15.10.2026, 05:38pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
شخصیات، انٹرویوز » شمس جیلانی۔وینکور
 

سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(59)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
04.07.2015, 04:23am , ہفتہ (GMT+1)

از۔۔۔ شمس جیلانی

یہ عجیب اتفاق ہے کہ آج سے چو دہ سو سال پہلے یہ واقعہ رو نما ہوااور ہم سیرِت ِپاک کو بیا ن کرتے ہوئے بھی رمضانِ مبا رک تک پہو نچے ہیں۔گذشتہ قسط میں ہم یہا ں تک پہو نچے تھے کہ جو لو گ صلح جو قسم کے تھے وہ جنگ کو ٹالنا چا ہتے تھے۔ عمروبن وہب کو لشکرِ محمد ی (ص) کی خبر لینے بھیجا تو اس نے آکر بتا یاکہ اس نے مو ت کو وہاں منڈلاتے دیکھا ہے۔ آئیے اب آگے بڑھتے ہیں۔از راہ ِخیر خو اہی اس نے یہ بھی اضافہ کیا کہ وہ سب مرنے مارنے پر تیار ہیں اور وہ کم ا ز کم اپنے سے برابر تعداد کو مارے بغیر نہیں مریں گے ۔ اگر ہم اتنے اپنے پیارے کھوبیٹھے جو کہ دو نوں طرف ہیں تو پھر جینے کا کیا مزہ رہے گا ۔ اب جو چا ہو وہ رائے دو۔ اس پر حکیم بن حزام کھڑا ہو گیا اورلوگو ں میں گھو م پھر کر انہیں قائل کرنے کی کو شش کرنے لگا۔ پھر عتبہ بن ربیعہ کے پاس آ یا اور کہا اے ابو ولید تو تو قریش کا رئیس ہے اور سردار ہے اور یہ سب تیری بات مانتے ہیں ،کیا تجھے اس بات سے کچھ رقبت ہے کہ ہمیشہ ان میں تیرا ذکرِ خیر رہے؟ اس نے کہا اے حکیم بتا وہ کیا بات ہے؟ کہا تو سب لو گو ں کو لیکر لو ٹ جا اور عمرو بن الحضرمی کا بار تو اٹھا لے جو کہ تیرا حلیف تھا۔ اس نے کہا مجھے منظور ہے ۔ تو اس کی ذمہ داری مجھ پر ڈالدے اس کا خو ن ِبہا ہی نہیں بلکہ اس کا جو مال مدینہ والوں نے چھینا تھا وہ بھی اپنے ذمہ لیتا ہو ں۔ تب اس نے کہا اچھااب تو جلدی سے ابنِ الحنظلہ ( ابو جہل کی ماں طرف سے کنیت) کے پاس جااس نے یہ بھی کہا کہ اس کے سوا پھو ٹ ڈا لنے کا ڈر اور کسی طرف سے نہیں ہے۔ پھر عتبہ نے سب کو جمع کرکے خطبہ دیا کہ اے گروہ قریش! واللہ تم محمد اور اسکے ساتھیوں سے مقا بلہ کر کے کیا کرو گے۔اگر تم نے انہیں مارڈالا تو ہمیشہ ایک شخص دوسرے کی صو رت دیکھنے سے اس لیے متنفر رہے گا کہ اس نے چچیرے ،خالہ زاد بھائی یااس کے خاندان کے کسی فرد کو مارڈالا۔ لہذا پلٹ چلو اورمحمد (ص) کو سارے عرب کے مقابلے کے لیے چھوڑ دو۔  اگر عربو ں نے اسے (ص) قتل کردیا تو تمہا ری مراد پو ری ہو جائے گی۔اگر صورتِ حال اس کے بر عکس ہو ئی تو اس کے دل میں تمہارے لیے ایک نرم گوشہ ہو گا کہ تم اس سے بغیر لڑے چلے گئے ۔
حکیم پھر ابو جہل کے پاس گیا تو دیکھا کہ وہ ایک زرہ صندو ق سے نکال رہا ہے اور اسے تیا ر کر رہا ہے ۔ اس نے کہا کہ اے ابو الحکم! مجھے تیرے پاس عتبہ نے یہ پیا م دے کر بھیجا ہے اور جو اس نے کہا تھا اس کے گو ش گذار کیا۔ وہ سنتے ہی بھڑک اٹھا اور کہنے لگا کہ جب سے اس نے محمد (ص) اور اس کے ساتھیوں کو دیکھا ہے تب سے وہ ڈر گیا ہے۔ واللہ ایسا نہیں ہو گا جب تک کہ ہم میں اورمحمد (ص) میں لات وعزیٰ فیصلہ نہ کردیں، ہم و اپس نہ ہو نگے دراصل اس نے محمد (ص) کے لشکر میں اپنے بیٹے کو دیکھ لیا ہے اس کا حو صلہ خطا ہو گیا ہے اور وہ جنگ سے پہلو تہی کر رہا ہے۔ پھر اس نے ایک شخص کو عامر بن حضرمی کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ تیرا حلیف عتبہ لو گو ں کو لے کر لوٹ جا نا چا ہتا ہے۔ جب کہ تیرے بھا ئی کا بدلہ تیری آنکھوں کے سامنے ہے، اٹھ قریش سے اِیفا ئے عہد کا مطا لبہ کراور اپنے بھا ئی کا خو ن انہیں یاد دلا۔ یہ سنتے ہی وہ چلا نے لگا ہا ئے عمرو ! ہا ئے عمرو ۔ نتیجتاً معاملہ نہ سلجھ سکا اور سب بہ ارادے جنگ متفق ہوگئے اور عتبہ کی تجو یز کو در ہم برہم کردیا۔ جب عتبہ کو خبر پہو نچی تو اس نے کہا کہ جلد ہی اس بزدل کو معلو م ہو جا ئے گا کہ میری را ئے صائب تھی یا اس کی اور سینہ کس کاپھو لا میرا یا اس کا۔ پھر عتبہ نے سر پر پہننے کے لیے خود تلا ش کیا اتفا ق سے اس کے سر کے سائز کا کو ئی خو د نہیں ملا لہذا اس نے سر سے چادر لپیٹ لی۔اور اعلا ن جنگ کر دیا۔ابنِ اسحاق آگے فر ماتے ہیں کہ الاسود المخرومی یکایک ا ٹھ کھڑ ہوا جو کہ ایک بد طینت شخص تھا ،صف سے نکلا اور کہا کہ میں اس حو ض کا نہ صرف پا نی پیو ں گا، بلکہ اسے تو ڑ بھی ڈالو ں گایا اس جد و جہدمیں مر جا ؤ نگا۔ اس کی مزا حمت کے لیے حضرت حمزہ (رض) بڑھے جب دو نو ں مقابل ہوئے تو انہو ں نے ایسا بھر پو ر وار کیا کہ اس کی ٹا نگ پنڈلی کے درمیا ن سے کٹ گئی۔ وہ ابھی حو ض پر پہونچا نہ تھا کہ پیٹ کے بل گر گیا، پھر بھی وہ اپنی قسم پو ری کر نے حو ض کی طرف بڑھا جبکہ اس کے زخمو ں سے خو ن کی دھاریں بہہ رہی تھیں۔ حضرت حمزہ نے حو ض پر ہی اسے واصلِ جہنم کر دیا۔                  
عتبہ اور شیبہ کا قتل:اس کے بعد عتبہ اپنے بھا ئی شیبہ اور بیٹے ولید کے سا تھ آیا اس نے مبا زرت طلب کی۔اس کی طرف انصار کے تیں جوا ن عوف بن حارث، معاذ بن حارث ا ور عبداللہ بن رواحہ (رض) نکلے ۔ان سے عتبہ نے پو چھا تم کو ن ہو انہو ں نے کہا کہ انصار، ان میں سے کسی نے کہا ہمیں تم سے کو ئی سرو کا ر نہیں ہے ا ور پکا رکر کہا اے محمد!  (ص)مقابلہ کے لیے ایسے لو گ بھیج جو کہ ہمارے ہمسر ہو ں۔ تو حضور (ص) نے حضرت عبیدہ بن حارث ، حضرت حمزہ اور  حضرت علی (رض) کو بھیجا۔ تب مقابل نے کہا ہا ں! اب مقابل شریف ہیں۔اس کے بعد عتبہ بن ربیع سے  حضرت عبید ہ بن حارث (رض) برسرِ پیکار ہو ئے، حضرت علی (رض) نے ولید بن عتبہ سے جنگ کی اور حضرت حمزہ (رض) نے تو پہلے ہی وار میں شیبہ کو قتل کردیا۔ پھر حضرت علی (رض) نے بھی ولید کو آسا نی سے قتل کر دیا۔ مگر حضرت عبیدہ (رض) ضعیف تھے لہذا دو نو ں برابر رہے ۔اس کے بعد عتبہ کو حضرت حمزہ  (رض)نے قتل کر ڈالا ۔پھر اپنے نڈہال ساتھی عبیدہ (رض) کو واپس لے کر اپنے لشکر میں آئے۔                  
کفار کاعام حملہ:کفار اپنے ان جیالوں کو مر تا دیکھ کر مشتعل ہو گئے اور اس کے بعد وہ اسلامی لشکر کی طرف بڑھے ۔ رسول (ص) اللہ نے تاکید فرما رکھی تھی کہ جب تک وہ حکم نہ دیں کو ئی جنگ میں پہل نہ کرے۔البتہ کہیں پر گھر جا ؤ تو کفار پر اپنی مدا فعت میں تیر برساتے رہو۔ یہ واقعہ بدر،سترہ رمضان المبارک کو بروز جمہ وقوع پذیر ہوا ۔تاریخ میں یہ پہلا مو قعہ تھا کہ ایک تقریباً نہتا لشکر اپنے سے تین گنا سے بھی زیا دہ بڑے لشکر سے جو کہ ہرطرح کے ہتھیاروں سے لیس تھا بھڑنے جا رہا تھا ۔
اسلامی صفوں کی درستگی: ابنِ اسحاق (رح) راوی ہیں کہ انہو ں نے حبا ن (رح) بن واسع اور انہو ں نے اپنے بزر گو ں سے روایت کی ہے کہ حضور (ص) نے پہلے صحا بہ کی صفیں درست فر ما ئیں ۔اس وقت حضور (ص) کے ہا تھ میں ایک تیر تھا مگر ابنِ کثیر (رح) اسکے بجائے پیا لہ لکھا ہے۔ بہر حال میرے نزدیک دو نوں ہی باتیں درست ہیں جس پر ہم آگے چل کربات کریں گے، فل ا لحال ہم پہلی روایت کو لیتے ہیں۔کہ حضور (ص)تیر سے صفیں درست فرما رہے تھے کہ آپ سوا د  (رض)بن عزیہ کے سامنے سے گذرے تو انہیں صف سے آگے نکلا ہو ا پا یا، تب ان کے پیٹ میں تیر چھوا کر فر ما یا صف سیدھی کرو۔ سواد (رض) نے عجیب حرکت کی، فر ما یا یا رسو ل (ص) اللہ! آپ نے مجھے تکلیف دی ، حالا نکہ اللہ نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایاہے۔ آپ مجھے اس کا بد لہ لینے دیجئے ۔ رسو ل (ص) اللہ نے اپنا شکم ِ مبا رک کھو ل دیا اور فر ما یا اچھا اپنا بدلہ لیلو۔  یہ سنتے ہی سواد (رض) حضو ر  (ص)کی طرف بڑھے اور شکمِ مبارک کوبوسہ دیا۔ آپ نے پو چھا تمہیں اس بات پر کس چیز نے ابھا را ؟ عرض کی کہ آنے والے واقعات نے جو ابھی در پیش ہیں ۔اس لیئے میں نے چا ہا کہ آپ (ص) سے آخری ملاقات اس طرح ہو کہ میرا جسم آپ  (ص)کے جسم سے مس کرلے ۔رسول  (ص)اللہ نے ان کو دعائے خیر دی۔ یہا ں روا یت میں نا م شاید کسی اشکال کی بنا پر ایک ہی بیا ن ہو گئے ہیں قرین ِ قیاس یہ ہے کہ وہ دوسراواقعہ کسی اور صحابی کے ساتھ پیش آیا ۔ہو سکتا ہے کہ پہلے تجر بہ کی بنا پر حضور (ص) نے پیالے کو بے ضر ر سمجھ کر لے لیا ہوا اور پھر دوسرا واقعہ پیش آیا اور وہ اس طرح ہے کہ جب حضو ر (ص) صفیں درست کرتے ہو ئے کسی صحا بی کے سامنے سے گذرے تو ان کا پیٹ بہت آگے نکلا ہو ا تھا لہذا حضو ر (ص) نے پیالے سے اسے چھو ا تو ان صحا بی نے عرض کیا کہ یا رسو ل (ص) اللہ میرے پیٹ میں زخم ہے جس کی وجہ سے یہ سو جا ہوا ہے۔ حضور نے انکا کرتا اٹھاکر دیکھا تو واقعی بہت گہرا زخم تھا۔ حضور (ص) نے فر ما یا تمہیں اس حالت میں یہا ں نہیں آنا چا ہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ میری غیرت نے یہ گوا را نہیں کیا کہ میں آپ کو تنہا چھو ڑ دو ں یہ سن کر انکے لیے حضور (ص) نے انکے لیے دعا فر ما ئی۔ گوکہ یہ صف بندی مورخین نے موخر کی ہے، مگر میرے خیال میں حضور (ص) نے صف بندی پہلے فر ما ئی ہوگی۔ جیسی کہ ہمیشہ ان کی سنت رہی ہے ۔واللہ وعالم۔    (باقی آئندہ )       





:دیگر مضامین
(27.06.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔روشنی حراسے(58) از. شمس جیلانی
(21.06.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(57)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(13.06.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے56... از ۔۔۔ شمس جیلانی
(07.06.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔روشنی حراسے(55)۔ از.شمس جیلانی
(28.05.2015) سیرتِ پاک حضور ۔۔۔روشنی حراسے(54) از ۔۔۔ شمس جیلانی
(22.05.2015) ولادت ِحضرت اما م حسین علیہ السلام ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(19.05.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(53)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(17.05.2015) وہ رات نبی صلی اللہ رب کے جب مہمان ہوئے۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی
(09.05.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(52)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(02.05.2015) سیرتِ پاک حضور  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے (51)از ۔۔۔ شمس جیلانی
(30.04.2015) سیرتِ پاک حضور ۔۔۔روشنی حراسے (50)از ۔۔۔ شمس جیلانی
(18.04.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(49)۔ ۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی
(14.04.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے(48)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(04.04.2015) سیرتِ پاک حضور  صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(47)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(29.03.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(46)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(21.03.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ روشنی حراسے(45)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(07.03.2015) سیرتِ پاک حضور ۔۔۔روشنی حراسے(44)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(28.02.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے (43) ۔۔۔ شمس جیلانی
(21.02.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(42)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
شمس جیلانی۔وینکور  »
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں