حکومت نے صوبوں میں دوسری پارٹیوں کو برداشت کیا ہے، ورنہ مرکز مخالف صوبائی حکومتوں کی برطرفی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ جس کی ابتدا صوبہ سرحد میں ڈاکٹر خان صاحب کی کانگریسی حکومت کی برطرفی سے شروع ہوئی تھی۔
 موجودہ مرکزی حکومت اتنا اور کردے کہ مقامی حکومتیں جو عنقریب بننے جارہی ہیں ۔انہیں اپنے علاقوں میں خود مختار بنادیا جا ئے۔اور شہری حکومتیں بھی اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیں ،کیونکہ اٹھارویں تر میم کے بعد صوبوں کو بہت کچھ مل گیا ہے مگر وہ اسے مقامی حکومتوں کو دینے کو تیار نہیں ہیں جیسے کہ پہلے مرکزی حکومت صوبائی حکومتوں کو کچھ دینے تیار نہیں تھی ۔ یہ عدلیہ ہے جس نے انہیں الیکشن کرانے پر مجبور کردیا ہے،ورنہ پچھلی حکومت ٹال مٹول میں جیسے پانچ سال پورے کر گئی یہ حکومتیں بھی پورے کر جاتیں؟ دوسرے ان برے لوگوں سے یہ بھی سیکھ لیں کہ یہاں کلرک تو ہوتا ہی نہیں ہے۔ آفیسر ہوتا ہے۔اس کے صوابدیدی اختیا رات اتنے ہیں کہ وہ ہر سائل کو جو بھی اس کے پاس آئے جائے تمام کام کر کے اور فارغ کر کے بھیجتا ہے۔ جبکہ سارا کام قانون کے مطابق ہوتا ہے اور وہ  جوفیصلہ کردے، وزیر اعظم بھی اس کو تبدیل نہیں کرسکتا؟ احتساب اتنا سخت ہے کہ ہائیر (ملازم رکھنا) اور فائر (برطرف کرنا) میں دیر نہیں لگتی، ذرا  سی کسی نے بد عنوانی کی ایک منٹ میں چھٹی؟ کیونکہ ملازمت رشوت یا سفارش کی بنا پر نہیں بلکہ ذاتی صلاحیت کی بنا پر ملتی ہے، دینے والے کے پاس برطرف کرنے کے بھی پورے اختیارات ہوتے ہیں۔ اس لیے نہ یہ اختیارات سے تجاوز کرتا ہے نہ وہ اختیارات سے تجاوز کرتا ہے۔
     البتہ یہاں بھی حکومت اور  کمیشن میں اختلافِ رائے پایاجاتا ہے جیسا کہ ماڈل ٹاؤن والے کمیشن اور حکومت میں پہلے پایا گیا تھا۔ جو کہ اس سے ثابت ہے کہ ایک مرکزی وزیر  نے یہ  فرمایا کہ یہ “آفتِ آسمانی “ ہے۔ ہمارے خیال میں  میں یہ تو سب ہی جانتے ہونگے کہ آفت ِ آسمانی عذاب ِ الہیٰ کانام ہے اور وہ کیوں آتا ہے اور اس نے پاکستان کو ہی کیوں تاک رکھا ہے۔ اگر اس کی وجوہات  پرغور کریں  تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ “ مرنے والے خود  ہی اپنی موت کے ذمہ دار  ہیں “ کیونکہ وہ ووٹ استعمال کر تے ہوئے  امیدوار کے ان اوصاف کو پرکھنے اور مد ِ نظر رکھنے کے بجائے جو اسلام نے مقرر کیے ہیں؟ وطن ، صوبائیت اور ذات برادری کو مدِ نظر رکھتے ہیں ۔ جس طرح  کہ ببول کے درخت سے کھجوریں حاصل نہیں کی جا سکتیں اسی طرح  غیر عادلوں کو ووٹ دیکر، رحمتِ  پروردگار یعنی امن ، سکون اور چین حاصل نہیں کیا جاسکتا؟

:دیگر مضامین
(27.06.2015) بلّی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(20.06.2015) لو وہ بھی کہہ رہے ہیں۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
(13.06.2015) سچ تو یہ ہے کہ نابیناوں کا مسئلہ بہت قدیم ہے ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(06.06.2015) بیٹاتو ہی ہارجا ؟ورنہ یتیم ہوجائے گا؟۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(29.05.2015) شاید بچا ہو وقت ابھی مان جائیے۔۔۔ از۔۔۔شمس جیلانی
(23.05.2015) شرم  سے شرم خود شرمارہی ہے ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(16.05.2015) اردوردستورسے تنگ آکرعدالت میں ؟ ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(09.05.2015) آج کچھ باتیں اپنی بہنوں سے کرنی ہیں  ۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی
(02.05.2015) ایک تیر سے دو شکار۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی
(25.04.2015) اب کون جانے ہمارے لیےاچھا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ از۔۔۔  شمس جیلانی ۔ وینکوور
(18.04.2015) انتخابات جھرلو سے جوڈیشل کمیشن تک ۔۔۔از ۔۔ شمس جیلانی
(11.04.2015) عمران خان کا دورہ کراچی۔۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(04.04.2015) آخرکار بڑی رکاوٹ بھی ہٹ گئی۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(28.03.2015) مسلمانوں کو صرف مظلوم کی حمایت کاحکم ہے۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(21.03.2015)  مارچ  23،قرار داد پاکستان سے یوم اسلامی جمہوری تک۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی
(14.03.2015) کند ہم جنس باہم جنس پرواز۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(08.03.2015) کیا اسلام میں عورت ہو نا گناہ ہے؟(قندِ مکرر) از ۔۔۔ شمس جیلانی
(07.03.2015) وہ کہتے کیوں ہو جو کر نہیں سکتے؟۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(28.02.2015)  پاکستان میں ہارس ٹریڈینگ ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(21.02.2015) پلے میں تمہارے دینے کے لیئے کیا ہے۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں